وزارتِ تعلیم

مرکزی وزیر تعلیم نے "دنیا کا پہلا سستا اور دیرپا حفظان صحت پروڈکٹ ڈوروکیہ سیریز" کا آغاز کیا. اسے آئی آئی ٹی حیدرآباد کے محققین نے تیار کیا ہے

نئی جنریشن کی ڈوروکیہ اینٹی مائکروبیل ٹکنالوجی ابتدائی طور پر 189 روپے میں دستیاب ہے اور یہ فوری طور پر 99.99 فیصد جراثیم کو ہلاک کردیتی ہے اور اس کی نینوسکل کوٹنگ کا اثر آئندہ 35 دن بعدپہلی دھلائی تک رہتا ہے۔ جناب رمیش پوکھریال ’نشنک‘

Posted On: 16 APR 2021 3:00PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی 16 اپریل  2021: مرکزی وزیر تعلیم جناب  رمیش پوکھریال ‘نشنک’ نےغیر روایتی طور پر "دنیا کا پہلا سستا اور دیرپا حفظان صحت پروڈکٹ ڈوروکیہ سیریز" کا آغاز کیا. اسے آئی آئی ٹی حیدرآباد کے محققین نے تیار کیا ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی حیدرآباد کے محققین نے بائیو میڈیکل انجینئرنگ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جیوتسیندو گِری کی قیادت میں جو ایفوکئیر انوویشن پرائیوٹ لمیٹیڈ کے بانی ہیں، کووڈ 19 وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کی جدید ڈوروکیہ دیرپا ٹکنالوجی تیار کی ہے۔ اسے  آئی آئی ٹی حیدرآباد کے آئی ٹی آئی سی میں تیار کیا گیا ہے۔ آئی آئی ٹی حیدرآباد کے بورڈ آف گورنرس کے چیئرمین جناب بی. وی. آر موہن ریڈی، پروفیسر بانی ڈین ای ایس آئی سی میڈیکل کالج اینڈہاسپیٹل، حیدرآباد ، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر ایم سرینواس، پروفیسر بی ایس مورتی اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کے دیگر عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر جناب پوکھریال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دروکیہ پروڈکٹ کا تعلق  وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے خود انحصاری حاصل کرنے کے تصور سے ہے۔ نئی جنریشن کی ڈوروکیہ اینٹی مائکروبیل ٹکنالوجی ابتدائی طور پر 189 روپے میں دستیاب ہے اور یہ  فوری طور پر 99.99  فیصد جراثیم کو ہلاک کردیتی ہے اور اس کی نینوسکل کوٹنگ کا اثر آئندہ 35 دن  بعد پہلی  دھلائی تک رہتا ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ ڈوروکیہ رینج کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ جراثیم کی فوری ہلاکت (60 سیکنڈ کے اندر) اور طویل عرصے تک  تحفظ کو یقینی بناتا ہے جو عالمی وبا کی موجودہ  صورتحال  کے دوران ایک بے حد اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈووروکیہ پروڈکٹ کی اس انقلابی اینٹی مائکروبیل پراپرٹی کی ہندوستانی حکومت کی طرف سے تسلیم شدہ لیب میں جانچ اور تصدیق کی گئی ہے اور آئی ای ٹی حیدرآباد کیمپس میں اس کی عملی جانچ کی گئی ہے۔

انہوں نے اس کامیابی پر ڈوروکیہ ٹکنالوجی کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کے محققین اور طلباء پر زور دیا کہ وہ اس ی طرح عظیم خدمات انجام دیتے اور ملک کا نام روشن کرتے رہیں۔

آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی نے ڈوروکیہ ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے  کہا کہ "آئی آئی ٹی حیدرآباد ہمیشہ ہی حیرت انگیز تحقیق میں سب سے آگے رہتا ہے۔ یہ بار بار اور خاص طور پر اس عالمی وبائی  کے دوران ثابت ہوا ہے۔

آئی آئی ٹی ایچ نے بہت سارے حل پیش کئے ہیں جن میں کم قیمت والے وینٹی لیٹر، مؤثر ماسک، موبائل ایپس اور فاسٹ کوویڈ 19 ٹیسٹ کٹ شامل ہیں۔ ڈوروکیہ کوویڈ 19 سے لڑنے کے لئے آئی آئی ٹی حیدرآباد سے  کی ایک ایسی ہی منفرد ایجاد  ہے۔ میں آئی آئی ٹی حیدر آباد  کو انسایت کے حق میں ایجاد و اختراع گاہ قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کرتا ہوں کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد اس طرح کی بہت ساری نئی ایجادات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

 

 

ڈوروکیہ ایس ، ڈوروکیہ ایم ، ڈوروکیہ ایچ  اور ڈروکیہ ایچ ایکوا جدید "ڈروکیہ ٹکنالوجی" کا استعمال کرتے ہوئے ایک چپکنے والی نینو تشکیل ہے۔ "ڈوروکیہ کا یہ سنجیدہ پروڈکٹ جراثیم کو فوری طور پر ہلاک کرتا ہے اور کوویڈ 19 وائرس سمیت کئی طرض کی جراثیم سے دیر پا حفاظت فراہم کرتا ہے۔ ہر پروڈکٹ کا بڑے پیمانے پرعملی آزمائش کے ذریعے تجربہ کیا گیا ہے اور ہندوستانی حکومت کی مختلف منظوری شدہ لیبارٹریوں میں اس کی توثیق کی گئی ہے۔ منسلک دستاویز میں ہر پروڈکٹ کے بارے میں مزید پڑھیں یا www.keabiotech.com دیکھیں۔

یہ آئی آئی ٹی حیدرآباد کی ایک انتہائی موثر اور سستی تحقیقی اختراع  ہے  جسے ڈاکٹر جیوتسنیندو گیری ، شعبہ بایو میڈیکل انجینئرنگ ، آئی آئی ٹی حیدرآباد کی سربراہی میں ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔ ڈاکٹر سنیل کمار یادو ، ڈاکٹر قاسم ایم ، محترمہ میناکشی چوہان، محترمہ روبی سنگھ ، محترمہ سپرنا باسو، محترمہ عظمیٰ حسن، مسٹر جیا کمار اور ڈاکٹر پورندھی روپ مانی کی اس اختراع کے تعلق سے یکساں نظریہ رکھتے ہیں۔

****

U.No. 3765

م ن۔ ر ف ۔س ا

 



(Release ID: 1712319) Visitor Counter : 38