امور داخلہ کی وزارت
داخلی اموراورامداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے سوتنتر ویر ساورکر کی لکھی ہوئی نظم ‘ساگر اپران تَل مَلّا’ کے 115 سال مکمل ہونے پر سری وجے پورم میں منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام سے خطاب کیا
ویر ساورکر جی کے مجسمے کی نقاب کشائی ان کے نظریہ کو آگے بڑھانے والی تنظیم آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت جی کے ذریعے کیاجانا حسن اتفاق ہے
ویر ساورکر جی نے ثقافتی قوم پرستی کی جو بنیاد رکھی تھی ، یہ وہی راستہ ہے جس پر آج ملک وزیر اعظم مودی جی کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے
ویر ساورکر جی کی ‘ساگرا پران تَل مَلّا’ حب الوطنی کے اظہار کا عروج ہے
ویر ساورکر جی کا یہ مجسمہ نوجوانوں میں مادر وطن کے تئیں فرض شناسی ، قومی اتحاد اور خوشحال ملک بنانے کے عزم کو مضبوط کرے گا
ویر ساورکر جی کا یہ یقین کہ خوف کو پوری طرح جانتے ہوئے بھی اس پر قابو پانے کا حوصلہ رکھنا چاہیے، ہر ایک کے لیے باعثِ تحریک ہے
ویر ساورکر جی کی ہمہ جہت اور لا متناہی شخصیت کو کسی بھی کتاب ، نظم یا فلم میں قید کرنا مشکل ہے
فطری محب وطن ، سماجی مصلح ، مصنف اور مجاہد جیسی خصوصیات سے مالا مال ویر ساورکر جیسی شخصیت صدیوں میں صرف ایک بار پیدا ہوتی ہے
ساورکر جی کی زندگی جدیدیت اور روایت کا ایک غیر معمولی امتزاج تھی ، جس کی جڑیں ہندوتو میں پختہ عقیدے پر مبنی تھیں
ساورکر جی نے سماج کی تمام برائیوں کے خلاف سخت جدوجہد کی
ساورکر جی جیسی شخصیات، جن میں مادرِ وطن کی خدمت کے لئے خود کو قربان کرنے کا جذبہ ہو، واقعی نایاب ہوتی ہیں
دو مرتبہ عمر قید کی سزا پانے کے باوجود، مادرِ وطن کی عظمت کیلئےادب تخلیق کرنے والے ساورکر جی جیسا عظیم محبِ وطن کوئی اور نہیں ہو سکتا
انڈمان-نکوبار جزائر تپسیا کی سرزمین ہیں ، جو بے شمار مجاہدین آزادی کی محنت ، قربانی ، لگن اور غیر متزلزل حب الوطنی کے ذریعے تعمیر کئے گئے ہیں
انڈمان-نکوبار جزائر کا نام ‘شہید’ اور ‘سوراج’ رکھ کر وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے سبھاش چندر بوس کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے
ویر ساورکر جی کا ایک خوشحال بھارت کا تصور اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہوگا ،جب ملک کے نوجوان اپنے ہی علاقے میں بھارت کو محفوظ اور خوشحال بنانے کے مقصد کے ساتھ آگے بڑھیں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 DEC 2025 8:40PM by PIB Delhi
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج سوتنترویر ساورکر کی لکھی ہوئی نظم ‘ساگر اپران تَل ملّا’ کے 115 سال مکمل ہونے پر سری وجے پورم میں منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک جناب موہن بھاگوت اور انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ایڈمرل (ریٹائرڈ) جناب ڈی کے جوشی سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

اس موقع پر داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ انڈمان اور نکوبار جزائر آج تمام ہندوستانیوں کے لیے ایک تیرتھ استھان بن چکے ہیں، کیونکہ ویر ساورکر نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل دور یہیں گزارا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ہماری جدوجہد آزادی کے ایک اور عظیم مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس کی یاد سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب آزاد ہند فوج نے ہندوستان کو آزاد کرنے کی کوشش کی تو سب سے پہلے جس جگہ کو آزاد کیا وہ انڈمان اور نکوبار جزائر تھے ، جہاں سبھاش بابو دو دن تک مقیم بھی رہے تھے ۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ سبھاش چندر بوس ہی تھے، جنہوں نے جزائر کے اس گروپ کا نام‘شہید’ اور ‘سوراج’ رکھنے کی تجویز دی تھی جسے وزیر اعظم بننے کے بعد جناب نریندر مودی جی نے عملی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ انڈمان اور نکوبار جزائر محض ایک جزیرے کا گروپ نہیں ہیں ، بلکہ ایک مقدس سرزمین ہے جو بے شمار مجاہدین آزادی کی قربانی ، تپسیا ، لگن اور غیر متزلزل حب الوطنی سے تشکیل پائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک اہم موقع ہے ، کیونکہ اس مقدس سرزمین پر ویر ساورکر کے قدآور مجسمے کا افتتاح کیا گیا ہے اور یہ افتتاح ساورکر جی کے نظریے کو صحیح معنوں میں آگے بڑھانے والی تنظیم کے سرسنگھ چالک جناب موہن بھاگوت نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرزمین اور ویر ساورکر کی یاد دونوں ہی مقدس ہیں اور جناب موہن بھاگوت کے ذریعے اس مجسمے کی نقاب کشائی اس موقع کو مزید یادگار بناتی ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج جس مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی ہے ، وہ کئی برسوں تک ویر ساورکر کی قربانی ، عزم اور وطن کے تئیں غیر متزلزل عقیدت کی علامت رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی دہائیوں تک یہ مجسمہ آنے والی نسلوں کو ساورکر جی کی زندگی سے سبق سیکھنے کی ترغیب دٍے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا مقام بنے گا جہاں ساورکر جی کے آہوان کو ہمارے نوجوان اپنانے کے لیے محسوس کر سکیں گے۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ نوجوانوں کو ساورکر جی کا ہمت کا پیغام ، مادر وطن کے تئیں ان کے فرض کا احساس ، ان کے عزم کی خصوصیات اور قومی اتحاد ، سلامتی اور ایک خوشحال قوم کے ان کے وژن کو فراہم کرنے کے لیے ایک اہم مقام بن جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر جی کی ‘ساگر اپران تل ملّا’ حب الوطنی کے اظہار کی انتہاہے۔انہوں نے کہا کہ ساورکر جی کا ایک جملہ ان کے چاہنےوالوں کے لیے بہت اہم ہے کہ ‘شجاعت خوف کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف پر حاصل کی گئی فتح ہے،جو لوگ خوف کو نہیں جانتے، وہ ہمیشہ بہادر لگتے ہیں ، لیکن سچے بہادر وہ ہوتے ہیں، جو خوف کو جانتے ہیں اور اس پر قابو پانے کی ہمت رکھتے ہیں اور ویر ساورکر جی نے اس سچائی کو اپنی زندگی میں شامل کیا ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج یہاں ایک کافی ٹیبل بک کا بھی اجرا کیا گیا اور ساورکر جی کی تمام خوبیوں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ساورکر جی کے خیالات کو آگے بڑھانے والے بہت سے لوگوں کو بھی یہاں اعزاز سے نوازا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سمندر کو کوئی روک نہیں سکتا ، اسی طرح ساورکر جی کی خوبیوں ، ان کی زندگی کے عروج اور ان کی کثیر جہتی شخصیت کو کسی کتاب ، فلم یا نظم میں قید کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سطحوں پر کی گئی متعدد کوششوں نے آنے والی نسلوں کو ساورکر جی کو سمجھنے کا ایک بہت اہم ذریعہ فراہم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا وجود صرف جسم سے نہیں بنتا، بلکہ وہ نظریہ جس کی وہ پیروی کرتا ہے، وہ ثقافت جسے اس کی روح اعلیٰ سمجھتی ہے اور اس کے عمل و کردار سے بھی بنتا ہےاور صرف ہندوستان ہی ویر ساورکر جی کی ان تین خوبیوں کو صحیح معنوں میں پہچان سکتا ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ملک کے لیے قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن ملک کے لیے جینے کی ضرورت آج بھی ہے اور تبھی ہم ساورکر جی کے وژن والے ہندوستان کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے نوجوان ساورکر جی کے تصور کردہ ہندوستان کی تخلیق کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے کام کے شعبے میں ساورکر جی کی حوصلہ افزا تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی اور مقصد محفوظ اور سب سے خوشحال بھارت کی تعمیر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ساورکر جی کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایسا شخص آنے والی صدیوں تک زمین پر دوبارہ نہیں آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر جی ایک مصنف ، مجاہد ، ایک فطری محب وطن ، ایک عظیم سماجی مصلح اور بڑے شاعر و ادیب بھی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر جی نثر اور شاعری دونوں میں ماہر تھے ، اور ایسے ادیب بہت کم ہوتے ہیں ۔ جناب شاہ نے کہا کہ تقریباً 600 سے زیادہ ایسے الفاظ ہیں جو ویر ساورکر جی نے ہماری زبانوں کو مکمل کرنے کے لیے ہمارے الفاظ کے ذخیرے میں شامل کیے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ویر ساورکر جی کی زندگی ہندوتوکے تئیں پختہ عقیدت کی تھی ، جو جدید بھی تھی اور روایتوں کو ساتھ لے کر ان کا احسن طریقے سے ادراک کرنے والی بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر جی نے چھواچھوت کے خاتمے کے جو خدمات انجام دی ہیں، اس کے لیے اس ملک نے کبھی ساورکر جی کا مناسب احترام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر جی نے اس وقت ہندو معاشرے میں رائج تمام سماجی برائیوں کے خلاف جنگ لڑی اور معاشرے کی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے بھی آگے بڑھتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر دو زندگیوں کو بھی ملا دیا جائے تو ساورکر جی سے سے بڑا محب وطن کوئی نہیں ہو سکتا ، جنہوں نے مادر وطن کی شان بڑھانے کے لئے ادب تخلیق کیا ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ثقافتی قوم پرستی کا تصور، جس کی بنیاد پر آج وزیرِ اعظم مودی جی کی قیادت میں حکومت کام کر رہی ہے، ویر ساورکر جی نے ہی رکھی اور اس کی وضاحت کی۔انہوں نے کہا کہ ایسی اجتماعی شناخت جو برصغیر کے ثقافتی اقدار، روایات اور تاریخ سے ابھرتی ہے، اسے کئی لوگوں نے آگے بڑھانے کا کام کیا، اور ان میں سب سے زیادہ پرجوش پیروکار ویر ساورکر تھے۔جناب شاہ نے کہا کہ انگریزوں نے تعلیم کے ذریعے ہمارے ملک پر ہمیشہ کے لیے غلامی کا بوجھ اور ذہنیت تھوپنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے 1857 کی آزادی کی جدوجہد کو انگریزوں نے بغاوت کا نام دیا تھا۔ ویر ساورکر واحد ایسے شخص تھے جنہوں نے 1857 کی جنگ آزادی کو بغاوت کے بجائے آزادی کی جدوجہد کا نام دے کر ملک کی حقیقی روح کو آگے بڑھایا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج ہم آزاد ہیں اور ایک طویل سفر کے بعد ملک اس مقام پر پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں حکومت پچھلے تقریبا 12 برسوں سے کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک نے آزادی کے 75 سال مکمل کیے تو وزیر اعظم مودی نے پانچ عہد (پنچ پرن) کیے اور ان میں سے ایک غلامی کے دور کی تمام یادوں کو ختم کرنا ہے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست 2047 تک ہم سب کو مل کر ایک ایسے عظیم ہندوستان کی تعمیر کرنی چاہیے جو ہر شعبے میں دنیا میں پہلے نمبر پر رہے اور وزیر اعظم مودی کی یہ اپیل آج 140 کروڑ لوگوں کا عزم بن گئی ہے ۔ جناب شاہ نے کہا کہ جب 140 کروڑ لوگ ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو ہم 140 کروڑ قدم آگے بڑھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہی طاقت ایک عظیم ہندوستان بنائے گی اور ہندوستان محفوظ ، خوشحال ، مہذب اور تعلیم یافتہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر جی کو‘‘ویر’’ کا خطاب کسی حکومت نے نہیں دیا تھا ، بلکہ یہ عظیم اعزاز ملک کے ہر فرد نے دیا تھا۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.150
(ریلیز آئی ڈی: 2211588)
وزیٹر کاؤنٹر : 20