اسکرین پر کرداروں کو ڈھالنا: ایکا لکھانی نے آئی ایف ایف آئی میں فلموں میں کاسٹیوم میجک دکھایا
پونین سیلون سے اوکے جانو تک کاسٹیوم ڈیزائن میں ایک سنیمائی سفر
ایکا نے کاسٹیوم کے ذریعے نندنی، تارا اور راکی کو ڈی کوڈ کر کے سامعین کو مدہوش کر دیا
آئی ایف ایف آئی ووڈ، 26 نومبر، 2025
انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (آئی ایف ایف آئی) میں، ایک انٹرویو سیشن جس کا عنوان تھا ’کاسٹیومز اور کردار کے مراحل: سنیما کے رجحان ساز‘ ایک ماسٹرکلاس میں تبدیل ہو گیا کہ کس طرح ملبوسات صرف کرداروں کو پہنائے نہیں جاتے ہیں بلکہ خاموشی سے ان کی کہانیاں تشکیل دیتے، رہنمائی کرتے اور کبھی کبھار ان کہانیوں کو دوبارہ لکھتے بھی ہیں۔ مشہور ملبوسات ڈیزائنر ایکا لکھیانی مرکزی اسٹیج پر تھیں اور فلم ساز جے پراد دیسائی گفتگو کی رہنمائی کر رہے تھے، جس سے حاضرین کو فلمی دنیا کا ایک نایاب تجربہ ہوا جہاں کپڑا فلم سازی سے ملتا ہے۔
سیشن کے آغاز میں، جے پراد نے کہا، ”کسی کردار کے بولنے سے پہلے، ان کے ملبوسات پہلے ہی بہت کچھ کہہ چکے ہوتے ہیں۔“ اس بات نے ایکا کو ان کے پندرہ سالہ سفر کو بیان کرنے کا موقع ملا، جو ابتدا میں ہائی فیشن رن وے کے خوابوں سے شروع ہوا لیکن آخر کار سنیما کی گہما گہمی، رنگینیوں اور تخلیقی جنون میں سما گیا۔
منی رتنم کا جادو

ایکا نے منی رتنم کی فلم ’راوان‘ کے سیٹ پر اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کیا، جہاں وہ سبیاستی مکھرجی کے ساتھ انٹرن شپ کر رہی تھیں۔ انہوں نے ہنسی میں کہا، ”میں نے سوچا کہ فیشن خوبصورت کپڑے بنانے کے بارے میں ہے، لیکن راون نے مجھے سکھایا کہ خوبصورتی کے ساتھ احساس بھی ہونا چاہیے۔“ سبیا کے زیرِ رہنمائی، انہوں نے سیکھا کہ رنگ ایک فریم کے اندر کس طرح سانس لیتے ہیں اور یہ کہ ملبوسات کی تصویر کشی کوئی محکمہ نہیں بلکہ ایک زبان ہے۔ ’راون‘ میں ان کے کام نے سینماٹوگرافر سنتوش سوان کو متاثر کیا، جنہوں نے صرف 23 سال کی عمر میں انہیں ’ارومی‘ کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا، ”یہی حقیقی سفر کا آغاز تھا۔“
ایکا کا تخلیقی عمل، جو کہ سامعین کی حیرت کا باعث بنا، ہدایتکار کے ساتھ لمبی بات چیت سے شروع ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ منی رتنم جیسے فلم سازوں کے ساتھ کام بہت پہلے سے شروع ہو جاتا ہے، بعض اوقات اسکرپٹ کے لکھنے کے دوران۔
انہوں نے کہا، ”منی سر مجھے اسکرپٹ کے مرحلے پر شامل کرتے ہیں۔ جب میں سمجھ لیتی ہوں کہ ایک کردار کس طرح کا لباس پہنتا ہے، تو وہ اس سے آگے سمجھاتے ہیں کہ وہ کردار کس طرح برتاؤ کرتا ہے،“ اس طرح انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح ملبوسات کا ڈیزائن کہانی کے انتخاب کو تشکیل دے سکتا ہے۔

”سنیما ٹیم ورک ہے،“ ایکا نے زور دے کر کہا۔ ”میں سب سے خوبصورت لباس بنانے کی کوشش نہیں کر رہی، بلکہ وہ درست لباس بنانے کی کوشش کر رہی ہوں جو اداکار کو بغیر کسی مشکل کے کردار میں ڈھلنے دے۔“ ان کے طریقہ کار میں حوالہ جات کی تلاش، بصری جرنلنگ، تفصیلی نوٹس تیار کرنے، اور اپنی ٹیم کے ساتھ گہرا تعاون شامل ہے۔
پونیین سلون: کپڑوں میں لکھی گئی تاریخ
پونیین سلون کے لیے، منی رتنم نے ایکا کو تھنجاویر بھیجا تھا اس سے پہلے کہ وہ ایک بھی ڈیزائن اسکچ کرتیں۔ یہ دورہ ایک انقلاب بن گیا کیونکہ ایکا نے چولا دور کی شان و شوکت کو مندروں کے کانسی کے مجسمے، پتھروں اور نمونوں کے ذریعے جذب کیا، جو بالآخر فلم کی بصری کائنات کی تشکیل کا سبب بنے۔

دو تارا، دو دنیا اور سنجو کا دوبارہ جنم
ایکا نے یہ بھی بتایا کہ ایک ہی کردار تارا کے لیے ’اوکے کنمانی‘ اور ’اوکے جانو‘ میں مکمل طور پر مختلف لباس کی ضرورت تھی۔ ”تمل میں، تارا کو متعلق نظر آنا تھا۔ ہندی میں، اسے ایک مثالی شخصیت بننا تھا،“ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ناظرین کی حساسیت ملبوسات کے انتخاب کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے ایک مزاحیہ واقعہ بھی سنایا کہ کس طرح آخری وقت میں کشن کور کو ’شردھا کپور‘ کے مشہور ’ہما ہما‘ شارٹس میں بدل دیا گیا۔
’سنجو‘ پر کام کرتے ہوئے، ایکا نے زیادہ تحقیق پر مبنی طریقہ اپنایا، جس میں حوالہ جات کو تقریباً مکمل درستگی کے ساتھ ملایا گیا۔ انہوں نے میک اپ اور ہیئر ٹیموں، پروڈکشن ڈیزائنر اور فوٹوگرافر کو کردار کے انداز کو مکمل کرنے میں مدد دینے کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے کہا، ”ڈی او پی ملبوسات ڈیزائنر کے بہترین دوست ہوتے ہیں۔ وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ کون سا رنگ اسکرین پر آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے۔“
ایکا نے ’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘ کی مثال دی، جہاں راکی کے بدلتے ہوئے لباس اس کی شخصیت کی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ سامعین نے راکی کے انداز کو پسند کیا، یہ جانتے ہوئے کہ ملبوسات کس طرح ایک کردار کو متعین کرتے ہیں۔ سیشن کے اختتام پر، یہ واضح ہو گیا کہ ملبوسات صرف بصری آرائش نہیں ہیں بلکہ وہ بیانیہ کے آلات ہیں جو کرداروں میں جان ڈالتے ہیں۔ ایکا لکھانی کی دنیا میں، ہر سلائی کا مقصد ہوتا ہے اور ہر رنگ ایک معنی رکھتا ہے۔
آئی ایف ایف آئی کا تعارف
سال1952 میں قائم ہونے والا بھارت کا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف آئی) جنوبی ایشیا کا قدیم ترین اور سب سے بڑا سنیمائی جشن تصور کیا جاتا ہے۔ یہ فیسٹیول نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی)، وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت ہند، اور انٹرٹینمنٹ سوسائٹی آف گوا (ای ایس جی)، حکومت گوا کے اشتراک سے منعقد ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ فیسٹیول ایک عالمی سنیمائی مرکز کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، جہاں بحال شدہ کلاسیکی فلمیں دلیرانہ تجرباتی سنیما سے ملتی ہیں اور لیجنڈری فلم ساز نئے اور بے خوف تخلیق کاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا ئے ہوئے نظر آتے ہیں۔آئی ایف ایف آئی کی اصل پہچان اس کا متنوع امتزاج ہے۔ بین الاقوامی مقابلے، ثقافتی نمائشیں، ماسٹر کلاسز، خراجِ عقیدت پیش کرنے والے سیشن، اور پرجوش ’’ویوز فلم بازار‘‘، جہاں تخلیقی خیالات، معاہدے اور اشتراکات پروان چڑھتے ہیں۔ گوا کے دلکش ساحلی پس منظر میں 20 سے 28 نومبر تک منعقد ہونے والا 56واں ایڈیشن زبانوں، اصناف، اختراعات اور آوازوں کی ایک چمکتی دمکتی دنیا پیش کرنے کا وعدہ کرتا ہے، ایک ایسا دل موہ لینے والا جشن جو عالمی سطح پر ہندوستانی تخلیقی صلاحیتوں کی شاندار نمائندگی کرتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے، کلک کریں:
آئی ایف ایف آئی ویب سائٹ: https://www.iffigoa.org/
پی آئی بی کی آئی ایف ایف آئی مائکرو سائٹ: https://www.pib.gov.in/iffi/56/
پی آئی بی آئی ایف ایف آئی ووڈ براڈکاسٹ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaEiBaML2AU6gnzWOm3F
X ہینڈل: @IFFIGoa، @PIB_India، @PIB_Panaji
**************
ش ح۔ ف ش ع
26-11-2025
U: 1883
रिलीज़ आईडी:
2195118
| Visitor Counter:
33