نیتی آیوگ

بھارت کے ٹیکہ کاری کے عمل سے متعلق افواہیں اور حقائق

Posted On: 27 MAY 2021 12:01PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،27؍مئی  :  بھارت کے کووڈ  - 19  ٹیکہ کاری پروگرام کے بارے میں بہت سی  افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ یہ افواہیں  مسخ شدہ بیانات ، آدھے ادھورے حقائق  اور  کورے جھوٹ کی وجہ سے  پھیل رہی ہیں۔

 نیتی آیوگ نے  صحت سے متعلق  رکن  اور  کووڈ – 19  کے لئے  ٹیکہ کاری  سے متعلق  ماہرین کے قومی گروپ  کے  صدر نشیں  ڈاکٹر ونود پال  نے  ان افواہوں کو روکنے کے لئے  وضاحت کی۔ نیز انہوں نے ان سبھی معاملات پر حقائق  پیش کئے۔

کچھ افواہیں اور حقائق  اس طرح ہیں:

افواہ- 1 : مرکز  بیرون ملک سے  ویکسین  خریدنے کے لئے  بھرپور طریقے سے کام نہیں کر رہا ہے۔

سچ : مرکزی حکومت 2020  کے وسط سے ہی ، ویکسین  بنانے والی  سبھی بڑے  بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ  لگا تار رابطہ کئے  ہوئے ہیں۔ فائزر ، جے اینڈ جے  اینڈ موڈرنا  کے ساتھ  مذاکرات کے کئی دور منعقد کئے جا چکے ہیں۔ حکومت نے  ان کمپنیوں کو بھارت میں  ان دواؤں کو تیار کرنے  یا  سپلائی مہیا کرنے  کی غرض سے  ہر طرح کی مدد کی پیش کش کی ہے۔ تاہم  ایسا نہیں ہے کہ  ان کی بنائی ہوئی یہ ویکسین  مفت  دستیاب ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ویکسین خریدا جانا ، ایسا نہیں ہے جیسے  شوکیس میں رکھی  ہوئی کوئی چیز  خرید لی جائے۔ ویکسین ، عالمی سطح پر  ایک محدود  سپلائی ہے   اور کمپنیوں کی اپنی ترجیحات ہیں ، نیز  ذخیرہ مختص کرنے میں  اپنے طریقے  اور  مجبوریاں ہیں۔ یہ کمپنیاں  اُن ملکوں کو  ترجیح دیتی ہیں  جہاں سے ان کا تعلق ہے، جیسا کہ  ویکسین  تیار کرنے والی ہماری اپنی کمپنیوں نے  ہمارے لئے کیا ہے۔ جیسے  ہی فائزر نے  ویکسین کی دستیابی  کا اشارہ دیا ، مرکزی حکومت  اور کمپنی  اس ویکسین  کو جلد از جلد  در آمد کرنے کے لئے مل کر کام کر رہی ہیں۔ حکومت ہند کی  ان کوششوں کے نتیجے میں  اسپتنک ویکسین کے تجربات میں تیزی آگئی ہے اور  بر اسے وقت  منظور ی دیئے جانے سے  روس  نے  ویکسین کی دو کھیپیں بھیج دی ہیں، نیز  ہماری کمپنیوں کو  ٹیکنالوجی  منتقل کردی ہے، جس سے  اس ویکسین کی تیاری جلد شروع ہوجائے گی۔ ہم  ویکسین تیار کرنے  والی  سبھی بین الاقوامی کمپنیوں سے ایک بار پھر درخواست کرتے ہیں  کہ وہ  آگے آئیں اور بھارت میں    دوا بنائیں ، بھارت کے لئے دوا بنائیں اور دنیا کے لئے بھی دوا بنائیں۔

افواہ-2:  مرکز نے  اُن ویکسین کی اجازت نہیں دی، جو عالمی سطح پر دستیاب ہیں۔

سچ : مرکزی حکومت نے یو ایس  ایف ڈی اے، ای ایم اے  کی طرف سے منظور شدہ ،  برطانیہ کی  ایم ایچ آر اے اور جاپان کی  پی ایم ڈی اے  نیز  ڈبلیو ایچ او  کی  ہنگامی  استعمال کی  دواؤں کی فہرست   کو  اپریل میں  بھارت میں داخلے کی منظور دے دی تھی۔ یہ منظوری  سرگرمی سے ساتھ دے دی گئی تھی، ان ویکسین کے لئے  اس بات کی ضرورت نہیں پڑے گی  کہ  پہلے   ان کا  تجربہ کیا جائے۔ اس  سہولت میں  مزید تبدیلی کرکے  تجربے کی ضرورت  کو ختم کیا گیا ۔ کیو نکہ دیگر ملکوں کے ان کے تجربات ثابت کئے جاچکے ہیں۔ غیر ملکی  دوا ساز کمپنیوں کی  اب کوئی بھی درخواست ڈرگس کنٹرولر کے  پاس  التوا میں نہیں ہے۔

افواہ -3 : مرکز ویکسین کی گھریلو تیاری  میں اضافے کے لئے  وافر کام نہیں کر رہا ہے۔

سچ :  مرکزی حکومت  2020  کے شروع سے  ہی  مزید کمپنیوں  کو ،  ویکسین  سازی   میں آسانی فراہم کرنے کی کوششیں  کرتی رہی ہے۔ صرف  ایک بھارتی کمپنی (بھارت بائیو ٹک)  ہے ، جو  بھارتی  دوا ساز کمپنی ہے۔ حکومت ہند نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تین دیگر کمپنیاں ، بھارت  بائیو ٹک کی اپنی پلانٹس کو  فروغ  دینے کے علاوہ  کو ویکسین کی  تیاری  شروع  کردیں۔ بھارت بائیو ٹک  کی تیار کردہ کوو یکسین کی تعداد  میں  ماہانہ   ایک کروڑ   سے اضافہ کرکے  اسے اکتوبر تک 10 کروڑ ماہانہ  کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ  سرکاری شعبے کے تین  یونٹ  مل کر  دسمبر تک  4  کروڑ  خوراکیں تک  تیار کریں گے۔ حکومت کی طرف  لگا تار  حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ سیرم  انسٹی ٹیوٹ  ساڑھے چھ کروڑ خوراکیں ماہانہ  سے بڑھا کر کووی شیلڈ کی  11 کروڑ  خوراکیں ماہانہ  تیار  کرے۔ حکومت  ہند  روس کے ساتھ بھی اشتراک کو یقینی بنا رہی ہے کہ اسپوتنک ویکسین  6 کمپنیاں تیار کریں، جس میں ڈاکٹر ریڈیز  کے ساتھ تال میل کیا جائے۔ مرکزی حکومت  زائڈس، کیڈیلا ، بایو اے، اور  گنووا  کی کوششوں کو بھی مدد دے رہی ہے کہ وہ  کووڈ  سرکشا اسکیم  کے تحت  آزادانہ فنڈنگ  کے ذریعے  گھر میں ہی  ویکسین تیار کرے۔ نیز  قومی لیبارٹریز کو  اس سلسلے میں تکنیکی مدد دی جا رہی ہے۔ بھارت  بائیو ٹک کی  واحد  خوراک  کی تیاری  بھی  آگے بڑھ رہی ہے جس میں حکومت ہند رقم فراہم کر رہی ہے، جو پوری دنیا کے لئے  ایک بساط بدل دینے والی دوا  ثابت ہوسکتی ہے۔ ہماری ویکسین انڈسٹری کی طرف سے  2021  کے آخر تک  200 کروڑ سے زیادہ  خوراکیں تیار کرنے کا اندازہ ہے، جو  مذکورہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

افواہ – 4 : مرکز کو ، لائسنسنگ کو لازمی قرار دینا چاہئے۔

سچ : لازمی لائسنسنگ کوئی  پرکشش  قدم نہیں ہے، کیونکہ یہ کوئی  اہم  طریقہ کار نہیں ہے۔ البتہ  ایک  سرگرم اشتراک ، انسانی وسائل سے  متعلق   تربیت خام مال کے وسائل اور  بائیو حفاظت  کی اعلیٰ ترین سطحوں  کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی  کلیدی  اہمیت کی حامل ہے اور یہ   اُن کمپنوں  کے  پاس  رہے، جو تحقیق وترقی کا کام کرتی ہیں، در حقیقت  ہم لازمی لائسنسنگ  سے بھی  اور  ایک آگے چلے گئے ہیں اور ہم  کو ویکسین کی تیاری  میں اضافے کے لئے بھارت بائیو ٹک اور دیگر  تین کمپنیوں کے درمیان  سرگرم شراکت داری  کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اسی طرح  اسپتنک کے لئے  یہی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

 افواہ  -5 : مرکز نے  یہ  ذمہ داری ریاستوں کو دے دی ہے۔

سچ : مرکزی حکومت  سبھی کام انجام دے رہی ہے، جس کے تحت وہ  ویکسین تیار کرنے کے لئے  رقم فراہم کرنے سے لے کر  تیاری میں اضافے کے لئے جلد منظوریاں  اور  بھارت میں  غیر ملکی ویکسین لانے تک  میں سرگرم ہے۔ مرکز کی تیار کردہ ویکسین  پوری طرح  ریاستوں کو  سپلائی کی گئی ہے اور یہ سب باتیں ریاستوں  کے علم میں ہے۔ حکومت ہند  نے  ریاستوں کو  اختیار دے دیا ہے کہ وہ  اپنے طور پر  ویکسین  کی فراہمی کی کوشش کریں۔ ریاستیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ ملک میں ویکسین کی تیار کرنے کی صلاحیت کیا ہے اور ویکسین کو براہ راست  بیرون ملک سے  حاصل کرنے میں کیا دشواریاں ہیں۔ در حقیقت حکومت ہند نے  جنوری سے اپریل تک  پورا ویکسین پروگرام  چلایا ہے ۔ البتہ  جن ریاستوں نے  حفظان صحت کارکنوں  اور  پیش پیش رہنے والے  کارکنوں کی تین مہینے میں  پوری طرح   ٹیکہ کاری نہیں کی، وہ  ٹیکہ کاری کے عمل کو  جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ صحت کا  معاملہ  سرکاری معاملہ  ہے اور نرم روی پر مبنی ویکسین پالیسی  لگا تار درخواست کا نتیجہ ہے۔ یہ درخواست  ریاستوں کی طرف سے کی جار ہی ہیں کہ انہیں مزید اختیارات دیئے جائیں۔

افواہ – 6 :  مرکز ریاستوں کو  وافر مقدار  ویکسین نہیں دے رہا ہے۔

سچ : مرکز  ریاستوں کو  شفاف  عمل کے تحت وافر ویکسین  مختص کر رہا ہے، جیسا کہ رہنما خطوط  سے اتفاق  کیا گیا ہے ۔ درحقیقت ویکسین کی دستیابی کے سلسلے میں  ریاستوں کو پہلے سے ہی  اطلاع  دی جارہی ہے۔ ویکسین کی دستیابی  مستقبل قریب میں  بڑھائی جائے گی اور  کافی زیادہ سپلائی ممکن بھی ہوگی۔ غیر سرکاری  طریقہ کار میں  ریاستوں کو  25  فیصد خوراکیں دی جارہی ہیں اور پرائیویٹ اسپتالوں کو 25  فیصد  خوراکیں دی جارہی ہیں۔ البتہ  ریاستوں کی طرف سے یہ 25  فیصد  ٹیکے لگانے میں  درپیش  رکاوٹوں اور مسائل  کو  دور کرنے  کے لئے کافی کچھ کیا جانا ہے۔ یہ وقت سیاست کا نہیں  ہے اور اس لڑائی میں ہر ایک کو متحد رہنا چاہئے۔

افواہ – 7 : بچوں کو  ٹیکہ لگانے  کے اقدامات نہیں کر رہا ہے۔

سچ : اب تک دنیا میں کوئی بھی ملک بچوں کے ٹیکہ نہیں لگا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او نے بھی بچوں کے ٹیکہ لگانے کی سفارش نہیں کی ہے۔ بچوں میں  ٹیکہ کاری کی حفاظت کے بارے میں مطالعات ہیں، جو  حوصلہ افزا ہیں، بھارت میں  بچوں پر تجربہ کرنے  کا کام  جلد ہی شروع ہو جائے گا۔ البتہ  بچوں کی ٹیکہ کاری کے بارے میں فیصلہ  واٹس ایپ گروپ میں  دہشت کی بنیاد پر  نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ  کچھ سیاست داں  سیاسی کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ  ہمارے سائنس دانوں کو  تجربوں پر  مبنی  وافر  اعداد وشمار  کی بنیاد پر  کرنا چاہئے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۰۰۰۰۰۰۰۰

(ش ح- ا س- ق ر)

U-4872



(Release ID: 1722101) Visitor Counter : 81