امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر داخلہ اور  تعاون امت شاہ کا بھگوان برسا منڈا کی 150ویں یوم  سال گرہ کے موقع پر نئی دہلی میں منعقدہ ‘جن جاتی  سانسکرتک  سماگم’ سے بطور مہمان خصوصی خطاب


‘جن جاتی سماگم’ آنے والے برسوں میں قبائلی برادریوں کے کمبھ کے طور پر عالمی شناخت حاصل کرے گا

مودی حکومت نے نکسل ازم کی اس لعنت کا خاتمہ کیا ہے، جس کے تشدد نے 40 ہزار سے زیادہ قبائلی افراد کی جانیں لی تھیں

پہلی قبائلی صدر سے لے کر مختلف ریاستوں میں قبائلی وزرائے اعلیٰ تک، مودی دور قبائلی وقار کے سنہری دور کی علامت ہے

اپوزیشن حکومت کے دور میں قبائلی فلاح و بہبود کا بجٹ محض 28 ہزار کروڑ روپے تھا، جسے مودی حکومت نے پانچ گنا بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کر دیا

نریندر مودی نے قبائلی برادریوں کو یکساں سول کوڈ (یوسی سی) کے دائرے سے باہر رکھا ہے، لوگوں کو کسی کے پھیلائے ہوئے ابہام یا غلط معلومات کا شکار نہیں ہونا چاہیے

غلط فہمیوں سے دور رہیں، ان عناصر کو پہچانیں جو تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ہندوستان کی جانب متحد ہو کر آگے بڑھیں

مغربی بنگال کی تمام 16 درج فہرست قبائل ( ایس ٹی) نشستوں پر بی جے پی کی کامیابی- اٹل بہار واجپئی سے لے کر  نریندر مودی تک پارٹی کے قبائلی برادریوں کے تئیں غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے

پی ای ایس اے –‘پیسا’ اب صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہا، پی ای ایس اے –‘پیسا’ سیل کے ذریعے یہ قانون اب قبائلی برادریوں کی اپنی زبانوں میں ہر گاؤں تک پہنچ رہا ہے

‘‘تو اور میں ایک  رکت ہیں’’ کے منتر کے ساتھ ون واسی کلیان آشرم نے خاموش خدمت گزاروں کے طور پر قبائلی برادریوں کی خدمت کا ایک مشن مسلسل  جاری رکھا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAY 2026 9:49PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون جناب امت شاہ نے آج بھگوان برسا منڈا کی 150ویں یومِ پیدائش کے سال کے موقع پر نئی دہلی میں منعقدہ ‘جن جاتی سانسکرتک سماگم’ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ اجتماع آنے والے کئی برسوں تک قبائلی برادریوں کے مہاکمبھ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان برسا منڈا کے بعد یہ پہلی قبائلی تحریک ہے جس نے پورے ملک کو متحد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال بھگوان برسا منڈا کی 150ویں یومِ پیدائش منائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اُل گلان تحریک نے برطانوی حکومت کو جھکا دیا تھا، اور اُس دور میں مواصلاتی سہولیات نہ ہونے کے باوجود بھگوان برسا منڈا نے جھارکھنڈ سے گجرات اور پورے  ہندوستان  تک یہ پیغام پہنچایا کہ ہمارا مذہب ہی سچا مذہب ہے اور کوئی بھی ہمارے جنگلات پر قبضہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پانی، جنگلات اور پہاڑ ہمارے قبائلی بھائیوں اور بہنوں کے عقیدے کا مرکز ہیں، یہی ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں اور یہی ان کی شناخت اور ثقافت کی حفاظت کرنے والا ناقابلِ تسخیر قلعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج سب سے بہترین پائیدار ماڈل وہ ہے جو قبائلی برادریوں نے تشکیل دیا ہے۔

 جناب امت شاہ  نے کہا کہ تمام قبائلی برادریوں نے ‘‘تنوع میں اتحاد اور اتحاد میں تنوع’’ کے اصول کی بہترین مثال پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین سازوں نے ہر فرد کو اپنے عقیدے کے ساتھ باوقار زندگی گزارنے کا حق دیا ہے۔ کوئی بھی شخص لالچ، ترغیب یا جبر کے ذریعہ کسی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی برادریاں آج اپنے مذہب کے تحفظ کا عہد کریں تو یہ عزم ہمیں اپنی ثقافت اور  ملک سے جوڑے رکھے گا۔  جناب امت شاہ نے مزید کہا کہ ہمارے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ ہزاروں سال پہلے بھگوان رام نے شبری کے چکھے ہوئے بیر کھا کر یہ سبق دیا تھا کہ ہم سب ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کی یہ کانفرنس اور لاکھوں کی تعداد میں قبائلی برادریوں کی موجودگی اُن لوگوں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے جو سماج میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ اب ایک سازش پھیلائی جا رہی ہے جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) قبائلی برادریوں کو ان کی ثقافت، روایات اور ان کے رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے کے حق سے محروم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یو سی سی کی کوئی شق قبائلی برادریوں پر مسلط نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس سے ان کے کسی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے گجرات اور اتراکھنڈ میں یو سی سی کو لاگو کیا ہے جبکہ تمام قبائلی برادریوں کو اس کے دائرے سے باہر رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔  جناب امت شاہ نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں جو تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یو سی سی کسی بھی قبائلی برادری کی روایات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے نکسل ازم کی پانچ دہائیوں پرانی لعنت کو ختم کردیا ہے، جس کے تشدد نے 40,000 (چالیس ہزار)سے زیادہ قبائلی جانیں لی تھیں اور یہ کہ آج ملک نکسل مسئلہ سے مکمل طور پر آزاد ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے قبائلی برادریوں اور جنگل میں رہنے والوں کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالی تھیں ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ان جگہوں پر جہاں کبھی نکسلیوں سے لڑنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے کیمپ قائم کیے گئے تھے، مودی حکومت نے ایسے 70 کیمپوں کو‘ شہید ویر گنڈادھر سیوا ڈیرہ عوامی خدمت مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ترقی کو قبائلی علاقوں کی پہاڑیوں اور جنگلات تک لے جایا جائے، انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی  نے ہمیشہ قبائلی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے قبائلی امور کی وزارت بنا کر قبائلی برادریوں کی ترقی کی شروعات کی تھی اور وزیر اعظم مودی نے اس کام کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے حالیہ انتخابات میں ان کی پارٹی نے تمام 16 قبائلیوں کے مختص نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

جناب امت شاہ نے  نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر   نے مسلسل قبائلی فلاح و بہبود کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق مرکزی حکومت کے دور میں قبائلی فلاح کے لیے کل بجٹ 28 ہزار کروڑ روپے تھا، جسے وزیر اعظم مودی نے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ جناب نریندر مودی نے غریب سنتھال خاندان سے تعلق رکھنے والی دروپدی کو  ہندوستا ن  کے صدر کے عہدے تک پہنچا کر پوری قبائلی برادری کی عزت افزائی اور فلاح کے لیے کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناب اٹل بہار واجپئی کے دورِ حکومت میں جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ قبائلی اکثریتی ریاستیں بنیں اور آج اڈیشہ اور چھتیس گڑھ دونوں میں قبائلی وزرائے اعلیٰ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ای ایس اے-‘پیسا’ قانون کے نفاذ کے لیے حکومتِ ہند نے ایک پی ای ایس اے-‘پیسا’ سیل قائم کیا ہے، جس میں  ایک لاکھ سے زائد ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی گئی ہے، اور پی ای ایس اے-‘پیسا’ قواعد کو سنتھالی، گونڈی، بھیلی اور منڈاری سمیت کئی قبائلی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے پی ای ایس اے-‘پیسا’ گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان پورٹل بھی تیار کیا ہے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کا  پی ای ایس اے-‘پیسا’ قانون ماڈل ایک مثالی نمونہ ہے، اور ان کی پارٹی کی قیادت والی تمام حکومتیں اسے مزید آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم  جناب نریندر مودی  نے قبائلی برادریوں کی ترقی کے لیے کئی بڑے منصوبے نافذ کیے ہیں، جن میں 722 اکلوویہ ماڈل اسکول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر قبائلی خاندان کے لیے رہائش، بجلی، نل کے ذریعے پانی، 5 لاکھ روپے تک ہیلتھ انشورنس کوریج اور ماہانہ راشن کی سہولت کو یقینی بنایا ہے۔

جناب  امت شاہ   نے کہا کہ قبائلی برادریوں کی یہ تحریک نہ صرف آنے والے دنوں میں ہماری حفاظت کرے گی بلکہ ہمیں اپنی زمین، ثقافت اور عقیدے سے بھی جوڑے رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحریک پورے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘تو اور میں ایک رکت ہیں’’ کے منتر کے ساتھ ون واسی کلیان آشرم نے خاموش کارکنوں کی حیثیت سے قبائلی برادریوں کی خدمت کا ایک مشن مسلسل جاری رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مہاکمبھ ہماری ثقافت، ہماری زمین اور ہمارے عقیدے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 جناب امت شاہ  نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غلط فہمیوں سے دور رہیں، سماج میں تقسیم پیدا کرنے والوں کو پہچانیں، اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور خوشحال  ہندوستان  کی تعمیر کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں۔

 

********

ش ح- ظ الف- م ع

UR- 7489

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2264871) وزیٹر کاؤنٹر : 8