وزیراعظم کا دفتر
اترپردیش کے شہر میرٹھ میں مختلف ترقیاتی کاموں کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 FEB 2026 6:53PM by PIB Delhi
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
بھارت ماتا کی جے۔
اترپردیش کے مقبول عام وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی پنکج چودھری جی، جینت چودھری جی ، اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک جی، حکومت اترپردیش کے وزراء، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی، اراکین اسمبلی، اور بڑی تعداد میں آئے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
بابا اوگڑھ ناتھ کی اس مقدس زمین پر، میرٹھ کی انقلابی سرزمین پر، آج وکست اترپردیش، وکست بھارت، اس کے لیے نئے انقلاب کو توانائی مل رہی ہے۔ آج پہلی مرتبہ، ایک ہی اسٹیج سے نمو بھارت ریپڈ ریل اور میٹرو خدمات کا، ایک ہی دن میں آغاز ہو رہا ہے۔ وکست بھارت کی کنکٹیویٹی کیسی ہوگی، یہ اس کی ایک شاندار جھلک ہے۔ شہر کے اندر میٹرو، اور ٹوِن سٹیز کے وژن کو رفتار دینے کے لیے نمو بھارت جیسی جدید ریل گاڑی، مجھے اطمینان ہے، یہ کام اترپردیش میں ہوا ہے۔
بھائیو اور بہنو،
آج کا یہ پروگرام، بھاجپا کی ڈبل انجن سرکار کی کام کاج کی ثقافت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اور ہماری کام کاج کی ثقافت کیا ہے؟ ہماری کام کاج کی ثقافت ہے کہ جس کام کا سنگ بنیاد رکھا جائے، اسے مکمل کرنے کے لیے، دن رات ایک کر دیا جائے۔ اور اس لیے اب پروجیکٹس پہلے کی طرح لٹکتے، بھٹکتے نہیں ہیں۔ نمو بھارت یا میٹرو خدمات، دونوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع آپ سب نے مجھے دیا تھا۔ اور آج مجھے ہی ان کے آغاز کی بھی خوش نصیبی حاصل ہوئی ہے۔
ساتھیو،
تھوڑی دیر پہلے میں میرٹھ میٹرو میں سفر کیا ہے۔ اس دوران میری اسکول – کالج کے متعدد نوجوانوں سے اور دیگر مسافروں سے بات چیت ہوئی ہے۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ اتنے شاندار کام کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اور سب کے سب لوگ، وہ پرانے دنوں کو یاد کر رہے تھے۔ اور خاص طور پر بہنوں بیٹیوں نے مجھے بتایا، کچھ سال پہلے تک شام ہوتے ہی، پورے روٹ میں سناٹا چھا جاتا تھا۔ یہاں خوف و دہشت کا ماحول ہوتا تھا۔ اب ایک جانب قانونی نظام بھی بہتر ہوا ہے اور دوسری جانب، لوگوں کو سہولتوں کا حامل اور محفوظ سفر بھی ملا ہے۔
اور ساتھیو،
جھے خوشی ہے کہ یہ نمو بھارت ریپڈ ریل سے، یہ ناری شکتی کی قوت کی علامت بھی بنی ہے۔ اس میں ٹرین آپریٹر، اسٹیشن کنٹرول اسٹاف، ایسے متعدد کام میں ہماری بیٹیاں ہی مصروف عمل ہیں، بیٹیاں ہی قیادت کر رہی ہیں۔ میں آپ سبھی کو، اترپردیش کو، اور دہلی والوں کو ملک کی پہلی نمو بھارت ریپڈ ریل خدمت اور میرٹھ میٹرو کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو،
میرٹھ کی اس سرزمین سے میرا بھی ایک خاص رشتہ رہا ہے۔ جب 2014 کے انتخابات ہوئے، 2019 کے انتخابات ہوئے اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات ہوئے تو میرٹھ سے ہی میری انتخابی اجتماعات کی شروعات ہوئی۔ میرٹھ کے آپ لوگوں نے، یہاں کے کاشتکاروں نے، صنعت کاروں نے، چھوٹی صنعتوں سے جڑے مزدوروں نے، کاریگروں نے، دکانداروں نے، مجھے ہمیشہ آشیرواد دیا ہے۔
اور ساتھیو،
میں نے تب بھی کانگریس اور سپا-بسپا کو کہا تھا کہ اپنی زہریلی سیاست چھوڑیئے اور آیئے، ترقی کے موضوع پر مقابلہ کرکے دیکھتے ہیں۔
ساتھیو،
ان پارٹیوں نے تو اپنی زہریلی سیاست تبدیل نہیں کی، تاہم بھاجپا نے ترقی اور اپن نیتی ریتی، اپنی نیت میں ایک بات کو سب سے اوپر رکھا، تو وہ ہے ترقی، ملک کی ترقی۔ اس کی ایک مثال ہماری میٹرو بھی ہے، میرٹھ میٹرو بھی ہے۔
ساتھیو،
2014 سے پہلے بھارت میں میٹرو کی توسیع، بہت ہی سست رفتاری سے ہو رہی تھی۔ حالت یہ تھی کہ کانگریس حکومت کے دور میں ملک کے صرف 5 شہروں میں ہی میٹرو چل پائی تھی۔ جبکہ آج بھاجپا حکومت کے دور میں ملک کے 25 سے زیادہ شہروں میں میٹرو چلنے لگی ہے۔ آج بھارت، میٹرو کے معاملے میں دنیا کا تیسرا بڑا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ اترپردیش میں میرٹھ کے علاوہ بھی کئی سارے شہروں میں میٹرو پر کام چل رہا ہے۔
ساتھیو،
گذشتہ 11 برسوں میں میٹرو ملک بھر کے درجنوں شہروں تک پہنچ چکی ہے کیونکہ بی جے پی حکومت ملک کے لوگوں کو سہولت فراہم کرنا چاہتی ہے، انہیں تیز رفتار، ٹریفک جام- اور آلودگی سے پاک خدمات سمیت ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے، آج نمو بھارت جیسی جدید سیمی ہائی اسپیڈ ٹرین چل رہی ہے، وندے بھارت ٹرین چل رہی ہے۔
ساتھیو،
کانگریس سپا کی جب دہلی میں حکومت تھی تو یہ سب ناممکن تھا۔ اس وقت، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے گھوٹالوں میں پھنس گئے تھے۔ ہمیں میٹرو سمیت بیشتر ٹیکنالوجی بیرون ملک سے درآمد کرنی پڑی۔ ہم نے گھوٹالوں کو روکا اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر آگے بڑھایا۔ کیونکہ بی جے پی کی ترجیح ملک کی ترقی، اس کے شہریوں کی سہولت اور خوشحالی ہے۔ ذرا یہاں دیکھئے، میرٹھ اور مغربی اتر پردیش کے لوگوں کی زندگی کیسے بدلنے والی ہے۔ سرائے کالے خان، آنند وہار، غازی آباد، اور میرٹھ میں، ہندوستانی ریلوے، میٹرو اور بس ٹرمینلز کو جوڑ دیا گیا ہے۔ ملک میں یہ پہلا موقع ہے کہ نمو بھارت اور میٹرو ٹرینیں ایک ہی اسٹیشن پر، ایک ہی ٹریک پر چلیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک ہی پلیٹ فارم سے شہر کے اندر سفر کر سکتے ہیں اور اسی اسٹیشن سے براہ راست دہلی کا سفر کر سکتے ہیں۔ اس سے میرٹھ کے آپ جیسے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوگا جو تعلیم کے لیے، نوکری کے لیے، دیگر کام کاج کے لیے، روزانہ دہلی آتے جاتے ہیں۔ جو لوگ دہلی میں نوکری کرتے ہیں اور جن کا گھر میرتھ میں ہے، ان کے لیے اب دہلی میں کرائے کے گھر میں رہنے کی مجبوری بھی ختم ہوئی ہے۔
ساتھیو،
آج بھاجپا کی ڈبل انجن والی حکومت، جدید بنیادی ڈھانچے پر جو اتنا سارا پیسہ خرچ کر رہی ہے، اس سے آپ کا پیسہ بھی بچتا ہے اور نوجوانوں کو روزگار بھی ملتا ہے۔ یہاں مغربی اترپردیش میں ہی دیکھئے، کیسے نئے نئے ایکسپریس وے بن رہے ہیں، کلی طور پر وقف مال بھاڑا گلیارے بن رہے ہیں، جیور میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ بن رہا ہے، یہ پروجیکت جب بنتے ہیں تب بھی روزگار ملتے ہیں، اور بعد میں نئی صنعتیں قائم ہوتی ہیں، نئے کاروبار آتے ہیں، اس سے بھی روزگار پیدا ہوتے ہیں۔
ساتھیو،
اتر پردیش کی یہ سرزمین محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے۔ چاہے وہ کسان ہوں، مویشی پالنے والے کسان ہوں، چھوٹے کاروباری ہوں، بنکر ہوں اور دستکار ہوں، یہ سب ورثے اور ترقی کے منتر کو مجسم کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے ہندوستان کی طاقت بڑھتی ہے، اتر پردیش کے ان ساتھی شہریوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
ساتھیو،
آپ آج کل دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے تئیں اور دنیا کے لوگوں کے من میں بھارت کے تئیں کتنی عقیدت ہے، لوگ کتنے پرامید ہیں۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک اب بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب کانگریس کی حکومت چاہ کر بھی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاہدے نہیں کر پاتی تھی۔ کیونکہ تب گھوٹالوں کے لیے بدنام کانگریس حکومت سے سمجھوتے کرنے میں دنیا کو ہچکچاہٹ ہوتی تھی۔ لیکن آج ترقی یافتہ ممالک ہندوستان کے ساتھ شراکت داری کے خواہشمند ہیں کیونکہ انہیں ہندوستان کی ترقی میں اپنا مستقبل نظر آتا ہے اور ہندوستان کے نوجوانوں میں امید ہے۔ آج دنیا مانتی ہے کہ ہندوستان اکیسویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ساتھیو،
بی جے پی حکومت نے گزشتہ برسوں میں جن عالمی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ان سے چھوٹی اور دیہی صنعتوں سے وابستہ افراد کو بہت فائدہ ہوگا۔ ان سے میرٹھ کے کھیلوں کے سامان بنانے والے، میرٹھ کی قینچی، خورجہ کی کراکری، مراد آباد کی پیتل، باغپت کی گھریلو فرنشننگ کی صنعت، سہارنپور کی لکڑی کی نقاشی، چمڑا، کپڑا اور زیورات کی صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان معاہدوں سے تمام چھوٹی اور کاٹیج صنعتوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ بی جے پی کی ترجیح ملک کے بڑے اور چھوٹے شہروں کی صلاحیت کو دنیا کے کونے کونے تک لے جانا اور اتر پردیش کے مختلف اضلاع کی پہچان کو بڑھانا ہے۔
ساتھیو،
ہمارا میرٹھ اور یہ پورا خطہ چھوٹی صنعتوں اور ایم ایس ایم ایز کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس سال مرکزی حکومت کے بجٹ میں ہم نے چھوٹی صنعتوں کے لیے 10,000 کروڑ روپے کے خصوصی فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے اتر پردیش میں ایم ایس ایم ایز کے لیے قرض حاصل کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ بجٹ میں ہم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ویور کمیونٹی کے لیے مہاتما گاندھی گرام سوراج یوجنا کا اعلان کیا۔ اس سے کھادی، ہینڈلوم اور دستکاری کو عالمی مارکیٹ میں لانے میں مدد ملے گی۔
ساتھیو،
پہلے، چھوٹے کاریگر صرف 10 لاکھ روپے تک کا سامان کورئیر کے ذریعے بھیج سکتے تھے۔ اب یہ حد مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ اس سے میرٹھ سمیت اتر پردیش کے بنکروں اور دیگر چھوٹے کاروباریوں کو آن لائن ایپس کے ذریعے امریکہ یا یورپ میں اپنے صارفین کو آسانی سے مصنوعات بھیجنے کا موقع ملے گا۔
ساتھیو،
میرٹھ-ہاپور اور آس پاس کے خطے نے آغاز سے ہی چودھری چرن سنگھ کے وژن کو دیکھا ہے۔ ہماری حکومت خوش قسمت تھی کہ چودھری چرن سنگھ کو بھارت رتن سے نوازا گیا۔ ان کے وژن پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی کی ڈبل انجن والی حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس کے لیے فوڈ پروسیسنگ پر خاصا زور دیا جا رہا ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے فنڈز بھی چھوٹے کسانوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو رہے ہیں۔ اب تک، اتر پردیش میں کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت تقریباً 95,000 کروڑ روپے ملے ہیں۔ اس میں سے میرٹھ کے کسانوں کو بھی تقریباً 800 کروڑ روپے ملے ہیں۔
بھائیو او ربہنو
ایک جانب ، ہم وطن ہندوستان کی ترقی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ لیکن ملک کے اندر کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہندوستان کی کامیابی کو ہضم نہیں کر سکتیں۔ آپ نے ابھی دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کانفرنس کا مشاہدہ کیا ہے۔ 80 سے زیادہ ممالک کے مندوبین دہلی آئے۔ تقریباً 20 ممالک کے سربراہان مملکت ہندوستان آئے اور ہندوستان کے کونے کونے سے لاکھوں لوگ دہلی میں جمع ہوئے۔ ترقی پذیر ممالک میں اس طرح کی کانفرنس پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ میں میرٹھ کے لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں، یہ جو اے آئی اجلاس ہوا، آپ کو فخر ہوا کہ نہیں ہوا؟ پوری طاقت سے بتایئے، آپ کو فخر ہوا کہ نہیں ہوا؟ آپ کی پیشانی اونچی ہوئی کہ نہیں ہوئی؟ آپ کی چھاتی چوڑی ہوئی کہ نہیں ہوئی، یہ کام بھارت کے لیے ہوا کہ نہیں ہوا ہے؟ بھارت کے نوجوانوں کے لیے ہوا کہ نہیں ہوا ہے؟ بھارت کی قسمت کو بدلنے کے لیے ہوا ہے کہ نہیں ہوا ہے؟ 21ویں صدی میں لیڈرشپ لینے کے لیے ہوا ہے کہ نہیں ہوا ہے؟ پورا ملک فخر سے بھر گیا۔ لیکن کانگریس اور اس کے ایکوسسٹم نے کیا کیا؟
ساتھیو،
کانگریس نے ہندوستان میں ایک عالمی تقریب کو اپنی گندی اور ننگی سیاست کا پلیٹ فارم بنا دیا۔ کانگریس لیڈر غیر ملکی مہمانوں کے سامنے برہنہ ہو کر پنڈال پہنچے۔ میں کانگریس کے ارکان سے پوچھتا ہوں، ملک پہلے ہی جانتا ہے کہ آپ ننگے ہیں، تو آپ کو کپڑے اتارنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ وہاں کانگریس کے لیڈروں نے جو کچھ کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی سب سے قدیم پارٹی نظریاتی طور پر کتنی دیوالیہ اور غریب ہو چکی ہے۔
ساتھیو،
اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہم ایسے لوگ ہیں جو ہمارے گاؤں میں جب بھی شادی ہوتی ہے تو اسے کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں لگا دیتے ہیں، تاکہ مہمان گاؤں کی مثبت تصویر لے کر رخصت ہوں۔ کانگریس اپنے ہی ملک کو بدنام کرنے میں مصروف ہے۔
ساتھیو،
کانگریس لیڈر مودی سے نفرت کرتے ہیں، وہ میری قبر کھودنا چاہتے ہیں، وہ میری ماں کو گالی دینے سے بھی نہیں ہچکچاتے، وہ بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں، وہ این ڈی اے کی مخالفت کرتے ہیں، ٹھیک ہے، تمہاری سیاست میں یہی ضروری ہے، ٹھیک ہے، ہم سمجھ سکتے ہیں، ہم یہ بھی برداشت کریں گے۔ لیکن کانگریس کو یہ یاد رکھنا چاہیے تھا کہ اے آئی گلوبل سمٹ بی جے پی کی تقریب نہیں تھی اور نہ ہی اس وقت وہاں بی جے پی کا کوئی لیڈر موجود تھا۔ یہ ایک قومی تقریب تھا، قومی غیرت کا پروگرام تھا، جسے ملک کے عوام کے پسینے سے بنایا گیا تھا۔ اس کے باوجود کانگریس پارٹی نے کل تمام حدیں توڑ دیں۔ اور پورا ملک کانگریس کے اس رویے کی مذمت کر رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسی پرانی پارٹی کے لیڈر شرم محسوس کرنے کے بجائے ملک کی بے عزتی کرنے والوں کو بے شرمی سے خوش کر رہے ہیں۔ اور یہ کانگریس کے اقدامات کا ایک مسلسل نمونہ ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کیا کیا؟ وہ خود پارلیمنٹ میں پرفارم نہیں کر سکتے، اس لیے وہ اپنے اتحادیوں کو بولنے کا موقع بھی نہیں دیتے، پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتے۔ اور سب سے زیادہ نقصان کانگریس کے اتحادیوں کو ہو رہا ہے۔ وہ اب سمجھ گئے ہیں. انہوں نے دہلی میں جس برہنگی کا مظاہرہ کیا اس نے ان کے تمام اتحادیوں کو چونکا دیا ہے اور وہ خود سے دور ہو گئے ہیں۔ اور میں عاجزی کے ساتھ ملکی میڈیا سے بھی ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے ہر طرح سے میڈیا کا مقابلہ کرنے کی طاقت دے۔ لیکن آج میں ان سے درخواست کر رہا ہوں کہ جب ہم اس طرح کے اقدامات پر تنقید کرتے ہیں تو براہ کرم یہ کہہ کر سرخیاں نہ بنائیں کہ ’’مودی نے اپوزیشن کو شکست دی ہے‘‘۔ کانگریس کو بچانے کے لیے یہ چالیں بند کریں۔ اپنے آپ کو "اپوزیشن" کہہ کر آپ کانگریس پارٹی کی حفاظت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اپوزیشن میں موجود دیگر حلیفوں نے بھی سمجھ لیا ہے کہ کانگریس گناہ کرتی ہے اور اس کا خمیازہ بھگتتی ہے۔ کانگریس کا ماحولیاتی نظام ہر بار چوری کا یہ کھیل کھیلتا ہے: کانگریس گناہ کرتی ہے، کانگریس پر تنقید ہوتی ہے، اور غصہ کانگریس پارٹی پر نکالا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا کو کانگریس نظر نہیں آتی، صرف لفظ "اپوزیشن" نظر آتا ہے۔ "کیوں، آپ کانگریس کی حفاظت کیوں کر رہے ہیں؟" ایسا کرنے سے آپ نہ تو کانگریس پارٹی کو بچاتے ہیں اور نہ ہی اسے اصلاح پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک بار جب آپ شائع کرنا اور بولنا شروع کر دیں گے، آپ کو احساس ہو جائے گا کہ یہ عام اپوزیشن کی غلطی نہیں ہے۔ اور دیکھیں دہلی میں کیا ہوا: کیا ٹی ایم سی نے گناہ کیے؟ کیا ڈی ایم کے نے گناہ کیے؟ کیا بی ایس پی نے گناہ کیے؟ کیا فاروق عبداللہ کی پارٹی نے گناہ کیا؟ کیا انہوں نے؟ صرف یہ پاگل لیڈر ہیں، کانگریس پارٹی کے بے لگام لیڈر، جو ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر آپ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو آپ کو پہلے عوام کے دل جیتنا ہوں گے۔ آپ صرف خواتین ایم پی ایز کو سیٹوں پر بھیج کر وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ اور آپ کو اس طرح ماؤں بہنوں کو آگے کرنے پر مجبور کیا ہے؟ اتنے کھوکھلے ہو گئے ہو کیا؟
ساتھیو،
کانگریس ملک کے لیے ایک بوجھ بن گئی ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ اس کے تمام اتحادیوں نے دہلی میں پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کرنے کا حوصلہ دکھایا ہے۔ میں حق اور قوم کے فخر کے ساتھ کھڑے ہونے پر ان اپوزیشن ساتھیوں کا عوامی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ساتھیو،
بی جے پی حکومت کے لیے ملک اور اتر پردیش کی ترقی سب سے اہم ہے۔ لیکن یاد رہے کہ 10 سال پہلے تک اتر پردیش کا کیا چرچا تھا؟ ہر کوئی میرٹھ کے فسادات، مغربی اتر پردیش میں جرائم پیشہ گروہوں، خراب سڑکوں، بجلی کی کٹوتی اور پسماندہ حالات کی بات کر رہا تھا۔ مغربی اتر پردیش میں ہونے والے جرائم پر فلمیں بنائی گئیں۔ ایس پی حکومت نے اتر پردیش کو اس ریاست میں گھٹا دیا تھا۔ لیکن آج اتر پردیش اپنی ترقی کے لیے جانا جاتا ہے۔ آج ہمارا اتر پردیش برہموس، موبائل فون مینوفیکچرنگ، ہوائی اڈوں اور سیاحتی سہولیات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے جانا جاتا ہے۔ اتر پردیش کھیلوں کے ماحولیاتی نظام میں بھی اپنے پروفائل کو بڑھا رہا ہے۔ میرٹھ میں اسپورٹس یونیورسٹی کا کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
ساتھیو،
سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں بے خوف گھومنے والے مجرم اب یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں جیل میں دن گزار رہے ہیں۔ آج کوئی ہماری کالج جانے والی بیٹیوں کی توہین کرنے کی جرات نہیں کرتا۔
ساتھیو،
جب قانون کا نظام بہتر ہوتا ہے، تو کاروبار اور دکانداری کے لیے بھی ماحول بنتا ہے۔ اس لیے آج اترپردیش کی معیشت میں بھی زبردست اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یوگی جی کی قیادت میں اترپردیش ملک کا بڑا مینوفیکچرنگ مرکز بن رہا ہے۔ کل ہی مجھے اترپردیش کی پہلی سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا ہے۔ اس سیمی کنڈکٹر فیکٹری کے بننے سے اترپردیش کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس سے یہاں نئی سرمایہ کاری، نئے روزگار کے لیے حیرت انگیز امکانات پیدا ہوں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، بھاجپا کی ڈبل انجن والی حکومت، ایسے ہی اترپردیش کو ملک کی سب سے بڑی معیشت بنانے کے لیے کام کرتی رہے گی۔ اترپردیش وکست ہوگا، توہی بھارت وکست ہوگا۔ ایک مرتبہ پھر آپ سبھی کو نمو بھارت ٹرین اور میٹرو پروجیکٹ کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ وندے ماترم کے 150 برس منا رہے ہیں۔ میرے ساتھ بولئے-
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:2878
(ریلیز آئی ڈی: 2231576)
وزیٹر کاؤنٹر : 4