لکھنےکا تعلق جذباتی تخیل سے ہے، ایڈیٹنگ کا تعلق جذباتی تجربے سے ہے: راجو ہیرانی
موضوع فلم کی روح ہوتا ہے، جبکہ کہانی میں کشمکش اس کی جان ہوتی ہے: ہیرانی
بھارتیہ بین الاقوامی فلم فیسٹول کے ایک ایونٹ میں آج جیسے ہی روشنی کم ہوئی، ذہن متحرک ہو گئے اور تخلیقی صلاحیت نے اپنا جوہر دکھایا تو لوگوں کے بیٹھنے کے بعد یہ ورکشاپ کم اور فلمی توانائی بڑھانے والا ایونٹ زیادہ لگ رہا تھا۔ جب پروڈیوسر ڈائریکٹر راجو ہیرانی اندر آئے، تو کلا اکیڈمی کا ہال اسی طرح کے جوش سے بھر گیا جیسا ماحول عام طور پر جمعہ کے روز بلاک بسٹر فلموں کے لیے ہوتا ہے۔ اس دلچسپ ورکشاپ میں لوگوں کی ایسی گہری دلچسپی تھی کہ پروگرام کے اختتام پر مصنفین و صحافی کچھ لکھتے ہوئے نظر آرہے تھے، ایڈیٹرز ان کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے سر ہلا رہے تھے اور سینما کے شائقین بے حد متاثر تھے۔
سب سے کامیاب اور مشہور فلم سازوں میں سے ایک کی یہ باتیں فلم شائقین کے دل و دماغ میں رچ بس گئیں کہ "لکھنے کا تعلق جذباتی تخیل سے ہے اور ایڈیٹنگ کا تعلق جذباتی تجربے سے ہے۔ مصنف پہلا مسودہ لکھتا ہے، جبکہ ایڈیٹر اسے آخری شکل دیتا ہے۔ موضوع فلم کی روح ہوتا ہے، جبکہ کہانی میں کشمکش اس کی جان ہوتی ہے۔‘‘
’’فلم، تحریر اور ایڈیٹنگ کی دو میزوں پر بنتی ہے: ایک تناظر‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ماسٹر کلاس-کم-ورکشاپ کو خطاب کرتے ہوئے، راجو ہیرانی نے شاعرانہ سادگی کے ساتھ لکھنے کے عمل کی اہمیت سمجھاتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ تصنیف خواب دیکھنے کی جگہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مصنف کے سامنے تخیل کی لامحدود آزادی ہوتی ہے - لامحدود آسمان، دلکش طلوع آفتاب، با صلاحیت اداکار، بجٹ اور کسی دشواری کی فکر نہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ تخیلی مناظر ایڈیٹر کی میز پر پہنچتے ہیں، حقیقت اس میں تبدیلی لے آتی ہے۔ ہیرانی نے کہا کہ ’’ایک فلم تبھی شروع ہوتی ہے جب کوئی کردار حقیقی معنوں میں کچھ چاہتا ہے اور یہی چاہت کہانی کی دھڑکن بن جاتی ہے۔ اس میں اس کی کشمکش زندگی کی جان ہوتی ہے - جس کے بغیر، کسی بھی چیز کا وجود نہیں رہتاہے۔‘‘
انہوں نے مصنفین سے اپنی کہانیاں جیتی جاگتی حقیقتوں پر تخلیق کرنے کے لیے زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک اچھے مصنف کو زندگی سے ترغیب لینی چاہیے کیونکہ حقیقی تجربات ہی کہانیوں کو ناقابل یقین، منفرد اور انتہائی دلکش بناتے ہیں۔ انہوں نے ورکشاپ میں شریک لوگوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ پیشکش کو ڈرامہ کی شکل میں غیر مرئی طور پر ترتیب دیا جانا چاہیے اور فلم کی تھیم، یعنی اس کی روح، ہر منظر میں بالواسطہ طور پر موجود ہونی چاہیے۔
اپنی پہلی پسند، ایڈیٹنگ، کے بارے میں پُرجوش طریقے سے بات کرتے ہوئے، راجو ہیرانی نے فلم ایڈیٹنگ کی گہری، مگر چھپی ہوئی طاقت کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب فوٹیج ایڈیٹر کی میز پر پہنچتی ہے، تو وہاں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ فلم ایڈیٹر کہانی کو نئے سرے سے دوبارہ تراشتا ہے۔ وہ ایسا گمنام ہیرو ہے جس کا کام بظاہر نظر نہیں آتا، لیکن وہی فلم کے کو برقرار رکھتا ہے۔‘‘
ایڈیٹر کے ٹول کٹ کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ ایڈیٹنگ کی اکائی فلم شاٹ ہے، لیکن کوئی واحد شاٹ، اگر کسی مختلف تناظر میں رکھ دیا جائے تو معنی پوری طرح بدل جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ ایک فلم ایڈیٹر کسی کہانی کو پورے 180 ڈگری پلٹ سکتا ہے۔
ابتدائی فلم سازوں کا حوالہ دیتے ہوئے، ہیرانی نے ڈی ڈبلیو گریفتھ کے مشہور خیال کا ذکر کیا کہ ایک اچھا ایڈیٹر آپ کے جذبات کو پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس حیرت انگیز حقیقت کے ساتھ کیا جس کی گونج پورے کمرے میں گونج اٹھی کہ مصنف پہلا مسودہ لکھتا ہے اور فلم ایڈیٹر آخری۔
ہیرانی نے زور دے کر کہا کہ ’’ولن کا نقطہ نظر بھی ہیرو جتنا ہی مضبوط ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کردار کو لگتا ہے کہ وہ صحیح ہے اور یہیں سے کہانی کو توانائی ملتی ہے۔ اپنے اپنے سچ کا یہی ٹکراؤ، نظریات کے درمیان کا یہی تناؤ، کہانی کو متحرک بناتا ہے۔‘‘
اس دلچسپ گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے، معروف اسکرین رائٹر ابھیجت جوشی نے کہانی پیش کرنے میں حقیقی زندگی کی یادوں کی غیر معمولی طاقت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی کے کچھ ایسے لمحات - خواہ وہ مضحکہ خیز ہوں، دل توڑنے والے ہوں یا چونکا دینے والے - ہمارے ذہن پر اس کےنقوش دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں ایک ایسی صداقت ہوتی ہے جس کی جگہ اکثر اسکرپٹ نہیں لے پاتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی کئی جھلکیاں بعد میں فلم تھری ایڈیٹس میں بھی نظر آئیں، جس میں بجلی کے جھٹکے والا مشہور منظر اور کئی کرداروں کی مختصر سی تفصیلات شامل ہیں، جو انہوں نے برسوں کے دوران لوگوں کے ساتھ اپنے تجربات سے حاصل کی تھیں۔
جوشی نے اسکرین رائٹنگ کی ابدی حقیقتوں کے ذکر کے ساتھ اپنی بات کا اختتام کیا کہ ہر کردار میں ایک زبردست خواہش ہونی چاہیے، کشمکش سینما کی جان ہوتی ہے اور سب سے مضبوط ڈراماتبھی بنتا ہے جب دو باہمی متضاد حقیقتوں کا ایک دوسرے سے سامنا ہوتا ہے۔
اِفّی کے بارے میں
اِفّی کا آغاز سال1952 میں ہوا، بھارتیہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول(اِفّی) جنوبی ایشیا کا سب سے پرانا اور سب سے بڑا سینما فیسٹیول ہے۔ اسے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن(اِفّی)، وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت ہند اور انٹرٹینمنٹ سوسائٹی آف گوا(ای ایس جی)، حکومتِ گوا، مل کر منعقد کرتے ہیں۔ یہ فیسٹیول عالمی سینما کا طاقتور مرکز بن گیا ہے — جہاں محفوظ کی گئی کلاسک فلمیں جرأت مندانہ تجربات سے ملتی ہیں اور فلمی دنیا کے بڑے نام، بے خوف اور پہلی بار کے فلم سازوں کے ساتھ آتے ہیں۔ اِفّی کو جو چیز واقعی شاندار بناتی ہے، وہ ہے اس کا شاندار امتزاج — بین الاقوامی مقابلہ، ثقافتی پیشکشیں، ماسٹرکلاس، خراج عقیدت اور توانائی سے بھرپور ویوز فلم بازار، جہاں خیالات، شراکت داری اور تعاون میں اضافہ ہوتا ہے۔ 20-28 نومبر تک گوا کے شاندار ساحلی پس منظر میں ہونے والا، 56 واں ایڈیشن شاندار مختلف زبانوں، اصناف، جدت اور خیالات کو اجاگر کرتا ہے —جو عالمی سطح پر بھارت کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک زندہ جشن ہے۔
مزید معلومات کے لیے، کلک کریں:
******
(ش ح۔ک ح۔ع ر)
U No. 1763
रिलीज़ आईडी:
2194033
| Visitor Counter:
20