جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی جل شکتی وزیر سی آر پاٹل نے سوچھ بھارت مشن-گرامین کے تحت فیکل سلج مینجمنٹ کے اختراعی ماڈل پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ بات چیت کی


جل شکتی کے وزیر سی آر پاٹل نے ایس بی ایم (جی) کے تحت کمیونٹی کی زیر قیادت ایف ایس ایم کے اقدامات کی  ستائش کی، قابل توسیع اور پائیدار دیہی صفائی کے حل  پر زور دیا

प्रविष्टि तिथि: 07 JAN 2026 11:16AM by PIB Delhi

01.jpg

جل شکتی کی وزارت کی طرف سے 6 جنوری 2026 کو ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مختلف اضلاع کے ساتھ ورچوئل بات چیت کا اہتمام کیاگیا جس میں ملک  بھرمیں سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے تحت لاگو کیے جانے والے فیکل سلج مینجمنٹ (ایف ایس ایم) کے مختلف ماڈل پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

اس میٹنگ کی صدارت جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل نے کی۔ جل شکتی کے وزیر مملکت جناب وی سومنا، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے کے سکریٹری جناب اشوک کے مینا اور ایس بی ایم(جی) کی جوائنٹ سکریٹری اور مشن کی ڈائریکٹرمحترمہ ایشوریہ سنگھ نے بات چیت میں حصہ لیا۔ ضلع کلکٹرس، ضلع پنچایتوں کے سی ای او، ایس ایچ جی کے ممبران، پنچایت ممبران کے ساتھ ریاستی مشن ڈائرکٹرس اور ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نوڈل محکموں کے سینئر افسران نے  ورچوئل  طور پر بات چیت میں شرکت کی۔

بات چیت کا مقصد ملک کے مختلف حصوں سے کامیاب اور قابل توسیع ایف ایس ایم کے  ماڈل کا اشتراک کرنا،ایف ایس ایم کے مختلف پہلوؤں پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقہ اور اضلاع کے درمیان کراس لرننگ کو مضبوط بنانا اور بیت الخلا کی تعمیر سے آگے محفوظ صفائی کے نظام کی اہمیت کو تقویت دینا، پوری صفائی  ستھرائی کی ویلیوچین پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔

گجرات، سکم، مدھیہ پردیش، کرناٹک، اڈیشہ، لداخ اور تریپورہ کے نمائندوں نے اپنے میدانی تجربات کا اشتراک کیا اور اپنے متعلقہ ماڈل پیش کیے جس میں ان سیٹو ٹریٹمنٹ ماڈل، کمیونٹی سلوشن،ایس ایچ جی اور پنچایتوں کے ساتھ موثراو اینڈ ایم کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی مداخلتوں کا احاطہ کیا گیا تاکہ فیکل سلج کی پائیداری، ایف ایس ایم کے دیہی- شہری لنک کو یقینی بنایا جا سکے۔ فلٹر شدہ فیکل سلج اور گندے پانی کو محفوظ طریقے سے جمع کرنے، نقل و حمل، ٹریٹمنٹ اور دوبارہ استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بہت سے ماڈل  میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے علاوہ کمیونٹی کی سطح پر روزگار پیدا کرنے کے مواقع  کابھی  التزام کیا گیا ہے۔

بات چیت کے دوران ریاستوں نے ملک بھر سے اختراعی اور قابل توسیع ایف ایس ایم ماڈل کی ایک رینج پیش کی۔اس سلسلے میں قابل ذکر مثال اڈیشہ کے ضلع خوردھا سے سامنے آئی ہے، جہاں ٹرانسجینڈرکے زیرقیادت سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی)اپنے ایف ایس ٹی پی کے آپریشن اور دیکھ ریکھ  کرتا ہے۔ اس  اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح صفائی ستھرائی کی خدمات کی فراہمی جامع اور پائیدار دونوں ہو سکتی ہے، جبکہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے افراد کے لیے باوقار ذریعہ معاش کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ماڈل ضروری خدمات تک مساوی رسائی کوفروغ دینے، سماجی شمولیت کو بہتر کرنے اور پسماندہ طبقات کو معاشی بااختیار بنانے میں کمیونٹی کی قیادت والے اداروں کی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔

image0037V2A.pngimage002K1II.png

دیگر ایف ایس ایم ماڈل میں درج ذیل  شامل ہیں: گجرات میں ضلع ڈانگ کے دور افتادہ قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جڑواں گڑھوں والے بیت الخلاء کو اختیار کرنا؛ سکم کے ضلع منگن میں سنگل پٹ سے جڑواں گڑھوں والے بیت الخلاء کو دوبارہ بنانے کے لیے توجہ مرکوز کی گئی کوششوں سے دور افتادہ، پہاڑی علاقوں میں ایف ایس ایم کی تعمیل کو یقینی بنایاگیا؛ مدھیہ پردیش میں ضلع اندور کے کلیبیلود گرام پنچایت میں ہندوستان کا پہلا دیہی ایف ایس ٹی پی، جہاں مالی وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے ایم آر ایف کے ساتھ فلٹر شدہ فضلات میں پسیکلچر کا ایک جدید تجربہ کیا جا رہا ہے۔ کرناٹک کے دکشن کنڑ ضلع کا آپریشن اور دیکھ بھال میں ایس ایچ جی کی مضبوط شمولیت کے ساتھ کلسٹر پر مبنی ایف ایس ٹی پی ماڈل ؛ لداخ کے لیہہ ضلع کے انتہائی سرد، خشک اور بالائی علاقے والے حالات میں ایکوسن بیت الخلا بنائے جا رہے ہیں اور تریپورہ کے گومتی ضلع میں عوامی تقریبات، کمیونٹی اجتماعات اور میلوں کے لیے موبائل بائیو ٹوائلٹس کی تعیناتی جس کا نظم خود کفیل، مقامی  ایس ایچ جی کی زیر قیادت آپریشن اور دیکھ بھال کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

بات چیت میں ان کمیونٹیوں کے ممبران بھی شامل تھے جو ان ماڈلوں کو براہ راست نافذ کر رہے ہیں اور جنہوں نے جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل سے اپنے تجربات پر بات کی۔ شرکاء کی مقامی زبانوں میں بات چیت کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی، جس سے تجربات کے بلا تعطل اشتراک کے نتائج کے تبادلے میں آسانی ہوئی۔

جل شکتی کے عزت مآب وزیر جناب سی آر پاٹل نے ان اختراعی ماڈل کی نمائش کے لیے شرکا کی ستائش کی جو نہ صرف سوچھ بھارت میں کردار ادا کرتے ہیں بلکہ آمدنی اور روزی روٹی کے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان میں سے بہت سے اقدامات کو مشکل جغرافیائی علاقوں میں نافذ کیا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشکل حالات سے دیرپا حل کی ترغیب ملتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ  ایف ایس ایم دیہی علاقوں میں پائیدار صفائی ستھرائی کا ایک اہم جزو ہے اور مکمل صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے علاوہ صحت عامہ اور صاف ماحول دونوں کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف ایس ایم حل کو قابل عمل، جامع اور دیرپا بنانے کے لیے کمیونٹی کی شرکت، ایس ایچ جی ، پنچایتوں اور مختلف اسٹیک ہولڈر کی شمولیت اور منظرنامے کے مطابق، ضرورت پر مبنی اور مناسب ٹیکنالوجی کو اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں، سوچھتا کی ملک گیر تحریک نے بے مثال رفتار حاصل کی ہے، جس سے گاندھی جی کے صفائی ستھرائی اور بڑے پیمانے پر شرکت کے حقیقی پیغام کو ملک کے کونے کونے تک پہنچایا گیاہے۔

وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے(ایس بی ایم) گرامین کے تحت ایف ایس ایم کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے ذریعے تکنیکی مدد، صلاحیت سازی اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تیار کردہ اختراعی، کمیونٹی کی زیر قیادت اور جامع ماڈل کے فروغ کے ذریعے کام کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

*****

 (ش ح –م ش ع،اش ق)

U. No. 228


(रिलीज़ आईडी: 2212048) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Kannada