بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت

بڑی بندر گاہوں نے آکسیجن اور اس سے متعلق آلات لانے لے جانے والے بحری جہازوں پر سبھی طرح کے چارجز ہٹائے

آکسیجن سے متعلق سامان کو لانے لے جانے کو اولین ترجیح

Posted On: 25 APR 2021 12:53PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 25  اپریل ، 2021 / ملک میں آکسیجن اور اس سے متعلق آلات کی کافی زیادہ ضرورت کے تناظر میں حکومت نے کامراجار پورٹ لمیٹیڈ سمیت سبھی بڑی بندرگاہوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پورٹ ٹرسٹوں کی طرف سے عائد چارجز کو ختم کر دیں (بحری جہازوں سے متعلق چارجز ، اسٹوریج چارجز وغیرہ) اور مندرجہ ذیل اشیاء لانے لے جانے والے بحری جہازوں کے آنے جانے کو اولین ترجیح دیں :

  • طبی درجے کا آکسیجن،
  • آکسیجن ٹینک،
  • آکسیجن بوتلیں،
  • ایک جگہ سے دوسری جگہ لائے جانے والے آکسیجن جنریٹر،
  • آکسیجن کنسنٹریٹرس،
  • آکسیجن سلینڈرز بنانے والے اسٹیل پائپ اور اس سے متعلق آلات پر سے اگلے تین مہینے کے لیے یا مزید احکامات جاری ہونے تک

بندرگاہوں کے چیئر پرسن سے کہا گیا ہے کہ وہ لاجسٹک کام کاج کی ذاتی طور پر نگرانی کریں تاکہ ان بندرگاہوں میں اس طرح کے جہازوں کی نقل و حرکت بلا رکاوٹ ہوسکے۔ آکسیجن سے متعلق  سامان کو بلارکاوٹ اتارا جا سکے، تیزی سے منظوری ، دستاویز اور بندرگاہ سے آکسیجن سے متعلق سامان کو تیزی سے اتارنے میں کسی طرح کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

اگر کوئی جہاز مندرجہ بالا سامان کے علاوہ کوئی دیگر سامان یا کنٹینر لے جا رہا ہے تو  بندرگاہ پر مجموعی سامان یا کنٹینر کے تناسب چارجز ہٹا دیئے جائیں۔

بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت ، اس طرح کے جہازوں ، سامان اور بندرگاہ کی حدود میں کسی جہاز کے داخل ہونے سے لے کر بندرگاہ کے دروازے سے باہر نکلنے تک کے وقت کی تفصیلات پر نظر رکھے گی۔

حکومت ملک بھر میں کووڈ کی دوسری لہر سے متعلق بحران سے نمٹنے میں گہرے طریقے سے مصروف ہے اور موزوں اور اختراعی اقدامات کے ذریعے بحران سے نمٹنے کے سبھی اقدامات کر رہی ہے۔

۔۔۔

م ن ۔ اس۔ ت ح ۔                                               

25.04.2021

U –3957



(Release ID: 1714043) Visitor Counter : 11