سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ہائبرڈ ملٹی پلائی فیس ماسک: این 95 ریسپریٹر کا متبادل

بی آئی آر اے سی کی جانب سے فاسٹ ٹریک کووڈ-19فنڈکےتحت اعانت کی جاتی ہے

Posted On: 10 JUN 2021 9:10AM by PIB Delhi

نئی دہلی، 10 جون 2021: کووڈ-19 کی  وبانے پوری دنیا کےانسانوں کےلئے ایک تباہ کن حالات پیدا کردیے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے خلاف دفاع کے طور پر پہلی کوشش  سینیٹائزر، چہرے کے ماسک اور کووڈ کے تعلق سے مناسب طرز عمل کو اختیار کرنا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ ماسک لگانے کی سفارش کی گئی ہےتاکہ کووڈ-19 کے پھیلاؤ کوروکا جاسکے اور اس کو محدود کیا جا سکے۔ خاص طور پر، N95 فیس ماسک کو متاثرہ شخص سے کسی غیر متاثرہ شخص میں کووڈ-19وائرس کی منتقلی کو کم کرنے کے لئے زیادہ موثر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن این 95 چہرے کے ماسک کا استعمال بہت سے لوگوں کے لئے غیرآرام دہ ثابت ہوتا ہے اور اس طرح کے بیشتر ماسکوں کو دوبارہ دھو کر استعمال بھی نہیں  کیا جاسکتا ہے۔

پری سودھاناٹیکنالوجیز پرائیوٹ  لمیٹیڈ  کو فاسٹ ٹریک کووڈ-19 فنڈ کے تحت ہائبرڈ ملٹی پلائی  فیس ماسک  ایس ایچ جی -95(رجسٹرڈ، بلین سوشل ماسکس) بنانے کے لیے  جزوی طورپر بی آئی آر اے سی اورآئی کے پی نالج پارک کے ذریعہ اعانت فراہم کی گئی۔ یہ ‘میڈ اِن انڈیا’ فیس ماسک ہیں جس میں ذرات سے محفوظ رکھنے کی 90 فیصد سے زیادہ اوربیکٹیریا کو فلٹر کرنے کی99 فیصد سے زیادہ صلاحیت موجود ہے۔ اس طرح  سے تیار شدہ فیس  ماسک سانس لینے کے عمل کو بہتر بناتےہیں اورکانوں کے لیے بھی آرام دہ اور بہترہیں نیز ہر طرح کے مشکل حالات میں بھی استعمال کرنے میں آسان ہیں کیونکہ ان کی بُنائی ہاتھوں سے کی گئی ہے اور یہ خالص کاٹن کے کپڑے سے بنے  ہیں۔ فلٹریشن کی ایک خاص پرت اسے مزیدمفید اورکارگر بناتی ہے۔کمپنی کی جانب سےہاتھوں سے دھوئے جا سکنےاور دوبارہ استعمال میں لائے جاسکنے کے لائق  بنانے کے لیے  ان ماسکوں کی لاگت یا قیمت کا تخمینہ50-75 روپیے بھارتی کرنسی فی ماسک لگایا گیا ہے اس لحاظ سے عوام الناس کے لیے یہ قابل استطاعت بن گیا ہے۔

تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار سے زائدیونٹ فروخت ہونے کے بعد، یہ پہل، جسے گرینڈ چیلنجز کینیڈا نے بھی مالی اعانت فراہم کی ہے، کووڈ-19 کے اس دور میں مطالبات کے تقاضوں کے مطابق نئی ڈیزائن تیار کیا گیا ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کے توسط سے متعد دسیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) کے ذریعہ ان کے اراکین کی روزی روٹی کمانے کے عمل کوبھی بہتربنایاجاسکے گا۔ پری سودھاناٹیکنالوجیز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بانیان کا نظریہ ہے کہ بنی نوع انسان کو درپیش مشکلات کو عملی تحقیق اور قابل استطاعت مصنوعات  کو بروئے کار لاکر ہی کوئی حل نکالا جاسکتا ہے۔

 مزید اطلاعات کے لیے: براہ کرم  بی آئی آر اے سی/ڈی بی ٹی کے کمیونیکشن سیل سے رابطہ کریں

@DBTIndia@BIRAC_2012

www.dbtindia.gov.in

www.birac.nic.in

ڈی بی ٹی کے بارے میں

سائنس و ٹکنالوجی کی وزارت کےتحت بائیوٹکنالوجی کا محکمہ(ڈی بی ٹی)، بھارت میں زراعت، حفظان صحت، مویشیوں سے متعلق سائنسز، ماحولیات اور صنعت کے شعبوں میں اپنی نمو اور ترقی کے توسط سے بایو ٹکنالوجی کو فروغ دیتا اور آگے بڑھاتا ہے۔

BIRAC کے بارے میں

بائیوٹکنالوجی کے محکمے ، (ڈی بی ٹی)حکومت ہند کی جانب سے ایک منافع نہ کمانے والے،سکشن 8، شیڈول بی، کے تحت قائم کی گئی سرکاری دائرہ کی صنعت ، جس کا نام صنعتی کونسل امداد کی تحقیق  (بی آئی آر اے سی) ہے، پبلک سکٹرانٹرپرائز ہے۔ اپنے طور پر ایک ایسی انٹرفیس ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے جس کا مقصد ملک کی مصنوعات، ترقیات، ضروریات کے پس منظر میں ترقیاتی سرگرمیوں اور کلیدی تحقیق کو عملی جامہ پہنچانے کے لیے حوصلہ افزائی اور بایو ٹکنالوجی صنعت کو نشونما فراہم کرنا ہے۔

پری سودھاناٹکنالوجیزپرائیوٹ لمیٹیڈ کے بارے میں

پری سودھاناٹکنا لوجیزپرائیوٹ لمیٹیڈکے قیام کا مقصد فی الحال حفظان صحت اورچاق و چوبند رہنے سے متعلقہ مصنوعات تیار کرنا ہے۔ اس ٹیم کودنیا بھر میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے جو اس کی ایک الگ خاصیت ہے نیزاسے عالمی اداروں سے تربیت حاصل ہے  جس کی بنا پر  یہ ہندوستانی تناظر میں مسائل  کو حل کرنے کے لئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ یہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر جون 2016 میں حیدرآباد، ہندوستان میں درج رجسٹرہے۔

 

ش ح - س ک

U NO: 5294



(Release ID: 1725918) Visitor Counter : 117