ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

یکم جولائی 2022 سے شناخت شدہ سنگل یوز پلاسٹک کی اشیاء پر پابندی


ممنوعہ سنگل یوز پلاسٹک کی اشیاء کی غیر قانونی تیاری، درآمد، ذخیرہ کاری، تقسیم، فروخت اور استعمال کی جانچ کے لیے قومی اور ریاستی سطح پر کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے

پابندی کی کامیابی تمام حصص داروں کے مؤثر تعاون اور ٹھوس اقدامات سے ہی ممکن ہے

ایس یو پیز پر پابندی لگانے کے لیے عوامی شراکت داری ضروری

Posted On: 28 JUN 2022 1:04PM by PIB Delhi

بھارت کے عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی طرف سے 2022 تک سنگل یوز پلاسٹک (ایک ہی بار استعمال میں آنے والی پلاسٹک) کی اشیاء کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کرنے کے لیے دی گئی واضح کال کے مطابق، وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، حکومت ہند نے پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ ترمیمی ضوابط 2021 کو 12 اگست 2021 کو نوٹیفائی کیا۔ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے، گندے اور غیر منظم پلاسٹک کے کچرے سے پیدا ہونے والی آلودگی کو روکنے کے لیے یہ ایک واضح قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ بھارت یکم جولائی 2022 سے ملک بھر میں شناخت شدہ سنگل یوز پلاسٹک کی ایسی اشیاء پر پابندی لگائے گا جن کی افادیت کم ہے اور جن کا کچرا زیادہ پیدا ہوتا ہے۔

سمندری ماحول سمیت زمینی اور آبی دونوں ماحولیاتی نظاموں پر سنگل یوز پلاسٹک اشیاء کے منفی اثرات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ سنگل یوز پلاسٹک کی اشیاء کی وجہ سے آلودگی سے نمٹنا تمام ممالک کے سامنے ایک اہم ماحولیاتی چیلنج بن گیا ہے۔

2019 میں منعقدہ چوتھی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی میں، بھارت نے سنگل یوز پلاسٹک کی مصنوعات سے ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک قرارداد پیش کی تھی، جس میں عالمی برادری کی، اس انتہائی اہم مسئلے پر توجہ دینے کی فوری ضرورت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ یو این ای اے 4 میں اس قرارداد کی منظوری ایک اہم قدم تھا۔ مارچ 2022 میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے حال ہی میں ختم ہونے والے 5 ویں اجلاس میں، بھارت نے پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی پر عالمی سطح پر کارروائی کرنے کے لیے قرارداد پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ تعمیری انداز میں تعاون کیا۔

حکومت ہند نے سنگل یوز پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مضبوط اقدامات کیے ہیں۔ ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں پلاسٹک کی چھڑیوں کے ساتھ کان کی کلیاں (ایئر بڈس)، غباروں کے لیے پلاسٹک کی چھڑیاں، پلاسٹک کے جھنڈے، کینڈی کی چھڑیاں، آئس کریم کی چھڑیاں، سجاوٹ کے لیے پولی اسٹیرین (تھرموکول)، پلاسٹک کی پلیٹیں، کپ، گلاس، کٹلری جیسے کانٹے، چمچ، چاقو، تنکے (اِسٹرا)، ٹرے، مٹھائی کے ڈبوں پر لپیٹی جانے والی یا پیکنگ کے کام آنے والی فلم، دعوتی کارڈ، سگریٹ کے پیکٹ، پلاسٹک یا 100 مائکرون سے کم پی وی سی بینرز، اسٹیرررز وغیرہ شامل ہیں۔

پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ ترمیمی رولز 2021، 75 مائیکرون سے کم موٹائی والے پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری، درآمد، ذخیرہ، تقسیم، فروخت اور استعمال پر 30 ستمبر 2021 سے اور120 مائیکرون سے کم موٹائی والی اشیاء پر 31 دسمبر 2022 سے پابندی عائد کرتے ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے 16 فروری 2022 کو پلاسٹک کی پیکیجنگ پر توسیعی پروڈیوسرز جواب دہی (ایکسٹنڈیڈ پروڈیوسرس رسپانسبیلٹی) سے متعلق رہنما خطوط کو پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ ترمیمی رولز 2022 کے طور پر بھی نوٹیفائی کیا ہے۔ ایکسٹنڈیڈ پروڈیوسرس رسپانسبیلٹی (ای پی آر) اس کی زندگی کے اختتام تک مصنوعات کی ماحولیاتی نقطہ نظر سے بہترین بندوبست پروڈیوسر کی ذمہ داری ہے۔ یہ گائیڈ لائنز پلاسٹک پیکیجنگ ویسٹ کی سرکلر اکانومی کو مضبوط بنانے، پلاسٹک پیکیجنگ کے نئے متبادل کی ترقی کو فروغ دینے اور کاروباری اداروں کے ذریعے پائیدار پلاسٹک پیکیجنگ کی طرف بڑھنے کے لیے اگلے مرحلے کے اقدامات کے لئے فریم ورک فراہم کرے گی۔

چھوٹے مائیکرو اور میڈیم انٹرپرائزز اور سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرو کیمیکل انجینئرنگ (سی آئی پی ای ٹی)  اور ان کے ریاستی مراکز کے ساتھ سی پی سی بی / ایس پی سی بی / پی سی سی کی شمولیت کے ساتھ ایم ایس ایم ای یونٹس کے لیے صلاحیت سازی ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاکہ انہیں ممنوعہ سنگل یوز پلاسٹک کی اشیاء کے متبادل کی تیاری کے لیے تکنیکی مدد فراہم کی جا سکے۔  ایسے اداروں کو ممنوعہ سنگل یوز پلاسٹک سے دوری بنانے میں مدد کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔

حکومت ہند نے اختراع کو فروغ دینے اور پورے ملک میں تیز رفتار رسائی اور متبادل کی دستیابی کے لیے ایک ماحولیاتی نظام فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

یکم جولائی 2022 سے شناخت شدہ ایس یو پی اشیاء پر پابندی کے مؤثر نفاذ کے لیے قومی اور ریاستی سطح پر کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے اور ممنوعہ سنگل یوز پلاسٹک کی غیر قانونی تیاری، درآمد، ذخیرہ، تقسیم، فروخت اور استعمال کی جانچ کے لیے خصوصی انفورسمنٹ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ممنوعہ سنگل یوز پلاسٹک کی اشیاء کی بین ریاستی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سرحدی چیک پوائنٹس قائم کریں۔

سی پی سی گریوانس ریڈریسل ایپ کو شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، تاکہ پلاسٹک کی لعنت کو روکنے میں مدد مل سکے۔ وسیع تر عوامی رسائی کے لیے، پرکرتی PRAKRITI ۔ (میسکاٹ) بھی 5 اپریل کو لانچ کیا گیا۔

حکومت سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے، بیداری مہم نے کاروباریوں اور اسٹارٹ اپس، صنعت، مرکزی، ریاستی اور مقامی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں، ماہرین، شہریوں کی تنظیموں، آر اینڈ ڈی اور تعلیمی اداروں کو اکٹھا کرنے کا کام کیا ہے۔

وزارت کا ماننا ہے کہ پابندی کی کامیابی تمام حص داروں اور عوام کی پرجوش شراکت داری، مؤثر تعاون اور ٹھوس اقدامات سے ہی ممکن ہوسکے گی۔

 

*****

 

ش ح۔ م م۔ م ر

6980U-NO.

28.06.2022

 



(Release ID: 1837541) Visitor Counter : 222