پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 NOV 2021 3:18PM by PIB Delhi
نئی دہلی،08نومبر؍2021:
08-2007ء میں ہندوستان کے پاس -16.5فیصد بجلی کی زبردست کمی تھی۔12-2011ءمیں بھی یہ اعداد و شمار -10.6فیصد تھا۔ حکومت کی کثیر رُخی، وسیع اور مؤثر مداخلتوں کے ذریعے اب یہ خسارہ تقریباً خاتمے کے قریب ہے۔ پچھلے 3برسوں میں اِس میں مسلسل کمی آئی ہے۔21-2020ء میں یہ شرح -4فیصد ، 20-2019ء میں -7فیصد اور 19-2018ء میں -8فیصد رہی ہے۔ وہیں رواں سال کے دوران اکتوبر ماہ تک یہ -1.2فیصد رہا ہے۔اِس میں معمولی اضافہ سالانہ مانسون کے بعد بجلی پیداوار پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے ہوا ہے۔حالانکہ اس کے بھی سال کے آخر تک معمول پر آجانے کا امکان ہے۔
بجلی کے زبردست کمی والے ملک سے 1فیصد سے کم کی انتہائی معمولی کمی کو چھوڑ کر مانگ کے عین مطابق سپلائی کی صورتحال میں یہ تبدیلی موجودہ حکومت کے ذریعے اس افسوسناک صورتحال کے حل کے لئے شروع کئے گئے درج ذیل منصوبوں کے ذریعے ممکن کیا گیا ہے۔
25جولائی 2015ء کو دین دیال اُپادھیائے گرام جیوتی یوجنا(ڈی ڈی یو جی جے وائی) یوجنا کی شروعات کی گئی تھی۔ یہ یوجنا دیہی علاقوں میں ٹرانسمیشن (بجلی سپلائی) اور سب ٹرانسمیشن سسٹم کو قائم کرکے بنیادی ڈھانچے کو آگے بڑھانے کےلئے لائی گئی تھی۔وہیں 20نومبر 2014ء کو شہری علاقوں میں بجلی سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں کمی کو دور کرنے کےلئے مربوط بجلی ترقیاتی منصوبہ (آئی پی ڈی ایس)شروع کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ 25ستمبر 2017ء کو پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا (سوبھاگیہ) کی شروعات ہر گھر (خواہش مند)تک بجلی پہنچانے کی سوچ کے ساتھ کی گئی۔ اس یوجنا کے ذریعے ایسے 2.8کروڑ گھروں میں بجلی کنکشن دیا گیا، جو اب تک تاریکی میں رہنے پر مجبور تھے۔
اِن کوششوں کے نتیجے میں پچھلے تقریباً 7برسوں میں ملک کی بجلی صلاحیت میں 155377میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔
حوالے کے لئے 08-2007ء سے ملک میں بجلی کی سپلائی کی صورتحال درج ذیل رہی ہے۔
************
ش ح۔ج ق۔ن ع
(U: 12628)