امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے نئی دہلی میں رستم جی میموریل لیکچر میں بی ایس ایف کی استقبالیہ تقریب  میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی


بی ایس ایف اہلکاروں کو دیا جانے والا اعزاز قوم کے تئیں غیر متزلزل وفاداری ، فرض کے تئیں لگن اور مکمل عزم کی علامت ہے

مودی حکومت اگلے سال ڈرون ، ریڈار ، جدید کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس 'اسمارٹ بارڈر پروجیکٹ' شروع کرکے ایک ناقابل تسخیر بارڈر گرڈ قائم کرے گی

تریپورہ ، آسام اور مغربی بنگال کی حکومتیں دراندازی کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں اور بی ایس ایف کو ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے

وزیر داخلہ نے تریپورہ ، آسام اور مغربی بنگال میں بی ایس ایف کو دراندازی کو روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ ، پولیس اسٹیشنوں ، پنچایتوں اور پٹواریوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی

سرحدی سلامتی کوئی علیحدہ فرض نہیں ہے، بلکہ یہ ایک علاقائی ذمہ داری ہے

داخلی سلامتی کے لیے مودی حکومت کا وژن مسائل کو ان کی جڑوں سے ختم کرنا ہے-نکسل ازم کے بعد اب دراندازی ختم ہو جائے گی

جناب امت شاہ نے سائبر خطرات ، ہائبرڈ  جنگی حربوں اور ڈرون جنگی حربوں سے نمٹنے کے لیے نئی سرحدی حفاظتی حکمت عملی پر زور دیا

مودی حکومت سرحدوں پر ٹیکنالوجی پر مبنی اسمارٹ سیکورٹی گرڈ قائم کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کر رہی ہے

وہ دور ختم ہو گیا ہے، جب دہشت گرد حملوں اور نکسلائٹ گروہوں نے بے خوف ہوکر قتل عام کیے جبکہ حکومتیں محض بات چیت میں مصروف تھیں ، یہی نیا دفاعی نظریہ ہے-مودی نظریہ

مودی جی نے ایک ہائی پاورڈ ڈیموگرافک مشن کے قیام کا اعلان کیا ، اور کمیٹی کی تشکیل کے فورا بعد اس پر کام شروع ہو جائے گا

ہم ہندوستان میں آبادی کے تناسب میں غیر فطری تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے  اور ہر ایک درانداز کی شناخت کی جائے گی اور اسے باہر نکال دیا جائے گا

اگلے دو مہینوں میں مودی حکومت تمام سی اے پی ایف اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا پروگرام متعارف کرائے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 MAY 2026 5:26PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کی استقبالیہ تقریب اور رستم جی میموریل لیکچر میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔  انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر ، سکریٹری (بارڈر مینجمنٹ) اور بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل سمیت متعدد معززین نے اس تقریب میں شرکت کی ۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ استقبال کی تقریب بی ایس ایف کی غیر متزلزل لگن ، فرض کے تئیں عزم اور قوم کے تئیں مکمل لگن کی علامت ہے ۔  انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ کے بعد ، سرحدی سلامتی میں خامیوں کا تفصیلی جائزہ لینے سے یہ احساس ہوا کہ امن کے دور میں بھی ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی فورس کی ضرورت ہے ۔  اس وقت پدم وبھوشن کے ایف رستم جی کی قیادت میں، بی ایس ایف قائم کی گئی  تھی  اور اس کے بعد سے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا  گیاہے۔   انہوں نے کہا کہ جناب رستم جی  کی طرف سے رکھی گئی مضبوط بنیاد نے بی ایس ایف کو قومی سلامتی کے میدان میں ایک ادارہ بنانے کے قابل بنایا ہے ، جس سے قوم کو فخر محسوس ہوا ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج سرحدی سلامتی کے شعبے میں کئی نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں ۔  غیر قانونی دراندازی ، منشیات کی اسمگلنگ ، مویشیوں کی اسمگلنگ ، جعلی کرنسی ، منظم جرائم ، اور ڈرون کے ذریعے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ بی ایس ایف کو درپیش بہت سے چیلنجوں میں شامل ہیں ۔  تاہم ، بی ایس ایف نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل منصوبہ بند کوششیں کی ہیں ۔  جناب شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف نے اپنے وسائل کا بہترین استعمال کرکے اور ان تمام چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرکے قوم کی حفاظت کی ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں فورس کے کردار کو مزید مربوط اور جامع بنانا ہوگا ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ سرحدی سلامتی اب صرف روایتی طریقوں پر انحصار نہیں کر سکتی ۔  سیکورٹی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستی پولیس ، سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) دیگر مسلح افواج ، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ریاستی انتظامیہ کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سلامتی کو اب ایک الگ ذمہ داری کے طور پر نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔  جناب شاہ نے سرحد پار دراندازی کی وجہ سے آبادی کے تناسب میں ہونےوالی تبدیلیاں اور منشیات اور جعلی کرنسی کے ذریعے ملک کی معیشت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔  انہوں نے کہا کہ بھارت کو سائبر خطرات ، ہائبرڈ جنگی حربوں اور ڈرون پر مبنی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانی چاہیے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بارڈر سیکورٹی فورس سیاچن اور کشمیر کے برفیلے پہاڑوں ، کپواڑہ ، کیرن اور اوری جیسے مشکل علاقوں ، راجستھان کے صحراؤں ، رن آف کچھ ، سر کریک کی دلدلی کھاڑیوں ، سندربن کے گھنے جنگلات ، تریپورہ ، میگھالیہ اور میزورم کی مشکل مشرقی سرحدوں اور برہم پتر سے منسلک حساس دریائی علاقوں سمیت ملک کے کچھ سب سے مشکل علاقوں میں ثابت قدم ہے ۔  انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بی ایس ایف ، جس کا آغاز 1965 میں صرف 25  بٹالین اور محدود وسائل کے ساتھ ہوا تھا ، آج  2.70  لاکھ اہلکاروں کی طاقت کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی سرحدی محافظ فورس بن گئی ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ 2014 سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی دفاعی اور سرحدی سلامتی کی پالیسیوں میں تبدیلی آئی ہے ۔  اڑی ، پلوامہ  اور پہلگام جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے،  انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر سرجیکل اسٹرائیکس ، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کے ذریعے فیصلہ کن جواب دیا ۔  انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں کا مذاکرات کے ذریعے جواب دینے کا دور ختم ہو گیا ہے اور ہندوستان نے آئین کی روح کے مطابق اپنے حفاظتی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے ۔  انہوں نے اسے ایک نئے دفاعی نظریے کے طور پر بیان کیا، جس میں بی ایس ایف نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔

جناب امت شاہ نے مزید کہا کہ حکومت ہند اور وزارت داخلہ ملک کی سرحد کو 'اسمارٹ بارڈر' میں تبدیل کرنے کے لیے تکنیکی مدد فراہم کریں گے ۔  انہوں نے کہا کہ اسمارٹ بارڈر تصور کے تحت ہر قسم کی ٹیکنالوجی کو مربوط کرکے اگلے سال کے اندر ایک ناقابل تسخیر بارڈر سیکورٹی گرڈ بنانے کی سمت میں کام جاری ہے ۔  وزارت داخلہ جلد ہی ڈرون ، ریڈار ، جدید کیمروں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک اسمارٹ بارڈر پروجیکٹ متعارف کرائے گی ۔  وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک بار یہ پہل شروع ہونے کے بعد بارڈر سیکورٹی فورس کا کام نمایاں طور پر آسان اور مضبوط ہو جائے گا ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ بارڈر سیکورٹی فورس کے قیام کے 60 ویں سال میں حکومت اسمارٹ بارڈر پروجیکٹ شروع کرے گی اور بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ پوری سرحدوں کو ناقابل تسخیر بنائے گی ، اس طرح بی ایس ایف کو اہم تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی ۔  انہوں نے کہا کہ ہمت ، بہادری ، لگن اور حب الوطنی کے ساتھ ساتھ یہ فورس مضبوط تکنیکی صلاحیت سے بھی آراستہ ہوگی ، جس سے دونوں سرحدوں کی سلامتی میں مزید اضافہ ہوگا ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے نہ صرف دراندازی کو روکنے کا عزم کیا ہے ، بلکہ ملک سے ہر دراندازی کی شناخت کرنے اور ملک سے نکالنے کا بھی عزم کیا ہے ، اور آبادی کے تناسب میں غیر فطری تبدیلی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔  انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کو دراندازی کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشوں کو روکنا چاہیے ۔  انہوں نے کہا کہ تریپورہ ، آسام اور مغربی بنگال کی حکومتیں اب ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں،  جو واضح طور پر غیر قانونی دراندازی کی مخالفت کرتی ہیں ۔  جناب شاہ نے کہا کہ یہ بی ایس ایف کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرے،  بلکہ گاؤں کی سطح کے اہلکاروں ، تھانوں ، ضلع کلکٹروں ، ڈی ڈی اوز اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھے ۔  انہوں نے کہا کہ نئے دراندازوں ، ان کے داخلے کے راستوں اور اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس بشمول مویشیوں کی اسمگلنگ کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کی جانی چاہئیں اور ایسے تمام راستوں کی منظم طریقے سے شناخت کی جانی چاہیے اور انہیں بند کیا جانا چاہیے ۔  انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کو دراندازی کو روکنے اور ہٹانے کے لیے ایک منظم نظام بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے ۔  مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دراندازی کو فیصلہ کن طریقے سے روکا جائے،  جو برسوں سے بلا روک ٹوک جاری ہے ۔

جناب امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی پرعزم کوششوں کی وجہ سے پانچ دہائی پرانا نکسل ازم کا مسئلہ اب ہندوستان سے مؤثر طریقے سے ختم ہو گیا ہے۔   انہوں نے کہا کہ سیکورٹی پالیسی کا مقصد محض مسائل پر قابو پانا نہیں ہونا چاہیے،  بلکہ ان کا مکمل خاتمہ کرنا چاہیے ۔  انہوں نے بی ایس ایف پر زور دیا کہ وہ دراندازی سے نمٹنے کے لیے وہی پرعزم نقطہ نظر اپنائے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وائبرینٹ ولیج-1 اور وائبرینٹ ولیج-2 ترقیاتی پروگرام ہیں،  جنہیں بارڈر سیکورٹی فورس کے تعاون سے جمہوری طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے ۔  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی ایس ایف کے دائرہ اختیار کو 15 کلومیٹر سے بڑھا کر 50 کلومیٹر کر دیا گیا ہے اور مغربی بنگال میں زمین کی تفویض سے متعلق فیصلوں کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہائی پاورڈ ڈیموگرافک مشن کا اعلان کیا ہے اور اس کی کمیٹی کی تشکیل کے بعد جلد ہی اس پر کام شروع ہو جائے گا ۔  انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی سرحدوں پر ایک مضبوط سکیورٹی گرڈ قائم کرنا ہوگا ، جس کے لیے ایک بڑی مہم بھی شروع کرنے کی ضرورت ہوگی ۔  جناب امت شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف کا 60 واں سال بھی اسمارٹ بارڈر کی تعمیر اور بی ایس ایف اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے وقف ہے ۔  جناب شاہ نے کہا کہ اگلے دو مہینوں کے اندر جناب نریندر مودی حکومت بی ایس ایف اہلکاروں اور تمام سی اے پی ایف جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا پروگرام متعارف کرائے گی ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت منشیات کے خلاف ملک گیر سطح پر ایک بڑی مہم شروع کرنے جا رہی ہے ، جس میں بارڈر سیکورٹی فورس بھی بہت اہم کردار ادا کرے گی ۔  انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے سرحد کے دونوں اطراف سے انٹیلی جنس جمع  کرنے میں فورس کی چوکسی کی تعریف کی ۔  انہوں نے کہا کہ اگلے تین سے چار سال سرحدی سلامتی میں تبدیلی لانے والے ہوں  گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک طرف جہاں ٹیکنالوجی،  صلاحیتوں کو مضبوط کرے گی ، تو وہیں اس سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔  وزیر داخلہ نے بی ایس ایف اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کو اپنائیں ، مقامی برادریوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کریں اور ہندوستان کو دراندازی سے چھٹکا رہ دلانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی کو بہتر بنائیں ۔

***

) ش ح –ض ر-ق ر)

U.No. 7439


(ریلیز آئی ڈی: 2264269) وزیٹر کاؤنٹر : 19