جہاں تخلیقیت ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوتی ہے: مصنوعی ذہانت پر غور و فکر، کہانی سنانا اور سنیما کا نیا دور
شیکھر کپور اور ٹریشیا ٹٹل نے مصنوعی ذہانت کے تبدیلی لانے والے امکاناتک کی وضاحت کی
گفتگو کے اس سیشن میں اختراع، فنکارانہ مقصدیت اور سنیما کے انسانی مرکزیت پر توجہ دی گئی
چھپنویں(56)ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں منعقدہ "اِن کنورسیشن سیشن ، 'اینو راژین فیسٹیول فرنٹیئر: کیا ہمیں اے آئی کی دنیا میں سنیما کی نئی تعریف کی ضرورت ہے؟'"دنیا کی دو نہایت معزز فیسٹیول شخصیات کو یکجا کرنے کا ذریعہ بنا: برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی فیسٹیول ڈائریکٹر ٹریشیا ٹٹل اور آئی ایف ایف آئی کے فیسٹیول ڈائریکٹر شیکھر کپور۔اگرچہ سیشن کی نظامت شیکھر کپور نے انجام دی، تاہم گفتگو ایک متحرک اور دو طرفہ تبادلۂ خیال کی صورت میں آگے بڑھی، جس میں مصنوعی ذہانت، تخلیقیت اور فلمی میلوں کے مستقبل کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے باہمی ربط کو گفتگو کا موضوع بنایا گیا۔
سیشن کا آغاز ایک گرم جوشی اور ذاتی نوعیت کے ماحول سے ہوا، جب شیکھر کپور نے فیسٹیول کو پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال کو ختم کرنے پر مبارک باد دی، جبکہ ٹریشیا ٹٹل نے 1998 کا وہ لمحہ یاد کیا جب ایک نوجوان فلم اسکول گریجویٹ کی حیثیت سے انہوں نے شیکھر کپور کے ماسٹرکلاس میں شرکت کی تھی جو ان کی فلم ایلیزبتھ سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ مکمل دائرہ مکمل ہونے جیسا محسوس ہوتا ہے‘‘،یوں سیشن نے ایک ایسا انداز اختیار کیا جس میں ماضی کے تجربات مستقبل کے اُبھرتے ہوئے سنیما کے ساتھ ہم آہنگ نظر آئے۔

پورے سیشن کے دوران شیکھر کپور بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ خواہ کوئی بھی ٹیکنالوجی آجائے،ڈیجیٹل آلات ہوں یا مصنوعی ذہانت،سنیما اس لیے قائم رہتا ہے کہ انسانی تخیل قائم رہتا ہے۔ انہوں نے اس امر کو نمایاں کیا کہ بالآخر تخلیق کار ہی کسی بھی نئے آلے کی سمت کا تعین کرتا ہے، اور سامعین کو یاد دلایا کہ کوئی بھی جدت ان لوگوں کی تخلیقی قوت سے آگے نہیں بڑھ سکتی جو اسے استعمال کرتے ہیں۔
ٹریشیا ٹٹل نے ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ماضی کے خدشات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یاد کیا کہ ایک وقت تھا جب ڈیجیٹل فلم سازی کے آغاز نے اس خوف کو جنم دیا تھا کہ شاید سنیما معدوم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن جو چیز باقی رہتی ہے وہ خیال، ہنرمندی اور انسانیت ہے۔‘‘ شیکھر کپور نے مزید کہا کہ چاہے مصنوعی ذہانت کتنی ہی ترقی کر جائے، وہ کسی عظیم اداکار کے چہرے میں جذبات کے نہایت لطیف تغیرات،خصوصاً آنکھوں میں پیدا ہونے والی باریک تبدیلیوں،کو نہیں سمجھ سکتی۔ انہوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت پُتلیوں کو نہیں سمجھتی‘‘ اور واضح کیا کہ یہی جذباتی چمک وہ عنصر ہے جو واقعی ناظرین کو ایک کہانی سے جوڑتی ہے۔
شیکھر کپور نے اپنی مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ سیریز وار لارڈ کا ایک منظر نامہ بھی پیش کیا، اور اس نئے تخلیقی اوزار کی کھوج پر گہرے جوش کا اظہار کیا۔ ان امکانات کو قبول کرنے کے باوجود انہوں نے گفتگو کو اس یقین کے ساتھ جوڑے رکھا کہ ٹیکنالوجی کہانی گو کو متعین نہیں کرتی؛ بلکہ کہانی گو ٹیکنالوجی کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالتا ہے۔
سامعین کے لیے نہایت دلچسپ لمحہ وہ تھا جب شیکھر کپور نے اپنے خانساماں کا ایک لطیفہ بیان کیا، جس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مسٹر انڈیا 2 کے لیے ایک اسکرپٹ لکھ ڈالی۔ شیکھر کپور نے کہا، ’’وہ میرے پاس اتنے جوش کے ساتھ آیا کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ پہلے کس چیز کی تعریف کروں،اس نے جو کھانا بنایا تھا یا وہ اسکرپٹ جو اس نے لکھا تھا۔‘‘ اس خوش مزاج واقعے نے واضح کیا کہ تخلیقی اوزار کس قدر عام ہو چکے ہیں اور ٹیکنالوجی کس طرح غیر متوقع جگہوں میں بھی تخیل کو تقویت دے سکتی ہے۔
دونوں مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے باوجود سنیما اب بھی ایک اجتماعی سماجی تجربہ ہے۔ شیکھر کپور نے سینما جانے کو ایک سماجی تجربے کے طور پر بیان کیا جسے مصنوعی ذہانت یا گھریلو ناظرین کے رجحانات تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا، ’’گھروں تک کھانا پہنچ جانے کے باوجود لوگ ریستورانوں میں جانا نہیں چھوڑتے۔‘‘ ٹریشیا ٹٹل نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے مقامات کو محفوظ رکھنا ضروری ہے جہاں آزادانہ اور جرات مندانہ فلمیں دیکھی جا سکیں،اور یہی ذمہ داری فلمی میلوں پر عائد ہوتی ہے۔
گفتگو میں کم ہوتی ہوئی تکنیکی ٹیموں اور فلم سیٹ پر محنت کشوں کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ٹریشیا ٹٹل نے فلم سیٹ پر موجود ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور بتایا کہ ان کے بیٹے نے ایک بار خواہش ظاہر کی کہ وہ فلمی عملے کا حصہ بننا چاہتا ہے،ہدایت کاری یا تحریر کے لیے نہیں،بلکہ فلم سازی کی دنیا کو قریب سے سمجھنے کے لیے۔ شیکھر کپور نے کہا کہ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ’’ایکشن‘‘ اور ’’کٹ‘‘ کہنے کی کیفیت ہی نہ ختم ہو جائے، کیونکہ سیٹ پر قائم انسانی رشتے کسی بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوبارہ تخلیق نہیں کیے جا سکتے۔
سامعین کے سوالات،جن میں سرقہ، اخلاقیات اور مصنوعی ذہانت کی فنکارانہ حیثیت جیسے موضوعات شامل تھے،کے دوران شیکھر کپور نے اپنے مضبوط ترین بیانات میں سے ایک پیش کیا: ’’مصنوعی ذہانت جادو نہیں ہے۔ یہ افراتفری نہیں ہے۔ یہ تبدیلی ہے۔ لیکن حقیقی کہانی گوئی غیر متوقع ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت مستقبل کی پیش گوئی نہیں کر سکتی؛ یہ صرف ماضی کی نقل کر سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سرقہ،چاہے مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر،تخلیقی کاہلی کے باعث جنم لیتا ہے، اور جذباتی کہانی سنانا ہمیشہ انسان کی موجودگی کو ظاہر کر دیتا ہے۔
سیشن کا اختتام اس اتفاق رائے پر ہوا کہ سنیما مسلسل ارتقا پذیر رہے گا، لیکن اس کی اصل،انسانی تخیل، جذباتی صداقت اور کہانیوں کی وہ طاقت جو ہر تکنیکی تبدیلی کے باوجود باقی رہتی ہے،ہمیشہ برقرار رہے گی۔ پروگرام کے اختتام پر وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پربھات کی جانب سے اعزاز پیش کیا گیا۔

آئی ایف ایف آئی کے بارے میں
1952 میں قائم ہونے والا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (آئی ایف ایف آئی) جنوبی ایشیا کا سب سے قدیم اور سب سے بڑا سنیما جشن ہے۔ نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن، وزارتِ اطلاعات و نشریات، حکومتِ ہند اور انٹرٹینمنٹ سوسائٹی آف گوا، حکومتِ گوا کے اشتراک سے منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول اب ایک عالمی سنیما پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے،جہاں بحال شدہ کلاسیکی فلمیں جدت پسند تجربات سے ملتی ہیں، اور اساطیری فلم سازوں کے ساتھ پہلی بار فلم بنانے والے نوجوان بھی جگہ پاتے ہیں۔
آئی ایف ایف آئی کی اصل رونق اس کی متنوع سرگرمیوں میں ہے،بین الاقوامی مقابلے، ثقافتی مظاہرے، ماسٹر کلاسز، خصوصی عقیدتی پیشکشیں، اور پُرجوش فلم بازار،جہاں خیالات، سودے اور اشتراکات جنم لیتے ہیں۔ 20 سے 28 نومبر تک گوا کے دلکش ساحلی پس منظر میں منعقد ہونے والا 56واں ایڈیشن زبانوں، اصناف، جدتوں اور آوازوں کے ایک ہمہ گیر تنوع کو پیش کرتا ہے،دنیا کے سامنے بھارت کی تخلیقی عظمت کا بھرپور جشن۔
For more information, click on:
IFFI Website: https://www.iffigoa.org/
PIB’s IFFI Microsite: https://www.pib.gov.in/iffi/56new/
PIB IFFIWood Broadcast Channel: https://whatsapp.com/channel/0029VaEiBaML2AU6gnzWOm3F
X Handles: @IFFIGoa, @PIB_India, @PIB_Panaji
***
UR-1654
(ش ح۔اس ک )
रिलीज़ आईडी:
2193006
| Visitor Counter:
56
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
Khasi
,
English
,
Konkani
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Assamese
,
Bengali
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam