وزارت اطلاعات ونشریات

مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے آئی ایف ایف آئی 52 میں انڈین پینورما سیکشن کا افتتاح کیا

صحیح مواد بھارتی سنیما کو دنیا بھر کے فلم شائقین تک لے جا سکتا ہے: انوراگ سنگھ ٹھاکر

فلمیں ہماری آرزؤوں اور خوابوی کی عکاسی کرتی ہیں: ہماچل پردیش کے گورنر راجیندر وشوناتھ آرلیکر

سیم کھور: دیماسا زبان کی پہلی فلم آئی ایف ایف آئی میں پیش کی جائے گی

دکھائی جانے والی پہلی فلم (غیر فیچر – انڈین پینورما)وید – دی ویژنری ، ایک فلم ساز کی جدوجہد اور اس کی جدوجہد کی طاقت کو بیان کرتی ہے

Posted On: 21 NOV 2021 3:03PM by PIB Delhi

 

پنجی، 21 نومبر 2021

 

بھارت کے کونے کونے سے جمع کی گئی کہانیوں کو بڑے پردے پر پیش کرنے کے وعدے کے ساتھ، آج گوا میں 52 ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا  میں انڈین پینورما سیکشن کا آغاز ہوا۔

اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر  نے 52ویں آئی ایف ایف آئی کی افتتاحی تقریب کا آغاز کیا۔ ہماچل پردیش کے گورنر جناب راجیندر وشوناتھ آرلیکر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

افتتاحی تقریب کے دوران ناظرین کو ،اس سال کے لیے انڈین پینورما 2021 زمرے کے تحت آئی ایف ایف آئی کے لیے سرکاری طور پر منتخب کی گئیں 24 فیچر اور  20 غیر فیچر فلموں کا تعارف دیا گیا۔

ہماچل پردیش کے گورنر جناب راجیندر وشوناتھ آرلیکر کے ساتھ مرکزی وزیر نے شروعاتی فلموں سیم کھور (فیچر) اور وید دی ویژنری (غیر فیچر)  کے فلم سازوں، اداکاروں اور عملے کے افراد کی عزت افزائی کی اور شرکت کے لیے اسناد پیش کیں۔

فلم سازوں کو مبارکباد دیتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا، ’’آپ نے ملک کے دور دراز کونوں سے کہانیاں ڈھونڈھ کر لانے کے لیے کوششیں اور جدوجہد کی ہے۔ اب، کہانی کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اگر آپ  صحیح کہانی پیش کرتے ہیں تو وہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمارے درمیان باصلاحیت افراد موجود ہیں اور آپ سب کی مدد سے، ہم آئی ایف ایف آئی کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے آنجہانی منوہر پریکر کو بھی یاد کیا، جنہوں نے آئی ایف ایف آئی کو گوا لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، ہماچل پردیش کے گورنر جناب راجیندر وشوناتھ آرلیکر نے کہا، ’’میں فلم نقاد نہیں ہوں اور نہ ہی فلموں کا بہت بڑا شائق، تاہم میں نےہمیشہ انڈین پینورما دیکھا ہے اور یہ دیکھا ہے کہ کیسے ہماری فلمیں ہمارے سماج کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ بات میں فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ بھارتی فلموں نے بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ ہمارے سماج کی آرزؤوں، ضرورتوں اور جدوجہد کی عکاسی کی ہے اور انہیں پردے پیش کیا ہے۔‘‘

فیچر فلم زمرے کی شروعاتی فلم ، سیم کھور، جسے انڈین پینورما سیکشن میں پیش کیا گیا تھا، دیماسا زبان کی پہلی فلم ہے جسے انڈین پینورما سیکشن میں دکھایا گیا ہے۔ ایمی بروہا، جو اس فلم کی ہدایت کار ہیں، نے فلم کو تسلیم کرنے اور اسے اعزاز بخشنے کے لیے آئی ایف ایف آئی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیم کھور سماج میں ممنوع قرار دی گئیں چیزوں کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اس فلم کے ذریعہ انہوں نے آسام میں دیماسا برداری کو درپیش چنوتیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

غیر فیچر فلم زمرے میں دکھائی جانے والی پہلی فلم ، وید دی ویژنری ، کے ہدایت کار ، راجیو پرکاش نے کہا، ’’یہ فلم سازی کے میدان میں میرے والد کی جدوجہد ا ور استقامت کی کہانی ہے۔ یہ فلم ان کی ان کوششوں کو ظاہر کرتی ہے جو سنیما کی تاریخ میں رقم ہو چکی ہیں۔‘‘

اس موقع پر فیچر اور غیر فیچر فلموں کے جیوری اراکین کی بھی عزت افزائی کی گئی اور شرکت کے لیے اسناد تفویض کی گئیں۔

انڈین پینورما ، آئی ایف ایف آئی کا ایک فلیگ شپ عنصر ہے جس کے تحت فلم سازی کے فن کو فروغ دینے کے لیے ہندوستانی عصری فلموں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اسے بھارتی فلموں کو فروغ دینے اور بھارت کی مالامال ثقافت اور سنیما کے فن کو فروغ دینے کے لیے آئی ایف ایف آئی کے جزو کے طور پر 1978 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

انڈین پینورما میں پیش کی جانے والی شروعاتی فلموں کے بارے میں:

سیم کھور

دیرو کا تعلق سیم کھور میں سامسا برادری سے ہے۔ جب دیرو کی موت ہو جاتی ہے، تو اس کی بیوی، جو  کہ معاون دائی کے طور پر کام کرتی ہے، اپنے تین بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی موری ، جو کہ محض گیارہ برس کی ہوتی ہے، کی شادی دینار سے کرا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے، موری ایک بچی کو جنم دیتے وقت مر جاتی ہے۔ سیم کھور کے رواج کے مطابق، اگر ایک عورت بچی کو جنم دیتے وقت مر جاتی ہے تو نوزائیدہ بچی کو بھی ماں کے ساتھ زندہ دفنادیا جاتا ہے۔ لیکن دیرو کی بیوی موری کی نوزائیدہ بچی کی کو بچا لیتی ہے جس سے سیم کھور میں ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ ملتا ہے۔

وید… دی ویژنری

اس فلم میں فلم ساز وید پرکاش اور 1939۔1975 کے درمیان نیوزریل فلمنگ کی دنیا کو فتح کرنے کے ان کے سفر کی داستان بیان کی گئی ہے۔ ان کے غیر معمولی کاموں میں 1948 میں مہاتما گاندھی کی آخری رسومات کی نیوز کوریج جسے 1949 میں برٹش اکادمی ایوارڈس  کے لیے نامزد کیا گیا تھا؛ بھارت کے آزاد ہونے پر اقتدار کا تبادلہ؛ اس کے بعد تقسیم ہند کا سانحہ، وغیرہ جیسے کام شامل ہیں۔ ہندوستان اور اس کے ہنگامہ خیز ابتدائی برسوں کی منظرنگاری کا ایک بڑا حصہ ان کی محنت اور جمالیات کا تحفہ ہے۔

 

*********

ش ح۔اب ن ۔ م ف

U. NO. 14000



(Release ID: 1773764) Visitor Counter : 48