صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈانے جنیوا میں 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے دوران ’’پھیپھڑوں کی صحت کی اسکریننگ پر وزارتی نقطۂ نظر‘‘ کے موضوع پر ’اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ‘ کے ایک ضمنی اجلاس سے خطاب کیا
بروقت اسکریننگ، بیماری کی جلد تشخیص اور علاج تک مساوی رسائی ہی ایک مضبوط اور عوام پر مبنی صحت کے نظام کی بنیاد ہے:جناب نڈا
’’قومی ٹی بی خاتمہ پروگرام اور ’ٹی بی مکت بھارت‘کے وژن کے تحت ہندوستان نے دنیا کی سب سے بڑی اسکریننگ اور ابتدائی تشخیص کی کوششوں میں سے ایک کا آغاز کیا ہے
شخیص میں تاخیر کو کم کرنے کے لیے—خاص طور پرہندوستان کے دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں—مالیکیولر ٹیسٹنگ پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل چیسٹ ایکس رے خدمات، اے آئی پر مبنی تشریحی آلات، دستی اسکریننگ آلات اور غیر مرکزی جانچ نظام کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے: جناب نڈا
’ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے ذریعے ہندوستان نے ٹی بی کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے شہریوں، اداروں، کارپوریٹس اور برادریوں کو متحد کیا ہے‘
’’ہندوستان کی ’ٹی بی مکت بھارت ایپ‘—جس میں ’خوشی‘نام سے اے آئی سے چلنے والا کثیر لسانی چیٹ بوٹ شامل ہے—علامات، دستیاب سہولیات اور قریبی تشخیصی مراکز کے بارے میں حقیقی وقت میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔‘‘
مرکزی وزیرصحت نے دنیا بھر میں پھیپھڑوں کی صحت کی اسکریننگ کے لیے عملی اور بڑے پیمانے پر قابل نفاذ حل کو فروغ دینے کی خاطر حکومتوں، اختراع کاروں، شراکت داروں اور برادریوں کے ساتھ تعاون کے لیےہندوستان کی آمادگی کا اعادہ بھی کیا
प्रविष्टि तिथि:
21 MAY 2026 9:18AM by PIB Delhi
مرکزی وزیربرائےصحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے جنیوا میں 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے اجلاس کے دوران ’’پھیپھڑوں کی صحت کی اسکریننگ پر وزارتی نقطۂ نظر‘‘ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی ضمنی اجلاس سے خطاب کیا۔ ’’کیا آپ کا صحت کا نظام پھیپھڑوں کی صحت کی اسکریننگ میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے؟‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام کا اہتمام اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ نے کیا تھا، جس کی ہندوستان، جاپان، فلپائن اور زیمبیا نے مشترکہ طور پر اس کی میزبانی کی۔

باوقار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت اسکریننگ، ابتدائی تشخیص اور علاج تک مساوی رسائی مضبوط اور عوام پر مرکوز صحت کے نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھیپھڑوں کی صحت کی اسکریننگ کو بہتر بنانا صرف ٹیکنالوجی یا تشخیصی آلات کا معاملہ نہیں بلکہ زندگی بچانے، تکالیف کم کرنے، تباہ کن طبی اخراجات کی روک تھام، روزگار کے تحفظ اور صحت نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔
ٹی بی کے خاتمے کے لیے ہندوستان کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیرصحت نے کہا کہ ’نیشنل ٹیوبرکولوسس ایلیمینیشن پروگرام (قومی ٹی بی خاتمہ پروگرام)اور ’ٹی بی مُکت بھارت‘ کے وژن کے تحت ہندوستان نے دنیا کی سب سے بڑی اسکریننگ اور ابتدائی تشخیص کی مہمات میں سے ایک شروع کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک نے “گھر گھر رسائی، موبائل اسکریننگ ٹیموں، کمیونٹی مہمات اور زیادہ خطرے والے علاقوں اور کمزور طبقات میں خصوصی مہمات کے ذریعے حساس آبادیوں میں فعال کیس تلاش کرنے کے عمل کو وسعت دی ہے۔

جناب نڈا نے مزید بتایا کہ ہندوستان نے ٹی بی اور دیگر پھیپھڑوں کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے جدید تشخیصی سہولیات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر دور دراز اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں مالیکیولر ٹیسٹنگ پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل چیسٹ ایکس رے خدمات، اے آئی کی مدد سے تجزیے کے آلات، دستی اسکریننگ کے آلات اور غیر مرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) ٹیسٹنگ نظام وسیع پیمانے پرنصب کیے جا رہے ہیں تاکہ تشخیصی تاخیر کو کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے زور دیا کہ “انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ’’جدت کو انصاف اور مساوات کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے اور ٹیکنالوجی کو معاشرے کے آخری فرد تک ضرور پہنچنا چاہیے۔”
مرکزی وزیرصحت نے آیوشمان بھارت ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹرز کے تحت بنیادی صحت کے اصلاحاتی کردار اور بڑے پیمانے پرفرنٹ لائن افرادی قوت کو بھی اجاگر کیا، جو صحت کی خدمات کو کمیونٹیز کے قریب تر لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صرف تشخیص کافی نہیں، بلکہ غذائی معاونت، علاج کی پابندی میں مدد، سماجی تحفظ اور کمیونٹی یکجہتی کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے ذریعے ہندوستان نے شہریوں، اداروں، کارپوریٹس اور کمیونٹیز کو ٹی بی کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے متحرک کیا ہے۔”

جناب نڈانے ہندوستان کی ڈیجیٹل اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نے ٹی بی مکت بھارت ایپ کا آغاز کیا ہے، جس میں’’خوشی‘‘ کے نام سے ایک اے آئی پر مبنی کثیر لسانی چیٹ بوٹ شامل ہے، جو ابتدائی درجے کے موبائل فونز پر بھی قابلِ رسائی ہے۔ یہ پلیٹ فارم علامات، حقوق اور قریبی تشخیصی سہولیات کے بارے میں بروقت رہنمائی فراہم کرتا ہے، جس سے علامات کے آغاز اور بروقت علاج کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جناب نڈا نے مضبوط عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پھیپھڑوں کی صحت کے فروغ کے لیے اہم بین الاقوامی ترجیحات پیش کیں۔ ان میں پھیپھڑوں کی صحت کو عالمی صحت کی کوریج کے فریم ورک میں مرکزی دھارے میں شامل کرنا، تشخیص، ڈیجیٹل آلات اور اسکریننگ ٹیکنالوجیز تک سستی رسائی کو بڑھانا، سانس کی بیماریوں کے لیے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا، جدت، ملکی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینا اور ٹی بی اور دیگر پھیپھڑوں کی بیماریوں کی روک تھام اور ابتدائی تشخیص کے لیے پائیدار مالی معاونت کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

عالمی اہداف سے پہلے ٹی بی کے خاتمے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مرکزی وزیرصحت نے کہا کہ ٹی بی کے خلاف جدوجہد مضبوط صحتی نظاموں، بہتر تشخیص، صاف ستھرے ماحول، بہتر غذائیت اور زیادہ منصفانہ معاشروں کی تشکیل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تاخیر سے ہونے والی تشخیص سے بروقت تشخیص کی طرف، الگ الگ پروگراموں سے مربوط نگہداشت کی طرف اور بیماری کے کنٹرول سے صحتی نظام کی مکمل تبدیلی کی طرف منتقل ہو۔
جناب نڈا نے اپنی تقریر کے اختتام پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان حکومتوں، اختراع کاروں، ترقیاتی شراکت داروں اور کمیونٹیز کے ساتھ مل کر پھیپھڑوں کی صحت کی اسکریننگ کے لیے عملی اور قابل توسیع حل کو فروغ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
***
ش ح ۔م ع ن۔ ج
U. No.7358
(रिलीज़ आईडी: 2263566)
आगंतुक पटल : 45