امور داخلہ کی وزارت
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج میگھالیہ کی راجدھانی شیلانگ میں شمال مشرقی کونسل (این ای سی) کے 73ویں مکمل اجلاس کی صدارت کی
مودی حکومت میں شمال مشرقی خطے میں 12 سے زائد امن معاہدوں کے ذریعے امن قائم ہوا ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ریل، سڑک اور فضائی رابطوں میں بہتری نے نہ صرف جغرافیائی فاصلے کم کئے ہیں بلکہ دلوں کے درمیان فاصلے بھی ختم کر دیئے ہیں
وزیر اعظم مودی کی “ایکٹ ایسٹ”، “ایکٹ فرسٹ” اور “ایکٹ فاسٹ” پالیسیوں کے ذریعے “پوراودے” کے وژن کو عملی شکل دی جا رہی ہے، جو شمال مشرق کبھی تنازعات کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج وہ مواقع کا مرکز بن چکا ہے
شمال مشرق کی ترقی، خوشحالی اور ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے کیلئے تشکیل دی گئی ہائی لیول ٹاسک فورس کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے
تمام وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کو سنگل ونڈو کلیئرنس نظام کی باقاعدگی سے نگرانی کرنی چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کیلئے شمال مشرقی خطہ بھارت میں سب سے زیادہ پرکشش سرمایہ کاری کا مرکز بن سکے
سبروم لینڈ پورٹ اور میگھالیہ و میزورم میں قائم کسٹمز مراکز کے ذریعے شمال مشرقی خطہ جنوب مشرقی ایشیا اور بھارت-بحرالکاہل ممالک کے ساتھ تجارت کا ایک اہم مرکز بنے گا
منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے حکومت نے ایک خصوصی ایکشن پلان تیار کیا ہے اور تمام ریاستوں کو “نشہ مکت شمال مشرق” مہم کو ایک عوامی تحریک کے طور پر آگے بڑھانا ہوگا
شمال مشرقی ریاستیں مچھلی اور دودھ کی پیداوار میں خود کفیل بنیں گی، این ڈی ڈی بی اور امداد باہمی کی وزارت کے اشتراک سے زیادہ دودھ دینے والے مویشیوں اور کوآپریٹو نیٹ ورک کو خطے میں وسعت دی جائے گی
اگر ووڈ، خوشبودار تیل، ویلنس، کاسمیٹکس اور بانس پر مبنی صنعتوں میں شمال مشرق کو عالمی پیداوار اور برآمدات کا مرکز بنانے کے لئے خصوصی حکمت عملی تیار کی جائے گی
جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات کو عالمی شناخت دلانے کیلئے ہر ریاست میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی، “آرگینک مشن” اور “ون ڈسٹرکٹ، ون ٹورسٹ ڈیسٹینیشن” پروگرام کو مزید تیز کیا جائے گا
تعلیم، ہنر مندی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے شمال مشرق کو مصنوعی ذہانت،ڈیٹا اینالٹکس اور بلاک چین انوویشنز کا ایک اہم مرکز بنایا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
04 JUN 2026 8:10PM by PIB Delhi
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ میں شمال مشرقی کونسل (این ای سی)کی 73ویں مکمل اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر شمال مشرقی خطہ کی ترقی کےمرکزی وزیر جناب جیوتیرادتیہ سندھیا، میگھالیہ کے گورنر سی ایچ وجے شنکر، وزیراعلیٰ کونراڈ سنگما، مرکزی وزیر مملکت برائے شمال مشرقی خطہ ترقی جناب سکانت مجومدار، مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن اور وزارتِ شمال مشرقی خطہ ترقی کے سکریٹری سنجے جاجو بھی موجود تھے۔اجلاس میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، تریپورہ، میزورم، ناگالینڈ اور سکم کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ سمیت متعدد اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ 12 برس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شمال مشرقی خطے پر خصوصی توجہ کے ساتھ ترقیاتی کام کئے گئے ہیں۔ اسی بنیاد پر ایک ترقی یافتہ شمال مشرق کی تعمیر ہو رہی ہے اور پچھلے 12 برس میں اس خطے کی تمام ریاستوں میں نمایاں اور معیار ی تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی اور وزیر اعظم رہا ہو جس نے شمال مشرق پر اتنی توجہ کے ساتھ کام کیا ہو جتنا وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ مضبوط قانون و نظم اور سماجی ہم آہنگی ہی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ گزشتہ 12 برس میں 12 سے زائد امن معاہدوں کے ذریعے شمال مشرق کے تنازعات حل کئے گئے اور 10 ہزار 800 سے زائد نوجوانوں کو ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔جناب امت شاہ نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے شمال مشرق کو شدت پسندی سے بڑی حد تک پاک کر دیا ہے۔ اس دوران منصوبہ بند انداز میں انفراسٹرکچر کی ترقی کی گئی ہے اور ریل، سڑک اور فضائی رابطوں میں نمایاں بہتری کے ذریعے دہلی اور شمال مشرق کے درمیان فاصلے کم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال میں شمال مشرق کے بنیادی ڈھانچے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہےاور وزیر اعظم مودی نے نہ صرف جغرافیائی فاصلے کم کئے ہیں بلکہ دہلی اور شمال مشرق کے درمیان دلوں کی دوری کو بھی کم کرنے کا کام کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے “ہول آف گورنمنٹ اپروچ” کے تحت اس وسیع خطے کیلئے پورے عزم اور حساسیت کے ساتھ کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال میں شمال مشرق کی تنوع پوری دنیا کے سامنے ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔ آج پوری دنیا اس خطے کو “مواقع کا مرکز” کے طور پر دیکھتی ہے۔ پہلے شمال مشرق کو تنازعات کی وجہ سے جانا جاتا تھا، مگر آج اسے باہمی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہم کی علامت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ شمال مشرق کے 200 سے زائد قبائلی گروہوں، 195 سے زیادہ بولیوں، مختلف ثقافتوں، کھانوں اور لباس کی اس عظیم تنوع کو محفوظ رکھا جائے اور اسے مزید مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی مشترکہ ثقافت کو دوبارہ تشکیل دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی کے “اشٹ لکشمی” کے تصور کو عملی شکل دینی ہے۔
امت شاہ نے مزید کہا کہ ہم “ایکٹ ایسٹ، ایکٹ فاسٹ اور ایکٹ فرسٹ” کو زمین پر کامیابی سے نافذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق کو ہم نے تقدیر کے سہارے نہیں چھوڑا بلکہ منصوبہ بندی، ویژن اور مؤثر نگرانی کے ذریعے ترقی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف بجٹ سے ترقی ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ وژن، بہتر منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی باریک نگرانی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال میں یہ تمام پہلوؤں پر بہترین انداز میں کام ہوا ہے، جس کے نتیجے میں شمال مشرق میں امن، استحکام، خوشحالی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے ساتھ تیز رفتار ترقی ممکن ہوئی ہے۔

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرنے کہا کہ شمال مشرق کی ترقی، خوشحالی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ہائی لیول ٹاسک فورس کی رپورٹ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے تمام پیرامیٹرز میں شامل امور کو اپنی اپنی ریاستوں میں استعمال کرتے ہوئے اس رپورٹ کے 100 فیصد نفاذ کی سمت میں پیش رفت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اب شمال مشرق کی ترجیحات کو اسی رپورٹ کی بنیاد پر ترتیب دینا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “رائزنگ نارتھ ایسٹ انویسٹمنٹ سمٹ” کے دوران آٹھوں شمال مشرقی ریاستوں میں بڑی صنعتوں کے ساتھ آنے والی معاون صنعتوں کو چھوٹی ریاستوں میں قائم کر کے ترقی کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 4.25 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آسام کی انویسٹمنٹ سمٹ کے علاوہ موصول ہوئی ہے، جو شمال مشرق کی صنعتی ترقی پر مرکوز کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ آسام میں 27 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ سیلیکون (سیمی کنڈکٹر) پلانٹ کا قیام، شمال مشرق اور مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے لئے ہیلتھ ہب بنانا اور نامرُوپ میں امونیا-یوریا کمپلیکس کے ذریعے لاجسٹک لاگت کم کرنا جیسے منصوبوں سے اس خطے کی ترقی کو نئی رفتار ملی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ سنگل ونڈو کلیئرنس صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر ریاست کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کو اس کی ماہانہ سطح پر نگرانی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گوہاٹی، امپھال اور اگرتلا کو ملٹی موڈل لاجسٹکس ہب کے طور پر ترقی دینے کے کام کو مسلسل مانیٹرنگ کے ساتھ مقررہ وقت میں مکمل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمال مشرقی خطے کی تمام ریاستیں مچھلی، انڈے اور دودھ کی پیداوار میں خود کفیل بنیں اور اضافی پیداوار ملک کے دیگر حصوں تک پہنچائی جائے۔ بھارت کے کئی ریاستوں میں ڈیری سیکٹر نے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) اور وزارتِ تعاون کے ساتھ مل کر اس خطے میں نئے سرے سے کام کیا جا رہا ہے۔ ہدف یہ ہے کہ اگلے مالی سال سے ہر سال 50 ہزار سے زائد دودھ دینے والے جانور این ڈی ڈی بی کے ذریعے شمال مشرقی ریاستوں میں فراہم کئے جائیں اور دودھ جمع کرنے کے لیے ایک مضبوط کوآپریٹو نظام قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتر رابطہ کاری، منظم اور مربوط شہری ترقی اور 15 اعلیٰ امکانات والے شعبوں کی ترقی تمام ریاستوں کی ترجیح ہونی چاہیے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی بھی ترقی میں پانی اور قدرتی وسائل کا اہم کردار ہوتا ہے، جو شمال مشرقی ریاستوں میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی کونسل (این ای سی) صرف فنڈ تقسیم کرنے والا ادارہ نہیں رہے گا بلکہ ایک اسٹریٹجک پلاننگ انسٹی ٹیوٹ کے طور پر ابھرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم انسانی وسائل کا بین ریاستی سطح پر بہتر استعمال بڑھانا چاہتے ہیں اور اس میں مغربی بنگال کے ذریعے پورے شمال مشرق کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سبروم لینڈ پورٹ کے ذریعے مشرقی تجارت کے دروازے کھولے گئے ہیں اور اب شمال مشرقی خطہ جنوب مشرقی ایشیا اور انڈو پیسفک ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ شمال مشرق کے 200 سے زائد قبائلی برادریوں اور 200 زبانوں و بولیوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ شمال مشرق ہزاروں برس سے مختلف برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال رہا ہے اور اس تنوع کو ہمیں اپنی سب سے بڑی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر شمال مشرق کی کوئی ایک بولی بھی ختم ہوتی ہے تو یہ ملک کے لئے بہت بڑا نقصان ہوگا۔ اسی جذبے کے ساتھ تمام ریاستوں کو شمال مشرقی شناخت کے تحفظ کے لئے کام کرنا چاہیے، کیونکہ یہی اس خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پی ایم ڈِوائن اسکیم کے تحت آسام اور تریپورہ میں 65 کروڑ روپے کے کلسٹر پروجیکٹس کی منظوری دی ہے، جسے ایک ماڈل کے طور پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جی آئی ٹیگ کے لئے تقریباً 215 زرعی اور ثقافتی مصنوعات مقابلے میں ہیں۔ ہر ریاست میں ایک ٹاسک فورس ہونی چاہیے جو جی آئی ٹیگ حاصل کرنے کے عمل کی مسلسل نگرانی کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ “ہیلنگ انڈیا مشن” کے لئے شمال مشرق ایک مثالی منزل ہے اور ہر ریاست کو ویلنس انفراسٹرکچر اور ہیلتھ ٹورزم کی پالیسی بنانی چاہیے تاکہ یہ خطہ عالمی سطح پر صحت اور فلاح و بہبود کا مرکز بن سکے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کے گزشتہ 12 برس میں شمال مشرقی خطے میں شہری ہلاکتوں میں 86 فیصد کمی آئی ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 سے زائد تاریخی امن معاہدوں کے بعد اس خطے میں ترقی کے لئے ایک مثبت ماحول پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمال مشرق میں منشیات کی ترسیل اور استعمال کے خاتمے کے لئے حکومت ہند نے سخت حکمت عملی کے ساتھ ایک خصوصی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو اپنے شہریوں کو آئینی حقوق سے آگاہ کرنے اور ان کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ اس خطے میں شدت پسندی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اب شمال مشرق میں معمول کی پولیسنگ کے لئے نئے سرے سے آغاز کی ضرورت ہے۔ غریبوں، خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر شہری کو اس کے حقوق دلانے کے لیے نئی فوجداری انصاف اصلاحات کے تحت بروقت انصاف، ٹیکنالوجی کا استعمال، سزا کی شرح میں بہتری کے لیے فورنسک سائنس کا مؤثر استعمال، آن لائن رجسٹریشن اور عدالتوں میں آن لائن گواہی جیسے نظام کو مکمل طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ اے آئی، ڈیٹا اینالٹکس، مشین لرننگ اور بلاک چین جیسی ڈیجیٹل مہارتوں میں شمال مشرق کے نوجوان بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پورے شمال مشرق کو آئی ٹی انڈسٹری کا مرکز بنانے کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمال مشرق میں پن بجلی اور شمسی توانائی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی صلاحیت کو بروئے کار لا کر خطے کو توانائی کے شعبے میں مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کو شمال مشرق کی طرف راغب کرنے کے لئے بھی حکمت عملی بنانی چاہیے، کیونکہ یہ خطہ قدرتی طور پر اس کے لئے موزوں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام، صنعتی ترقی کے روڈ میپ اور قدرتی وسائل کے استعمال کے وژن کو ایک ساتھ مربوط کر کے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ شمال مشرق کو ایک جدید، ڈیجیٹل اور توانائی سے مضبوط خطے میں تبدیل کیا جا سکے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ع د
U.NO.8104
(रिलीज़ आईडी: 2270296)
आगंतुक पटल : 9