صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند نے انڈین ملٹری اکیڈمی میں 158ویں باقاعدہ کورس اور 141ویں تکنیکی گریجویٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا جائزہ لیا
प्रविष्टि तिथि:
13 JUN 2026 11:13AM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (13 جون 2026 کو) دہرادون میں واقع انڈین ملٹری اکیڈمی میں 158ویں باقاعدہ کورس اور 141ویں تکنیکی گریجویٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے زیر تربیت افسران کو ملک کے سب سے سخت تربیتی پروگراموں میں سے ایک کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ہمت اور حکمت ان کی طاقت ہوگی۔ وہ 9 زیر تربیت خاتون افسران کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم اے کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف بھارت کی دفاعی افواج کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے بلکہ خواتین کی زیر قیادت ترقی کی جانب بھارت کے بڑھتے قدم کی ایک متاثر کن مثال بھی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مزید زیر تربیت خاتون افسران اکیڈمی میں شامل ہوں گی۔

صدر جمہوریہ نے دوست ممالک کے کیڈٹس کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اپنی مسلح افواج اور ممالک کے لیے اپنی خدمات اور ان اقدار کے ذریعے نام روشن کریں گے جو انھوں نے آئی ایم اے میں اپنائے ہیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ آئی ایم اے میں غیر ملکی زیر تربیت افسران کی موجودگی دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ دوستی، تعاون اور پرامن تعلقات کو فروغ دینے کے بھارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ادارے کے کیڈٹس باہمی اعتماد، افہام و تفہیم اور پیشہ ورانہ تعلقات استوار کرتے ہیں جو مختلف ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

صدر مملکت نے آفیسر کیڈٹس سے کہا کہ وہ ہماری قوم کی خود مختاری، اتحاد اور سالمیت کے محافظ ہیں۔ ان پر 140 کروڑ سے زیادہ شہریوں کا بھروسہ ہے۔ انہوں نے انہیں نصیحت کی کہ وہ یاد رکھیں کہ خدمت سب سے بڑا فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی سیکورٹی چنوتیوں، تکنیکی ترقی اور پیچیدہ عالمی ماحول کے دور میں، بھارتی فوج کو موافق اور مستقبل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوان افسران کو تاکید کی کہ وہ تاحیات سیکھنے والے، دلیر فیصلہ ساز اور اخلاقی رہنما بنیں۔

صدر نے کہا کہ بطور آرمی آفیسر، زیر تربیت افسران فوجیوں کی قیادت، رہنمائی اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے۔ انہیں مثالی رہنمائی کرنی ہوگی، اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اور ٹیم ورک اور لگن کے جذبے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ آپریشنل تاثیر کو متوازن کرکے، وہ اعتماد پیدا کریں گے اور ان یونٹوں کی لڑائی کی صلاحیت کو مضبوط کریں گے جن کی وہ قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آگے آکر قیادت کریں، اپنے سپاہیوں کی دیکھ بھال کریں اور ہماری مسلح افواج کی بہترین روایات کو برقرار رکھیں۔



صدرجمہوریہ ہند کی تقریر ملاحظہ کرنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں [انگریزی]
صدرجمہوریہ ہند کی تقریر ملاحظہ کرنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں [ہندی]
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:8564
(रिलीज़ आईडी: 2272444)
आगंतुक पटल : 16