صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدرِ ہند نے نئی دہلی میں بین الاقوامی یومِ خواتین کی تقریبات میں شرکت کی
حقیقی معنوں میں ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی مساوی شرکت کو یقینی بنایا جائے، جو ملک کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں: صدر دروپدی مرمو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 MAR 2026 2:55PM by PIB Delhi
بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر صدرِ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (8 مارچ 2026) نئی دہلی میں خواتین و اطفال کی ترقی کی مرکزی وزارت کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور اس سے خطاب کیا۔ یہ قومی سطح کی تقریب مختلف شعبوں میں خواتین کی کامیابیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صنفی مساوات، خواتین کی حفاظت، وقار اور بااختیاری کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ خواتین ہر شعبے میں تعلیم، انتظامیہ، عدلیہ، فوج، طب، سائنس، ٹیکنالوجی، فنون اور کاروباری میدان میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے مالی طور پر خود کفیل بن رہی ہیں۔ وہ پنچایتوں میں دیہی ترقی کی قیادت بھی فراہم کر رہی ہیں۔ بہت سی خواتین اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صنعت، اسٹارٹ اپس اور کارپوریٹ دنیا میں قیادت کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ایسی مثالیں اس بات کا اعتماد پیدا کرتی ہیں کہ اگر خواتین کو مناسب مواقع اور تعاون فراہم کیا جائے تو وہ ہر شعبے میں بہترین کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ بھارت تیزی سے خواتین کی قیادت میں ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران خواتین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔ بھارت نے اسکولی تعلیم میں صنفی مساوات حاصل کر لی ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم میں بھی مجموعی اندراج کے تناسب کے لحاظ سے طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کی تعلیم میں خواتین کی شرکت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں ہر ضلع میں خواتین کے لیے ایک ہاسٹل قائم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ ایس ٹی ای ایم کی طالبات اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ہماری بیٹیاں علم پر مبنی معیشت میں قیادت کے کردار کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔
صدر نے کہا کہ خواتین اب روزگار حاصل کرنے والی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والی کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم کے تحت حمایت حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس میں سے آدھے سے زیادہ میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر موجود ہے۔ اس وقت دو لاکھ سے زائد خواتین کی ملکیت والے ایم ایس ایم ایز حکومت کے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر فعال ہیں۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں شروع کیے گئے شی-مارٹ اقدام کے ذریعے سیلف ہیلپ گروپس اور دیہی خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کے لیے بہتر منڈیوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ گزشتہ سال نافذ کیے گئے لیبر کوڈز کا مقصد خواتین کارکنوں کے لیے زیادہ جامع، محفوظ اور بااختیار کام کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں متعدد کوششوں کے باوجود ان کی ترقی کے سفر میں اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر آج بھی بہت سی خواتین کو امتیازی سلوک، یکساں کام کے لیے غیر مساوی اجرت اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کا حل صرف قانون سازی کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے معاشرے کی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ جب تک ہم جنس کی بنیاد پر امتیاز کی ذہنیت سے آگے نہیں بڑھیں گے، اس وقت تک معاشرے میں حقیقی مساوات قائم نہیں ہو سکتی۔
صدر نے کہا کہ حقیقی معنوں میں ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کی مساوی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ وہ ملک کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔ ہم نے 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ہمارے ملک کی تیز رفتار ترقی اور قومی مفاد کے لیے شہریوں کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم نہ صرف خواتین کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دیں بلکہ ان خوابوں کی تکمیل کے ہر مرحلے پر ان کی مدد بھی کریں۔ انہوں نے کہا کہ خوف اور امتیاز سے پاک ماحول میں خواتین قوم کی تعمیر میں اپنی بہترین خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عالمی یومِ خواتین کے موقع پر تمام شہریوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہر بچی کو تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، خواتین کے احترام اور تحفظ کو ترجیح دی جائے اور معاشرے میں پائی جانے والی ہر قسم کی امتیازی سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم دنیا کے سامنے خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک مثالی کردار پیش کر سکتے ہیں۔
صدر کی تقریر دیکھنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-3518
(ریلیز آئی ڈی: 2236600)
وزیٹر کاؤنٹر : 27
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Assamese
,
Bengali
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam