الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)  کے نصاب میں اصلاحات کے سلسلے میں صنعتوں کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطح پر میٹنگ کی


عملی تربیت، صنعتوں سے مربوط تعلیم، اساتذہ کی صلاحیت سازی اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAY 2026 4:03PM by PIB Delhi

حکومت  ہند ابھرتے ہوئے تکنیکی رجحانات کے مطابق طلبہ کو بہتر طور پر تیار کرنے کے واسطے  صنعتوں کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نصاب میں جامع اصلاحات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی، جناب اشونی ویشنو نے نئی دہلی میں اے آئی کے  نصاب کی  ٹاسک فورس کے ساتھ اعلیٰ سطح کی میٹنگ  کی ۔

ٹاسک فورس نے ہندوستانی تعلیمی اداروں میں بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک) کمپیوٹر سائنس اور متعلقہ نصاب کا جائزہ لیا۔ یہ عمل صنعت کے ماہرین اور نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروس کمپنیز (ناسکام) کے اشتراک سے انجام دیا گیا۔

جائزے  میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ ہندوستانی تعلیمی نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود کئی اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ یہ خامیاں تدریسی طریقۂ کار، بنیادی ڈھانچے اور عملی تربیت سے متعلق ہیں، خصوصاً جنریٹو اے آئی، مشین لرننگ آپریشن (ایم ایل اوپی ایس) اور بنیادی ماڈلز کی تیاری جیسے شعبوں میں یہ خامیاں موجود ہیں۔

ٹاسک فورس کے اہم توجہ طلب شعبے:

  • اطلاقی بنیاد پر تدریس (ایپلی کیشن اورینٹڈ پیڈاگوگی): پہلے سمسٹر سے ہی لیکچر پر مبنی تدریس کے بجائے صنعت کے حقیقی عملی نمونوں پر مبنی تعلیمی نظام کو فروغ دینا۔
  • کریڈٹ سے منسلکہ نصابی انضمام: اے آئی کورسز کو باضابطہ تعلیمی کریڈٹ کے نظام میں شامل کرکے سمسٹر  کی سطح پر  منظم نفاذ۔
  • عملی تربیت میں اضافہ: موجودہ 25 تا 30 فیصد عملی تربیت کو بڑھا کر ڈگری اور منتخب تخصص کے مطابق 40 تا 75 فیصد تک لے جانا۔
  • صنعتوں سے مربوط تدریسی نظام: کیپ اسٹون پروجیکٹس، مکمل اے آئی سالیوشن انجینئرنگ، اور لو-کوڈ و نو-کوڈ ٹولز کے استعمال کے ذریعے پورے تعلیمی پروگرام میں صنعت سے متعلق تجربات کو شامل کرنا۔
  • ذمہ دار اے آئی کو مستقل عنصر بنانا: ذمہ دار اے آئی اور اے آئی گورننس کو الگ ماڈیول کے بجائے ہر سمسٹر میں نصاب کا حصہ بنانا۔
  • متعدد انٹری-ایگزٹ کے اختیارات: ایسا لچکدار نظام فراہم کرنا جس کے تحت پہلے سال کے بعد سرٹیفکیٹ، دوسرے سال کے بعد ڈپلومہ، اور تیسرے سال کے بعد ایڈوانس ڈپلومہ حاصل کیا جا سکے۔

اساتذہ کی صلاحیت سازی پر خصوصی زور

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ نصاب میں اصلاحات کے ساتھ ہی  اساتذہ کی تیاری بھی ناگزیر ہے، مشاورتی اجلاس میں اساتذہ کی صلاحیت سازی کو مجوزہ لائحۂ عمل کا مرکزی حصہ قرار دیا گیا۔  اس سے متعلق سفارشات میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • خاکہ بند ’’ٹرین دی ٹرینر‘‘ پروگرام
  • منتخب اور معیاری نصابی مواد
  • یکساں تجزیاتی  و تشخیصی نظام
  • جدید صنعتی ٹولز اور پلیٹ فارم سے ہم آہنگ جدید لیبارٹریاں

اس کے علاوہ تجربہ کار صنعتی ماہرین کو بطور ایڈجنکٹ فیکلٹی شامل کرنے کی بھی سفارش کی گئی، تاکہ ممتاز بزنس اسکولوں کے کامیاب ماڈل کی طرز پر عملی تجربے کے حامل ماہرین کی مہارت کو تدریسی عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔

مشترکہ بنیادی ڈھانچہ کو  مرکزی حیثیت

شرکاء نے قومی سطح پر مشترکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) بنیادی ڈھانچے کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ ’’ٹرپل ہیلکس ماڈل‘‘ کے تحت صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مشترکہ طور پر اس کی معاونت کریں گے۔ اس اقدام کے ذریعے ملک بھر کے کالجوں اور جامعات کو گرافکس پروسیسنگ یونٹ (جی پی یو) کمپیوٹنگ، ایج ڈیوائسز، سافٹ ویئر اسٹیکس اور سبسکرپشن پر مبنی پلیٹ فارمز تک مساوی رسائی فراہم کی جا سکے گی۔

مستقبل کا لائحۂ عمل

مشاورتی اجلاس کا اختتام چار فوری اقدامات پر اتفاقِ رائے کے ساتھ ہوا:

  • قومی سطح پر کمپیوٹنگ کی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے، اساتذہ اور طلبہ کی تعداد سے متعلق ضروریات کا تخمینہ تیار کرنا۔
  • آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) کے ساتھ اشتراک سے جاری بیچ کے پانچویں تا آٹھویں سمسٹر میں نئے نصاب کو باضابطہ طور پر نافذ کرنا، جبکہ نئے داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے مکمل انضمام کو یقینی بنانا۔
  • اساتذہ کی صلاحیت سازی کا جامع لائحۂ عمل تیار کرنا، جس میں صنعت کی قیادت میں تربیت، تجربات کا تبادلہ اور کارپوریٹ کے  ماہرین کو بطور اساتذہ شامل کرنے کے لیے منظم راستہ فراہم کرنا شامل ہے۔
  • غیر سائنسی و ٹیکنالوجی (نان-اسٹیم) شعبوں کے لیے متوازی پروگرام شروع کرنا، جس کے تحت اے آئی  کی بیداری، بنیادی اے آئی معلومات اور غیر تکنیکی شعبوں میں اے آئی کے عملی استعمال پر توجہ دی جائے گی۔

******

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

UR No-7661


(ریلیز آئی ڈی: 2266320) وزیٹر کاؤنٹر : 14