وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ‘ناری شکتی وندن سمیلن’ سے خطاب کیا
ہندوستان کی ناری شکتی نے بے پناہ شراکتیں کی ہیں: وزیر اعظم
ہمارے ملک میں پنچایتی راج کے ادارے خواتین کی قیادت کی قابل ذکر مثال ہیں: وزیر اعظم
حکومت زندگی کے ہر موڑ پر خواتین کی مدد کر رہی ہے: وزیر اعظم
آج خواتین ان شعبوں میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں جنہیں کبھی مرد اکثریتی سمجھا جاتا تھا: وزیر اعظم
ہندوستان کی ناری شکتی اپنی محنت ، ہمت اور اعتماد کے ذریعے نئی بلندیوں پر پہنچی ہے ؛ اب ، ہمیں ان کے لیےمواقع کو بڑھا کر انہیں مزید بااختیار بنانے کے لیے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 APR 2026 1:28PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج وگیان بھون میں ناری شکتی وندن سمیلن سے خطاب کیا ۔ بیساکھی کے مبارک موقع پر اور ملک کے مختلف حصوں میں نئے سال کی تقریبات کے آغاز سے پہلے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جلیانوالہ باغ کےقتل عام کے شہیدوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ۔ جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان 21 ویں صدی کے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ لینے والا ملک ہے ، یہ فیصلہ ناری شکتی کے لیے وقف ہے ۔
اس لمحے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک کی پارلیمنٹ نئی تاریخ ب رقم کرنے کے قریب ہے جو ماضی کے تصورات اور مستقبل کے عزائم کو پورا کرے گی ۔ سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک ایک ایسے مساوات پسند ہندوستان کا تصور کرتا ہے جہاں سماجی انصاف محض نعرہ نہیں ہو بلکہ ورک کلچر کا لازمی حصہ ہو ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ریاستی اسمبلیوں سے لے کر ملک کی پارلیمنٹ تک دہائیوں کا انتظار ختم ہونے والا ہے ۔
سال2023 میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ناری شکتی وندن ایکٹ کی منظوری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اور تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اسے کسی بھی صورت میں2029 تک نافذ کیا جانا چاہیے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ ناری شکتی وندن ایکٹ کو وقت پر نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ خواتین کی شراکت سے ہماری جمہوریت مضبوط ہو ، جس کے لیے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا خصوصی اجلاس 16 اپریل سے شروع ہوگا ۔ جناب نریندرمودی نے کہا ، ’’ہماری کوشش اور ترجیح یہ ہے کہ یہ کام بات چیت ، باہمی تال میل اور شراکت کے ذریعے پورا کیا جائے ، جس سے پارلیمنٹ کے وقار میں اضافہ ہوگا ۔‘‘
اس مسئلے پر خواتین کے ملک گیر جوش و خروش کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تبصرہ کیا کہ ملک بھر کی خواتین اسمبلیوں اور لوک سبھا تک پہنچنے کے سلسلے میں اپنی خواہشات کا اظہار کر رہی ہیں ۔ ان کے خوابوں کو نئے پنکھ ملے ہیں اور ملک میں مثبت ماحول پیدا ہوا ہے ۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ، ’’میں تمام خواتین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس پورے عمل میں اپنی فعال شرکت کریں اور اپنےمتعلقہ اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کرکے اپنے نقطہ نظر اور توقعات کا اشتراک کریں ۔‘‘
جنگ آزادی سے لے کر آئین ساز اسمبلی تک خواتین کے تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آزاد ہندوستان کی بنیاد رکھنے میں ناری شکتی کے بے پناہ کردار پر روشنی ڈالی ۔ عوامی نمائندگی کے مواقع حاصل کرنے والی خواتین نے ملک کے لیے شاندار کام کیا ہے ۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ آج بھی ہمارے ملک میں صدر جمہوریہ سے لے کر وزیر خزانہ تک کے اہم عہدوں پر خواتین فائز ہیں ۔ جناب نریندرمودی نے کہا ، ’’صدر جمہوریہ سے لے کر وزیر اعظم تک ، خواتین جہاں کہیں بھی فائز رہی ہیں ، انہوں نے اپنی میراث خود بنائی ہے ۔‘‘
پنچایتی راج اداروں کو خواتین کی قیادت کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج 14 لاکھ سے زیادہ خواتین مقامی سرکاری اداروں میں کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ تقریباً 21 ریاستوں کی پنچایتوں میں ان کی شرکت تقریباً50 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ،’’سیاست اور سماجی زندگی میں لاکھوں خواتین کی یہ فعال شرکت دنیا کے سرکردہ لیڈروں اور سیاسی ماہرین کو بھی حیران کرتی ہے ، جس سے ہندوستان کا سرفخرسے بلند ہوتا ہے ۔‘‘
مختلف مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ جب فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا تو اس سے نظام میں حساسیت پیدا ہوئی ۔ اس کی وجہ سے پانی ، تعلیم ، صحت اور تغذیہ جیسے مسائل پر زیادہ لگن سے کام کیا گیا ہے ۔ جناب نریندرمودی نے کہا کہ جل جیون مشن کی کامیابی ایک ایسی مثال ہے جس میں پنچایت کی سطح پر خواتین کی شرکت نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ برسوں سے مقامی اداروں اور حکومتی اداروں میں کام کرنے والی لاکھوں خواتین کے پاس اب وسیع تجربہ ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بڑے کردار پانے کے لیے تیار اور پرجوش ہیں ۔ ناری شکتی وندن ایکٹ کا نفاذ ایسی تمام خواتین کی زندگیوں میں بہت بڑا موقع بن جائے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کے لیے پنچایت سے پارلیمنٹ تک کا سفر آسان ہونے والا ہے ۔
وکست بھارت کے سفر میں خواتین کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت نے 2014 سے خواتین کی زندگی کے ہر مرحلے کے لیے اسکیمیں بنائی ہیں ۔ پہلی سانس سے لے کر آخری سانس تک حکومت مختلف اسکیموں کے ذریعہ بہنوں اور بیٹیوں کی خدمت کے لیے تیار ہے ۔ جناب نریندر مودی نے واضح کیا کہ ہم نے رحم مادر میں لڑکیوں کے قتل کو روکنے کے لیے’ بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ‘ مہم شروع کی ، حمل کے دوران مناسب غذائیت کے لیے ماترو وندن یوجنا کے تحت 5000 روپے کی مالی مدد فراہم کی اور بیٹیوں کی تعلیم میں مدد کے لیے اعلی شرح سود والی سکنیا سمردھی یوجنا شروع کی ۔
جامع سپورٹ سسٹم کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بروقت ٹیکہ کاری کے مشن اندردھنش ، سوچھ بھارت ابھیان کے تحت بیت الخلاء ، تقریباً مفت سینیٹری نیپکن ، کھیلو انڈیا اسکیم کے تحت مالی مدد اور سینک اسکولوں اور نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے دروازے کھولنے کا ذکر کیا ۔ زندگی کے دیگر مراحل کے لیے ، اجولا یوجنا نے کروڑروں گیس کنکشن فراہم کیے ، ’ہر گھر نل سے جل ‘مہم کے ذریعہ گھروں تک پانی پہنچایا گیا ، مفت راشن اسکیم نے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا اور آیوشمان یوجنا کے ذریعہ 5 لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ پیش کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جن اوشدھی کیندر سمیت ادویات پر 80 فیصد تک رعایت دینے والے ان تمام اقدامات سے بنیادی طور پر ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو فائدہ پہنچا ہے ۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے واسطے ان کی اقتصادی شراکت کوبڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہر فیصلے اور اسکیم میں اس پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ پہلے خاندانی جائیداد بنیادی طور پر مردوں کے نام پر رجسٹر کی جاتی تھی ، لیکن پی ایم آواس یوجنا کے تحت ترجیحی بنیاد پر گھروں کو خواتین کے نام پر رجسٹر کیا جاتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے کہا ، ’’پچھلے 11 سالوں میں ، 3 کروڑ سے زیادہ خواتین نے اس فیصلے سے فائدہ اٹھایا ہے اور اپنے گھروں کی مالک بنی ہیں ، جس سے وہ معاشی طور پر بااختیار بنی ہیں۔‘‘
مالی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 2014 میں کروڑوں خواتین نے کبھی بینک کا دروازہ نہیں دیکھا تھا ۔ جن دھن یوجنا نے 32 کروڑ سے زیادہ خواتین کے بینک کھاتے کھولے ۔ وزیر اعظم نے کہا ، ’’آج ہماری بیٹیاں نئے کاروباروں میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں ، مدرا یوجنا کے 60 فیصد سے زیادہ قرض خواتین کے ذریعے لیے گئے ہیں۔‘‘
اسٹارٹ اپ انقلاب میں خواتین کی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ 45 فیصد سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائرکٹر کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کریئر متاثر نہ ہو ، زچگی کی چھٹی کو 26 ہفتوں تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ جناب نریندرمودی نے کہا کہ برسوں پہلے شروع کیے گئے اسکل انڈیا مشن کے نتائج اب ہزاروں ڈرون دیدیوں کے ذریعے نظر آرہے ہیں ، جو ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید کاشتکاری سکھا کر زراعت میں انقلاب لا رہے ہیں۔
قابل ذکر حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ پچھلے 11 سالوں میں تقریباً10 کروڑ خواتین سیلف ہیلپ گروپوں میں شامل ہوئی ہیں ۔ حکومت نے دیہی معیشت سے وابستہ 6 کروڑ بہنوں کو لکھپتی دیدی بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے ، جن میں سے 3 کروڑ سے زیادہ بہنیں پہلے ہی یہ درجہ حاصل کر چکی ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ،’’یہ خواتین ووکل فار لوکل کی برانڈ ایمبیسڈر بن رہی ہیں ۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خواتین کی قیادت میں ترقی کے وژن نے پرانی ذہنیت کو چیلنج کیا ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ آج خواتین ان شعبوں میں بلندیوں کو چھو رہی ہیں جنہیں کبھی مردوں کے زیر تسلط سمجھا جاتا تھا ۔ ہندوستانی بیٹیاں جنگی پائلٹ بن رہی ہیں اور آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ جناب نریندرمودی نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں ہندوستان میں خواتین پائلٹ کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
خواتین کی تعلیمی حصولیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بیٹیوں کا پی ایچ ڈی میں داخلہ 2014 کے مقابلے میں دوگنا ہو گیا ہے ، جس میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں تقریباً نصف شرکت خواتین کی ہے ۔ ریاضی اور سائنس کی تعلیم میں بیٹیوں کی تعداد تقریباً43 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ’’یہ حصولیابیاں ہماری بیٹیوں کے لیے مواقع کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی عکاسی کرتی ہیں۔‘‘
ایک بڑا سماجی چیلنج سمجھے جانے والے مسئلے یعنی خواتین کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے اس سمت میں سخت اقدامات کیے ہیں ۔ نظام انصاف کو زیادہ حساس بنانے اور فیصلہ سازی کو تیز کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں ۔ جناب نریندر مودی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ، ’’بھارتیہ نیاے سنہیتا خواتین کی حفاظت کو ترجیح دیتی ہے ، کسی بھی مقام سے ای-ایف آئی آر یا زیرو-ایف آئی آر کی اجازت دینے والے ایف آئی آر کے طریقہ کار کو آسان بناتی ہے اور آڈیو-ویڈیو کے ذریعے متاثرہ کے بیانات ریکارڈ کرنے کی دفعات کو آسان بناتی ہے۔
وزیر اعظم نے ملک کی ہر ماں ، بہن اور بیٹی کو یقین دلایا کہ ملک ان کی خواہشات کو سمجھتا ہے اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا رہا ہے ۔ ملک کی ناری شکتی نے محنت ، ہمت اور خود اعتمادی کے ذریعے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر اس طاقت کو نئی توانائی دینی چاہیے اور ان کے لیے مواقع بڑھانا چاہیے۔
خصوصی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ناری شکتی وندن پروگرام کی بات چیت کو ذاتی ملاقاتوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے ہر گاؤں تک پہنچائیں ۔ ملک کو ہر عورت کو اس بڑے فیصلے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی طاقت کو سمجھ سکیں ، اپنے کردار کو سمجھ سکیں اور کھلے عام خواب دیکھ سکیں کہ آنے والے وقت میں وہ ریاست سے ملک کی پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی درج کرا سکیں ۔ ’’آئیے ہم سب مل کر یہ عہدکریں کہ ناری شکتی کو ان کے حقوق حاصل ہوں گے اور وہ فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل حصہ دار بنیں گی،یہ ہمارے روشن مستقبل کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔‘‘
*********
ش ح۔م ش ع۔ش ت
Urdu No-5771
(ریلیز آئی ڈی: 2251501)
وزیٹر کاؤنٹر : 20
یہ ریلیز پڑھیں:
Bengali
,
Bengali-TR
,
Odia
,
Telugu
,
Kannada
,
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Nepali
,
Assamese
,
Manipuri
,
Gujarati
,
Malayalam