تعاون کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نیفیڈ کے ای-نیلامی پورٹل NAFEX.in کا آغاز کیا
ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ان کے بلیدان دیوس پر خراج عقیدت، جنہوں نے ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے عظیم قربانی دی: جناب امت شاہ
نیفیڈ، جو 2014 میں بند ہونے کے دہانے پر تھا، آج مودی حکومت کے تحت 500 کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ 74 لاکھ کسانوں کی خدمت کر رہا ہے
بچولیے کو ختم کر دیا جائے گا، کسانوں کی محنت کی کمائی 48 گھنٹوں کے اندر براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں پہنچ جائے گی
اگلے دو سال میں، این سی سی ایف اور نیفیڈ براہ راست کسانوں سے دالوں کا ایک ایک دانہ خریدیں گے
کسانوں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کی نشوونما کے لیے نیفیڈ اسکالرشپ کا آغاز؛ منافع کا ایک حصہ کسان خاندانوں کو دیا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
23 JUN 2026 4:41PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (نیفیڈ) کے ای-نیلامی پورٹل NAFEX.in کا آغاز کیا۔ اس موقع پر زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقیات کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان، امداد باہمی کے وزیر مملکت جناب کرشن پال گرجر، امداد باہمی کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر آشیش کمار بھوتانی،نیفیڈ کے چیئرمین جناب جیٹھا بھائی اہیر اور کئی معززین موجود تھے۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے، امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ نیفیڈ نے آج چار بڑے اقدامات یعنی NAFEX.in، درشٹی، ای آر پی اور نیفیڈ کلیان شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ NAFEX.in اور دیگر اقدامات انتہائی اہم ہیں کیونکہ 2014 میں، نیفیڈ بند ہونے کے دہانے پر تھا، لیکن ان کوششوں کی وجہ سے، نیفیڈ آج 30,000 کروڑ روپے کے کاروبار اور 500 کروڑ کے منافع کے ساتھ ملک کے 74 لاکھ سے زیادہ کسانوں کی خدمت کر رہا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ جب نیفیڈ گہرے مالی بحران میں تھا، وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے اسے مکمل شفافیت کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے مالی امداد فراہم کی اور نیفیڈ کو ایک بار پھر مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج نیفیڈ نے پیداوار اور خریداری دونوں میں نمایاں اضافہ درج کیا ہے۔ ملک کو دالوں کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے، این سی سی ایف اور نیفیڈ کو کسانوں سے براہ راست دالوں کے ایک ایک دانے کی خریداری کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اس سے کسانوں کے لیے منصفانہ اور منافع بخش قیمتیں یقینی ہوں گی، خود بخود دالوں کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ ہوگا، اور ملک کو دالوں میں خود کفالت حاصل ہو گی۔
امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ پچھلے تین سال میں دالوں، مکئی اور دیگر پیداوار کی براہ راست خریداری کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ بنایا گیا ہے۔ اب اس انفراسٹرکچر کو نچلی سطح تک لے جانا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ نیفیڈ اور این سی سی ایف کو پورے عزم اور شفافیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا، تب ہی نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اگلے دو سال کے اندر تمام کسان دالیں براہ راست ان دونوں تنظیموں کو فروخت کر سکیں اور ادائیگی اپنے بینک کھاتوں میں براہ راست وصول کر سکیں۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج نیفیڈ صرف زرعی پیداوار کی خریداری تک محدود نہیں ہے۔ پچھلے تین سال میں، نیفیڈ نے نامیاتی کاشتکاری، بیج کی پیداوار، خوردہ کاروبار، بائیو فرٹیلائزر مینوفیکچرنگ، خوراک کی یقینی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت جیسے شعبوں میں شاندار کام کیا ہے، جس سے نیفیڈ کی مطابقت اور منافع دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امداد باہمی کی وزارت بنائی گئی تھی، نیفیڈ کا لین دین 20,000 کروڑ روپے تھا، جو اب بڑھ کر 30,000 کروڑ ہو گیا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگلے دو سال میں یہ کاروبار 50,000 کروڑ سے تجاوز کر جائے گا۔ جناب شاہ نے کہا کہ نیفیڈ کا خالص منافع 139 کروڑ سے بڑھ کر 405 کروڑ ہو گیا ہے، اور اس کی مجموعی مالیت 358 کروڑ سے بڑھ کر 2,050 کروڑ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیفیڈ آج ایک مضبوط، مالی طور پر قابل اور خود کفیل تنظیم بن کر ابھری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ نیفیڈ اور این سی سی ایف مکمل شفافیت کے ساتھ براہ راست کسانوں سے دالوں اور دیگر فصلوں کے ایک ایک دانے کی خریداری کریں، بچولیے کے پورے نیٹ ورک کو ختم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کاشتکاروں کا صحیح منافع ان تک پہنچے۔
امداد باہمی کے وزیر نے کہا کہ نیفیڈ نے اپنے منافع کا 1فیصد کسان خاندانوں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کی ترقی کے لیے وظائف کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس انتظام سے کسانوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اپنا کیریئر بنانے میں درپیش مشکلات کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
اپنے خطاب کے آغاز میں مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے سابق مرکزی وزیر اور بھارتیہ جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ان کے بلیدان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اسی دن ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے ’’ایک ملک، ایک آئین، ایک سربراہ‘‘ کے اصول کو عملی جامہ پہنانے اور ملک کو متحد رکھنے کے لیے عظیم قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا شمار اس ملک کے عظیم لیڈروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں شہرت کے لیے کچھ نہیں کیا اور جو کچھ بھی کیا اپنے ملک کے لیے کیا، جس سے دوررس اور مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ مغربی بنگال ہندوستان کے ساتھ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال آج بھی ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنا ہوا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ آزادی کے بعد کشمیر میں دفعہ 370 نافذ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے کشمیر کا الگ جھنڈا اور الگ آئین تھا۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ خیال ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس وقت ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے ایک تحریک شروع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ملک میں دو آئین، دو جھنڈے اور دو سربراہ نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے انھوں نے دہلی سے کشمیر تک مارچ کیا اور اعلان کیا کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کشمیر میں داخل ہونے کی خاطر کوئی اجازت نامہ لینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے شیاما پرساد مکھرجی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی کشمیر جیل میں مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ جناب شاہ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر ہی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے اس وقت کی حکومت میں وزیر صنعت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آج ڈاکٹر شیاما پرساد جی کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ دفعہ 370 کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور ان کی قائم کردہ پارٹی کی حکومت، گنگوتری سے بنگال کے گنگا ساگر تک برسراقتدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ثقافتی قوم پرستی اور ہندوستانی ثقافت کے مضبوط حامی تھے۔
********
) ش ح ۔ م ع ۔ ا ک م)
U.No. 9087
(रिलीज़ आईडी: 2277099)
आगंतुक पटल : 10