وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

فرانس میں جی7 سربراہی اجلاس میں “نئی شراکت داری  اور بین الاقوامی یکجہتی کو دوبارہ قائم کرنے” پر منعقدہ سیشن سے وزیراعظم کا خطاب

प्रविष्टि तिथि: 16 JUN 2026 10:07PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج فرانس کے شہر ایوین میں جی7 سربراہی اجلاس میں “نئی شراکت داریوں کے قیام اور بین الاقوامی یکجہتی کی از سر نو تعمیر” کے موضوع پر منعقدہ آؤٹ ریچ اجلاس سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے زور دیا کہ آج کی باہم مربوط دنیا میں، جہاں توانائی، خوراک، صحت، سائبر اور اقتصادی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بین الاقوامی شراکتیں قائم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر یقینی صورتحال سے بھرپور اس دنیا میں تجارت اور ٹیکنالوجی کو محدود مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اعتماد کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔ کووڈ وبا سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ممالک سے عالمی شراکت داریوں میں اعتماد اور شفافیت بڑھانے پر توجہ دینے کی اپیل کی۔

بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے بھارت کے نقطۂ نظر کو بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہمیشہ “انسانیت پہلے” کے اصول پر عمل پیرا رہا ہے۔ یہی نظریہ بھارت کی تمام کوششوں کے مرکز میں رہا ہے، خواہ وہ انٹرنیشنل سولر الائنس، کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر، گلوبل بایو فیول الائنس، مشن لائف یا “ایک پیڑ ماں کے نام” مہم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی جامع نقطۂ نظر کی وجہ سے، چاہے سری لنکا میں طوفان ہو، افغانستان میں زلزلہ، موزمبیق میں سیلاب یا جمائیکا میں طوفان، دنیا کے مختلف حصوں میں قدرتی آفات کے وقت بھارت سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آیا ہے۔

بھارت کے جامع اور پائیدار ترقی کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ “سرو جن ہتائے، سرو جن سکھائے” (سب کی بھلائی اور خوشی) کے اصول نے مالی شمولیت، صحت تحفظ، ڈیجیٹل شناخت، ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی بااختیاری اور خواتین کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینے میں قابل ذکر رول ادا کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کو “دہندہ-حاصل کنندہ”(ڈونر-ریسپینٹ) کے تصور سے آگے بڑھ کر یکجہتی اور مساوات کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام نہ کرنا عالمی یکجہتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں میں مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

********

ش ح ۔ ع و ۔ م الف

U NO-8729


(रिलीज़ आईडी: 2273922) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Manipuri , Assamese , Punjabi , Gujarati , Telugu , Kannada , Malayalam