صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

"کووڈ – 19 کی آنے والی لہروں میں بچے شدید طور پرمتاثر ہوں گے ، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی اعداد و شمارموجود نہیں ہیں"


مستقبل کی لہروں سے بچنے کےلیے جارحانہ طور پر کووڈ کے مناسب طرز عمل کی پیروی کریں: ڈاکٹر گلیریا

Posted On: 08 JUN 2021 5:52PM by PIB Delhi

نئی دہلی۔ 08  جون      آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) دہلی کے ڈائریکٹر ، ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے آج پریس انفارمیشن بیورو ، دہلی کے نیشنل میڈیا سینٹر میں منعقدہ کووڈ – 19 پر میڈیا بریفنگ کے دوران کہا "یہ غلط فہمی کا ایک  حصہ ہے کہ کووڈ – 19 وبائی مرض کی آنے والی لہریں بچوں میں شدید بیماری کا باعث بننے والی ہیں۔ آنے والی لہروں میں بچے شدید طور پر متاثر ہوں گے ، یہ ثابت کرنے کے لیے ہندوستان اور عالمی سطح پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ "

ڈاکٹر گلیریا نےیہ واضح کیا کہ ہندوستان میں دوسری لہر کے دوران متاثر ہونے اور اسپتال میں داخل ہونے والے 60 فیصد سے 70 فیصد بچوں میں کو موربیڈیٹی تھی  یا ان میں مدافعتی صلاحیت کم تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کہ جن صحت مند بچوں میں  انفیکشن کی معمولی علامتیں تھیں وہ اسپتال میں داخل ہوئے بغیر صحت یاب ہوگئے ۔

مستقبل کی لہروں کو روکنے کے لئے کووڈ مناسب طرز عمل کا اہم رول ہے

ایمس کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ کسی بھی وبائی بیماری میں کئی لہریں کیوں آتی ہیں۔ اس طرح کی لہریں عام طور پر سانس کے وائرس کی وجہ سے وبائی امراض کے دوران ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر گلیریا نے کہا ،" 1918 میں ہسپانوی فلو ایچ 1 این 1 (سوائن) فلو اس کی مثال ہے۔ 1918  کے ہسپانوی فلو کی دوسری لہر سب سے بڑی تھی ، جس کے بعد ایک چھوٹی تیسری لہر تھی۔" اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں ، سارس کوو – 2  سانس کا وائرس ہے۔

  1. ایک حساس آبادی ہو نے پر ایک سے زیادہ ل لہریں رونما ہوتی ہیں۔

جب آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ انفیکشن کے خلاف مدافعتی صلاحیت  حاصل کرلیتا ہے تو ، وائرس مقامی سطح پر ہو جاتا ہے اور انفیکشن موسمی ہو جاتا ہے - جیسے H1N1 جو عام طور پر مانسون یا سردیوں کے دوران پھیلتا ہے۔

  1. وائرس میں تبدیلی کی وجہ سے لہریں آ سکتی ہیں(جیسے کہ نئی شکلیں)

چونکہ نئے تغیرات زیادہ متعدی ہوجاتے ہیں ، لہذا وائرس پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

  1. لہر کے پیچھے ایک وجہ انسانی رویہ بھی ہوسکتا ہے

ڈاکٹر گلیریا نے متنبہ کیا: “جب بھی معاملات بڑھتے ہیں تو لوگوں میں خوف پیدا ہوتا ہے اور انسانی رویوں میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ لوگ کووڈ کے مناسب طرز عمل کی سختی سے پیروی کرتے ہیں اور غیر دواسازی مداخلت کے ٹرانسمیشن کا سلسلہ توڑنے میں معاون ہوتے ہیں ۔ لیکن جب اَن لاک کیا جاتا ہے تو ، لوگ سوچتے ہیں کہ زیادہ انفیکشن نہیں ہوگا اور وہ کووڈ کے مناسب طرز عمل کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ، یہ وائرس دوبارہ معاشرے میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے ، جو ممکنہ طور پر دوسری لہر کی طرف جاتا ہے۔"

ایمس کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اگر ہمیں اس کے بعد کی لہروں کو روکنا ہے تو ، ہمیں کووڈ کے مناسب رویوں  پر جارحانہ انداز میں عمل کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہم یہ نہ کہہ سکتے کہ ہماری آبادی کی ایک خاصی تعداد ٹیکے لگائے ہوئے ہے یا قدرتی طور پر مدافعتی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، "جب کافی لوگوں کو ویکسین لگایا جائے گا یا جب ہم انفیکشن کے خلاف قدرتی مدافعت حاصل کرلیں گے تو پھر یہ لہریں رک جائیں گی۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ کووڈ کے مناسب رویوں پر سختی سے پیروی کی جائے۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

 (08.06.2021)

U-5248



(Release ID: 1725493) Visitor Counter : 172