وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان نے ترقی پر مبنی، پوری معیشت کے ماحول کی حکمت عملی اپنائی،اپنے ترقیاتی ماڈل میں موافقت، تخفیفی اقدامات اور طرز عمل کی تبدیلی کوشامل کیا ہے: اقتصادی جائزہ 26-2025


ہندوستان کی موافقت اوراستحکام سے متعلق گھریلو اخراجات مالی سال 16 میں جی ڈی پی کے 3.7 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 22 میں جی ڈی پی کے 5.6 فیصد تک پہنچ گئےہیں

مالی سال26-2025میں تیز رفتار قابل تجدیدتوانائی صلاحیت کے اضافے، گرین ہائیڈروجن اور نیوکلیئر سیکٹر کے تنوع سے صاف توانائی اور اسٹریٹجک منتقلی اقدامات میں تیزی آئی

دسمبر2025 کے آخر تک غیرحیاتیاتی ایندھن کے ذرائع سے قائمہ توانائی کی صلاحیت کا حصہ 51.93 فیصدہوچکاہے

ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اہم معدنیات سے عالمی توانائی کی منتقلی کے عوامل کا تعین ہوتاہے: اقتصادی جائزہ 2025-26

اہم معدنیات پر ہندوستان کی حکمت عملی گھریلو صلاحیتوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے حوالے سے متوازن توجہ کی عکاسی کرتی ہے

میکرو اکانومی کے استحکام سے سمجھوتہ کیے بغیر موسمیاتی مالیاتی سپورٹ میں اضافہ کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط گورننس فریم ورک ضروری ہے

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 1:34PM by PIB Delhi

عالمی موسمیاتی تبدیلی کا ایجنڈہ  ایک اہم موڑ پر پہنچ چکاہے۔جسے کبھی نیٹ زیرو کے ہدف والے مستقبل کی طرف سیدھی اور آسان اخلاقی و تکنیکی منتقلی کے طور پر دیکھا جاتا تھا، آج وہ پیچیدہ مفادات کے تصادم، محدودصلاحیت اورتوقعات و عملی حقیقت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے نمایاں ہوچکا ہے، یہ بات  آج پارلیمنٹ میں وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتارمن  کے ذریعہ پیش کیے گئے اقتصادی جائزے2025-26 کے بیان میں کہی گئی ہے۔

اقتصادی جائزے سے یہ اجاگر ہوتا ہے کہ پیچیدہ نظاموں کو بفرز، تخفیفی تدابیر اور ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر جلد بازی میں متعارف کرانے سے، نظام کے پھلنے پھولنے کے بجائے کمزور ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ ماحولیاتی پالیسی میں انسانی بہبود کو ، خاص طور پر غریب اور ماحولیاتی خطرے سے دوچار معاشروں کے لیے ترجیح دینی چاہیے، سروے میں کہا گیا ہے کہ ترقی، اپنے آپ میں، موافقت پذیری کی ایک شکل ہے۔ اس لیے اقتصادی جائزہ  ہندوستان کی ماحولیاتی حکمت عملی میں  موافقت کومرکزی درجہ دیتا ہے۔

ہندوستان کے لیے، پائیدار ترقی اور بڑھتے ہوئے معیار زندگی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سستی اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی میں خاطر خواہ توسیع درکار ہوگی۔ قابل تجدید توانائی اس توسیع میں بڑا اور بڑھتا ہوا کردار ادا کرے گی۔ تاہم، جائزے میں کہا گیا ہے کہ صرف صلاحیت میں اضافہ خود بخود قابل اعتماد فراہمی میں میں تبدیل نہیں ہوتا ہے ۔ لہٰذا، ہندوستان کو آنے والی دہائی میں تنہا رہ کر ماحولیاتی پالیسی کے مسئلے کے طور پر نہیں، بلکہ توانائی کے نظام کی وسیع حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

 

موافقت: ماحولیاتی استحکام کی مضبوطی

ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کی موافقت اور استحکام کو ضم کرنا پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اقتصادی جائزے میں کہاگیا ہے کہ ہندوستان کی ماحولیاتی موافقت کی حکمت عملی بنیادی طور پر ترقی پر مرکوز نقطہ نظر سے وضع کی گئی ہے،جس کے لیے بنیادی ترقیاتی شعبوں میں گھریلو عوامی سرمایہ کاری کوبروئے کار لایا  گیا ہے۔ ہندوستان کے موافقت اور استحکام سے متعلق گھریلو اخراجات مالی سال 16 میں جی ڈی پی کے 3.7 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 22 میں جی ڈی پی کے 5.6 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر قومی ایکشن پلان (این اے پی سی سی) نو مشنوں کے ذریعے موسمیاتی اقدامات کا  نفاذ کرتا ہے۔ ان میں سے بہت سارے اقدامات ماحولیاتی موافقت پر مرکوز ہیں۔ جب کہ پائیدار زراعت کا قومی مشن ماحولیات کے لحاظ سے لچکدار کھیتی کو فروغ دیتا ہے، قومی آبی مشن وسائل کے مربوط نظم کے ذریعے تحفظ اور منصفانہ رسائی پر زور دیتا ہے۔ جائزے میں دیگر مشنوں کی بھی مثالیں پیش کی گئی ہیں، اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے کہ وہ کس طرح موافقتی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔

اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ قومی فریم ورک اور پروگرام  کے ذریعہ پالیسی میں ہم آہنگی، مالی مدد، اور ادارہ جاتی میکانزم فراہم ہوتی ہے، درآں حال کی ریاستیں شعبہ جاتی پالیسیوں، عوامی پروگراموں اور مقامی اداروں کے ذریعے ان مداخلتوں کو اپنے حالات کے مطابق اختیار کرتی ہیں اور عملی شکل دیتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی پر ریاستی ایکشن پلان(ایس اے پی سی سی ) این اے پی سی سی کے وسیع مقاصد کو قابل عمل اقدامات میں بدلنے کے اہم ٹولز ہیں۔ سروےمیں یہ اجاگر کیا گیاہے کہ ہندوستانی شہروں کے تیز رفتاری سے ترقی کر نے کے ساتھ، شہری منصوبہ بندی کے تانے بانے میں ماحولیاتی خطرے پر توجہ دیناناگزیر ہوتاجارہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح اثرانداز ہوتی ہے، باشندوں کو زمین کے استعمال اور فراہم کردہ خدمات پر کیسے اثرات پڑتے ہیں،اسے ملحوظ رکھنا ہے۔

 

تخفیفی تدابیر: کم کاربن والی معیشت میں منتقلی

ہندوستان اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنا کر اور رسائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ غیر حیاتیاتی  ایندھن کا حصہ بڑھا کر، توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنا کر، اور اپنے توانائی کے نظام میں استحکام کو فروغ دے کر گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر اپنا رہا ہے۔ اقتصادی جائزے میں یورپی ممالک جیسے نیدرلینڈ، جرمنی، اسپین وغیرہ کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں تا کہ ٹرانزیشن سے منسلک خطرات کو ظاہر کیا جا سکے ،جو بیس لوڈ جنریشن، ٹرانسمیشن اور سسٹم کے استحکام میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہیں۔ ہندوستان کی توانائی کی منتقلی مختلف شعبوں بشمول نیوکلیئر، سولر اور ونڈ انرجی، گرین ہائیڈروجن، بیٹری اسٹوریج اور اہم معدنیات، جو کہ توانائی کی حفاظت اور منتقلی کی ضروریات دونوں کو بیک وقت حل کرنے میں مدد کرتی ہیں، ان کےمجموعے پر منبی ہے۔اقتصادی جائزہ میں ایسے اقدامات کی کچھ حالیہ مثالیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔

ہندوستان نے پہلے ہی غیرحیاتیاتی ایندھن کے ذرائع سے 50 فیصد قائمہ بجلی کی صلاحیت کے ہدف کو عبور کر لیا ہے، جو کہ دسمبر 2025 کے آخر میں 51.93 فیصد درج کی گئی ہے، جس کی مدد سے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں ریکارڈ سالانہ اضافہ ہوا ہے۔ غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت کو بڑھانے میں حاصل ہونے والی پیشرفت کو قابل تجدید توانائی کے نظام کو فروغ دینے کے مختلف اقدامات کی حمایت حاصل ہے۔ مزید برآں، توانائی کے دیگر صاف ذرائع جیسے کہ نیشنل نیوکلیئر مشن، گرین ہائیڈروجن مشن، اور بایو انرجی پروگرام کی حمایت کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ غیرحیاتیاتی ایندھن کی توانائی صلاحیت کو وسیع کرنے میں پیش رفت کے باوجود، مشکلات بدستور موجود ہیں۔ جائزے میں ان توانائی کے ذرائع کے زیادہ سے زیادہ استعمال میں  در پیش دو  رکاوٹوں کے طور پر مواد اور ذخیرہ اندوزی کی ضروریات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 

توانائی کی منتقلی کا تعین کرنے والی اہم معدنیات

اقتصادی جائزے میں بتایا گیاہے کہ توانائی کی عالمی منتقلی اب صرف ٹیکنالوجی کے ذریعے طے نہیں ہوتی ہے،اس کا بڑھتا ہوا انحصار اس بات پر ہے کہ اہم معدنیات پر کسے کنٹرول حاصل ہے۔دھاتیں جیسے لیتھیم، کوبالٹ، نیکل، تانبہ اور نایاب زمینی عناصر کم کاربن والی معیشت کو تشکیل دینے میں نئے اسٹریٹجک چوک پوائنٹس بن گئے ہیں۔ ان معدنیات کی طلب میں تیزی آنے کے ساتھ ترقی یافتہ معیشتیں معیارات پر مبنی اہم معدنی منڈیوں کو فروغ دے کر، پائیداری،سراغ رسانی اور گورننس پر زور دینے کی سمت میں کام کررہی ہیں۔

ہندوستان کی حکمت عملی مناسب ترغیباتی طریقہ کار کے ساتھ،نیشنل کریٹیکل منرل مشن کے ذریعے گھریلو صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرکے توازن کی عکاسی کرتی ہے ،جب کہ مینرل سکیوریٹی پارٹنرشپ اور ہند-بحرالکاہل اقتصادی فریم ورک جیسی بین الاقوامی شراکت داریوں میں مشغولیت برقرار رکھی گئی ہے۔ حکومت ہند نے قابل تجدید توانائی اور ذخیرہ کاری ٹیکنالوجیز کے لیے ضروری معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے اسٹریٹجک پہل کے طور پر نیشنل کریٹیکل منرل مشن کا آغاز کیا ہے۔ دریں اثناء حکومت کی جوائنٹ وینچر،کھنیج بدیش انڈیا لمٹیڈ( کے اے بی آئی ایل) نے آسٹریلیا اور چلی میں شراکت کے ساتھ  ہی ارجنٹائنامیں لیتھیم کی  کان کنی کے لیے 15,703 ہیکٹر اراضی حاصل کی ہے۔

ہندوستان نے دسمبر 2025 میں ہندوستان کے کایاپلٹ کے لیے نیوکلیئر انرجی کے پائیدار استعمال اور ترقی(شانتی)ایکٹ کو اپنایا ہے۔ نئے  فریم ورک میں اہم سرگرمیوں، بشمول پلانٹ آپریشن، بجلی کی پیداوار، آلات کی تیاری اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے میدان میں تحقیق اور اختراعات کے لیے نجی شعبے کی شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

 

کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم: فریم ورک سے نفاذ تک

حکومت نے جون 2023 میں کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم (سی سی ٹی ایس) شروع کی ہے، جو دوہری میکانزم کے ذریعے کام کرتی ہے جس میں لازمی تعمیل اور رضاکارانہ آفسیٹ اپروچ شامل ہیں۔ اس  فریم ورک  میں موجودہ پرفارم، اچیو اینڈ ٹریڈ (پی اے ٹی) اسکیم کے بنیادی ڈھانچے کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے، جس سے اسے آہستہ آہستہ مکمل آپریشنل کمپلائنس کاربن مارکیٹ میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ آفسیٹ میکانزم کے تحت، غیر پابند ادارے رضاکارانہ طور پر ایسے منصوبوں کا رجسٹریشن کر سکتے ہیں جو سی سی سی کا ہدف  حاصل کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کرنے والے ہیں، اسے ہٹانے والے ہیں یا اس سے بچانے والےہیں۔ اس میکانزم سے تعمیل کے فریم ورک سے باہر اداروں سے برآمد ہونے والے تخفیفی  نتائج کو ممکن بنایا جاتا ہے اور ان شعبوں میں ماحولیاتی اقدامات کی ترغیب دی جاتی ہے۔

 

مشن لائف

مشن لائف ای - لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ، وہ پہل ہے  جسے 2021 میں گلاسگو میں منعقدہ سی او پی26 میں متعارف کیا گیا تھا، جو انفرادی اور کمیونٹی کے طرز عمل کی تبدیلی کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں سے مربوط کرتی ہے۔ اقتصادی جائزے میں مشن لائف کو ہندوستان کی قومی سطح پر طے شدہ شراکتوں کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی بیشتر ماحولیاتی اسکیمیں بنیادی طور پر مشن لائف کی اخلاقیات سے منسلکہ ہیں، کیونکہ وہ حکومتی مداخلتوں کو  گھریلو، کمیونٹی اور کاروبار کی سطح پر طرز عمل اور طرز زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ مربوط کرتی ہیں۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی ماحولیاتی حکمت عملی صرف کاربن کے اخراج کے اہداف یا ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے کھپت کے نمونوں، سماجی اصولوں اور روزمرہ کے انتخاب کو نئی شکل دینے کے لیے سوچ سمجھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشن لائف متوازی پہل نہیں ہے بلکہ طرز عمل کی بنیاد ہے جو ملک میں بیشتر ماحولاتی پالیسیوں میں کارفرما ہے۔

 

ماحولیاتی مالیات

ماحولیاتی مالیات کی موجودہ سطح ماحولیاتی عزائم کو پورا کرنے  میں ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے کم ہے۔ اقتصادی جائزے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مسلسل عالمی کوششوں کے باوجود، پائیدار ترقی کے عزائم اور دستیاب مالیات کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے- خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے-  اس کا  تخمینہ 4 کھرب  امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے بین الاقوامی عوامی مالیات کی فراہمی محدود ہے، اور گھریلو عوامل کا غلبہ عالمی ماحولیاتی مالیات پر بدستور جاری ہے، جو کل مالی فراہمی کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ عالمی مالیاتی ڈھانچے میں شامل یہ پیٹرن ترقی یافتہ ممالک کے حق میں مستقل اور واضح تعصب کی عکاسی کرتے ہیں۔

اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کو ماحولیاتی مالیات کے ضمن میں عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے جو کہ شمسی توانائی، ونڈ انرجی اور توانائی کی کارکردگی جیسے بڑےشعبوں میں درپیش ہیں۔ اہم شعبے بشمول موافقت، ایم ایس ایم ای کی فنانسنگ، شہری بنیادی ڈھانچہ، اور مشکل سے چلنے والی صنعتوں کو کم فنڈ ملتا ہے۔ فی الحال، تخفیفی تدابیر کے لیے ہندوستان کی مالیات کا تقریباً 83 فیصد اور موافقت کے اقتدامات کے لیے98 فیصد فنڈ مقامی طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔

 

ہندوستان کے تناظر میں مالیاتی فرق کی بھرپائی

ہندوستان نے گھریلو اور بین الاقوامی دونوں ذرائع سے ماحولیاتی کارروائی کے لئے مالیات کو بڑھانے کے واسطے دو رخی حکمت عملی اپنائی ہے۔

 

ملکی مالیاتی نظام کی تقویت

ایس آئی ڈی بی آئی ، این اے بی اے آر ڈی، آئی آر ای ڈی اے،پاور فائنانس کارپوریشن لمیٹڈ اور رورل الیکٹریفیکیشن کارپوریشن لمیٹڈ جیسے خصوصی ادارے پہلے سے ہی کم کاربن/قابل تجدید توانائی کے شعبے میں کر رہے ہیں،جو کلیدی اقدامات اور اسکیموں کے ذریعے پائیداری کے طریقوں کو اپنانے کو فروغ دے رہے ہیں اور سبز سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ یہ ادارے  لازمی سرمایہ فراہمی کے ذریعے ماحولیاتی منصوبوں کی تیاری کی حمایت کرتے ہیں اور پروجیکٹوں کے مفید بننے  میں معاون ہوتے ہیں،جو کہ ہندوستان کی ترقی کی ترجیحات بشمول ماحولیاتی کارروائی کو باہم جوڑتے ہیں۔

ایس ای بی آئی کے بزنس رسپانسبلٹی اینڈ سسٹنبلٹی رپورٹنگ (بی اآر ایس آر) فریم ورک، گرین بانڈ کی گائیڈ لائن اور پائیداری سے منسلکہ قرض فراہمی پر آئی ایف ایس سی اے کی رہنمائی سے ماحول سے متعلق سرمایہ کاری میں شفافیت کا معیار اور سرمایہ کار کا اعتماد بہتر ہوا ہے۔

 

ڈیپ اینڈ لیکوئیڈ بانڈ مارکیٹس

بانڈ مارکیٹس ماحولیاتی اقدام کے بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت کے لیے بہت اہم ہیں، جس کے لیے خاطر خواہ پیشگی سرمایہ اور توسیعی ادائیگی کے افق کی ضرورت ہوتی ہے۔زیادہ گہرے، زیادہ لیکوئیڈ بانڈ مارکیٹس سے متوقع قیمتوں پر طویل مدتی، مستحکم اور قابل توسیع مالیات فراہم ہو سکتی ہیں۔

ساورین گرین بانڈ(ایس جی بی) کم کاربن والے عوامی انفراسٹرکچر کو فنڈ دینے کے لیے جاری کیے گئے ہیں، جن سے پالیسی کے اشارے اور مارکیٹ بینچ مارک فراہم ہوتے ہیں۔

ایک طرف، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی طرف سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تیار مارکیٹس اہم ہوتی ہیں، جن کے اختیار میں طویل مدتی سرمایہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف، بانڈ مارکیٹس سے مقامی انتظامی اداروں کے لیے اہم پلیٹ فارم مہیا ہوتے ہیں تاکہ ماحولیاتی کاموں، جیسے پانی کی فراہمی، فضلے کے انتظام، اور سبز توانائی کے لیے مقامی کرنسی کی مالیات کو اکٹھا کیا جا سکے، جو علاقے کی مخصوص موافقتی اور استحکام کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ اقتصادی جائزے میں بتایا گیا ہےکہ اندور، غازی آباد، احمد آباد اور وڈودرہ میں شہری مقامی اداروں نے ایس ای بی آئی کے گرین بانڈ فریم ورک کے مطابق گرین بانڈ جاری کیے ہیں۔ میونسپل گرین بانڈ اگلے 5-10 سالوں میں مقامی اداروں کے لیے ماحولیاتی کارروائی پر مبنی 2.5-6.9 بلین  امریکی ڈالرجاری کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت ہند نے سال26 میں15,000 کروڑ  روپےمالیت کے ساورین گرین بانڈجاری کیے ہیں، جس سے مجموعی فنڈ کا اجرا سال23 سے 72,697 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

جائزے میں گرینیئم-قابل موازنہ روایتی بانڈپر گرین بانڈ کا فائدہ - کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،جوکئی فنڈجاری کنندہ اداروں میں دیکھا گیا ہے، لیکن مارکیٹ کے لحاظ سے اس کی شدت اور استقامت نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔ کراس کنٹری تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ گرینیم کے نتائج صرف سرمایہ کاروں کے ارادے پر کم اور مارکیٹ کے ڈیزائن، لیکویڈیٹی، اعتبار، اور رپورٹنگ فریم ورک پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ساورین گرین بانڈکے واضح فریم ورک، مضبوط گھریلو ادارہ جاتی طلب؛ پالیسی سگنلنگ کی مالیت کی بنیاد پر ہندوستان کے گرینیم کو وقفے وقفے سے (0-6 بی پی ایس)کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔

 

بین الاقوامی ماحولیات مالیات اور کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کا کردار

سروے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ عالمی سرمائے کی منڈیوں میں فنڈ کی بھرمار ہے، پھر بھی پائیدار ترقی اور گلوبل ساؤتھ میں ماحولیاتی منصوں کی طرف ان کابہاؤ عالمی مالیات کے ڈھانچے میں پنہاں خطرے سے بچنے کی وجہ سے محدود ہے۔ یہ صورت حال کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں(ایم ڈی بی) کے آپریٹنگ ماڈلز اور ترقی یافتہ ممالک کے پروڈنشل ضوابط میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔یہ ایم ڈی بی کم رسک، سرکاری حمایت یافتہ قرضہ جات اور اے اے اے کی درجہ بندیوں کے تحفظ کو ترجیح دینا جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سےبیلنس شیٹ کی ری سائیکلنگ اور نجی سرمائے کو متحرک کرنا محدود ہوتا ہے۔ بیلنس شیٹ آپٹیمائزیشن کی طرف تبدیلی - ’’آرجینیٹ ٹو ہولڈ‘‘سے ’’آرجینیٹ ٹو شیئر‘‘ کی طرف – ایم ڈی بی کو عالمی رسک منیجر کے طور پر تبدیل کرنے، نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی گارنٹی، انشورنس اور ملاوٹ شدہ فنانس کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

****

 (ش ح –م ش ع۔اش ق)

UR-ES- 34


(रिलीज़ आईडी: 2220176) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Malayalam