وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم نے پرگتی کی 50 ویں میٹنگ کی صدارت کی
پچھلی دہائی میں پرگتی کی قیادت والے ماحولیاتی نظام نے 85 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کو تیز کرنے میں مدد کی ہے: وزیر اعظم
پرگتی کے اگلے مرحلے کے لیے وزیر اعظم کا منتر: آسان بنانے کے لیے اصلاحات ، انجام دینے کے لیے کارکردگی ، اثر میں تبدیلی
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرگتی ضروری ہے
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے زیر التواء منصوبوں کو قومی مفاد میں مکمل کیا گیا ہے
پرگتی کوآپریٹو فیڈرلزم کی مثال ہے اور سائلو پر مبنی فنکشن کو توڑتی ہے: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے ریاستوں کو چیف سکریٹری کی سطح پر خاص طور پر سماجی شعبے کے لیے پرگتی جیسے طریقہ کار کو ادارہ جاتی بنانے کی ترغیب دی
پچاس ویں میٹنگ میں ، وزیر اعظم نے پانچ ریاستوں میں پھیلے ہوئے پانچ اہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا جن کی مجموعی لاگت 40,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے
پی ایم شری اسکولوں کو ریاستی حکومتوں کے دیگر اسکولوں کے لیے معیار بنانے کی کوششیں ہونی چاہئیں: وزیر اعظم
प्रविष्टि तिथि:
31 DEC 2025 8:11PM by PIB Delhi
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج قبل ازیں پروایکٹو گورننس اینڈ ٹائم لی امپلیمنٹیشن پرگتی کے 50ویں اجلاس کی صدارت کی، جو کہ آئی سی ٹی سے تقویت یافتہ، کثیر جہتی پلیٹ فارم ہے۔ یہ موقع وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں تعاون پر مبنی، نتائج پر مرکوز حکمرانی کے ایک عشرے پر محیط سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سنگِ میل اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی پر مبنی قیادت، حقیقی وقت کی نگرانی اور مرکز و ریاست کے مابین مسلسل تعاون نے قومی ترجیحات کو زمینی سطح پر قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا ہے۔
50ویں پرگتی اجلاس کے دوران جائزہ
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے مختلف شعبہ جات سے متعلق پانچ اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیا، جن میں سڑکیں، ریلوے، بجلی، آبی وسائل اور کوئلہ شامل ہیں۔ یہ منصوبے پانچ ریاستوں پر محیط ہیں اور ان کی مجموعی لاگت 40,000 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
پی ایم شری اسکیم کے جائزے کے دوران وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایم شری اسکیم کو ہمہ گیر اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اسکولی تعلیم کے لیے ایک قومی معیار بیچ مارک بننا چاہیے، اور اس کا نفاذ بنیادی ڈھانچے کے بجائے نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے تمام چیف سیکریٹریز سے کہا کہ وہ پی ایم شری اسکیم کی قریبی نگرانی کریں۔ انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ پی ایم شری اسکولوں کو ریاستی حکومت کے دیگر اسکولوں کے لیے نمونہ بنایا جائے۔ وزیراعظم نے یہ بھی تجویز دی کہ حکومت کے سینئر افسران پی ایم شری اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے فیلڈ وزٹس کریں۔
اس خصوصی موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی نے اس سنگِ میل کو گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں حکمرانی کے کلچر میں آنے والی گہری تبدیلی کی علامت قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب فیصلے بروقت ہوں، ہم آہنگی مؤثر ہو اور جوابدہی متعین ہو، تو حکومتی کام کاج کی رفتار خود بخود بڑھ جاتی ہے اور اس کے اثرات براہِ راست شہریوں کی زندگیوں میں نظر آتے ہیں۔
پرگتی کا آغاز
اس نقطۂ نظر کی ابتدا کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے ٹیکنالوجی سے لیس سواگت (SWAGAT) پلیٹ فارم (اسٹیٹ وائیڈ اٹینشن آن گریوینسز بائے ایپلیکیشن آف ٹیکنالوجی) کا آغاز کیا تھا، تاکہ عوامی شکایات کو نظم و ضبط، شفافیت اور وقت مقررہ میں حل کیا جا سکے۔
اسی تجربے کی بنیاد پر، مرکز میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، انہوں نے اسی جذبے کو قومی سطح پر پرگتی کے ذریعے وسعت دی، جس کے تحت بڑے منصوبوں، اہم پروگراموں اور شکایات کے ازالے کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر جائزہ، حل اور فالو اپ کے لیے لایا گیا۔
وسعت اور اثرات
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران پرگتی کے تحت قائم ماحولیاتی نظام نے 85 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں مدد دی ہے اور بڑے پیمانے پر فلاحی پروگراموں کے زمینی نفاذ کو تقویت دی ہے۔
2014 سے اب تک پرگتی کے تحت 377 منصوبوں کا جائزہ لیا گیا ہے، اور ان منصوبوں میں نشاندہی شدہ 3,162 مسائل میں سے 2,958 مسائل، یعنی تقریباً 94 فیصد، حل کیے جا چکے ہیں، جس سے تاخیر، لاگت میں اضافہ اور ہم آہنگی کی ناکامیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، پرگتی کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرگتی ناگزیر ہے۔
طویل عرصے سے زیر التوا منصوبوں کو فعال بنانا
وزیراعظم نے کہا کہ 2014 کے بعد سے حکومت نے ترسیل اور جوابدہی کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے کام کیا ہے، جس کے تحت کاموں کی مستقل پیروی کی جاتی ہے اور انہیں مقررہ وقت اور بجٹ کے اندر مکمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو منصوبے پہلے شروع ہوئے تھے لیکن ادھورے یا نظرانداز ہو گئے تھے، انہیں قومی مفاد میں دوبارہ شروع کر کے مکمل کیا گیا۔
متعدد ایسے منصوبے جو دہائیوں سے تعطل کا شکار تھے، پرگتی پلیٹ فارم پر لائے جانے کے بعد مکمل ہوئے یا فیصلہ کن طور پر آگے بڑھے۔ ان میں آسام کا بوگی بیل ریل-کم-روڈ پل (جس کا تصور 1997 میں پیش کیا گیا)، جموں-اُدھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل رابطہ (جس پر کام 1995 میں شروع ہوا)، نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ (جس کا تصور 1997 میں پیش کیا گیا)، بھلائی اسٹیل پلانٹ کی جدید کاری اور توسیع (2007 میں منظور شدہ)، اور گادروارا اور لارا سپر تھرمل پاور پروجیکٹس (بالترتیب 2008 اور 2009 میں منظور شدہ) شامل ہیں۔ یہ نتائج اعلیٰ سطحی مسلسل نگرانی اور بین الحکومتی ہم آہنگی کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
خانوں (Silos) سے ٹیم انڈیا کی جانب
وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے صرف نیت کی کمی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوتے بلکہ اکثر ہم آہنگی کی کمی اور خانہ بندی پر مبنی کام کے طریقۂ کار کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرگتی نے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر، ایک مشترکہ ہدف کے تحت کام کرنے میں مدد دی ہے۔
انہوں نے پرگتی کو تعاون پر مبنی وفاقیت (Cooperative Federalism) کا ایک مؤثر نمونہ قرار دیا، جہاں مرکز اور ریاستیں ایک ٹیم کے طور پر کام کرتی ہیں، اور وزارتیں و محکمے خانوں سے نکل کر مسائل کے حل پر توجہ دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرگتی کے آغاز سے اب تک حکومتِ ہند کے تقریباً 500 سیکریٹریز اور ریاستوں کے چیف سیکریٹریز نے ان اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے ان کی شرکت، وابستگی اور زمینی سطح کی سمجھ بوجھ پر ان کا شکریہ ادا کیا، جس سے پرگتی محض ایک جائزہ فورم کے بجائے ایک حقیقی مسئلہ حل کرنے والا پلیٹ فارم بن سکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے قومی ترجیحات کے لیے وافر وسائل کو یقینی بنایا ہے، اور مختلف شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ہر وزارت اور ریاست سے کہا کہ منصوبہ بندی سے لے کر عمل درآمد تک کے پورے سلسلے کو مضبوط بنائیں اور ٹینڈرنگ سے لے کر زمینی نفاذ تک کی تاخیر کو کم سے کم کریں۔
اصلاح، کارکردگی، تبدیلی
اس موقع پر وزیراعظم نے آئندہ مرحلے کے لیے واضح توقعات کا اظہار کرتے ہوئے اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی کے اپنے وژن کو پیش کیا اور کہا:
“اصلاح کا مطلب سادہ بنانا، کارکردگی کا مطلب ترسیل، اور تبدیلی کا مطلب اثر ہونا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ اصلاح کا مطلب عمل سے حل کی جانب بڑھنا، طریقۂ کار کو سادہ بنانا، اور نظام کو ایز آف لیونگ اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کے لیے زیادہ دوستانہ بنانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کارکردگی کا مطلب وقت، لاگت اور معیار تینوں پر یکساں توجہ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرگتی کے ذریعے نتائج پر مبنی حکمرانی کو تقویت ملی ہے اور اب اسے مزید گہرائی تک لے جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ شہری بروقت خدمات، تیز تر شکایت ازالے اور بہتر معیارِ زندگی کو کس حد تک محسوس کرتے ہیں۔
پرگتی اور وِکست بھارت @ 2047 کا سفر
وزیراعظم نے کہا کہ وِکست بھارت @ 2047 ایک قومی عزم بھی ہے اور وقت سے جڑا ہوا ہدف بھی، اور پرگتی اس کے حصول کے لیے ایک طاقتور محرک ہے۔ انہوں نے ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خاص طور پر سماجی شعبے کے لیے چیف سیکریٹری کی سطح پر پرگتی جیسے نظام کو ادارہ جاتی شکل دیں۔
پرگتی کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے وزیراعظم نے منصوبے کی پوری زندگی کے ہر مرحلے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔
وزیراعظم نے اختتام پر کہا کہ پرگتی@50 محض ایک سنگِ میل نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ آنے والے برسوں میں پرگتی کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ تیز تر عمل درآمد، اعلیٰ معیار اور شہریوں کے لیے قابلِ پیمائش نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔
کابینہ سیکریٹری کی جانب سے پیشکش
پرگتی کے 50ویں سنگِ میل کے موقع پر کابینہ سیکریٹری نے ایک مختصر پیشکش پیش کی، جس میں پرگتی کی اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا اور بتایا گیا کہ کس طرح اس نے ہندوستان کے نگرانی اور ہم آہنگی کے نظام کو ازسرِ نو تشکیل دیا ہے، بین الوزارتی اور مرکز-ریاست سطح پر فالو تھرو کو مضبوط کیا ہے، اور وقت مقررہ میں کام مکمل کرنے کے کلچر کو فروغ دیا ہے، جس کے نتیجے میں منصوبوں کے تیز تر نفاذ، اسکیموں اور پروگراموں کی آخری سطح تک بہتر ترسیل، اور عوامی شکایات کے معیاری حل کو یقینی بنایا گیا ہے۔
***
UR-5014
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2210317)
आगंतुक पटल : 23