وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

 مرکزی بجٹ 2026-27: بایو فارما شکتی(فروغ علم، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعہ حکمت عملی برائے صحت کی دیکھ بھال)  سے متعلق تجاویز


موجودہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز (اے ایچ پی ایس) اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور آئندہ 5  برسوں  میں 100,000 نئے اے ایچ پی ایس کا اضافہ کیا جائے گا

جیریاٹرک اور اس سے منسلک دیکھ بھال کی خدمات کے لیے کیئر ایکو سسٹم بنایا جائے گا، آنے والے سالوں میں 1.5 لاکھ دیکھ بھال کرنے والوں کو تربیت دی جائے گی

تجویز کردہ پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ شراکت داری میں پانچ علاقائی طبی مراکزکے قیام میں ریاستوں کو سپورٹ کرنے کی اسکیم

آیوروید کے 3 نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ قائم کیے جائیں گے

آیوش فارمیسیز اور ڈرگ ٹسٹنگ لیبز کو اپ گریڈ کیا جائے گا

جام نگر میں عالمی روایتی ادویاتی مرکز کو اپ گریڈ کیا جائے گا

رانچی اور تیز پور میں قومی ذہنی صحت کے اداروں کو علاقائی اعلیٰ اداروں کے طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا

ضلع ہسپتالوں کی ہنگامی صلاحیت کو 50 فیصد تک بڑھانے کے لیے ایمرجنسی اور ٹراما کیئر سینٹرز قائم کیے جائیں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 FEB 2026 1:03PM by PIB Delhi

مالیات اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ  2026-27  تجاویز پیش کیں۔ اپنی تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت 3 کرتویوں سے متاثر ہے: (1) اقتصادی ترقی کو تیز اور برقرار رکھنے کے لیے؛ (2) امنگوں کو پورا کرنا اور آبادی کی صلاحیت کو بڑھانا؛ (3) اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ہر خاندان، برادری، علاقہ اور شعبہ کو وسائل تک رسائی حاصل ہو۔ مرکزی بجٹ میں صحت  سے متعلق  یہ تینوں کرتویہ ایک اہم جز کے طور پر ابھری ہے۔

ہندوستان کو ایک عالمی بایو فارما مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر ترقی دینے کے لیے مرکزی بجٹ میں آئندہ 5  برسوں  میں 10,000 کروڑ روپے  کی لاگت کے ساتھ بایو فارما شکتی (فروغ  علم، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعہ صحت کی دیکھ بھال کی ترقی کی حکمت عملی) کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ یہ بایولاجکس اور بایوسیمیلرز کی گھریلو پیداوار کے لیے ایکو سسٹم بنائے گا۔

نوجوانوں کے لیے ہنر مند کریئر کے نئے راستوں کی تشکیل کے لیے وزیر خزانہ نے صحت کے شعبے سمیت متعدد شعبوں میں تجاویز پیش کیں؛ یہ درج ذیل ہیں:

(1) الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز (اے ایچ پی ایس) کے موجودہ اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور نجی اور سرکاری شعبوں میں نئے اے ایچ پی  ادارے قائم کیے جائیں گے۔ یہ 10 منتخب شعبوں کا احاطہ کرے گا،  جس میں  آپٹومیٹری، ریڈیا لوجی، اینستھیزیا،  او ٹی  ٹیکنالوجی، اپلائیڈ سائیکالوجی اور رویہ کی صحت،  جس میں آئندہ 5  برسوں  میں 100,000 اے ایچ پی ایس کا اضافہ ہوگا۔

(2) وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایک مضبوط کیئر ایکو سسٹم بنایا جائے گا جس میں جیریاٹرک اور الائیڈ کیئر سروسز شامل ہوں گی۔ این ایس کیو ایف سے منسلک پروگراموں کی ایک قسم تیار کی جائے گی جو کثیر ہنر مند نگہداشت کرنے والوں کو تربیت دینے کے لیے تیار کیے جائیں گے جن میں بنیادی دیکھ بھال اور متعلقہ مہارتوں کو ملایا جائے گا، جیسے کہ تندرستی، یوگا ، طبی اور معاون آلات کے آپریشن وغیرہ ۔ مزید یہ کہ آنے والے سال میں 1.5 لاکھ دیکھ بھال کرنے والوں کو تربیت دی جائے گی۔

(3) ہندوستان کو طبی سیاحتی خدمات کے مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے مرکزی بجٹ میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت میں پانچ علاقائی طبی مرکزوں کے قیام میں ریاستوں کی مدد کے لیے ایک اسکیم شروع کرنے کی تجویز ہے۔ یہ مراکز صحت کی دیکھ بھال کے مربوط کمپلیکس کے طور پر کام کریں گے جو طبی، تعلیمی اور تحقیقی سہولیات کو یکجا کرتے ہیں۔ ان کے پاس آیوش سینٹرز، میڈیکل ویلیو ٹورازم فیسیلیٹیشن سینٹرز اور تشخیص اور بعد کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے بنیادی ڈھانچہ ہوگا۔ یہ مراکز صحت کے پیشہ ور افراد  جس میں  ڈاکٹروں اور اے ایچ پیز کے لیے ملازمت کے متنوع مواقع فراہم کریں گے۔

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں  کہا کہ قدیم ہندوستانی یوگا، جس کا دنیا کے کئی حصوں میں پہلے ہی احترام  کی نظروں سے دیکھا  جاتا ہے، جب عزت مآب وزیر اعظم اسے اقوام متحدہ میں لے گئے تو اسے بڑے پیمانے پر عالمی سطح پر شناخت  ملی۔ اس کے علاوہ، کووڈ کے بعد آیوروید نے بھی اسی طرح کی عالمی قبولیت اور پہچان حاصل کی۔ اس بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے چند مزید اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے تجویز پیش کی کہ (i) آیوروید کے 3 نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ قائم کیاجا ئیں گے (ii) سرٹیفیکیشن ایکو سسٹم کے اعلیٰ معیار کے لیے آیوش فارمیسیوں اور ڈرگ ٹسٹنگ لیبز کو اپ گریڈ  کیا جائے گا اور زیادہ ہنر مند افراد دستیاب کرائے جائیں گے (iii) روایتی ادویات کے لیے ثبوت پر مبنی تحقیق، تربیت اور بیداری کو تقویت دینے کیلئے جام نگر میں ڈبلیو ایچ او کے عالمی روایتی میڈیسن سینٹر کو اپ گریڈ کرنا شامل ہیں ۔

وزیر خزانہ نے شمالی ہندوستان میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے قومی اداروں کی کمی کا بھی  ذکر کیا۔ لہذا، مرکزی بجٹ میں این آئی ایم ایچ اے این ایس - 2 کے قیام اور رانچی اور تیز پور میں قومی دماغی صحت کے اداروں کو علاقائی اعلیٰ اداروں کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ایمرجنسی اور ٹراما کیئر سنٹرز کے قیام سے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی ایمرجنسی کی صلاحیتوں کو مضبوط اور 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

*****

ش ح – ظ  ا

UR-UB 21


(ریلیز آئی ڈی: 2221512) وزیٹر کاؤنٹر : 44