لوک سبھا سکریٹریٹ
پارلیمنٹ میں اظہارِ رائے کی آزادی قواعد و ضوابط کے تابع ہے؛ ایوان کا کوئی بھی معزز رکن ان ضابطوں کے دائرے سے باہر بولنے کا کوئی استحقاق نہیں رکھتا: لوک سبھا اسپیکر
چیئر کے پاس مائیکروفون آن یا آف کرنے کا کوئی بٹن نہیں ہوتا؛ ایوان کا نظام صرف اسی رکن کا مائیکروفون فعال کرتا ہے جسے بولنے کی اجازت دی جاتی ہے: لوک سبھا اسپیکر
ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا، نعرے بازی کرنا اور پلے کارڈز دکھانا پارلیمنٹ کے وقار اور عظمت کو مجروح کرتا ہے: لوک سبھا اسپیکر
تمام اراکین کوایوان کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی ہے؛ پارلیمانی اداروں کا احترام انتہائی ضروری ہے: لوک سبھا اسپیکر
چیئر کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں؛ یہ بھارت کی جمہوری روایات کی علامت ہے: لوک سبھا اسپیکر
اختلافِ رائے اور شدید بحث جمہوریت کا فطری حصہ ہیں، لیکن جمہوری بات چیت اور بد نظمی کے درمیان ایک واضح حد موجود ہے: لوک سبھا اسپیکر
لوک سبھا اسپیکر نے خواتین اراکین کے لیے اعلیٰ ترین احترام کا اعادہ کیا اور کہا کہ انہیں بولنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
12 MAR 2026 4:33PM by PIB Delhi
لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ میں اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن یہ آئین اور پارلیمنٹ کے طریقہ کار کو منظم کرنے والے قواعد و ضوابط کے تابع ہے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط میں واضح رہنما اصول موجود ہیں کہ اراکین کو ایوان میں گفتگو کے دوران کس طرح اپنا طرزِ عمل رکھنا چاہیے۔
آئین کی دفعہ105 کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ آئین خود اس آزادی کو پارلیمانی قواعدو ضوابط کے دائرے میں رکھتا ہے۔
اپنے عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر بحث کے اختتام کے ایک دن بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں بارہ گھنٹوں سے زائد بحث ہوئی، جس میں مختلف پارٹیوں کے اراکین نے اپنے خیالات، دلائل اور خدشات پیش کیے۔
انہوں نے کہا کہ “میں نے ہر معزز رکن کی بات نہایت توجہ اور غور سے سنی۔ میں ایوان کے تمام اراکین کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں—چاہے انہوں نے حمایت میں اظہارِ خیال کیا یا تنقید کے ذریعے تجاویز پیش کیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ ہر آواز سنی جاتی ہے اور ہر نقطۂ نظر کی اہمیت ہوتی ہے۔”
بحث کے دوران بولنے کے مواقع سے متعلق اٹھائے گئے خدشات کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے واضح کیا کہ تمام اراکین کو ایوان کے قواعد کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کچھ اراکین کا خیال ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو کسی بھی وقت کھڑے ہو کر کسی بھی موضوع پر بطور خاص استحقاق بات کرنے کا حق حاصل ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایوان انہی قواعد کے مطابق چلتا ہے جو خود ایوان نے بنائے ہیں، اور یہ قواعد ہر رکن پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔”انہوں نے زور دیا کہ “کوئی بھی معزز رکن ان قواعد کے دائرے سے باہر بولنے کا استحقاق نہیں رکھتا۔”
اپوزیشن اراکین کے مائیک بند کیے جانے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ “میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چیئر کے پاس مائیک آن یا آف کرنے کا کوئی بٹن نہیں ہوتا۔ ایوان کا نظام صرف اسی رکن کا مائیک فعال کرتا ہے جسے بولنے کی اجازت دی جاتی ہے۔”
اسپیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایوان کی چیئر کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ چیئر کسی شخص کی نہیں بلکہ بھارت کی جمہوری روایات، آئین کی روح اور اس عظیم ادارے کے وقار کی علامت ہے۔ میرے پیش روؤں نے اس ایوان کی عزت اور روایات کو مضبوط کیا، اور میری مسلسل کوشش ہے کہ اس کا وقار مزید بلند ہو۔” انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ غیر جانبداری، نظم و ضبط اور توازن کے ساتھ، ایوان کے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی چلاتے رہے ہیں۔
اسپیکر نے کہا کہ یہ ایوان بھارت کے 1.4 ارب عوام کی خودمختار خواہشات کی نمائندگی کرتا ہے اور ہر رکن لاکھوں لوگوں کے مینڈیٹ اور امیدوں کا نمائندہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہر رکن یہاں عوام کے مسائل اٹھانے اور ان کی توقعات پوری کرنے کی ذمہ داری کے ساتھ آتا ہے۔”
خواتین اراکین کے احترام سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے تمام خواتین اراکین کے لیے اپنے گہرے احترام کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “میں نے ہمیشہ تمام معزز خواتین اراکین کا انتہائی احترام کیا ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ ہر خاتون رکن کو ایوان میں اظہارِ خیال کا موقع ملے۔ میرے دور میں ہر خاتون رکن—بشمول نئی منتخب ہونے والی—کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔”
جناب اوم برلا نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ اپوزیشن کو مباحثوں میں مناسب وقت نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے حالیہ لوک سبھاؤں کے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کی تعداد کے تناسب سے دیکھا جائے تو کئی اہم مباحثوں میں اپوزیشن کو مقررہ وقت سے زیادہ وقت ملا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چھوٹی پارٹیوں، ایک رکنی پارٹیوں اور آزاد اراکین کی شرکت یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ“میں اکثر مباحثے اور وقفہ صفر کا وقت بڑھاتا ہوں تاکہ زیادہ اراکین اظہارِ خیال کر سکیں۔”
آخر میں، اسپیکر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نعرے بازی، پلے کارڈز دکھانا، کاغذات پھاڑنا اور ایوان کے وسط میں آنا پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ “یہ اقدامات نہ صرف ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہیں بلکہ اس کے وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔” انہوں نے اراکینِ پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ جمہوری روایات کی اعلیٰ ترین اقدار کو برقرار رکھیں۔
جناب اوم برلا نے یاد دلایا کہ 1997 اور 2001 میں اسپیکرز اور پارلیمانی رہنماؤں کی کانفرنسوں میں متفقہ طور پر یہ طے کیا گیا تھا کہ نعرے بازی، پلے کارڈز دکھانا، نامناسب اشارے کرنا اور کارروائی میں خلل ڈالنا جیسے رویے قانون ساز اداروں کے کام کاج کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اختلافِ رائے اور شدید بحث و مباحثہ جمہوریت کا فطری حصہ ہیں، لیکن جمہوری مکالمے اور بد نظمی کے درمیان ایک واضح حد موجود ہے۔”
اسپیکر نے مزید زور دیا کہ پارلیمنٹ کے وقار اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا تمام اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ادارے مستقل ہوتے ہیں اور مضبوط جمہوریت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم خود ہی اپنے اداروں کے وقار کو کم کریں گے تو نقصان کسی فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی ایوان میں خلل پڑتا ہے تو عوام میں مایوسی پیدا ہوتی ہے، جو پارلیمنٹ سے سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب برلا نے تمام جماعتوں کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ مل کر پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ“میں حکمراں اور اپوزیشن دونوں بنچوں کو اس ادارے کا مساوی محافظ سمجھتا ہوں۔ چاہے تعریف ہو یا تنقید، میرا عزم ایک ہی رہے گا—اس ایوان کے وقار کا تحفظ اور اس کے قواعد کی پاسداری۔”
اراکین کو شدید بحث و مباحثہ کے بعد مثبت انداز میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ “آئیے آج سے ایک نیا، مثبت اور تعمیری باب کا آغاز کریں۔ آئیے قومی خدمت اور ملک کی تعمیرکی راہ پر متحد ہو کر آگے بڑھیں۔
***************
(ش ح۔م ع۔ ا ک م)
U: 6650
(रिलीज़ आईडी: 2258029)
आगंतुक पटल : 10