الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بھارت کی اے آئی مشن مختلف ضروریات اور حقیقی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وضع کی گئی ہے: جناب ایس کرشنن، سیکریٹری، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت
الیکٹرانکس اوراطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری کا ‘‘الگورتھمز سے عملی نتائج تک: ایسی اے آئی تیار کرنا جو عوام کے لیے مفید ہو’’ موضوع پر اظہار خیال
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کا مقصد ایسے مؤثر ایپلیکیشنزتلاش کرنا ہے جو ہم اے آئی کے ذریعے تخلیق کر سکتے ہیں: جناب ایس کرشنن
الیکٹرانکس اوراطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری نے شرکاء سے کہا کہ وہ ایکسپو میں موجود 600+ اسٹارٹ اپس اور کمپنیوں کا دورہ کریں اور ان شعبوں کا مشاہدہ کریں جہاں اے آئی استعمال ہو رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 FEB 2026 3:42PM by PIB Delhi
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوسرے دن کا آغاز ایک اثر انگیز سیشن سے ہوا جس میں عوام پر مرکوز اے آئی اور خودمختار تکنیکی صلاحیت کی موثر کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ‘‘الگورتھمز سے عملی نتائج تک: ایسی اے آئی بنانا جو لوگوں کے لیے مفید ہو’’ موضوع پر ہوا اجلاس اس بات پر مرکوز تھا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام عوامی خدمات کی فراہمی اور شہریوں کی فلاح و بہبود میں واضح اور قابل پیمائش بہتری پیدا کریں۔ گفتگو اس بات پر تھی کہ کمپیوٹر، ماڈلز اور ڈیٹا آخرکار ایسے اطلاقات میں بدلیں جو پیداواریت بڑھائیں، حکومت کو مضبوط کریں اور شہریوں کو حقیقی فوائد فراہم کریں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جناب ایس کرشنن، سیکریٹری، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (میٹی ) نے کہا کہ بھارت کی اے آئی مشن مختلف ضروریات اور حقیقی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کا مقصد ایسے مؤثر ایپلیکیشنز تلاش کرنا ہے جو ہم اے آئی کے ذریعے تخلیق کر سکتے ہیں۔
سکریٹری نے کہا کہ‘‘ہم کمپیوٹنگ، ماڈلز اور ڈیٹا صرف ایک مقصد کے لیے فراہم کر رہے ہیں، اور وہ ہے حقیقی اثر رکھنے والے ایپلیکیشنز تیار کرنا۔ اے آئی کا کامیاب ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ ایسے حل فراہم کرتی ہے جو زندگیوں کو بہتر بنائیں۔ اگر آپ ایکسپو میں جائیں، تو آپ سینکڑوں اسٹارٹ اپس دیکھیں گے جو صحت، زراعت، تعلیم اور مینوفیکچرنگ میں کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں عملی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے پاس کبھی بھی کافی اساتذہ، ڈاکٹرز یا جج نہیں ہوں گے، لیکن اگر اے آئی پیداواریت کو بڑھا سکتی ہے تو سروس کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ مؤثر چیزیں منتخب کریں، انہیں ذمہ داری سے بڑھائیں، رازداری کا تحفظ کریں، اور یہ یقینی بنائیں کہ عوامی اخراجات سے نتائج برآمد ہوں۔’’ انہوں نے آخر میں شرکاء سے درخواست کی کہ وہ ایکسپو میں موجود 600+ اسٹارٹ اپس اور کمپنیوں کا دورہ کریں اور ان شعبوں کا مشاہدہ کریں جہاں اے آئی استعمال ہو رہی ہے۔
اس سیشن میں اقبال سنگھ دھالیوال، عالمی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جے-پی اے ایل، اور مائیکل کریمر، یونیورسٹی پروفیسر برائے اکنامکس، یونیورسٹی آف شکاگو سمیت دیگر پالیسی سازوں اور شعبہ کے لیڈروں نے شرکت کی۔
اقبال سنگھ دھالیوال، عالمی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جے- پی اے ایل نے سخت جانچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ‘‘اگر آپ نے ترقیاتی شعبے میں کافی وقت گزارا ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے ‘سلور بلیٹس’ آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ ایک ٹیکنالوجی تھیوری یا لیب میں بہت پرامید لگ سکتی ہے، لیکن جب یہ میدان کی حقیقی صورتحال سے ٹکراتی ہے تو ناکام ہو سکتی ہے۔ اسی لیے شواہد اتنے اہم ہیں۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ اے آئی کام کرتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی کہ یہ کس کے لیے کام کرتی ہے، کس سیاق و سباق میں، اور کس نتائج کے ساتھ۔ بغیر سخت جانچ کے، ہم جوش و خروش کو اثر سمجھنے کی غلطی کر سکتے ہیں۔ اے آئی میں بہت بڑا امکان موجود ہے، لیکن صرف تبھی جب اسے میدان میں آزمایا جائے اور ذمہ داری سے بڑھایا جائے، اور اس کے مرکز و محورمیں لوگ اور نتائج ہوں۔’’
مائیکل کریمر، یونیورسٹی پروفیسر برائے اکنامکس، یونیورسٹی آف شکاگو، جے-پی اے ایل نے مزید کہا کہ ‘‘ہم ٹریفک نفاذ، خودکار ڈرائیور لائسنس ٹیسٹنگ، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں اثر کے ابتدائی شواہد دیکھ رہے ہیں، بشمول ذاتی نوعیت کی موافقت یافتہ تعلیم جس نے صرف ایک گھنٹے فی ہفتہ کے مطالعے سے طلباء کی سیکھنے کی رفتار دوگنی کر دی۔ لیکن صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں ہے۔ سرکاری خدمات کو بہتر بنانا ہمیشہ ایک ایسا بازار نہیں جس میں مضبوط نجی مراعات ہوں، اس لیے فلانتھروپی اور حکومت کا کردار اہم ہے۔ عوامی نظام میں اپنانا مشکل ہے، اور خریدار بھی اہمیت رکھتی ہے۔ جانچ انتہائی اہم ہے تاکہ ریاستیں ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔ اے آئی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کا ادراک کرنے کے لیے شواہد، نظام سطح کی تبدیلی، اور محتاط نفاذ ضروری ہے۔’’
یہ سیشن سمٹ کے وسیع ایجنڈے کا ایک اہم حصہ تھا، جس میں پالیسی سازوں، محققین اور صنعت کے قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا تاکہ اے آئی کی صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر قابل عمل عوامی اطلاقات میں تبدیل کرنے پر غور کیا جا سکے۔ بحث میں منظم نفاذ اور شعبہ جات کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ اے آئی کے زیر اثر خدمات کی فراہمی کو فروغ دیا جا سکے۔
*******
(ش ح –ع و۔ خ م )
U. No.2582
(ریلیز آئی ڈی: 2229151)
وزیٹر کاؤنٹر : 10