وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-چلی کا مشترکہ بیان

Posted On: 01 APR 2025 6:11PM by PIB Delhi

ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دعوت پر، جمہوریہ چلی کے صدر، عزت مآب گیبریل بورک فونٹ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 76 سال مکمل ہونے کی یاد میں، یکم سے 5 اپریل 2025 تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ صدر بورک کے ساتھ امور خارجہ، زراعت، کان کنی، خواتین اور صنفی مساوات اور ثقافت ، فنون اور ورثے کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ، سینئر عہدیدار اور بڑی تعداد میں کاروباری رہنما بھی ہیں۔ نئی دہلی کے علاوہ صدر بورک آگرہ ، ممبئی اور بنگلورو کا دورہ کریں گے۔ صدر بورک کا ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ صدر بورک اور وزیر اعظم مودی دونوں نے پہلی بار نومبر 2024 میں ریو ڈی جنیرو میں جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔

ایئر فورس اسٹیشن پالم پہنچنے پر صدر بورک کا پرتپاک اور رسمی استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے یکم اپریل 2025 کو حیدرآباد ہاؤس میں صدر بورک کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ انہوں نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی جنھوں نے ان کے اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کے اعزاز میں ایک ضیافت کی میزبانی بھی کی۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے صدر بورک سے ملاقات کی۔

صدر بورک اور وزیر اعظم مودی نے 1949 میں قائم ہونے والے تاریخی سفارتی تعلقات، بڑھتے ہوئے تجارتی روابط ، عوام سے عوام کے روابط، ثقافتی تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان گرم جوشی اور خوشگوار دو طرفہ تعلقات کو یاد کیا۔ انہوں نے باہمی مفادات کے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اپنی ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری، صحت اور دواسازی، دفاع اور سلامتی ، بنیادی ڈھانچہ ، کان کنی اور معدنی وسائل، زراعت اور غذائی تحفظ، سبز توانائی ، آئی سی ٹی ، ڈیجیٹلائزیشن، اختراع، آفات کے انتظام، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون ، تعلیم اور عوام سے عوام کے روابط سمیت مختلف شعبوں پر محیط دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا۔ فریقین نے دو طرفہ تعلقات کو مزید رفتار دینے کے لیے مختلف سطحوں پر باقاعدہ تبادلے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری دو طرفہ تعلقات کا ایک مضبوط ستون رہا ہے ۔ مئی 2017 میں بھارت-چلی ترجیحی تجارتی معاہدے کی توسیع سے پیدا ہونے والے مثبت اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، جس کے نتیجے میں دو طرفہ تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تجارتی طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو دو طرفہ تجارت کی توسیع کے نئے مواقع کھول سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں طرف سے کاروباری وفود کے دوروں میں حالیہ اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ایک بڑا کاروباری وفد لانے کے لیے صدر بورک کا شکریہ ادا کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعامل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔

صدر بورک نے اس بات سے آگاہ کیا کہ ہندوستان عالمی معیشت میں چلی کا ترجیحی شراکت دار ہے اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر اور متنوع تجارت کے لیے حکمت عملی تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر اور وزیر اعظم نے باہمی طور پر متفقہ شرائط و ضوابط پر دستخط کرنے کا اعتراف کیا اور گہرے اقتصادی انضمام کے حصول کے لیے متوازن، پرجوش، جامع اور باہمی فائدہ مند معاہدے کے لیے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔ سی ای پی اے کا مقصد ہندوستان اور چلی کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات کی مکمل صلاحیت کو کھولنا، روزگار، دو طرفہ تجارت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ عوام کے درمیان بات چیت کو مزید فروغ دینے کے لیے، صدر بورک نے چلی کے ہندوستانی تاجروں کے لیے ملٹی پل انٹری پرمٹ دینے کے فیصلے کا اعلان کیا جو ویزا کے عمل کو ہموار کرے گا۔ وزیر اعظم مودی نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور اس کی سراہنا کی، کیونکہ یہ دونوں فریقوں کی تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی خواہش نیز چلی اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور کاروبار، سیاحت، طلباء اور تعلیمی تبادلوں کو آسان بنانے کے لیے عوام سے عوام کے روابط کو ایک اہم ستون کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے، ہندوستانی فریق نے پہلے ہی ایک لچکدار ویزا نظام قائم کیا ہے، جس میں ہندوستان میں چلی کے مسافروں کے لیے ای ویزا کی سہولت کو بڑھانا بھی شامل ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، جدید مال سازی اور صاف توانائی کی منتقلی کے لیے اہم معدنیات کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا، دونوں رہنماؤں نے باہمی فائدے کے لیے پورے اہم معدنیاتی ویلیو چین میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تحقیق اور ترقی کے ساتھ ساتھ امکانات تلاش کرنے، کان کنی اور پروسیسنگ میں تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اہم معدنیات اور جدید مواد سمیت قابل اعتماد اور لچکدار سپلائی چین بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے چلی سے ہندوستان کو معدنیات اور مواد کی طویل مدتی فراہمی کے امکان سمیت کان کنی اور معدنیات میں باہمی فائدہ مند شراکت داری اور افہام و تفہیم کو فروغ دے کر سپلائی چین اور مقامی ویلیو چین کو مستحکم کرنے کے اقدامات پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے صحت اور دواسازی ، خلا ، آئی سی ٹی ، زراعت ، سبز توانائی ، روایتی ادویات، اختراع، سائنس اور ٹیکنالوجی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے بندوبست، کھیلوں، اسٹارٹ اپس، کوآپریٹیو اور آڈیو ویژول میں تعاون کے لیے نئے راستے کھولنے پر اتفاق کیا۔

صدر بورک نے ہندوستانی دوا سازی کی صنعت کے کردار کو عالمی رہنماؤں میں سے ایک اور سستی اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی فراہمی میں چلی کے لیے ایک اہم شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو دواسازی، ویکسین اور طبی آلات کی تجارت بڑھانے میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے صحت کی دیکھ بھال اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ہندوستانی دواسازی کے لیے مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ چلی کی طرف سے ہندوستانی فارماکوپیا کو تسلیم کرنے میں آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے لوگوں کی صحت اور تندرستی کے تحفظ میں روایتی ادویات اور یوگا کی اہمیت کو نوٹ کیا اور اپنے عہدیداروں کو زیادہ پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے روایتی ادویات سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اس سمت میں ، دونوں ممالک نے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کرکے شواہد پر مبنی، مربوط، روایتی ادویات، ہومیوپیتھی اور یوگا کے فروغ اور استعمال کو بڑھانے اور تیز کرنے پر اتفاق کی۔

دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے ممالک میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ چلی کی طرف سے ریلوے کے شعبے سمیت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں حصہ لینے کے لیے ہندوستانی کمپنیوں کا خیرمقدم کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے دونوں فریقوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صلاحیت سازی اور دفاعی صنعتی تعاون سمیت دو طرفہ دفاعی تعاون کے خاطر خواہ شعبوں کو تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔ دونوں نے موجودہ باضابطہ دفاعی تعاون کے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور بڑھانے میں معلومات کے اشتراک پر اتفاق کیا۔ ہندوستانی فریق نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج، این ڈی سی، این ڈی اے اور ایچ ڈی ایم سی میں تربیت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے چلی کو ترجیح پر رکھا گیا ہے، اس کے علاوہ پہاڑی جنگ اور امن کی کارروائیوں میں خصوصی کورسز کے لیے سلاٹ پہلے دستیاب کرائے گئے ہیں۔ ہندوستانی فریق نے باہمی مفادات کے شعبوں میں چلی کی فوج کو حاصل کرنے اور تربیت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

دونوں رہنماؤں نے موجودہ انٹارکٹک تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کرنے پر خوشی کا اظہار کیا، جس سے انٹارکٹک آبی حیاتیاتی ریسورسز کے تحفظ کے ایجنڈوں، دو طرفہ مکالموں، مشترکہ اقدامات اور انٹارکٹک اور انٹارکٹک پالیسی سے متعلق تعلیمی تبادلوں میں شراکت کو مزید سہولت ملے گی۔ ہندوستان اور چلی دونوں انٹارکٹک معاہدے کے مشاورتی فریق ہیں اور انھوں نے دونوں فریقوں اور عالمی برادری کے فائدے کے لیے انٹارکٹک کے بارے میں سائنسی تفہیم کو گہرا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں فریقوں نے قومی دائرۂ اختیار سے باہر کے علاقوں میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے ایک کلیدی قانونی فریم ورک کے طور پر قومی دائرۂ اختیار سے باہر کے علاقوں کے سمندری حیاتیاتی تنوع سے متعلق معاہدے (بی بی این جے) کو اپنانے اور اس پر دستخط کرنے کا خیرمقدم کیا اور زمین سے سمندر تک حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنے اپنے ممالک کے عزم کا اعادہ کیا اور ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی فورموں میں مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور ترقی کے حق کے اصول پر مبنی تعاون اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کثیر جہتی میں عالمی جنوب سے ایک ویژن کو مستحکم کرنے کے اپنے ارادے کا اعادہ کیا۔

خلا میں دونوں ممالک کی دہائیوں طویل شراکت داری کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان خلائی شعبے میں جاری مصروفیات کا ذکر کیا، جس میں ہندوستان کی طرف سے 2017 میں چلی سے تعلق رکھنے والے سیٹلائٹ (ایس یو سی ایچ اے آئی-1) کو ایک تجارتی انتظام کے تحت شریک مسافر کے طور پر لانچ کرنا بھی شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خلا اور فلکی طبیعیات میں تربیت اور صلاحیت سازی اور تحقیق کو فروغ دینے کے لیے مزید تعاون کی اہمیت پر زور دیا ۔ اس سلسلے میں، انہوں نے اسرو، ان-اسپیس (انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھورائزیشن سینٹر) اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ خلائی تحقیق، تحقیق و ترقی، تربیت، سیٹلائٹ کی تعمیر، لانچ اور آپریشن اور بیرونی خلا کے پرامن استعمال سمیت تعاون پر کام کرنے کے لیے چلی کی طرف سے خلائی ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے متعلقہ متحرک انفارمیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں کا ذکر کیا اور اس شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ہم آہنگی تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، تکنیکی ترقی اور بازاروں کی ترقی میں باہمی دلچسپی کا اظہار کیا، جس میں ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر (ڈی پی آئی) میں تعاون کو فروغ دینا شامل ہے، جس سے لوگوں اور کاروباروں کے لیے ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو جمہوری بنایا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبوں میں تعاون کے جلد نفاذ کی تلاش میں دونوں فریقوں کی کوششوں کو تسلیم کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے متحرک اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔ دونوں لیڈروں نے دونوں ممالک کی ٹیک کمیونٹیز کے درمیان گہرے روابط کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق مفاہمت پر دستخط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

رہنماؤں نے کثیر جہتی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جس میں اس کی رکنیت کے مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع شامل ہے تاکہ اسے مزید نمائندہ، جوابدہ، شفاف، جامع اور موثر بنایا جا سکے، جو 21 ویں صدی کے جغرافیائی سیاسی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ چلی کی طرف سے اقوام متحدہ کی اصلاح شدہ اور توسیع شدہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے ہندوستان کی امیدواری کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ فریقین نے عالمی امن کو مستحکم کرنے کے لیے جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا اور پرامن مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کو حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے سرحد پار دہشت گردی سمیت دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہروں کی غیر واضح مذمت کا اعادہ کیا اور عالمی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ٹھوس عالمی اقدامات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 پر عمل درآمد کریں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے تمام ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کام کریں۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نو منی فار ٹیرر (این ایم ایف ٹی) اور دیگر کثیر جہتی پلیٹ فارمز میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق جامع کنونشن کو جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے ویژن کے لیے خود کو پرعزم کیا جو اقوام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے، جہاز رانی اور اوور فلائٹ کے ساتھ ساتھ بلا روک ٹوک جائز تجارت کی آزادی کو یقینی بناتا ہے اور جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق تنازعات کا پرامن حل چاہتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ’’وائس آف گلوبل ساؤتھ‘‘ اجلاس کے تینوں ایڈیشنوں میں چلی کی شرکت کو سراہا ، جو عالمی جنوب کے ممالک کو اپنے ترقیاتی نقطہ نظر اور ترجیحات کے اشتراک کے لیے اکٹھا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اگست 2024 میں منعقدہ تیسری وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ میں اپنے قیمتی نقطہ نظر اور خیالات کا اشتراک کرنے کے لیے صدر بورک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کئی عصری عالمی مسائل پر مضبوط ہم آہنگی رکھتے ہیں، جن میں موثر عالمی گورننس اصلاحات اور عالمی جنوبی ممالک کے لیے صاف اور سبز ٹیکنالوجیز تک مساوی رسائی کی ضرورت شامل ہے۔ صدر بورک نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں ہندوستان کی قیادت کا خیرمقدم کیا۔

صدر بورک نے جی 20 میں ہندوستان کی قیادت کو سراہا جس نے ترقیاتی ایجنڈے کو مرکزی مقام پر لایا اور ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر (ڈی پی آئی) کی صلاحیت کو کھولنے پر توجہ دینے کے ساتھ ٹیکنالوجی کے تبدیلی لانے والے اور جامع کردار کو تسلیم کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہندوستان کی جی 20 صدارت نے جی 20 میں افریقی یونین کی شمولیت ، ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر (ڈی پی آئی) میں پائیدار ترقی کے لیے طرز زندگی (ایل آئی ایف ای) کو فروغ دینے، کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کی اصلاحات اور خواتین کی قیادت میں ترقی پر توجہ مرکوز کرنے جیسے اہم اقدامات اور نتائج کو سامنے لا کر وائس آف دی گلوبل ساؤتھ کی حمایت کی ہے اور  اس سلسلے میں، جی 20 کے اندر زیادہ سے زیادہ انضمام اور نمائندگی کو فروغ دینے کے مقصد سے، ہندوستان چلی اور لاطینی امریکی ممالک کو جی 20 کے مہمان ممالک کے طور پر بات چیت میں شامل کرنے کی حمایت کرے گا۔

دونوں فریقوں نے آب و ہوا کی تبدیلی اور کم اخراج والی آب و ہوا کے لچکدار معیشتوں کی طرف منتقلی سے پیش آنے والی اپنی معیشتوں کے لیے چیلنجوں کو تسلیم کیا۔ اس کے مطابق، انہوں نے زیادہ موثر توانائی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے ذریعے صاف توانائی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی گہری خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، استعمال اور اسٹوریج ٹیکنالوجیز، توانائی کی کارکردگی اور دیگر کم کاربن حل میں مشترکہ سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا جس میں پائیدار اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

صدر بورک نے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) میں ہندوستان کی قیادت کا خیرمقدم کیا اور نومبر 2023 سے بطور رکن مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے چلی کی جنوری 2021 میں کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفرا اسٹرکچر (سی ڈی آر آئی) میں شمولیت کی تعریف کی جس کا مقصد پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے مقاصد کے حصول کے لیے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو لچکدار بنانا ہے۔ مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے لاطینی امریکہ اور کیریبین کے لیے آئی ایس اے کی علاقائی کمیٹی کے ساتویں اجلاس کی میزبانی کی چلی کی پیشکش کو سراہا۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکھنے کے حل، ہنر مندی کے فروغ اور ادارہ جاتی صلاحیت سازی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ، ہندوستان اور چلی نے ان شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے ای ڈی سی آئی ایل (انڈیا) لمیٹڈ اور چلی کے کلیدی اداروں کے درمیان شراکت داری کو آسان بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں کونسل آف ریکٹرز آف چلی یونیورسٹیز (سی آر یو سی ایچ)، چلی کی وزارت تعلیم  اور تکنیکی تربیتی مراکز (سی ایف ٹی) شامل ہیں، جس سے ڈیجیٹل لرننگ، تحقیقی تبادلے، اسمارٹ ایجوکیشن انفرا اسٹرکچر  اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جس سے تعلیم میں اختراع اور علم کے اشتراک کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کی طاقتوں کا فائدہ اٹھایا جا سکے گا ۔

وزیر اعظم مودی نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت ہندوستان میں تعلیمی شعبے میں ہونے والی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے چلی کی سرکردہ یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہندوستانی اداروں کے ساتھ تعلیمی اور تحقیقی شراکت داری کو مضبوط کریں اور مشترکہ/دوہری ڈگری اور جڑواں انتظامات کے ذریعے ادارہ جاتی روابط قائم کریں۔ فلکیات اور فلکی طبیعیات میں دونوں ممالک کی باہمی طاقت کو دیکھتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے ان شعبوں میں ادارہ جاتی مصروفیات کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے چلی کی ایک یونیورسٹی میں انڈین اسٹڈیز پر آئی سی سی آر چیئر کے قیام کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس پر جلد عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لیں۔

دونوں رہنماؤں نے سفارت کاری کے شعبے میں تربیت اور صلاحیت سازی میں جاری تعاون کا خیرمقدم کیا اور عالمی سفارتی کوششوں اور سفارت کاری کو مزید موثر بنانے والی نئی ٹیکنالوجی کے مطابق اس شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کے امکانات کا ذکر کیا۔

دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں ثقافتی تعلقات کے کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے ہندوستان اور چلی کے بھرپور اور متنوع ثقافتی ورثے کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ ثقافتی تبادلوں کو سراہا۔ قائدین نے دونوں ممالک میں ثقافتوں اور زبانوں کے مطالعہ میں بڑھتی دلچسپی کو سراہا جس میں ہسپانوی زبان ہندوستان میں مقبول غیر ملکی زبانوں میں شامل ہے۔ انہوں نے ہندوستان-چلی ثقافتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کے ثقافتی اداروں کے درمیان تعاون کو تقویت دینے میں باہمی دلچسپی پر زور دیا۔ انہوں نے موسیقی، رقص، تھیٹر، ادب، عجائب گھروں اور تہواروں میں دو طرفہ تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے نئے ثقافتی تبادلے کے پروگرام پر دستخط کرنے کا خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے کسٹم کے معاملات میں تعاون اور باہمی امداد سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا جس سے متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان منشیات اور نفسیاتی مادوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے اور عام طور پر کسٹم قوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور روک تھام کے ساتھ ساتھ بہترین طور طریقوں اور صلاحیت سازی کے اشتراک کے لیے روابط مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے معذوری کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دونوں فریقوں کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا، جو ایک زیادہ انسانی اور منصفانہ معاشرے میں تعاون کرے گا جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ان دستاویزات کو جلد از جلد مکمل کریں۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد کے معاملات پر باقاعدہ بات چیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے باہمی تعلقات کی خصوصیت رکھنے والے تعاون اور افہام و تفہیم کے بندھن کو فروغ دینے اور وسعت دینے کے مواقع پیدا کرنے پر آمادگی کا اعادہ کیا۔

صدر گیبریل بورک نے دورے کے دوران انہیں اور ان کے وفد کو دی گئی گرم جوشی اور مہمان نوازی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور انہیں باہمی طور پر مناسب وقت پر چلی کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔

*****

ش ح۔ ش ا ر۔ م ر

U-NO. 9286


(Release ID: 2117503) Visitor Counter : 19