پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
مغربی ایشیا کےموجودہ حالات وواقعات پر بین وزارتی بریفنگ
عام طور پر کام کرنے والے تمام خردہ مراکز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں ؛ ملک بھر میں کافی مقدار میںپیٹرول اور ڈیزل دستیاب
گھریلوکھپت میں مدد کے لیے ریفائنریوں کے ذریعے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ
حکومت ، گھریلو ایل پی جی اور پی این جی سپلائی کو اولین ترجیح دے رہی ہے
حکومت نے قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کا حکم ، 2026 نوٹیفائی کیا ہے ، ملک بھر میں پائپ لائن کی توسیع کے لیے مقرر مدت کا فریم ورک فراہم کیا جائے گا
چھبیس ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے غیر گھریلو ایل پی جی کے لیے الاٹمنٹ کے احکامات جاری کیے ہیں
کل110 جغرافیائی علاقوں میں 9046 پی این جی کنکشن فراہم کرنے (نئے اور گیس– اِن ) کی اطلاع ملی
ضلعی کلکٹر اور خوراک اور سول سپلائیز کے عہدیدار باقاعدہ نفاذ کی کارروائیوں کو یقینی بنائیں گے
شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے استعمال میں توانائی کی بچت کریں
خطے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں
ڈی جی شپنگ نے اب تک 635 سے زیادہ بھارتی ملاحوں کی محفوظ وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے
مورخہ 28 فروری سے اب تک تقریباً 426000 مسافر خطے سے بھارت واپس آئے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 4:52PM by PIB Delhi
مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر باقاعدہ بین وزارتی بات چیت کے تسلسل میں ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس ، بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں اور امور خارجہ کی وزارتوں کے سینئر عہدیداروں نے نیشنل میڈیا سینٹر میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کی ۔ بریفنگ میں ایندھن کی فراہمی اور دستیابی ، خطے میں سمندری کارروائیوں اور بھارتی شہریوں کے لیے جاری امدادی اقدامات جیسے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ، رونما ہونے والے واقعات کا تازہ ترین جائزہ فراہم کیا گیا ۔ عہدیداروں نے ، ان شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے اور بلا رکاوٹ کام کاج کو یقینی بنانے کے لیے کئے جانے والے اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا ۔
ایندھن کی فراہمی اور دستیابی
آبنائے ہرمز کی بندش کی روشنی میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلاتعطل دستیابی کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایندھن کی فراہمی کی صورتِ حال سے متعلق تازہ ترین معلومات وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی جانب سے بریفنگ کے دوران فراہم کی گئیں۔ وزارت نے بتایا کہ :
خام تیل اور ریفائنریاں
- تمام ریفائنریاںوافر خام انوینٹریز کے ساتھ اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور پٹرول اور ڈیزل کا خاطر خواہ ذخیرہ برقرار رکھا جا رہا ہے ۔
- گھریلو کھپت میں مدد فراہم کرنے کے لیے ریفائنریوں کے ذریعے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے ۔
خردہ مراکز
- ملک بھر میں تمام خردہ مراکز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں ۔
- افواہوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں گھبراہٹ کے سبب خریداری کی اطلاع ملی ، جس کے نتیجے میں غیر معمولی طور پر زیادہ فروخت اور خردہ دکانوں پر بڑے پیمانے پر ہجوم دیکھا گیا ۔ تاہم ، تمام پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ دستیاب ہے ۔
- حکومت نے عوام کو افواہوں پر یقین نہ کرنے کے اپنے مشورے کا اعادہ کیا ہے ۔
قدرتی گیس
- گھریلو پی این جی اور سی این جی ٹرانسپورٹ کو 100 فی صد سپلائی کے ساتھ ترجیحاتی طور پر مختص کیا جانا جاری ہے ، جبکہ گرڈ سے منسلک صنعتی اور تجارتی صارفین کو سپلائی ، اوسط کھپت کے تقریباً 80 فی صد پر برقرار رکھی جارہی ہے ۔
- سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ریستوراں ، ہوٹلوں اور کینٹین جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشن کو ترجیح دیں ۔
- آئی جی ایل ، ایم جی ایل ، گیل گیس اور بی پی سی ایل سمیت سی جی ڈی کمپنیاں گھریلو اور تجارتی پی این جی کنکشن کے لیے مراعات کی پیشکش کر رہی ہیں ۔
- حکومت ہند نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار منظوریوں میں تیزی لانے کی درخواست کی ہے ۔
- حکومت ہند نے 18 مارچ ، 2026 ء کے خط کے ذریعے ایل پی جی سے پی این جی میں منتقلی سے منسلک ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تجارتی ایل پی جی کے اضافی 10 فی صد مختص کرنے کی پیشکش کی ہے ۔
- کچھ ریاستوں نے تیز رفتار رائٹ آف یوزر/رائٹ آف وے (آر او یو/آر او ڈبلیو) کی اجازت ، کام کے طویل اوقات اور آر او یو/آر او ڈبلیو چارجز کو معقول بنانے کے لیے پالیسیاں متعارف کرائی ہیں ۔ مثال کے طور پر ، دلّی میں ڈی ڈی اے نے سڑک کی بحالی کے چارجز کو معاف کر دیا ہے اور چوبیس گھنٹے ساتوں دن کیبنیاد پر نئی پی این جی پائپ لائنز بچھانے کے کام کی بھی اجازت دی ہے ۔
- پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوزیو سیفٹی آرگنائزیشن (پی ای ایس او) نے اپنے دفاتر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سی جی ڈی کی درخواستیں موصول ہونے کے 10 دن کے اندر ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کریں ۔
- پیٹرولیم اور قدرتی گیس ریگولیٹری بورڈ (پی این جی آر بی) نے اپنے 23 مارچ ، 2026 ء کے حکم نامے میں سی جی ڈی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ رہائشی اسکولوں ، کالجوں ، ہاسٹلوں ، کمیونٹی کچن اور آنگن واڑی کچن کے لیے پی این جی کنکشن کو ، جہاں بھی ممکن ہو ، پانچ دن کے اندر ترجیحی طور پر فراہم کریں ۔
- حکومت ہند نے تاریخ 24 مارچ ، 2026 ء کے گزٹ کے ذریعے قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنوں اور دیگر سہولیاتکی تنصیب ، عمارت ، آپریشن اور توسیع کے ذریعے) آرڈر ، 2026 کو لازمی غذائی اجناس ایکٹ ، 1955 کے تحت نوٹیفائی کیا ہے ۔ یہ آرڈر ، ملک بھر میں پائپ لائنز بچھانے اور توسیع کرنے ، منظوریوںاور آراضی کے حصول میں تاخیر کو دور کرنے اور رہائشی علاقوں سمیت قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے ترقی کو قابل عمل بنانے کے لیے ایک ہموار اور مقررہ وقت کا فریم ورک فراہم کرتا ہے ۔ توقع ہے کہ اس سے پی این جی نیٹ ورک کے فروغ میں تیزی آئے گی ، آخری میل تک رابطے میں اضافہ ہوگا اور صاف ستھرے ایندھن کی طرف منتقلی میں مدد ملے گی ۔ اس طرح توانائی کے تحفظکو تقویت ملے گی اور بھارت کی گیس پر مبنی معیشت کو فروغ حاصل ہو گا ۔
- سی جی ڈی اداروں نے کل 110 جغرافیائی علاقوں میں 9046 پی این جی کنکشن (نئے اور گیس - اِن ) کی اطلاع دی ۔
ایل پی جی
- موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے ۔
- ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپ پر قلت کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔
- گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی ڈیلیوری معمول کے مطابق جاری ہے ۔
- حکومت پہلے ہی صارفین کو جزوی تجارتی ایل پی جی سپلائی (20 فی صد ) بحال کر چکی ہے ۔ مزید برآں ، حکومت ہند نے 18 مارچ ، 2026 ء کے خط کے ذریعے پی این جی توسیع اصلاحات سے منسلک اضافی 10 فی صد مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔
- حکومت ہند نے 21 مارچ ، 2026 ء کے خط کے ذریعے ریاستوں کو تجارتی ایل پی جی کے مزید 20 فی صد مختص کرنے کی اجازت دی ہے ، جس سے مجموعی طور پر مختص رقم 50 فی صد تک پہنچ جائے گی ۔ پی این جی توسیع کے لئے اصلاحات کرنے میں آسانی کی بنیاد پر 10 فی صد مختص) یہ اضافی 20 فی صد مختص ریستوراں ، ڈھابوں ، ہوٹلوں ، صنعتی کینٹینوں ، فوڈ پروسیسنگ/ڈیری ، سبسڈی والی کینٹین/ریاستیحکومت کے زیر انتظام آؤٹ لیٹسیا کھانے کے لیے مقامی ادارے ، کمیونٹی کچن ، مائگرینٹ مزدوروں کے لیے 5 کلو ایف ٹی ایلجیسے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی ۔
- 26 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے غیر گھریلو ایل پی جی کے لیے الاٹمنٹ آرڈر جاری کیے ہیں ، جبکہ پی ایسیو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں باقی علاقوں میں سپلائی کا عمل انجام دے رہی ہیں ۔ 14 مارچ ، 2026 ء سے اب تک تقریباً 22268 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جیحاصل کیا جا چکا ہے ۔
مٹی کا تیل
- تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باقاعدہ الاٹمنٹ کے علاوہ 48,000 کلو لیٹر مٹی کا تیل مختص کیا گیا ہے ۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ضلعی سطح پر تقسیم کے مقامات کی نشاندہی کریں ۔
- 16 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ایس کے او الاٹمنٹ کے احکامات جاری کیے ہیں ، جبکہ ہماچل پردیش اور لداخ نے کوئی ضرورت ظاہر نہیں کی ہے ۔ 16 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ابھی تک الاٹمنٹ کے احکامات جاری نہیں کیے ہیں ۔
ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا رول
- لازمی اشیاء ایکٹ ، 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر ، 2000 کے تحت ، ریاستی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کرنے اور پیٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی کو منظم کرنے میں بنیادی رول ادا کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔
- حکومت ہند نے 13 مارچ ، 2026 ء اور 18 مارچ ، 2026 ء کے خطوط کے ذریعے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی ہے:
Øذخیرہ اندوزی ، بلیک مارکیٹنگ اور گھریلو ایل پی جی کی ناجائز منتقلی کو روکنے کے لیے سخت چوکسی برقرار رکھنا ۔
Øمتعلقہ قانونی دفعات کے تحت سخت کارروائی کرنا ۔
Øتجارتی ایل پی جی کے لیے مناسب تقسیم کا طریقہ کار تیار کرنا ۔
Ø گھبراہٹ کی خریداری کو روکنے اور منصفانہ استعمال کو فروغ دینے کے لیے عوامی مشورے جاری کرنا ۔
- ضلع کلکٹر اور خوراک اور سول سپلائیز کے اہلکار روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ نفاذ کی کارروائیاںانجام دے رہے ہیں ۔
- زیادہ تر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے کنٹرول روم اور ضلعی نگرانی کمیٹیاں قائم کی ہیں ، جبکہ باقی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان میکانزم کو جلد از جلد فعال کریں ۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ درست معلومات کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پریس بریفنگ کا انعقاد کریں ۔
نفاذ کی کارروائی
- ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نفاذ کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اتر پردیش ، مہاراشٹر ، تلنگانہ اور چھتیس گڑھ وغیرہ ریاستوںمیں کل 2700 سے زیادہ چھاپے مارے گئے اور تقریباً 2000 سلنڈر ضبط کیے گئے ۔
- پی ایسیو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ملک بھر میں خردہ دکانوں اور ایل پی جی تقسیم کاروں پر 1700 سے زیادہ اچانک معائنہ کیا ۔
- اب تک 650 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 155 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
حکومت کے دیگر اقدامات
- حکومت ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے ضروری شعبوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کی فراہمی کو اولین ترجیح دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔
- ان اقدامات میں ریفائنری کی پیداوار میں اضافہ، بکنگ کے وقفوں میں تبدیلی (شہری علاقوں میں 21 سے 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک) اور ترجیحی بنیادوں پرسپلائی شامل ہے۔
- ایل پی جی کی مانگ کو کم کرنے کے لیے مٹی کے تیل اور کوئلے جیسے متبادل ایندھنوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
- وزارتِ کوئلہ پہلے ہی 'کول انڈیا' اور 'سنگارینی کولریز' کو حکم جاری کر چکی ہے کہ وہ ریاستوں کو چھوٹی، درمیانی اور دیگر صارفین میں کوئلہ تقسیم کرنے کے لیے زیادہ مقدار مختص کریں۔
- ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے پی این جی کے نئے کنکشنز کی سہولت فراہم کریں۔
سرکاری ایڈوائزی
- حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں۔
- شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔
- ایل پی جی کے لیے شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بکنگ کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار استعمال کریں اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔
- شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ متبادل ایندھن جیسے پی این جی اور الیکٹرک یا انڈکشن چولہے کا استعمال کریں۔
- تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے استعمال میں ایندھن کی بچت کریں۔
بحری سلامتی اور جہاز رانی کا عمل
خلیج فارس میں بحری صورتحال کی تازہ ترین صورتحال اور بھارتی جہازوں اور عملے کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی جانب سے شیئر کی گئیں۔ وزارت نے کہا کہ:
- اس خطے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی پرچم والے جہازوں سے متعلق کسی بحری واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
- بھارتی پرچم والے 20 جہاز تقریباً 540 بھارتی ملاحوں کے ساتھ مغربی خلیج فارس کے خطے میں موجود ہیں۔ جہاز رانی کے ڈائرکٹر جنرل(ڈی جی ،شپنگ)جہازوں کے مالکان، آر پی ایس ایل ایجنسیوں اور بھارتی مشنز کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
- ڈی جی شپنگ کنٹرول روم 24گھنٹےساتوں دن فعال ہے اور اس نے فعال ہونے کے بعد سے ملاحوں، ان کے اہل خانہ اور بحری شراکت داروں کی 4,108 فون کالز اور 7,909 ای میلز کا جواب دیا ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موصول ہونے والی 187 کالز اور 462 ای میلز شامل ہیں۔
- ڈی جی شپنگ نے اب تک ہوائی اڈوں اور مختلف علاقائی مقامات سے 635 سے زائد بھارتی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران واپس آنے والے 50 ملاح شامل ہیں۔
- بھارت کا بحری شعبہ آسانی سے کام کر رہا ہے اور کسی بھی بندرگاہ پر بھیڑکی اطلاع نہیں ملی، جس کی تصدیق گجرات، مہاراشٹر، گوا، کیرالہ، آندھرا پردیش اور پڈوچیری سمیت ریاستی بحری بورڈز نے کی ہے۔
- بندرگاہیں جہازوں کی نقل و حرکت اور کارگو آپریشنز کی قریب سے نگرانی کر رہی ہیں۔ جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی ( جے این پی اے)، وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی ( وی او سی پی اےA)، وشاکھاپٹنم پورٹ، مندرا، دین دیال پورٹ اتھارٹی ( ڈی پی اے، نیو منگلور پورٹ اتھارٹی ( این ایم پی اے)، کوچین پورٹ اتھارٹی ( سی او پی اے)، چنئی پورٹ اتھارٹی ( سی ایچ پی اے) اور کاماراجر پورٹ لمیٹڈ ( کے پی ایل) جیسی اہم بندرگاہوں پر جہازوں کی آمد ورفت کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی جگہ پہلے ہی فراہم کر دی گئی ہے۔
- اس کے علاوہ مندرا پورٹ نے سہولت کے اضافی اقدامات فراہم کیے ہیں جن میں مشرق وسطیٰ جانے والے برآمدی کنٹینرز کے لیے 15 دن کی مفت اسٹوریج، ریفر پلگ ان چارجز پر 80 فیصد رعایت، لفٹ آن/لفٹ آف چارجز، شٹ آؤٹ چارجز اور ٹرانسپورٹیشن چارجز کی معافی اور واپس آنے والے کنٹینرز کے لیے 15 دن کی مفت اسٹوریج شامل ہے۔
- بندوگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بحری نقل و حرکت، بندرگاہوں کے کام کاج، بھارتی ملاحوں کی حفاظت اور بحری تجارت کے تسلسل کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
خطے میں بھارتی شہریوں کی حفاظت
بریفنگ کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، بشمول بھارتی مشنز کے ذریعے فراہم کی جانے والی مسلسل امداد اور رسائی کے حوالے سے تازہ ترین جانکاری شیئر کی گئی ہیں۔ اس میں مطلع کیا گیا کہ:
- وزیراعظم کو امریکہ کے صدر جناب ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے فون کال موصول ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کشیدگی میں کمی اور امن کی جلد بحالی کی حمایت کرتا ہے۔
- وزیراعظم نےآبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور قابلِ رسائی رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور عالمی امن، استحکام اور اقتصادی بہبود کے لیے اس کی کلیدی اہمیت کا ذکر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کے حوالے سے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
- وزیراعظم کو سری لنکا کے صدر جناب انورا کمارا ڈیسانائیکے کی جانب سے بھی فون کال موصول ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی ابھرتی ہوئی صورتحال، بالخصوص عالمی توانائی کی حفاظت کو متاثر کرنے والے تعطل پر تبادلہ خیال کیا۔
- دونوں رہنماؤں نے عالمی تجارت اور استحکام کے مفاد میں شپنگ لائنز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا اور بھارت-سری لنکا توانائی تعاون اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کیے گئے اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
- وزیراعظم نے پڑوسی مقدم پالیسی اور 'مہاساگر وژن کے مطابق مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں سری لنکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔
- وزیر خارجہ نے بھارت میں ایران کے سفیر سے ملاقات کی اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر نے موجودہ صورتحال کے دوران وہاں موجود بھارتی شہریوں کو ایران کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔
- وزارتِ خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا کے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، جس میں بھارتی برادری کی حفاظت، سلامتی اور بہبود اولین ترجیح ہے۔
- سوالات کے جوابات دینے اور بھارتی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے وزارت کا مخصوص کنٹرول روم فعال ہے اور ریاستی حکومتوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ ہم آہنگی برقرار رکھی جا رہی ہے۔
- خطے میں موجود بھارتی مشنز اور پوسٹس 24 گھنٹے ساتوں دن کام کرنے والی ہیلپ لائنز کے ساتھ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں، جو فوری بنیادوں پر جواب دے رہے ہیں اور بھارتی کمیونٹی تنظیموں اور مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
- مشنز باقاعدگی سے ایڈوائزریز جاری کر رہے ہیں اور طلباء، ملاحوں، پھنسے ہوئے بھارتی شہریوں اور مختصر مدت کے لیے آنے والے زائرین کو ویزا کی سہولت، قونصلر خدمات اور لاجسٹک مدد کے ذریعے فعال طور پر امداد فراہم کر رہے ہیں۔
- پروازوں کی مجموعی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور خطے سے اضافی پروازیں چل رہی ہیں۔ 28 فروری سے اب تک خطے سے تقریباً 4,26,000 مسافر بھارت واپس آ چکے ہیں۔ اس مدت کے دوران خطے سے بھارت کے لیے کل 2,149 پروازیں چلائی گئیں، جن میں بھارتی اور غیر ملکی ایئر لائنز کی طے شدہ اور غیر طے شدہ پروازیں شامل ہیں۔
- متحدہ عرب امارات میں ایئر لائنز آپریشنل وجوہات کی بنا پر محدود غیر طے شدہ پروازیں چلا رہی ہیں اور آج مختلف ہوائی اڈوں سے بھارت کے لیے تقریباً 80 پروازوں کے روانہ ہونے کی توقع ہے۔
- سعودی عرب اور عمان سے بھارت کے لیے پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔
- قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے ساتھ، قطر ایئرویز سے آج بھارت کے لیے تقریباً 9 غیر طے شدہ تجارتی پروازیں چلانے کی توقع ہے۔
- کویت اور بحرین کی فضائی حدود بدستور بند ہیں۔ جزیرہ ایئرویز اور گلف ایئر جیسی فضائی کمپنیوں کے ذریعے سعودی عرب سے خصوصی طور پر غیر طے شدہ پروازیں چلائی جا رہی ہیں، جو بھارتی شہریوں کی بھارت واپسی میں سہولت فراہم کر رہی ہیں۔
- ایران میں موجود بھارتی شہریوں کو آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے بھارت سفر کرنے میں مدد دی جا رہی ہے، جس میں اب تک ہمارے مشن کی مدد سے 1,043 افراد بشمول 717 طلباء اور 326 بھارتی شہری ایران سے باہر جا چکے ہیں۔
- اسرائیل میں موجود بھارتی شہریوں کو اردن کے راستے بھارت سفر کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
- کویت، بحرین اور عراق میں پابندیوں کے پیش نظر، بھارتی شہریوں کے لیے سعودی عرب کے راستے ٹرانزٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
- وزارت بھارتی شہریوں کے جسد خاکی کی واپسی کے لیے بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔ 18 مارچ کو ریاض میں انتقال کر جانے والے ایک بھارتی شہری کا جسد خاکی بھارت واپس لایا جاچکا ہے اور حکومت اہل خانہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
- عمان، عراق اور متحدہ عرب امارات میں بھارتی مشنز لاپتہ اور فوت شدہ بھارتی شہریوں کے بارے میں مقامی حکام سے رابطے میں ہیں اور جسد خاکی کو جلد لے جانے کے لیے سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
********
ش ح۔ م ع۔ص ج
U. No.4904
(ریلیز آئی ڈی: 2245287)
وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Gujarati
,
Odia
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam