تعاون کی وزارت
قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کے تحت قومی سطح کی پالیسی نفاذ و نگرانی کمیٹی کا پہلا اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا
اجلاس میں ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی وزارتوں اور کوآپریٹو اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کے مؤثر نفاذ کے روڈ میپ پر تبادلۂ خیال کیا گیا
قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کا مقصد شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی، پیشہ ورانہ طور پر منظم اور ممبران پر مرکوز کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانا ہے، جو ‘‘سہکار سے سمردھی’’ کے وژن کے مطابق ہوں
ڈاکٹر آشیِش کمار بھوتانی نے کہا کہ مضبوط، شفاف اور جدید کوآپریٹو ادارے دیہی معیشت کو تقویت دیں گے اور وِکست بھارت @2047 کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے
प्रविष्टि तिथि:
09 JUN 2026 5:42PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وژن ‘‘سہکار سے سمردھی’’ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اور مرکزی وزیر داخلہ و امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی قیادت میں وزارتِ امداد باہمی کوآپریٹو شعبے کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔اسی سلسلے میں آج نئی دہلی کے اٹل اکشے اُرجا بھون میں قومی تعاون پالیسی-2025 کے تحت قائم قومی سطح کی پالیسی نفاذ و نگرانی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر آشیِش کمار بھوتانی، سیکرٹری وزارتِ امداد باہمی اور کمیٹی کے چیئرمین نے کی۔کمیٹی نے قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کے مؤثر نفاذ کے روڈ میپ پر تفصیلی غور و خوض کیا، جس میں ادارہ جاتی مضبوطی، مرکزی وزارتوں، محکموں، ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے درمیان مربوط اقدامات، اور قومی فیڈریشنز/کوآپریٹوز کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی، صلاحیت سازی، رکنیت میں توسیع اور کوآپریٹو پر مبنی جامع و پائیدار اقتصادی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اجلاس میں جناب دلیپ سنگھانی، چیئرمین آئی ایف ایف سی او؛ جناب سدھارتھ جین، ایڈیشنل سیکرٹری، وزارتِ امداد باہمی ؛ جناب آنند کمار جھا، جناب رمن کمار اور جناب شیو پال سنگھ، جوائنٹ سیکرٹریز، وزارتِ امداد باہمی ؛ “تربھون” ساہکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر، چیئرمین نبارڈ، اور مختلف مرکزی وزارتوں، قومی کوآپریٹو فیڈریشنز، کوآپریٹو اداروں، ریاستی اور یونین ٹیریٹری حکومتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بھوتانی نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ مل کر قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کے مقاصد کو زمینی سطح تک پہنچانے کے لیے کام کریں۔انہوں نے کہا کہ مضبوط، شفاف اور جدید کوآپریٹو ادارے دیہی معیشت کو نئی توانائی فراہم کریں گے اور وِکست بھارت @2047 کے ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی تعاون پالیسی-2025 ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے کوآپریٹو اداروں کو شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی، پیشہ ورانہ طور پر منظم اور ممبران پر مرکوز اقتصادی اداروں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
غور و خوض کے دوران کمیٹی نے قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کے چھ اسٹریٹجک ستونوں پر تفصیلی بحث کی، جن میں کوآپریٹو شعبے کی بنیاد کو مضبوط بنانا، کوآپریٹوز کو متحرک اور مسابقتی بنانا، انہیں مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار کرنا، شمولیت اور رسائی کو وسیع کرنا، نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں کوآپریٹوز کے کردار کو بڑھانا، اور نوجوان نسل کو کوآپریٹو ترقی سے جوڑنا شامل ہیں۔
کمیٹی نے مختلف وزارتوں اور محکموں کے ساتھ ایک مربوط ایکشن پلان پر بھی غور کیا، جن میں وزارتِ پنچایتی راج، وزارتِ دیہی ترقی، محکمہ ماہی پروری، محکمہ مویشی پروری و ڈیری، وزارتِ خوراکی صنعت، محکمہ زراعت و کسان بہبود اور دیگر متعلقہ محکمے شامل ہیں۔اجلاس میں زیرِ غور اہم اقدامات میں پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) کو کثیر المقاصد سروس مراکز کے طور پر ترقی دینا، ہر ضلع میں ماڈل کوآپریٹو دیہات قائم کرنا، تمام پنچایتوں تک کوآپریٹو نیٹ ورک کی توسیع کو یقینی بنانا، ڈیری اور ماہی پروری کوآپریٹوز کو وسعت دینا، ای آر پی پر مبنی مینجمنٹ سسٹمز کو فروغ دینا، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط بنانا اور کوآپریٹو شعبے میں سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنانا شامل تھے۔
کمیٹی نے کوآپریٹو نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اہم اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس کی تیاری، پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن، “تربھون” سہکاری یونیورسٹی کا قیام، اور قومی سطح کے کوآپریٹو اداروں جیسے نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ، نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ اور بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ کی تشکیل شامل ہے۔
کوآپریٹو رکنیت کو وسعت دینے، کوآپریٹو اداروں کے معاشی کردار میں اضافہ کرنے، خواتین، نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی زیادہ شمولیت یقینی بنانے، اور کوآپریٹو اداروں کو نئی منڈیوں سے جوڑنے پر خاص زور دیا گیا۔ قومی امداد باہمی پالیسی کا مقصد ہے کہ 2035 تک کوآپریٹو رکنیت کو 50کروڑ تک بڑھایا جائے اور قومی معیشت میں کوآپریٹو شعبے کے حصے کو تین گنا تک بڑھایا جائے۔
اجلاس میں کوآپریٹو نظام میں جدت، اسٹارٹ اپ کلچر کے فروغ، اسکل ڈویلپمنٹ اور نوجوان قیادت کی تیاری پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ “تربھون” سہکاری یونیورسٹی کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا، جو کوآپریٹو تعلیم، تربیت، تحقیق اور صلاحیت سازی کو ادارہ جاتی شکل دینے میں اہم ہے۔
کوآپریٹو شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس، کوآپریٹو رینکنگ فریم ورک، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ قومی امداد باہمی پالیسی-2025 کا کامیاب نفاذ ‘‘ہول آف گورنمنٹ’’ اپروچ کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا، جس میں مرکز، ریاستیں، کوآپریٹو ادارے اور تمام متعلقہ فریقین فعال طور پر شامل ہوں گے۔
**********
ش ح۔۔ ش ت۔ ر ب
U-8172
(रिलीज़ आईडी: 2270840)
आगंतुक पटल : 8