الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

مصنوعی ذہانت  کے لیے  فیصلہ  کن لمحہ: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں  عالمی رہنماؤں اور سرکردہ ٹیک سی ای اوز کی طرف سے ذمہ داری کے ساتھ اے آئی جدت طرازی کی حمایت


سب سے اسمارٹ اے آئی وہ نہیں جو سب سے مہنگا ہے، بلکہ وہ ہے جسے بہترین لوگوں نے صحیح مقصد کے لیے بنایا ہے: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اے آئی کے لیے عالمی فنڈ کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’اے آئی کے مستقبل کا فیصلہ مٹھی بھر ممالک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے چند ارب پتیوں کی منشا پر چھوڑا جا سکتا ہے‘‘

ہم ڈیجیٹل تفریق کو اے آئی  کی تفریق میں بدلنے نہیں دے سکتے: سندر پچائی، سی ای او گوگل

ہمیں اے آئی ٹولز ملک کے آخری فرد کے ہاتھوں میں پہنچانے چاہئیں: این چندرا سیکرن، چیئرمین ٹاٹا سنز

اے آئی جلد ہی زیادہ تر شعبوں میں انسانی علمی صلاحیتوں سے تجاوز کر سکتی ہے، ڈاریو اموڈائی (سی ای او اینتھروپک) نے خبردار کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 3:00PM by PIB Delhi

بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں اعلیٰ سطح کی افتتاحی تقریب میں عالمی رہنما اور سرکردہ ٹیک سی ای اوز یکجا ہوئے۔ اس تقریب کا افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کیا۔ اس تقریب نے مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے مستقبل کی تشکیل میں ذمہ دارانہ جدت طرازی، سائنسی ترقی اور بین الاقوامی اشتراک پر جاری سمٹ کی سمت کا تعین کیا۔

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے ہندوستان کی اے آئی حکمت عملی کو سب کے لیے دستیاب کرانے، وسعت اور خود مختاری پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے اے آئی اسٹیک کی پانچ تہوں — ایپلی کیشنز، ماڈلز، کمپیوٹ، ٹیلنٹ اور انرجی — میں ہندوستان کے جامع نقطۂ نظر کا خاکہ پیش کیا اور صحت، زراعت، تعلیم اور عوامی خدمات میں ان کے استعمال پر زور دیا۔

ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرا سیکرن نے اے آئی کو اگلا بنیادی ڈھانچہ’’ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ‘‘ قرار دیا، جس کی تبدیلی کی صلاحیت بھاپ کے انجن، بجلی اور انٹرنیٹ کے ہم پلہ ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور اے آئی کو ایک اسٹریٹجک قومی صلاحیت کے طور پر پیش کیا جو چپس اور سسٹمز سے لے کر توانائی اور ایپلی کیشنز تک پورے ’اسٹیک‘ پر محیط ہے۔صنعت کے لیے اس عظیم موقع پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’’اے آئی اگلا بڑا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ یہ ذہانت کا انفراسٹرکچر ہے۔ ہمارا مشن یہ ہونا چاہیے کہ ہم اے آئی کو اس ملک کے ہر فرد اور ہر شہری کے لیے کارآمد بنائیں۔ ہمیں اے آئی ٹولز ملک کے اور حقیقت میں کرۂ ارض کے آخری فرد کے ہاتھوں میں پہنچانے چاہئیں۔ ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، یہ وافر ذہانت کا دور ہے، جہاں نایاب وسائل صرف بھروسہ، ذمہ دارانہ انتظام اور انسانی صلاحیت ہیں۔‘‘

اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈائی نے 2023 میں بلیچلے پارک میں ہونے والی پہلی عالمی اے آئی سیفٹی سمٹ کے بعد سے مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی ترقی پر روشنی ڈالی اور گزشتہ ڈھائی سال میں ہونے والی پیشرفت کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اے آئی تقریباً ایک دہائی سے ایک تیز رفتار اضافے کے گراف پر آگے بڑھ رہی ہے اور تیزی سے اس مقام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں یہ سسٹمز زیادہ تر شعبوں میں انسانی علمی صلاحیتوں سے تجاوز کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بیان کیا،’’اے آئی گزشتہ 10 سال سے ایک تیز رفتار رجحان پر ہے اور اب ہم اس منحنی خط  پر کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم اس کے بہت قریب پہنچ رہے ہیں جسے میں نے ’ڈیٹا سینٹر میں ذہین افراد کا ملک‘ کہا ہے، یعنی اے آئی ایجنٹس کا ایک ایسا گروپ جو زیادہ تر کاموں میں زیادہ تر انسانوں سے زیادہ باصلاحیت ہوگا اور انسانی استعداد سے بالاتر رفتار سے ہم آہنگی کرے گا۔ قابلیت کا یہ درجہ غیر معمولی مواقع لاتا ہے، جیسے بیماریوں کا علاج، اربوں لوگوں کو غربت سے نکالنا اور ایک بہتر دنیا کی تخلیق، لیکن یہ سنگین خطرات بھی لاتا ہے۔ چونکہ یہ سب بہت تیزی سے ہو رہا ہے، اس لیے ہمیں—کمپنیوں اور حکومتوں کو—مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ اس تبدیلی کو سنبھالا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ خوشحالی کو ہمواری اور ذمہ داری کے ساتھ تقسیم کیا جائے۔‘‘

گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے اپنے خطاب میں اے آئی کو ’’زندگی کی سب سے بڑی پلیٹ فارم تبدیلی‘‘ قرار دیتے ہوئے سائنسی دریافتوں کی رفتار تیز کرنے کی اس کی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ’’اے آئی ہماری زندگی کی سب سے بڑی پلیٹ فارم تبدیلی ہے۔ ہم انتہائی تیز رفتار ترقی اور ایسی نئی دریافتیں کرنے والے ہیں جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کو پرانے خلاء پُر کرنے اور تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ لیکن یہ نتیجہ نہ تو یقینی ہے اور نہ ہی خودکار۔ ایسی اے آئی بنانے کے لیے جو حقیقت میں ہر کسی کے لیے مددگار ہو، ہمیں اسے حوصلہ مندی سے اپنانا ہوگا، ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور اس فیصلہ کن لمحے میں مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ڈیجیٹل تفریق،  اے آئی کی تفریق بن جائے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گلوبل ساؤتھ میں پہلی اے آئی سمٹ کی میزبانی پر ہندوستان کی قیادت کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ ممالک کے کسی چھوٹے گروپ یا نجی مفادات کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے دو بڑے اقدامات پر روشنی ڈالی: 40 عالمی ماہرین پر مشتمل اے آئی پر ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کی تشکیل اور جامع و کثیر جہتی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی گورننس پر عالمی مذاکرات کا آغاز۔انسانی خود مختاری کو برقرار رکھنے والے حفاظتی اقدامات  پر زور دیتےہوئے انہوں نے کہا، ’’اے آئی کے مستقبل کا فیصلہ مٹھی بھر ممالک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے چند ارب پتیوں کی منشا پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ ہمیں ایسے حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے جو انسانی خود مختاری، انسانی نگرانی اور انسانی جوابدہی کو برقرار رکھیں۔ اے آئی تک رسائی ہر کسی کے لیے ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ترقی پذیر ممالک میں بنیادی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے اے آئی کے عالمی فنڈکا مطالبہ کر رہا ہوں۔ حقیقی اثر کا مطلب ایسی ٹیکنالوجی ہے جو زندگیوں کو بہتر بنائے اور کرۂ ارض کی حفاظت کرے، لہٰذا آئیے وقار کو بنیادی شرط بنا کر سب کے لیے اے آئی بنائیں۔‘‘

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے تیزی سے بڑھتے ہوئے تکنیکی مقابلے کے اس دور میں خود مختار، آزاد اور باہمی تعاون پر مبنی اے آئی کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے انقلاب اور موجودہ اے آئی تبدیلی کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے، انہوں نے اے آئی کو ایک ایسا اسٹریٹجک شعبہ قرار دیا جو جغرافیائی سیاست، اقتصادی طاقت اور عالمی توازن کی تشکیل کر رہا ہے۔ ہندوستان اور یورپ کے اختیار کردہ تکمیلی راستوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’سب سے اسمارٹ اے آئی وہ نہیں جو سب سے مہنگا ہو۔ بلکہ وہ ہے جسے بہترین لوگوں نے اور صحیح مقصد کے لیے بنایا ہو۔ اے آئی کا مستقبل وہ لوگ بنائیں گے جو جدت طرازی اور ذمہ داری اور ٹیکنالوجی اور انسانیت کا امتزاج کریں گے۔ کوئی بھی ملک صرف ایک ایسی مارکیٹ بننے کے لیے مجبور نہیں ہے جہاں غیر ملکی کمپنیاں اپنے ماڈل فروخت کریں اور شہریوں کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کریں۔ جدت طرازی، آزادی اور تزویراتی خود مختاری کا ایک راستہ موجود ہے اور ہندوستان اور فرانس مل کر اس مستقبل کی تشکیل میں مدد کریں گے۔‘‘

اس سمٹ کے افتتاحی سیشن میں عالمی سیاسی رہنماؤں، کثیرجہتی اداروں اور ٹیکنالوجی کے علمبرداروں کی شرکت نے اس کی اہمیت کو ایک ایسے فیصلہ کن پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا، جو تیزی سے بدلتی ہوئی اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مستقبل کے رخ کا تعین کر رہا ہے۔

****

ش ح۔ ک ح۔ خ م

U.NO.2716


(ریلیز آئی ڈی: 2230258) وزیٹر کاؤنٹر : 7