پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مغربی ایشیا میں موجودہ صورتحال پربین وزارتی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا


ڈی پی آئی آئی ٹی  نے صنعتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور سپلائی چینز کو مستحکم کرنے کے لیے ریگولیٹری اور سہولت کاری کے اقدامات کو تیز کیا ہے

25 مارچ 2026 کے بعد سے سی این جی اور سی بی جی ڈسپینسنگ اسٹیشنز کے 467 سے زائد درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا گیا ہے، گیس انفرااسٹرکچر کی توسیع میں تیزی لائی جا رہی ہے

متبادل اور صاف توانائی کی دستیابی کو فروغ دینے کے لیے 41 بایوگیس سلنڈر فلنگ اور اسٹوریج پلانٹس کو منظوری دی گئی ہے

ایس کے او اسٹوریج، ایل پی جی ان لوڈنگ اور ایل این جی فلنگ کے لیے عارضی ریگولیٹری میں نرمی فراہم کی گئی ہے تاکہ ایندھن کی بلا تعطل سپلائی اور آخری صارف تک ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے

منتقلی کو روکنے کے لیے ڈی اے سی پر مبنی ترسیل بڑھ کر تقریباً 94 فیصد ہو گئی ہے

23 مارچ 2026 سے اب تک 20.08 لاکھ سے زیادہ 5 کلو گرام والے ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں

تقریباً 5.10 لاکھ پی این جی  کنکشنز کو گیس فراہم کی گئی ہے، جبکہ مزید 2.56 لاکھ کنکشنز کے لیے انفرااسٹرکچر تیار کر لیا گیا ہے اور تقریباً 5.77 لاکھ صارفین نئے کنکشنز کے لیے رجسٹرڈ کئے گئے ہیں

بھارتی پرچم  بردارخام تیل کا ٹینکر ’دیش گریما‘، جس پر 31 بھارتی ملاح سوار ہیں، آج شام تقریباً 18:00 بجے ممبئی پہنچنے کی توقع ہے

28 فروری سے اب تک اس خطے سے تقریباً 11.91 لاکھ مسافروں نے بھارت کا سفر کیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 APR 2026 5:42PM by PIB Delhi

مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو باخبر رکھنے کی اپنی جاری مہم کے تحت، حکومتِ ہند نے آج نیشنل میڈیا سینٹر میں ایک پریس بریفنگ منعقد کی۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوںاور  امور خارجہ کی وزارتوں کے حکام نے ایندھن کی دستیابی، سمندری آپریشنز، خطے میں موجود بھارتی شہریوں کی امداد اور کلیدی شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تازہ ترین معلومات فراہم کیں ۔تجارت و صنعت کی وزارت کے تحت محکمہ برائے فروغ صنعت و اندرونی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے بھی بریفنگ کے دوران اپنی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔

صنعتی سرگرمیاں اور شعبہ جاتی اپ ڈیٹس:

صنعت اور اندرونی تجارت کے فروغ کا محکمہ (ڈی پی آئی آئی ٹی) مغربی ایشیا کی ابھرتی ہوئی صورتحال کے درمیان صنعتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے، سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھنے اور کلیدی مینوفیکچرنگ کی مدد کے لیے متعدد ریگولیٹری اور سہولت کاری کے اقدامات کو فعال طور پر نافذ کر رہا ہے۔

ان اقدامات کا مقصد ایندھن اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے جبکہ صنعت کو درپیش آپریشنل چیلنجوں کو بھی حل کرنا ہے۔ڈی پی آئی آئی ٹی کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے اور بیان کردہ اقدامات اب تک کی گئی کارروائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ایندھن اور گیس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے سہولت کاری کے اقدامات:

پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیو سیفٹی آرگنائزیشن (پی ای ایس او) نے جاری بحران کے دوران ایندھن اور گیس کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد سہولت کاری اور حفاظت پر مبنی اقدامات کیے ہیں:

  • کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) کے ڈسپنسنگ اسٹیشنوں کے لیے مجموعی طور پر 467 درخواستیں پی ای ایس او کو موصول ہوئیں اور 25 مارچ 2026 سے 21 اپریل 2026 تک ان تمام درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹا دیا گیا ہے۔ ان 467 کیسز میں سے 157 کیسز میں حتمی لائسنس جاری کیے گئے اور نئے سی این جی/سی بی جی ڈسپنسنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے 38 پیشگی منظوریاں دی گئیں۔
  • مارچ 2026 سے اب تک بائیو گیس سلنڈر بھرنے اور اسٹوریج کے 41 پلانٹس کو منظوری دی گئی ہے اور اس کے بعد 14 پلانٹس کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
  • سوپیرئیر کیروسین آئل (ایس کے او) کے لیے عارضی اسٹوریج کی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے تحت 2,500 لیٹر (12.03.2026) تک ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی اور پی ڈی ایس یعنی مٹی کے تیل کے لیے 5,000 لیٹر تک کی یک طرفہ چھوٹ دی گئی تاکہ آخری حد تک تقسیم کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے (13.03.2026)۔
  • ملکی دستیابی کو محفوظ بنانے کے لیے، 18.03.2026 کو امونیم نائٹریٹ کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
  • کریوجینک سلنڈرز میں ایل این جی (ایل این جی) بھرنے کی اجازت دینے والی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ ایل این جی کی غیر مرکزی سپلائی کو فروغ دیا جا سکے، جس سے رکاوٹوں کے دوران ایندھن کی لچک میں اضافہ ہو گا۔
  • پی ای ایس او نے 20 مارچ 2026 کو انفرااسٹرکچر میں اضافے کو تیز کرنے کے لیے سی این جی اسٹیشنوں اور ڈی کمپریشن یونٹس کی درخواستوں کو مقررہ وقت (10 دنوں کے اندر) نمٹانے کی ہدایات جاری کیں۔
  • فوری سپلائی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے، 14.03.2026 کو پوربندر جیٹی پر ایل پی جی (ایل پی جی) اتارنے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • بہتر شفافیت کے لیے، پی ڈی ایس مٹی کے تیل اور ڈیزل کی سپلائی کے لیے پی ای ایس او سے منظور شدہ کنٹینر مینوفیکچررز اور ان کی گنجائش کی فہرست 01.04.2026 کو پی ای ایس او کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔
  • ڈسپنسنگ اسٹیشنوں کے آغاز کو تیز کرنے کے لیے 01.04.2026 کو سی این جی/سی بی جی کمپریسرز کے لیے منظوری کی شرائط سے چھ ماہ کی عارضی چھوٹ جاری کی گئی۔

متبادل ایندھن کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل طویل مدتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں:

  • زمین کی تنگی کے مسئلے کو حل کرنے اور گیس کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے 25.03.2026 کو سی این جی/سی بی جی اسٹیشنوں پر ڈسٹرکٹ پریشر ریگولیٹنگ اسکڈز (ڈی پی آر ایس) کی تنصیب کے لیے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔
  • پچیس مارچ2026 کو کریوجینک سلنڈرز میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھرنے کی اجازت دینے والے رہنما خطوط جاری کیے گئے، جس سے دور دراز یا بغیر پائپ لائن والے علاقوں میں قدرتی گیس کی فراہمی میں سہولت دستیاب ہوگی۔
  • پروٹو ٹائپ کے کامیاب تجربات کے بعد ڈائیمتھائل ایتھر (ڈی ایم ای) جمبو سلنڈرز کے لیے 25.03.2026 (کمبی نیشن والوز کے لیے) اور 27.03.2026 (پریشر ریلیف والوز کے لیے) منظوریاں دی گئیں، جو متبادل صنعتی ایندھن کے طور پر ڈائیمتھائل ایتھر کے استعمال کو فروغ دیتے ہیں۔
  • دو اپریل2026 کو رات کے وقت آپریشنز، بالخصوص ایل پی جی (ایل پی جی) بوٹلنگ پلانٹس کے لیے اجازت دینے والے رہنما خطوط جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں آپریشنل اوقات میں اضافہ ہوگا اور پیداواری صلاحیت بڑھے گی۔
  • 30.03.2026 کو پیٹرونیٹ ایل این جی  کو داہیج ٹرمینل پر اضافی 5 ایم ایم ٹی پی اے ری گیسی فکیشن صلاحیت کے لیے آغاز کی اجازت دی گئی ہے، جس سے کل صلاحیت بڑھ کر 22.5 ایم ایم ٹی پی اے ہو گئی اور سی جی ڈی نیٹ ورکس کے لیے قدرتی گیس کی دستیابی میں بہتری آئی۔

تیل کی کھپت کو کم کرنے کے اقدامات (بوائلر):

  • بوائلر ایکٹ، 2025 کے سیکشن 38 کے سب سیکشن (3) کے تحت 07.04.2026 کو ریاستی حکومتوں کو ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، جس میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:
  • پاور پلانٹس اور دیگر زیادہ صلاحیت والے بوائلرز (ٹی پی ایچ 100 ) کے لیے بوائلر سرٹیفکیٹس کی تین ماہ کی عارضی توسیع کی گئی ہے جو کہ آپریٹنگ پیرامیٹرز کی تصدیق اور مجاز افراد کے ذریعے اطمینان بخش بیرونی معائنے سے مشروط ہے۔
  • بڑی تیل اور گیس کی اکائیوں، بشمول ریفائنریوں، پیٹرو کیمیکلز اور فرٹیلائزر پلانٹس میں زیادہ صلاحیت والے بوائلرز کے لیے بوائلر سرٹیفکیٹس کی تین ماہ کی عارضی توسیع کرنا جو کہ مقررہ حفاظتی اقدامات، پیرامیٹرز کی تصدیق اور اطمینان بخش بیرونی معائنے سے مشروط ہے۔
  • ایندھن کے استعمال میں تنوع کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، تاکہ صنعتی شعبوں میں متبادل ایندھن کے استعمال کو اپنایا جا سکے۔

کُک ٹاپ / انڈکشن کُک ٹاپ سیکٹر

  • انڈکشن کک ٹاپ سیکٹر میں طلب و رسد کے چیلنجوں کو حل کرنے اور سپلائی اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے درکار فوری اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے، ڈی پی آئی آئی ٹی نے وزارتِ تجارت اور وزارتِ توانائی کے تعاون سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیے ہیں۔
  • مینوفیکچررز کی جانب سے گزشتہ ڈیڈ لائنز کو پورا کرنے میں درپیش مشکلات کے پیش نظر، انڈکشن کک ٹاپس کے لیے لازمی توانائی کی کارکردگی  اور کوالٹی کنٹرول آرڈر (کیو سی او) کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے، اور اس حوالے سے متعلقہ ترمیم اور ای-گزٹ  نوٹیفیکیشنز 06.04.2026 کو جاری کر دیے گئے ہیں۔

پینٹ انڈسٹری (رنگ و روغن کی صنعت)

بین وزارتی مشاورت اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس کی روشنی میں درج ذیل اقدامات کیے گئے:

  • خام مال کی قلت کو دور کرنے کے لیے 01.04.2026 کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے( ایچ ڈی پی ای، ایل ایل ڈی پی ای اور پی پی سی پی ایچ ایس این 3901 اور 3907) پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (بی سی ڈی) کو گھٹا کر صفر کر دیا گیا ہے۔
  • وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس (ایم او پی این جی) کے 08.04.2026 کے حکم کے مطابق، صنعتی ایل پی جی (ایل پی جی) کی فراہمی کو مارچ 2026 سے پہلے کے غیر گھریلو بلک استعمال کے 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔
  • ڈی پی آئی آئی ٹی نے 08.04.2026 کے خط کے ذریعے پینٹ انڈسٹری کے لیے خام مال کی ضروریات سے وزارتِ پیٹرولیم (ایم او پی این جی) کو آگاہ کیا، جس کے بعد وزارت نے آئی او سی ایل(متھرا اور وڈودرا) کو پروپیلین کے 0.2 ٹی ایم ٹی فی دن کے مساوی بیوٹائل ایکریلیٹ  فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ وزارتِ پیٹرولیم کی درخواست پر، ڈی پی آئی آئی ٹی نے 13.04.2026 کو پولی پروپیلین کوپولیمر کی ضرورت اور خریداروں کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔
  • اس کے علاوہ ڈی پی آئی آئی ٹی نے 16.04.2026 کو وزارتِ پیٹرولیم کو لکھے گئے خط کے ذریعے پینٹ انڈسٹری کے لیے پیٹروکیمیکل خام مال اور پیکیجنگ کے خام مال کی ضرورت کی صنعت وار تقسیم فراہم کر دی ہے۔
  • ملکی سطح پر دستیابی کو بڑھانے کے مقصد سے، 10 اپریل 2026 کو ڈی سی پی سی کی جانب سے بیوٹائل پر کوالٹی کنٹرول آرڈر (کیو سی او) میں 10 جولائی 2026 تک کی مدت کے لیے نرمی دی گئی ہے۔

کاغذ کی صنعت

ضروری کیمیکلز کی کمی کو دور کرنے کے لیے، 01.04.2026 کو اسٹائرین، میتھانول اور اے بی ایس پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی (بی سی ڈی) کو گھٹا کر صفر کر دیا گیا، تاکہ خام مال کی فراہمی میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ٹائر کی صنعت

ضروری کیمیکلز کی کمی کو دور کرنے کے لیے، کیمیکلز اور سالوینٹس  جیسے کہ پولی بوٹا ڈائین ، اسٹائرین بوٹا ڈائین ربر اور ٹائروں کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال ہونے والی ریزنز پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا۔

مارچ 2026 میں، ٹائروں کے لیے آر او ڈی ٹی ای پی ریٹ کو اس کی اصل سطح (~1.3فیصد) پر بحال کر دیا گیا، جسے فروری 2026 میں 50 فیصد کم کر کے ~0.6-0.7فیصد کر دیا گیا تھا۔

شیشہ سازی کی صنعت

بھٹیوں  کے بلا تعطل آپریشنز کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے:

گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے 80 فیصد کے برابر پی این جی (پی این جی) کی الاٹمنٹ کا نوٹیفکیشن وزارتِ پیٹرولیم ( ایم او پی این جی) نے 09.03.2026 کو جاری کردیا ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے 08.04.2026 کے حکم کے مطابق، صنعتی ایل پی جی (ایل پی جی) کی الاٹمنٹ کو ان کے مارچ 2026 سے پہلے کے غیر گھریلو بلک ایل پی جی استعمال کو 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا گیا ہے۔

چمڑا اور جوتے  کا شعبہ

  • اہم خام مال جیسےای وی اے، پی وی سی، پی یواور ایس بی ایس پر کسٹمز ڈیوٹی میں نرمی کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے، جو کسٹمز نوٹیفکیشن نمبر 12/2026 کے ذریعے 01.04.2026 کو جاری کیا گیا۔
  • صنعتی اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے 21.04.2026 کو اٹھائے گئے پی وی سی پیسٹ ریسن (39041010 کے تحت آنے والے) کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کی کمی کے مسائل کے حل کے لیے یہ معاملہ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی (اے ڈی ڈی) میں کمی پر غور کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ ریمیڈیز (ڈی جی ٹی آر) کو بھیج دیا گیا ہے ۔

 

سیرامک شعبہ

  • موربی میں تقریباً 80 فیصد سرامک یونٹس پروپین/ایل پی جی استعمال کر رہے تھے، جبکہ صرف 20 فیصد یونٹس گجرات گیس کی فراہم کردہ پائپڈ قدرتی گیس  استعمال کر رہے تھے۔09.03.2026 کو وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے تحت موجودہ گیس صارفین (تقریباً 20 فیصد یونٹس) کے لیے پچھلے چھ ماہ کی اوسط کھپت کے 80 فیصد کے برابر پی این جی کی الاٹمنٹ کی گئی، تاکہ گیس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • گجرات اسٹیٹ پیٹرولیم کارپوریشن نے صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے مشورے سے ان تقریباً 80 فیصد یونٹس کے لیے گیس سپلائی کے انتظامات کو سہولت فراہم کی جو پہلے پائپڈ گیس استعمال نہیں کر رہے تھے۔اس کے علاوہ گیس کی قیمتوں میں فرق کے مسئلے کو بھی حل کرتے ہوئے تمام صارفین (یعنی موجودہ اور نئے دونوں) کے لیے قیمتوں میں مناسب ہم آہنگی/ریشنلائزیشن کی گئی ہے۔

توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی

آبنائے ہرمز سے متعلق جاری صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔  وزارت کے مطابق:

عوامی مشورہ اور شہری بیداری

  • شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی غیر ضروری ذخیرہ اندوزی یا گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں، کیونکہ حکومت ان ایندھنوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
  • افواہوں سے بچیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
  • ایل پی جی صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز استعمال کریں اور تقسیم کاروں ( ڈسٹری بیوٹرز )کے پاس غیر ضروری طور پر جانے سے گریز کریں۔
  • شہریوں کو متبادل ایندھن جیسے پی این جی، اور برقی یا انڈکشن چولہوں کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے۔
  • تمام شہریوں سے درخواست ہے کہ موجودہ صورتحال میں روزمرہ استعمال میں توانائی کی بچت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

حکومت کی تیاری اور سپلائی مینجمنٹ کے اقدامات

  • جاری جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود حکومت نے یہ یقینی بنایا ہے کہ گھریلو ایل پی جی، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کی سو فیصد فراہمی برقرار رکھی جا رہی ہے۔
  • کمرشیل ایل پی جی کے لیے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فارما، اسٹیل، آٹوموبائل، بیج، زراعت وغیرہ کے شعبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر سپلائی فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل کی سپلائی تارکین وطن مزدوروں کے لیے 2 اور 3 مارچ 2026 کی اوسط روزانہ فراہمی کی بنیاد پر دوگنی کر دی گئی ہے۔
  • حکومت نے سپلائی اور مانگ دونوں جانب کئی اصلاحی اقدامات پہلے ہی نافذ کیے ہیں، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ کے وقفے کو 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا، اور مختلف شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر سپلائی فراہم کرنا شامل ہے۔
  • ایل پی جی کی مانگ پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے مٹی کے تیل اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن دستیاب کرائے گئے ہیں ۔
  • وزارتِ کوئلہ نے کوئل انڈیا اور سنگا رینی کولیریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستوں کو اضافی کوئلہ فراہم کریں تاکہ اسے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین میں تقسیم کیا جا سکے۔
  • ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو اورتجارتی ( کمرشیل ()صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشن کی فراہمی کو آسان بنائیں۔

تجارتی ایل پی جی سپلائی اور مختص کرنے کے اقدامات:

  • کل تجارتی ایل پی جی الاٹمنٹ کو بحران سے پہلے کی سطح کے تقریبا 70 فیصد  تک بڑھا دیا گیا ہے ، جس میں 10 فیصد اصلاحات سے منسلک الاٹمنٹ بھی شامل ہے ۔
  • حکومت ہند نے مورخہ 06.04.2026 کے خط کے ذریعے بتایا ہے کہ مہاجر مزدوروں کو تقسیم کرنے کے لیے ہر ریاست میں دستیاب 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی یومیہ مقدار کومورخہ 21.03.2026 کے خط میں مذکور 20 فیصد کی حد سے آگے 2 سے 3 مارچ 2026 کے دوران مہاجر مزدوروں کو اوسط یومیہ سپلائی (سلنڈروں کی تعداد) کی بنیاد پر دوگنا کیا جا رہا ہے ۔  یہ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر ریاستی حکومت کے اختیار میں ہیں جو تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کی مدد سے صرف اپنی ریاست میں مہاجر مزدوروں کو سپلائی کرتی ہیں ۔
  • 3 اپریل 2026 سے پی ایس یو او ایم سی نے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کے لیے 7800 سے زیادہ بیداری کیمپوں کا انعقاد کیا ہے ، جس میں 1,17,000-5 کلوگرام سے زیادہ ایف ٹی ایل سلنڈر بھی فروخت کیے گئے ہیں ۔  کل ، 350 سے زیادہ کیمپوں کے ذریعے 8112-5 کلوگرام ایف ٹی ایل فروخت کیے گئے ۔
  • حال ہی میں ، 21 اپریل 2026 کو تربھے (نوی ممبئی) میں آئی او سی ایل کے زیر اہتمام 5 کلوگرام ایف ٹی ایل بیداری کیمپوں میں سے ایک میں ، اچھا ردعمل دیکھا گیا اور دن کے وقت تقریبا 410-5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت ہوئے ۔
  • 21.04.2026 کو تقریبا 80,000-5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت ہوئے ۔
  • 23 مارچ 2026 سے اب تک 20.08 لاکھ سے زیادہ-5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں ۔
  • آئی او سی ایل ، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی تین رکنی کمیٹی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تجارتی ایل پی جی کی تقسیم کا منصوبہ بنانے کے لیے ریاستی حکام اور صنعتی اداروں کے ساتھ تال میل کر رہی ہے ۔
  • اپریل -26کے مہینے کے دوران (21.04.26 تک) کمرشل ایل پی جی کی کل 1,31,879 میٹرک ٹن (19 کلوگرام ایل پی جی سلنڈروں کے 69.4 لاکھ سے زیادہ کے مساوی) فروخت کی گئی ہے ۔
  • 21.04.2026 کو 8199 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جی (4.3 لاکھ سے زیادہ-19 کلو گرام سلنڈروں کے مساوی) فروخت کیا گیا ۔

قدرتی گیس کی فراہمی اور پی این جی کی توسیع کے اقدامات

  • ڈی-پی این جی اور سی این جی ٹرانسپورٹ کو 100 فیصد  سپلائی کے ساتھ صارفین کو ترجیح دی گئی ہے ۔
  • کھاد پلانٹوں کے لیے مجموعی طور پر گیس کی الاٹمنٹ کو ان کی چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریبا 95 فیصد  تک بڑھا دیا گیا ہے ۔
  • مزید برآں ، سی جی ڈی نیٹ ورک کے ذریعے سپلائی سمیت دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں کو گیس کی فراہمی میں 80 فیصد  تک اضافہ کیا گیا ہے ۔
  • سی جی ڈی اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ تجارتی ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے اپنے تمام جی اے میں ہوٹلوں ، ریستورانوں اور کینٹین جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشن کو ترجیح دیں ۔
  • آئی جی ایل ، ایم جی ایل ، گیل گیس اور بی پی سی ایل سمیت سی جی ڈی کمپنیاں گھریلو اور تجارتی پی این جی کنکشن کے لیے مراعات کی پیشکش کر رہی ہیں ۔
  • ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار منظوریوں میں تیزی لائیں ۔
  • حکومت ہند نےمورخہ 18.03.2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریاستوں کو تجارتی ایل پی جی کے اضافی 10 فیصد  مختص کرنے کی پیشکش کی ہے بشرطیکہ وہ ایل پی جی سے پی این جی میں طویل مدتی منتقلی میں مدد کر سکیں ۔
  • 22 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے پی این جی توسیعی اصلاحات سے منسلک اضافی تجارتی ایل پی جی الاٹمنٹ حاصل کر رہے ہیں ۔
  • سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت نے مورخہ 24.03.26 کے خط کے ذریعے ترجیحی بنیادوں پر سی جی ڈی بنیادی ڈھانچے سے متعلق درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے 3 ماہ کے لیے خصوصی طور پر ‘کم ٹائم لائنز کے ساتھ سی جی ڈی بنیادی ڈھانچے کے لیے تیز رفتار منظوری فریم ورک’ کو اپنایا ہے۔
  • حکومت ہند نے گزٹ مورخہ 24.03.2026 کے ذریعے قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنوں کی بچھائی ، تعمیر، آپریشن اور اور دیگر سہولیات کی توسیع کے ذریعے) آرڈر ، 2026 کو ضروری اشیاء ایکٹ ، 1955 کے تحت نوٹیفائی کیا ہے ۔  یہ آرڈر ملک بھر میں پائپ لائنز بچھانے اور توسیع کرنے ، منظوریوں میں تاخیر اور زمین تک رسائی کو دور کرنے اور رہائشی علاقوں سمیت قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے ترقی کے قابل بنانے کے لیے ایک ہموار اور مقررہ وقت کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔  توقع ہے کہ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی ترقی میں تیزی آئے گی ، آخری میل تک رابطے میں اضافہ ہوگا ، اور صاف ستھرے ایندھن کی طرف منتقلی میں مدد ملے گی ، اس طرح توانائی کی حفاظت کو تقویت ملے گی اور ہندوستان کی گیس پر مبنی معیشت کو ترقی ملے گی۔
  • پی این جی آر بی نے سی جی ڈی اداروں کو ڈی-پی این جی کنکشن میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے ۔  اس کے علاوہ ، پی این جی توسیع میں رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے قومی پی این جی مہم 2.0 کو 30.06.2026 تک بڑھا دیا گیا ہے ۔
  • صاف ستھرے ، زیادہ محفوظ اور خود کفیل توانائی کے مستقبل کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت ہند نے ریاستی سی بی جی پالیسی کا ایک ماڈل ڈرافٹ تیار کیا ہے ۔  ماڈل پالیسی کا مقصد ایک جامع لچکدار رہنما فریم ورک کے طور پر کام کرنا ہے تاکہ ریاستیں سی بی جی کی ترقی کے لیے اپنا سرمایہ کار دوست اور نفاذ پر مبنی ماحولیاتی نظام تشکیل دے سکیں۔  جو ریاستیں اس کا انتخاب کریں گی ، انہیں تجارتی ایل پی جی کی اضافی الاٹمنٹ کی اگلی قسط کے لیے ترجیح دی جائے گی ۔
  • ایم او ای ایف سی سی نے مورخہ 07.04.2026 کے حکم نامے کے ذریعے سی پی سی بی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایس پی سی بی/پی سی سی کو سی جی ڈی نیٹ ورک/انفراسٹرکچر کے لیے 15 دن کے اندر قائم کرنے یا  کام کرنے کی رضامندی دینے کے لیے ضروری ہدایات جاری کرے ۔
  • مارچ 2026 سے اب تک تقریبا 5.10 لاکھ پی این جی کنکشنز کو گیسفائی کیا گیا ہے اور اضافی 2.56 لاکھ کنکشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے ، جس سے کل کنکشن کی تعداد 7.66 لاکھ ہو گئی ہے ۔  مزید برآں ، نئے کنکشن کے لئے تقریبا 5.77 لاکھ صارفین کا اندراج کیا گیا ہے۔
  • 21.04.2026 تک ، 40,600 سے زیادہ پی این جی صارفین نے MYPNGD.in ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سونپ دیے ہیں۔

خام پوزیشن اور ریفائنری آپریشن

  • تمام ریفائنریاں کافی خام انوینٹریز کے ساتھ اعلی صلاحیت پر کام کر رہی ہیں ، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ برقرار رکھا جا رہا ہے ۔
  • گھریلو کھپت کو سہارا دینے کے لیے ریفائنریوں سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے ۔
  • گھریلو بازار کے لیے پیٹروکیمیکل فیڈ اسٹاک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بین وزارتی مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) قائم کیا گیا ہے ۔  اس کے بعد ، حکومت ہند نے مورخہ 01.04.2026 کے حکم نامے کے ذریعے پیٹروکیمیکل کمپلیکس سمیت آئل ریفائنری کمپنیوں کو سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی (سی ایچ ٹی) کے ذریعہ مقرر کردہ اہم شعبوں کے لیے سی 3 اور سی 4 اسٹریمز کی کچھ کم از کم مقدار دستیاب کرنے کی اجازت دی ہے ۔
  • محکمہ فارماسیوٹیکلز ، محکمہ کیمیکلز اینڈ پیٹرو کیمیکلز (ڈی سی پی سی)،صنعت اور داخلی تجارت کے فروغ (ڈی پی آئی آئی ٹی) محکمہ سے موصولہ درخواستوں کی بنیاد پر  فارما اور کیمیائی شعبے کی کمپنیوں کے لیے ایل پی جی پول سے 1000 ایم ٹی یومیہ کی فراہمی کی گئی ہے۔
  • 9 اپریل 2026 سے ممبئی ، کوچی اور متھرا ریفائنریوں نے کیمیکل اور فارما انڈسٹری کو 5600 میٹرک ٹن سے زیادہ پروپیلین فروخت کی ہے ۔

خوردہ ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں کے اقدامات

  • ملک بھر میں خردہ دکانیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں ۔
  • مشرق وسطی کے بحران کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ؛ تاہم ، صارفین کے تحفظ کے لیے ، حکومت ہند نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے ۔
  • حکومت ہند نے 11 اپریل ، 2026 ء  کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈیزل پر برآمدی محصول بڑھا کر  55.50 روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف پر   42 فی لیٹر  اور 3.75 کروڑ روپے کردیا ہے  تاکہ  گھریلو بازار میں ان مصنوعات کی دستیابی کو یقینی  بنایا جاسکے ۔
  • پٹرول اور ڈیزل کی  معمول کی خردہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور پی ایس یو او ایم سی کے خوردہ آؤٹ لیٹس پر قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔

مٹی کے تیل کی دستیابی اور تقسیم کے اقدامات

  • ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باقاعدہ  ایلوکیشن کے علاوہ 48,000 کلو   لیٹر مٹی کے تیل کی اضافی ایلو کیشن کی گئی ہے ۔
  • 18 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ایس کے او  ایلوکیشن کے احکامات جاری کیے ہیں ، جب کہ ہماچل پردیش اور لداخ نے کوئی ضرورت ظاہر نہیں کی ہے ۔

بحری سلامتی اور جہاز رانی کارروائیاں

بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے خلیج فارس میں موجودہ سمندری صورتِ حال کے ساتھ ساتھ  بھارتی جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا ۔ بیان کیا گیا کہ:

  • یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جہاز کے کپتان سنمار ہیرالڈ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حقوق کے بدلے میں آئی آر جی سی بحریہ کی نمائندگی کرنے کا دعوی کرنے والے ایک فرد کو امریکی ڈالر میں ادائیگی کی  اور اس طرح وہ سائبر کرائم کا شکار ہو گیا ۔ وزارت نے جہاز کے مالک سے بات کی ہے اور اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایسی کوئی ادائیگی نہیں کی گئی اور  نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے ۔ اس کے مطابق ، اس سلسلے میں گردش کرنے والی رپورٹیں غلط ہیں اور حقائق کی عکاسی نہیں کرتی ہیں ۔
  • بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت بحری مسافروں کی فلاح و بہبود اور بلا رکاوٹ سمندری کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے وزارت خارجہ ،  بھارتی مشنوں اور سمندری   سے متعلق متعلقہ فریقوں کے ساتھ تال میل برقرار رکھے ہوئے ہے ۔
  • خطے میں تمام  بھارتی ملاح محفوظ ہیں  اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں  بھارتی پرچم بردار جہازوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے ۔
  • جہاز کی تازہ ترین معلومات:  بھارتی پرچم بردار خام تیل کے ٹینکر دیش گریما نے 18 اپریل  ، 2026  ء کو بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کیا ۔ توقع ہے کہ یہ جہاز 31  بھارتی ملاحوں کو لے کر آج (22 اپریل  ، 2026ء ) تقریبا 1800 بجے ممبئی پہنچے گا ۔
  • ڈی جی شپنگ کنٹرول روم اپ ڈیٹ: ایکٹیویشن کے بعد سے کنٹرول روم نے 7,242 کالز اور 15,319 سے زیادہ ای میلز کو سنبھالا ہے ۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 156 کالز اور 344 ای میلز موصول ہوئی ہیں ۔
  • وطن واپسی کی تازہ ترین معلومات: وزارت نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی شپنگ) کے ذریعے اب تک 2,615 سے زیادہ بھارتی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے ، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خلیجی خطے کے مختلف مقامات سے 25 ملاح شامل ہیں ۔
  • بندرگاہ آپریشن: پورے  بھارت میں بندرگاہ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے ، کسی بھی قسم کی بھیڑ کی اطلاع نہیں ہے ۔

خطے میں  بھارتی شہریوں کی حفاظت

وزارت خارجہ  ، خطے میں  بھارتی برادری کی حفاظت ، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے پر مرکوز کوششوں کے ساتھ خلیج اور مغربی ایشیا کے خطے میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ بتایا گیا کہ:

  • وزارت خارجہ میں مخصوص خصوصی کنٹرول روم کام کر رہے ہیں اور  بھارتی مشنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔
  • وزارت خارجہ معلومات کے اشتراک اور کوششوں کی بہتر صف بندی کے لیے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ۔
  • بھارتی مشن اور پوسٹ چوبیس گھنٹے ہیلپ لائنز چلا رہے ہیں اور فعال طور پر  بھارتی شہریوں کی مدد کر رہے ہیں ۔ وہ مقامی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں ۔
  • تازہ ترین مشورے باقاعدگی سے جاری کیے جا رہے ہیں ، جن میں مقامی حکومت کے رہنما خطوط ، پرواز اور سفری حالات اور قونصلر خدمات اور ہماری برادری کی مدد کے لیے کیے جانے والے مختلف فلاحی اقدامات کے بارے میں معلومات شامل ہیں ۔
  • بھارتی مشن مقامی بھارتی برادری کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہیں ۔ سفیر  بھارتی برادری کی انجمنوں ، تنظیموں ، پیشہ ورانہ گروپوں ، بھارتی کمپنیوں کے ساتھ ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے باقاعدگی سے بات چیت کر رہے ہیں ۔
  • حکومت خطے میں  بھارتی ملاحوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیتی ہے ۔  بھارتی مشن انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کر رہے ہیں  ، جس میں مقامی حکام اور ایجنسیوں کے ساتھ ہم آہنگی ، قونصلر مدد فراہم کرنا  اور  بھارت واپس آنے کی درخواستوں میں مدد کرنا شامل ہے ۔
  • خطے سے  بھارت کے لیے ان ممالک سے پروازیں چل رہی ہیں  ، جہاں فضائی حدود کھلی ہیں ۔ 28 فروری سے اب تک تقریباً  11,91,000 مسافروں نے خطے سے  بھارت کا سفر کیا ہے ۔
  • متحدہ عرب امارات میں ، ایئر لائنز آپریشنل اور حفاظتی تحفظات کی بنیاد پر متحدہ عرب امارات اور  بھارت کے درمیان محدود تجارتی پروازیں چلانا جاری رکھے ہوئے ہیں ، آج متحدہ عرب امارات اور  بھارت کے درمیان تقریباً  110 پروازیں متوقع ہیں ۔
  • سعودی عرب اور عمان کے مختلف ہوائی اڈوں سے  بھارت کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں جاری ہیں ۔
  • قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے ساتھ ، قطر ایئر ویز  بھارت کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہے ۔
  • کویت کی فضائی حدود بند ہیں ۔ جزیرہ ایئر ویز اور کویت ایئر ویز سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے سے  بھارت کے لیے غیر طے شدہ تجارتی پروازیں چلا رہے ہیں ۔
  • بحرین کی فضائی حدود کھلی ہیں ۔ گلف ایئر بحرین سے بھارت کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہے ۔
  • عراق کی فضائی حدود خطے کے مقامات کے لیے محدود پروازوں کے ساتھ کھلی ہیں ، جنہیں  بھارت کے آگے کے سفر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
  • ایران کی فضائی حدود کارگو اور چارٹرڈ پروازوں کے لیے جزوی طور پر کھلی ہیں ۔ تہران میں بھارتی سفارت خانہ  بھارت کے سفر کے لیے آرمینیائی اور آذربائیجان کے راستے  بھارتی شہریوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کر رہا ہے ۔
  • اسرائیل: اسرائیل کی فضائی حدود کھل گئی ہیں اور خطے کے مقامات پر محدود پروازوں کا آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا ہے ، جسے  بھارت کے آگے کے سفر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

 

************

ش ح۔م م ع۔ص ج / ش آ۔ش ہ ب/ ا ک۔ ر ب/ ض ر     -  ع ا

(U: 6182)


(ریلیز آئی ڈی: 2254636) وزیٹر کاؤنٹر : 9