پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے جھٹکوں سے صارفین اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو بچانے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی


پمپ کی خوردہ قیمتوں میں استحکام برقرار؛ او ایم سیز کی انڈر ریکوری میں جزوی تلافی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 2:36PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے فوری اثر کے ساتھ پٹرول اور ڈیزل دونوں پر فی لیٹر 10 روپے ایکسائز ڈیوٹی کم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیز اور غیر معمولی اضافے کے پیش نظر کیا گیا ہے، جو گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کرتقریباً 122 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں — یعنی چار ہفتوں سے بھی کم عرصے میں لگ بھگ 75 فیصد اضافہ درج کیاگیا۔یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ اور عالمی توانائی کی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ہوا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ پمپ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ایکسائز ڈیوٹی میں کی گئی کمی کا فائدہ پمپ پر قیمتوں میں کمی کی صورت میں صارفین کو منتقل نہیں کیا جا رہا۔ اس کے برعکس یہ براہِ راست اُن ’انڈر ریکوری‘ (لاگت سے کم وصولی) کو کم کرتی ہے ،جس کا بوجھ سرکاری شعبے کی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) — انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن برداشت کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہندوستانی صارفین کو اپنی سپلائی لاگت سے کہیں کم قیمت پر ایندھن کی فراہمی مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔موجودہ عالمی خام تیل کی قیمتوں کے مطابق پٹرول پر انڈر ریکوری تقریباً 26 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 81.90 روپے فی لیٹر ہے۔ او ایم سیز کی جانب سے روزانہ برداشت کی جانے والی مجموعی انڈر ریکوری تقریباً 2,400 کروڑ روپے ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی میں کمی ان نقصانات میں سے 10 روپے فی لیٹر تک کی تلافی کرتی ہے، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ او ایم سیز بغیر کسی رکاوٹ کے ایندھن کی فراہمی جاری رکھ سکیں اور ساتھ ہی خوردہ قیمتیں بھی برقرار رہیں۔

عالمی ایندھن کی منڈیوں کے ساتھ موازنہ نہایت معنی خیز ہے۔ موجودہ بحران کے آغاز سے اب تک جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ایندھن کی قیمتیں 30 سے 50 فیصد تک، شمالی امریکہ میں 30 فیصد اور یورپ میں 20 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔  ہندوستان نے قیمتوں کو قابو میں رکھا ہے۔ اس استحکام کی ایک مالی لاگت ہے اور حکومت نے اسے خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے  کہا:

’’حکومت کے پاس دو راستے تھے: یا تو ہندوستان کے شہریوں کے لیے قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے جیسا کہ دیگر ممالک نے کیا ہے، یا پھر اپنی مالی حالت پر بوجھ برداشت کیا جائے تاکہ ہندوستانی عوام کو بین الاقوامی اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے حکومتی مالیات پر دباؤ برداشت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہندوستانی شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس وقت عالمی سطح پر کافی اونچی قیمتوں کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش بھاری نقصانات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے اپنے ٹیکس محصولات میں نمایاں کمی برداشت کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔‘‘

ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے ساتھ ساتھ حکومت نے ڈیزل پر ایکسپورٹ لیوی(برآمداتی چارج) بھی متعارف کر ایا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے، جب بین الاقوامی سطح پر  ڈیزل کی قیمتوں میں کافی تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ لیوی برآمدات کی ترغیب کم کرنے اور ریفائنری کی پیداوار کو ملکی طلب کو اولین ترجیح دینے کی یقین دہانی کے لیے وضع کی گئی ہے۔ ہندوستانی پمپس کی مکمل فراہمی کو ترجیح دی جاتی ہے، چاہے موجودہ عالمی قیمتوں پر تجارتی لحاظ سے یہ مواقع کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں۔

یہ فیصلہ 2022 کے روس-یوکرین تنازعہ کے بعد اختیار کیے گئے طریقۂ کار کے مطابق ہے، جب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مسلسل نقصانات برداشت کیے اور حکومت نے عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے گھریلو صارفین اور کاروبار کو بچانے کے لیے مرکزی ٹیکسوں میں کمی کی تھی۔ آج کی مداخلت بھی اسی اصول پر مبنی ہے: ہندوستان کے عوام اور صنعت کو اُن رکاوٹوں کی قیمت نہیں چکانی چاہیے جو انہوں نے پیدا نہیں کیں۔ حکومت عالمی توانائی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے گی اور ہندوستانی صارفین کے لیے سپلائی کے استحکام اور قیمتوں کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری قدم اٹھائے گی۔

 

 

***

ش ح ۔ م ع ن۔ ش ب ن

U. No.4996

 


(ریلیز آئی ڈی: 2246017) وزیٹر کاؤنٹر : 19