iffi banner

ایڈیٹنگ کا فن اور سنیما کاسفر: فلم ایڈیٹرسریکر پرساد کی نظروں سے سنیما کی جمالیاتی اورپسِ پردہ فن کو کھولتا ایک سفر


جذبات، فن اور داستان گوئی ہی ایک ایڈیٹر کے نقطۂ نظرکی وضاحت کرتا ہے

ورکشاپ میں پرفارمنس، کہانی اور وجوئیل اظہار کو تشکیل دینے کے فن کا جائزہ لیا گیا

# اِفّی، 24 نومبر 2025

56ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں معروف فلم ایڈیٹر سریکر پرساد نے “فرام مائنڈ ٹو اسکرین: وژن ٹو ایگزیکیوشن- این ایڈیٹنگ ورکشاپ” کے عنوان سے ایک خصوصی ورکشاپ کی قیادت کی، اس ورکشاپ نے شائقین کو سنیما کی اس سب سے خاموش مگر سب سے فیصلہ کن جگہ ،ایڈیٹنگ ٹیبل کی گہرائی میں اتارا، جہاں سین بیلنس ہوتےہیں اور کہانیاں اپنی آخری شکل اختیار کرتی ہیں۔ 650 سے زائد فلموں اور 18 زبانوں پر محیط فلموگرافی کے تجربے کے ساتھ اُن کی موجودگی میں وہ پُرسکون دانائی جھلک رہی تھی جو وقت، ثقافتوں اور بے شمار ایڈیٹ رومز میں کہانیوں کو تراشتے تراشتے پروان چڑھی ہے۔ سیقاٹ ایس رائے نے کی نظامت میں اس سیشن نے ان فیصلہ کن متباادل کی عملی سمجھ فراہم کی جو ایک کہانی کو اُس کے پہلے اسمبل سے لے کر آخری کٹ تک پہنچاتے ہیں۔

سیشن کے آغاز سے پہلے روی کوٹّرکارا نے اس عظیم ایڈیٹر کو اعزاز پیش کیا اور اُن کے وسیع کام اور اس منفرد صلاحیت کو سراہا کہ وہ جانتے ہیں کہ “کیا نہیں کرنا چاہیے۔”ایک ایسی خوبی جسے انہوں نے ایک ایڈیٹر کی اصل بصیرت قرار دیا۔

Pc-1.jpg

اپنے چار دہائیوں پر مشتمل سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سریکر پرساد نے ایڈیٹنگ کو محض ایک تکنیکی عمل سمجھنے کے عام تصور کو چیلنج کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔ اُن کے مطابق ایڈیٹنگ کی بنیاد جذبات میں ہوتی ہے اور ہر کٹ کو ناظر کے احساسات کی سمت متعین کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ایک ایڈیٹر کے سامنے ابتدا میں بہت زیادہ فوٹیج ہوتی ہے، مگر اصل امتحان اسے اس انداز میں تراشنا ہے کہ کہانی مقصد اور وضاحت کے ساتھ آگے بڑھے، کیونکہ کہانی ہی وہ دھاگہ ہے جو ایک فلم کو جوڑے رکھتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایڈیٹر کے لیے بہترین نقطۂ آغاز اسکرپٹ کی سطح ہوتی ہے، ایسی شمولیت جو پورے فلم سازی کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابتدائی برسوں میں ایڈیٹنگ انہیں مکینکی عمل محسوس ہوتی تھی، لیکن مختلف ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کرنے سے ان کے لیے نئے زاویے سامنے آئے۔ کوئی بھی دن دوسرے دن جیسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مواد اور تخلیقیت کی یہ مسلسل تبدیلی ایک ایڈیٹر کو وقت کے ساتھ فلم ساز میں بدل دیتی ہے۔ ایسا شخص جو جانتا ہے کہ کب معلومات کو روک کر رکھنا ہے، کب انہیں ظاہر کرنا ہے اور کس طرح کہانی میں تناؤ کو برقرار رکھنا ہے۔

Pc-2.jpg

ایک ایسے حصے میں جس نے شائقین کی بھرپور دلچسپی حاصل کی، سریکر پرساد نے اس عام طور پر کہے جانے والے خیال پر گفتگو کی کہ “فلم ایڈیٹنگ ٹیبل پر بنتی ہے۔” انہوں نے فلم کو یکجا کرنے کے مختلف ارتقائی مراحل  جیسے انفرادی مناظر کی تشکیل سے لے کر مناظر کے باہمی ربط کو سنبھالنے تک اور آخرکار پوری فلمی کہانی کو ایک مکمل شکل دینے تک کی وضاحت کی۔ 1998 کی فلم  “دی ٹیررسٹ”  کے مناظر دکھاتے ہوئے انہوں نے یہ واضح کیا کہ کس طرح خاموشی خود ایک کہانی کا اوزار بن گئی، اور یہی دریافت بعد میں “وناپرسٹھم” جیسی فلموں کی بنیاد بنی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر منظر اتنی روانی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ ناظر کبھی بھی کٹس کو محسوس نہ کر سکے۔

متوازن کہانیوں اور کثیر کرداروں والی کہانیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے جذباتی توازن کی اہمیت پر زور دیا، اس بات کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہ ناظر کی توجہ کبھی بھی مرکزی کہانی سے ہٹنی نہیں چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ایڈیٹر کو اکثر ایک اداکاری کی حفاظت بھی کرنی پڑتی ہے،نہ کہ اسے زیادہ نمایاں کر کے، بلکہ بعض اوقات کمزور اداکاری کو باریکی سے چھپا کرحفاظت کرنی پڑتی ہے۔ جب کوئی کردار سچائی سے ہٹنے لگے یا اسٹار جیسی مصنوعی موجودگی اختیار کر لے، تو اُن کے مطابق ایڈیٹنگ کو بے حد احتیاط  اور باریکی کے ساتھ اس کی اصلاح کرنی چاہیے اور منظر کو اس انداز میں تراشنا چاہیے کہ کردار کی صداقت برقرار رہے۔

Pc-3.jpg

اُبھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے آلات کی بات کرتے ہوئے، موڈ ریٹر سائکاٹ نے ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کو مصنوعی ذہات کی طرف موڑ دیا اور مزاحاً کہا کہ شاید ایسا نظام سب سے پہلے سريكر پرساد کے “اسٹائل” کی نقل کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ سن کر لو گ  زور زور سے ہنسنے لگے اور سريكر پرساد نے ہلکا مسکراتے ہوئے جواب دیا اور جلد ہی بات کو واضح رخ دے دیا۔ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت یقیناً کام کے میکنیکل پہلو کوسنبھال سکتا ہے، مگر وہ کہانی کے جذبہ کو اصل شکل نہیں دے سکتی، نہ تال کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی کسی کٹ کا فیصلہ وجدان سے لے سکتا ہے۔ اُن کے نزدیک ایڈیٹنگ ایک ہنر ہے جو وجدان سے تشکیل پاتا ہےاور یہ وہ چیز ہے جس کی کوئی مشین جگہ نہیں لے سکتی۔

سیشن کے اختتام پر جب گفتگو، صبر، تنقید کو قبول کرنے کی صلاحیت اور ایک سین کے اختتام  کی ذمہ داری پر پہنچی تو سريكر پرساد نے سنیما کو “سوشل کومنٹ، ایک اظہار، اور ایک نشانِ قدم” قرار دیا۔ اُن کے مطابق کہانی سنانا صرف تخلیق نہیں بلکہ ایک سماجی حصہ داری ہے۔

آخر میں، ورکشاپ نے یہ واضح کیا کہ فلم کی اصل سچائی ایڈیٹنگ میں دریافت ہوتی ہے،وہاں نہیں جہاں کچھ شامل کیا جاتا ہے، بلکہ وہاں جہاں کچھ چُنا جاتا ہے، سنوارا جاتا ہے اور خاموشی سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

آئی ایف ایف آئی کے بارے میں

1952 میں تشکیل دیاگیا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (افی)جنوبی ایشیا کے سب سے قدیم اور سب سے بڑے سنیما فیسٹیول کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی)، وزارتِ اطلاعات و نشریات، حکومتِ ہند اور انٹرٹینمنٹ سوسائٹی آف گوا (ای ایس جی)، حکومتِ گوا کی شراکت سے منعقد ہونے والا یہ فلمی میلہ، آج ایک عالمی فلمی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہےجہاں ریسٹور کئے گئے جدید کلاسیکی تجربات سے ملتے ہیں اور سنیما کے عظیم استادنئی نسل کے بے خوف فلم سازوں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم شیئر کرتے ہیں۔آئی ایف ایف آئی کو جو چیز حقیقت  میں شاندار بناتی ہے وہ ہے اس کا الیٹرک مکس-بین الاقوامی مقابلے، ثقافتی نمائشیں، ماسٹر کلاسز، ٹریبیوٹس،اور سب سے بڑھ کر ہائی انرجی ویوز فلم بازار جہاں خیالات، معاہدے اور عالمی تعاون پروان چڑھتے ہیں۔20 سے 28 نومبر تک گوا کے دلکش ساحلی بیک گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا 56 واں ایڈیشن زبانوں، موضوعات، اصناف، جدت اور تخلیقی آوازوں کے ایک دلکش اور شاندار تنوع کا منظر پیش کرتا ہے ۔یہ پروگرام دنیا کے فلمی منظرنامے پر ہندوستانی تخلیقی ذہانت اور فنونِ لطیفہ کا حقیقی، ہمہ گیر اور مسحور کن جشن ہے۔

مزید معلومات کے لیے ، کلک کریں:

آئی ایف ایف آئی ویب سائٹ: https://www.iffigoa.org/

پی آئی بی کی آئی ایف ایف آئی مائیکروسائٹ: https://www.pib.gov.in/iffi/56/

پی آئی بی آئی ایف ایف آئی ووڈ نشریاتی چینل:  https://whatsapp.com/channel/0029VaEiBaML2AU6gnzWOm3F

ایکس ہینڈل:  @IFFIGoa, @PIB_India, @PIB_Panaji

*********

 (ش ح ۔م ح ۔ش ت)

U. No. 1764

 


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #IFFI2025, #AnythingForFilms and #FilmsKeLiyeKuchBhi. Tag us @pib_goa on Instagram, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at iffi.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2194030   |   Visitor Counter: 29