وزارت خزانہ
پیداواریت میں بہتری، پالیسی اور ادارہ جاتی کوششوں کے ذریعہ کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے کا ہدف حاصل کیا جائے گا: اقتصادی جائزہ
دالوںمیں آتم نربھر بننے کے مشن کے ذریعہ آتم نربھرتا کا ہدف حاصل کیا جائے گا: اقتصادی جائزہ
سال 2023-24 میں گھریلو خوردنی تیل کی دستیابی بڑھ کر 121.75 لاکھ ٹن کے بقدر تک پہنچ گئی؛ سال 2015-16 میں درآمد شدہ خوردنی تیل پر انحصار 63.2 فیصد سے گھٹ کر سال 2023-24 میں 56.25 فیصد کے بقدر رہ گیا
پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا 100 توقعاتی زرعی اضلاع پر احاطہ کرے گی
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا: 4.19 کروڑ کاشتکاروں پر بیمہ کے تحت احاطہ کیا گیا، مالی برس 2025 میں مالی برس 2023 کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ رونما ہوا
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 2:02PM by PIB Delhi
خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ آج پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزے 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ کاشتکاروں کی آمدنی کو بڑھا کر دوگنا کرنے کے مقصد سے ، حکومت کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور پیداواریت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
ان پٹ ، تکنالوجی، آمدنی سپورٹ، منڈی سے متعلق اور بیمہ سپورٹ کے ذریعے کئی مداخلتیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی ترجیحات کو مشن موڈ نقطہ نظر کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
چاول، گندم، دالوں، موٹے اناج (مکئی اور جو)، تجارتی فصلوں (کپاس، جوٹ اور گنا) اور غذائی اجناس(شری اَن) کی پیداواری صلاحیت اور پیداوار کو بڑھانے کے لیے 2007 سے قومی خوراک سلامتی مشن(این ایف ایس ایم) کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ مالی سال 25 میں، اسکیم کا نام بدل کر قومی خوراک سلامتی اور تغذیائی مشن(این ایف ایس این ایم) رکھ دیا گیا۔
تلہن کی پیداوار میں خود کفالت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے خوردنی تیلوں – تلہنوں سے متعلق قومی مشن (این ایم ای او- او ایس) اور خوردنی تیلوں – آئل پام سے متعلق قومی مشن (این ایم ای او- او پی) بھی نافذ کیے جا رہے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ پیداواریت میں اضافہ کرکے، بیجوں کی اقسام کو بہتر بنا کر، زراعت سے متعلق اچھے طور طریقے اپناکر، نجی شعبے کی شراکت داری ، کلسٹر پر مبنی کوششوں اور یقینی خریداری کے ذریعہ پیداوار کو 2030-31 تک بڑھ کا رتقریباً 70 ملین ٹن کے بقدر تک پہنچانا ہے۔
پیداواریت میں اضافہ کرکے دالوں میں درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے، ’دالوں میں آتم نربھرتا کے لیے مشن‘ اسکیم کو یکم اکتوبر 2025 کو منظوری دی گئی، جس کا مقصد دالوں میں آتم نربھر بننا ہے۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں تلہن اور پام آئل کی کاشت اور پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ سال 2014-15 اور 2024-25 کے دوران، تلہنوں کی کاشت کے رقبے میں 18 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، پروڈکشن میں تقریباً 55 فیصد اور پیداواریت میں تقریباً 31 فیصد اضافہ رونما ہوا۔
گھریلو خوردنی تیل کی دستیابی 2015-16 میں 86.30 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2023-24 میں 121.75 لاکھ ٹن ہوگئی ہے۔ اس سے درآمد شدہ خوردنی تیل کا حصہ کم ہو گیا ہے، جو کہ گھریلو طلب اور کھپت میں اضافے کے باوجود 2015-16 میں 63.2 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 56.25 فیصد ہو گیا ہے۔
پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا: سب کے لیے خوشحالی کی تصوریت کے ساتھ، حکومت ہند نے 2025 کے لیے اپنے مرکزی بجٹ میں ’’پی ایم دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم – ڈی ڈی کے وائی) ‘‘کے تحت 100 توقعاتی زرعی اضلاع کی ترقی اعلان کیا۔ 100 توقعاتی اضلاع پر احاطہ کرنے کے لیے پی ایم ایم ڈی کے وائی کو چھ برسوں کے لیے جولائی 2025 میں منظوری دی گئی اور اس کا آغاز مالی برس 2026 سے ہوگا۔
اس اسکیم کا مقصد زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا، فصلوں کے تنوع کو اپنانا اور پائیدار زرعی طریقوں کو بڑھانا، پنچایت اور بلاک کی سطح پر فصل کے بعد ذخیرہ اندوزی کو بڑھانا، آبپاشی کی سہولیات کو بہتر بنانا، اور طویل مدتی اور مختصر مدت کے قرض کی دستیابی کو آسان بنانا ہے۔
فصل بیمہ حمایت: پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کاشتکاروں کو فصل کے پورے سیزن میں قدرتی آفات، کیڑوں، بیماریوں اور موسم کی خراب صورتحال کے نتیجے میں فصل کے نقصانات کے خلاف ضروری تحفظ فراہم کرتی ہے۔سال 2024-25 میں، اسکیم کے تحت 4.19 کروڑ کاشتکاروں کا بیمہ کیا گیا، جس سے 2022-23 کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے، اس دوران 6.2 کروڑ ہیکٹر رقبے پر احاطہ کیا گیا، جو کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 20 فیصد زائد ہے۔
جائزے یہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ کہ زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیاں موجودہ قیمتوں پر ہندوستان کی قومی آمدنی کا تقریباً پانچویں حصے کے بقدر تعاون فراہم کرتی ہیں۔ زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں میں روزگار کے نسبتاً بڑے حصے کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ شعبہ بھارت کی مجموعی ترقی کی رفتار میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے زرعی کارکردگی کو مضبوط بنانا جامع ترقی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
UR-ES-32
(रिलीज़ आईडी: 2220164)
आगंतुक पटल : 5