وزارت خزانہ

اقتصادی سروے 21-2020 کی تلخیص


مالی سال 22-2021 میں بھارت کی حقیقی جی ڈی پی شرح ترقی 11 فیصد اور خیالی  جی ڈی پی شرح ترقی 15.4 فیصد رہے گی، جو ملک کی آزادی کے بعد سب سے زیادہ ہے



بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم ، سروس سیکٹر میں تیزی سے ہو رہی بہتری استعمال اور سرمایہ کار ی  میں فوری اضافہ کی بدولت ‘وی’ شکل میں  اقتصادی ترقی ہوگی



مسلسل آنے والے ڈیٹا جیسے کہ بجلی کی مانگ، ریلوے سے مال کی ڈھلائی کا کرایہ، ای-وے بلوں، جی ایس ٹی کی وصولی اور اسٹیل کے استعمال میں قابل ذکر اضافہ کی وجہ سے ‘وی’ شکل میں اقتصادی پیش رفت ہوگی



آئی ایم ایف کے مطابق بھارت اگلے 2برسوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادیات بن جائے گا



مالی سال 21-2020 میں بھارت کی جی ڈی پی شرح ترقی (-) 7.7فیصد رہنے کا امکان



اس سال زرعی شرح ترقی 3.4 فیصد ہوگی، جبکہ صنعتی شرح  ترقی (-) 9.6 فیصد اور سروس شرح ترقی  (-) 8.8 فیصد رہے گی


بھارت میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس مالی سال 2021 میں جی ڈی پی کا 2 فیصد رہے گا، جو 17 برسوں کے بعد تاریخی طور پر سب سے اونچی سطح ہے


ملک میں مجموعی ایف پی آئی کی آمد نومبر 2020 میں 9.8 ارب ڈالر کی سب سے اونچی ماہانہ سطح پر رہی

Posted On: 29 JAN 2021 3:48PM by PIB Delhi

مالی سال 22-2021 میں بھارت کی حقیقی جی ڈی پی شرح ترقی 11 فیصد اور خیالی جی ڈی پی شرح ترقی 15.4 فیصد رہے گی، جو ملک کی آزادی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری کی مہم ، سروس سیکٹر میں تیزی سے ہو رہی بہتری اور استعمال اور سرمایہ کاری میں فوری اضافہ کے امکانات کی بدولت ملک میں ‘ وی’ شکل میں اقتصادی ترقی ممکن ہوگی۔                     مالیات اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے  آج پارلیمنٹ میں  اقتصادی سروے 21-2020 پیش کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے کم رہنے والے متعلقہ اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ کووڈ-19کے علاج میں کارگر ٹیکوں کا استعمال شروع کر دینے سے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کے مسلسل معمول پر آنے کی بدولت ہی اقتصادی ترقی پھر سے تیز رفتار پکڑ پائے گی۔ ملک کے بنیادی اقتصادی عناصر اب بھی مضبوط ہیں، کیونکہ لاک ڈاؤن کو سلسلے وار طریقے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ آتم نربھر بھارت مشن کے ذریعے دی  جا رہی ضروری  امداد کے سہارے اقتصادیات بڑی مضبوطی کے ساتھ بہتری کی راہ پر گامزن ہو گئی ہے۔ اس راہ پر گامزن ہونے کی بدولت 20-2019 کی شرح ترقی کے مقابلے حقیقی جی ڈی پی میں 2.4 فیصد کا اضافہ درج ہوگا، جس کا مطلب یہی ہے کہ اقتصادیات 2 سالوں میں ہی وبائی مرض سے پہلے کی حالت پر پہنچنے کے ساتھ ساتھ اس سے بھی آگے نکل جائے گی۔ یہ اندازہ دراصل آئی ایم ایف کے  تخمینہ کے مطابق ہی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی حقیقی جی ڈی پی شرح ترقی مال سال 22-2021 میں 11.5فیصد ا ور مالی سال 23-2022 میں 6.8 فیصد رہے گی۔ آئی ایم ایف کے مطابق بھارت اگلے 2 سالوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادیات بن جائے گا۔

1-image001URDV.jpg

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ‘ سو سال میں ایک بار’ بھاری قہر ڈھانے والے اس قسم کے خطرناک بحران سے نمٹنے کے لئے بھارت نے انتہائی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، جومختلف پالیسی ساز قدم اٹھائے ہیں، اس سے مختلف ممالک کو متعدد اہم سبق ملے ہیں، جس سے وہ غیر دور اندیش پالیسیاں بنانے سے بچ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے یہ پالیسی ساز قدم طویل مدتی فائدوں پر     فوکس کرنے کے اہم فائدوں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ بھارت نے کنٹرول، معاشی، مالیاتی اور طویل مدتی بنیادی ڈھانچوں سے متعلق اصلاحات کے چار ستونوں والی انوکھی حکمت عملی اپنائی۔ ملک میں ابھرتے اقتصادی منظرنامہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے منظم طریقے سے    مالی اور معاشی امداد فراہم کی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اس دوران سلسلے وار طریقے سے اَن لاک کرتے  وقت متعلقہ سرکاری طریقوں کے مالیات اثرات اور قرضوں کے تسلسل  کو بھی دھیان میں رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ غیر محفوظ پائے گئے لوگوں کو ضروری مدد فراہم کی گئی اور اس کے ساتھ ہی مختلف اشیا کے استعمال اور سرمایہ کاری کو کافی فروغ حاصل ہوا۔   مناسب مالیاتی پالیسی سے سازگار ماحول پیداہوا، اسی طرح مالیاتی پالیسی کے اقدام کا فائدہ مہیا کرتے وقت قرضداروں کو عارضی مہلت کے ذریعے فوری راحت فراہم کی گئی۔

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ مال سال 21-2020 میں بھارت کی جی ڈی پی شرح ترقی (-) 7.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ پہلی ششماہی میں جی ڈی پی میں 15.7 فیصد کی تیز گراوٹ اور دوسری ششماہی میں 0.1 فیصد کی انتہائی کم گراوٹ کو دیکھتے ہوئے ہی یہ اندازہ لگایا گیا ہے۔ مختلف شعبوں پر نظر ڈالنے پر یہی پتہ چلتا ہے کہ زرعی شعبہ اب بھی امید کی کرن ہے، جبکہ لوگوں کے آپسی رابطے والی خدمات ، مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبہ بُری طرح متاثر ہوئے تھے، جن میں آہستہ آہستہ بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ سرکاری استعمال   اور  اصل برآمدات کے دم پر ہی اقتصادی ترقی میں مزید گراوٹ دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔

2-image002CFSW.jpg

جیسا کہ  اندازہ لگایا گیا تھا، لاک ڈاؤن کے سبب  پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں (-) 23.9 فیصد کی بھاری گراوٹ درج کی گئی۔ وہیں بعد میں ‘ وی’ شکل میں اضافہ یعنی مسلسل اچھا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جو دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 7.5 فیصد کی نسبتاً کم گراوٹ اور سبھی اہم اقتصادی اشاریوں میں ہو رہی بہتری سے ظاہر ہوتی ہے۔ گزشتہ جولائی ماہ سے ہی  ‘ وی’ شکل میں اقتصادی بہتری لگاتار جاری ہے، جو پہلی سہ ماہی میں بھاری گراوٹ کے بعد دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی میں درج کی گی نسبتاً کم گراوٹ سے ظاہر ہوتی ہے۔ بھارت میں  وبائی مرض کے بعد بڑھتی سرگرمی پر توجہ کرنے پر یہ پتہ چلتا ہے کہ     مختلف اشاریئے جیسے کہ  ای-وے بل، ریل سے مال ڈھلائی کا کرایہ، جی ایس ٹی جی وصولی اور بجلی کی مانگ بڑھ کر نہ صرف وبائی مرض سے پہلے کی سطحوں پر پہنچ گئی ہے، بلکہ پچھلے سال کی سطحوں کو بھی پار کر گئی ہے۔ ریاست کے اندر اور ایک ریاست سے دوسری ریاست میں آمدورفت کو پھر سے شروع کر دینے اور ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ماہانہ جی ایس ٹی وصولی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملک میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کو کس قدر تیز کر دیا گیا ہے۔ کمرشیئل پیپر کی تعداد میں تیزی سے اضافہ، پیداوار میں آسانی پیدا کرنے اور ایم ایس ایم ای کو ملے قرضوں میں قابل ذکر اضافہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مختلف صنعتوں کو  اپنا وجود برقرار رکھنے اور آگے بڑھنے کے لئے بڑی مقدار میں قرض مل رہے ہیں۔

مختلف  شعبوں میں بہتری کے رُخ کو دھیان میں رکھتے ہوئے اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال کے دوران مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بھی قابل ذکر مضبوطی دیکھی گئی، دیہی علاقوں میں بڑھتی مانگ سے  مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو ضروری سہارا ملا اور اس کے ساتھ ہی تیزی سے بڑھتے ڈیجیٹل لین دین کے طور پر استعمال سے متعلق بنیادی تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ زرعی شعبے کی بدولت سال 21-2020 میں ہندوستانی اقتصایات کو کووڈ-19 وبائی مرض سے لگے تیز جھٹکوں کے اثر ات کافی کم ہو جائیں گے۔  زرعی شعبے کی شرح ترقی پہلی سہ ماہی کے ساتھ ساتھ دوسری سہ ماہی میں بھی 3.4 فیصد رہی ہے۔ سرکار کے ذریعے نافذ کی گئی مختلف ترقی پسند اصلاحات نے زرعی شعبے کی ترقی میں قابل ذکر تعاون فراہم کیا ہے، جو مالی سال 21-2020 میں بھی بھارت کی  ترقی کے لئے امید کی کرن ہیں۔

مالی سال کے دوران صنعتی پیداوار میں ‘وی’ شکل میں بہتری دیکھنے کو ملی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر نے پھر سے تیز رفتار پکڑی۔ اسی طرح صنعتی قیمت یا پیداوار پھر سے حسب معمول ہونے لگی۔ بھارت کا سروس سیکٹر وبائی مرض کے دوران گراوٹ دکھانے کے بعد پھر سے بہتری کی راہ پر لگاتار آگے بڑھ رہا ہے۔ دسمبر میں پی ایم آئی خدمات کی پیداوار اور نئے کاروبار میں لگاتار تیسرے مہینے اضافہ درج کیا گیا۔

خطرہ نہ اٹھانے کی فطرت اور قرضوں کی گھٹتی مانگ کے سبب مالی سال 21-2020 میں بینک قرضوں کی سطح نچلی سطح پر بنی رہی، حالانکہ زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں کے لئے دیئے گئے قرض اکتوبر 2019 کے 7.1فیصد سے بڑھ کر اکتوبر 2020 میں 7.4 فیصد کی سطح پر پہنچ گئے۔ اکتوبر 2020 کے دوران تعمیر، تجارت اور میزبانی جیسے شعبوں میں قرض کی آمد میں  قابل ذکر اضافہ درج کیا گیا، جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بینک کے قرض کی آمد دھیمی ہی بنی رہی۔ سروس سیکٹر میں قرض کی آمد کی رفتار اکتوبر 2019 کے 6.5 فیصد سے بڑھ کر اکتوبر 2020 میں 9.5 فیصد ہو گئی۔

غذائی اشیا کی بڑھتی قیمتوں کے سبب ہی سال 2020 میں مہنگائی اونچی سطح پر  بنی رہی۔ حالانکہ دسمبر 2020 میں مہنگائی کی شرح گر کر 2-/+4 فیصد کی مقررہ رینج میں آکر 4.6فیصد درج کی گئی، جبکہ نومبر میں یہ 6.9 فیصد تھی۔ غذائی اشیا خاص کر سبزیوں، موٹے اناجوں اور پروٹین سے بھرپور پیداوار کی قیمتوں میں گراوٹ ہونے اور پچھلے سال کے مقابلے کم اعداد و شمار سے ہی ممکن ہو پایا۔

باہری شعبے سے بھی بھارت میں ترقی کو کافی سہارا ملا۔ دراصل کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی کا  3.1 فیصد رہا، جو سروس کی برآمدات میں قابل ذکر اضافہ اور کم مانگ کی بدولت ممکن ہوا۔ اس وجہ سے برآمدات ( کاروباری اشیا کی برآمدات میں 21.2 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ ) کے مقابلے درآمدات ( کاروباری اشیا کی درآمدات میں 39.7فیصد کی گراوٹ کے ساتھ)  میں تیز گراوٹ درج کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ملک میں غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ اتنا زیادہ بڑھ گیا، جس سے 18 ماہ کی درآمدات کو کور کیا جا سکتا ہے۔

جی ڈی پی کے تناسب کے طور پر باہری یا  غیر ملکی قرض مارچ 2020 کے  آخر کے  20.6 فیصد سے معمولی بڑھ کر  ستمبر 2020 کے آخر میں 21.6 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا۔ حالانکہ غیر ملکی کرنسی کے ذخیرے میں قابل ذکر اضافہ کی بدولت غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ اور کُل قلیل مدتی قرض (سرمایہ اور بقیہ) کا تناسب بہتر ہوگیا۔ بھارت مالی سال 21-2020 میں بھی  سرمایہ کاری کی پسندیدہ  منزل بنا رہا، جو عالمی سرمایہ کاری کو  شیئروں میں لگانے اور ابھرتی اقتصادیات میں تیزی سے بہتری آنے کے امکانات کے مدنظر ممکن ہو پایا ہے۔ ملک میں ایس پی آئی کی اصل آمد نومبر 2020 میں 9.8 ارب ڈالر کی سب سے زیادہ ماہانہ اعلیٰ سطح پر پہنچ گئی، جو سرمایہ کاروں نے پھر سے خطرہ اٹھانے کی فطرت بڑھنے، عالمی سطح پر مالیاتی پالیسی کو لبرل بنانے  اور اعلان کئے گئے مالی پیکیجوں کے مدنظر  بہتر نتائج حاصل کرنے پر خاص زور دینے اور امریکی ڈالر کے کمزور ہونے سے ممکن ہوا۔ بھارت سال 2020 میں مختلف ابھرتے بازاروں میں واحد ایسا ملک رہا، جہاں ایکویٹی میں ایف آئی آئی کی آمد ہوئی ۔

تیزی سے اونچی چھلانگ لگاتے سینسیکس اور نفٹی کی بدولت بھارت نے بازار کی سرمایہ داری اور مجموعی گھریلو پیداوار  ( جی ڈی پی) تناسب  اکتوبر 2010 کے بعد پہلی بار 100 فیصد کی سطح کو پار کر گیا۔ حالانکہ اس سے مالی بازاروں اور حقیقی شعبے میں کوئی تال میل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔

مالی سال  کی دوسری ششماہی میں برآمدات میں 5.8 فیصد اور درآمدات میں 11.3 فیصد کی گراوٹ ہونے کا امکان ہے۔ بھارت میں کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس مالی سال 2021 میں جی ڈی پی کا 2 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو 17 سالوں کے بعد تاریخی طور پر سب سے اونچی سطح ہے۔

جہاں تک سپلائی سے جڑی حالت کا سوال ہے، مجموعی قدر کی اضافہ شدہ (جی بی اے) ترقی کی شرح مالی سال 21-2020 میں (-) 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے،جبکہ مالی سال 20-2019 میں 3.9 فیصد تھی۔ کووڈ -19 وبائی مرض کے سبب مالی سال 21-2020 میں ہندوستانی اقتصادیات  کو لگے تیز جھٹکوں کا اثر زرعی شعبے کی بدولت کم ہو جانے کا امکان ہے، کیونکہ  اس کی شرح ترقی 3.4 فیصد رہنے کی امید ہے، جبکہ مالی سال  کے دوران  صنعت اور سروس  کی شرح ترقی بالترتیب (-) 9.6 اور (-) 8.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اقتصادی سروے میں اس بات کی طرف  اشارہ کیا گیا ہے کہ سال 2020 کے دوران جہاں ایک طرف کووڈ-19 وبائی مرض نے بڑے پیمانے پر قہر برپا کیا، وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر اقتصادی سستی  گہرا جانے کا امکان ہے، جو عالمی اقتصادی بحران کے بعد سب سے زیادہ سنگین حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ لاک ڈاؤن اور سماجی دوری سے جڑے مختلف پیمانوں کے سبب پہلے سے ہی دھیمی پڑ رہی عالمی اقتصادیات مزید سست ہو گئی۔ سال 2020 میں عالمی سطح پر اقتصادی پیداوار میں 3.5 فیصد ( آئی ایف ایم نے جنوری 2021 میں یہ اندازہ لگایا ہے) کی گراوٹ آنے کا امکان ہے، جو پوری صدی میں سب سے زیادہ گراوٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ اسے ذہن میں رکھتے ہوئے دنیا بھر کی سرکاروں اور مرکزی بینکوں نے اپنی اپنی اقتصادیات کو ضروری امداد دینے کے لئے متعدد پالیسی ساز قدم اٹھائے، جیسے کہ    اہم پالیسی ساز شرحوں میں کمی کی گئی، بڑی مقدار میں لبرل طریقے اپنائے گئے، قرضوں پر گارنٹی دی گئی، نقد رقم منتقل کی گئی اور مالیاتی پیکیج کا اعلان کیاگیا۔  حکومت ہند نے وبائی مرض سے  پیدا ہوئی مختلف رکاوٹوں کو پہچانا اور اس کے ساتھ ہی کئی بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بھارت کے لئے مایوس کن ترقیاتی اندازوں کا اظہار کئے جانے کے درمیان ملک کی وسیع آبادی، بہت زیادہ گھنی آبادی اور توقع سے کم صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچوں پر مبنی سہولیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے ملک کے لئے مخصوص ترقیاتی راہ پر چلنا یقینی بنایا۔

اقتصادی سروے میں اس جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ ملک میں وبائی مرض کا بحران شروع ہونے کے وقت  ( جب بھارت میں کووڈ کے صرف 100 تصدیق شدہ معاملے ہی تھے) ہی جس طرح سے کافی سخت لاک ڈاؤن لگایا گیا، وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لئے بھارت کے ذریعے اٹھائے گئے قدم کتنے معنوں میں انوکھے تھے۔ پہلا، وبائی مرض کے سائنس اور اقتصادی تحقیقی             اداروں دونوں سے ہی موصول نتائج کو ذہن میں رکھ کر پالیسی ساز فیصلے کئے گئے۔ خاص کر وبائی مرض کے پھیلنے کو لے کر پیدا ہوئی غیر یقینی حالت کے مد نظر سرکاری پالیسی کے تحت ہینسن اور سارجنٹ  کے نوبل انعام حاصل کرنے والی تحقیق(2001) کو نافذ کیا گیا، جس کے تحت ایسی پالیسی اپنانے کی سفارش کی گئی ہے، جس میں بے حد نا موافق حالات میں بھی کم از کم لوگوں کی موت ہو۔ غیر متوقع وبائی مرض کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بے حد نا موافق حالات میں بے شمار زندگیوں کو بچانے پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وبائی مرض کے سائنس سے متعلق تحقیق میں خاص کر ایسے ملک میں شروع میں ہی انتہائی سخت لاک ڈاؤن لگانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے، جہاں حد سے زیادہ آبادی کی کثافت  کے سبب سماجی دوری کے پیمانوں کی تعمیل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔  لہذا لوگوں کی زندگیوں کو بچانے پر فوکس کرنے والے بھارت کے پالیسی ساز فیصلوں کے تحت یہ بات  نشان زد کی گئی کہ شروع میں ہی سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے بھلے ہی لوگوں کو تھوڑے وقت تک تکلیف ہو، لیکن اس سے لوگوں کو موت کے منھ سے بچانے اور اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے طور پر طویل مدتی فائدے حاصل ہوں گے۔ طویل مدتی فائدے کے لئے  قلیل مدتی تکلیف اٹھانے کے لئے ہمیشہ تیار رہنے والے بھارت کے ذریعے اٹھائے گئے مختلف ہمت وَر قدموں سے ہی ملک میں بے شمار زندگیوں کو بچانا اور ‘وی’ شکل میں اقتصادی ترقی ممکن ہو پائی ہے۔

دوسرا،  بھارت نے اس بات کو بھی اچھی طرح سے کافی پہلے ہی سمجھ لیا کہ وبائی مرض سے ملک کی اقتصادیات میں اشیا کی سپلائی اور مانگ  دونوں ہی متاثر ہو رہی ہیں۔ اسے ذہن میں رکھتے ہوئے متعدد  اصلاحات نافذ کی گئیں تاکہ لاک ڈاؤن کے سبب اشیا کی سپلائی میں لمبے عرصے تک کوئی خاص رکاوٹ نہ آئے۔ اس نقطہ نظر سے بھی بھارت کا یہ قدم تمام اہم ممالک کے مقابلے انوکھا ثابت ہوا ہے۔ اشیا کی مانگ بڑھانے والی پالیسی کے تحت اس بات کو دھیان میں رکھا گیا کہ مختلف اشیا، خاص کر غیر ضروری اشیا کی کُل مانگ کی بجائے بچت پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، جو بڑے پیمانے پر غیر یقینی کی حالت میں کافی بڑھ جاتی ہے۔ لہذا  وبائی  مرض کے ابتدائی مہینوں،  جس دوران غیر یقینی کی صورتحال بہت زیادہ تھی اور لاک ڈاؤن کے تحت اقتصادی پابندیاں لگائی گئی تھیں، میں بھارت  نے غیر ضروری اشیا کے استعمال پر بیش قیمتی  مالیاتی وسائل کو برباد نہیں کیا۔  اس کی بجائے پالیسی میں تمام ضروری اشیا کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے تحت سماج کے کمزور طبقوں کو  براہ راست  فائدوں  کو منتقل کرنے اور 80.96 کروڑ مستفیدین کو ٹارگٹ کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے غذائی سبسڈی پروگرام پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بھارت سرکار نے بحران میں مبتلا شعبوں کو ضروری راحت فراہم کرنے کے لئے ایمرجنسی لون گارنٹی اسکیم بھی شروع کی، جس سے کہ مختلف کمپنیوں کو اپنے یہاں روزگاروں کو  بنائے رکھنے اور اپنی دین داریوں کی ادائیگی میں مدد مل سکے۔

‘ اَن لاک’ مرحلہ، جس کے دوران غیر یقینی حالت کے ساتھ ساتھ بچت کرنے کی ضرورت کم ہو گئی اور  اقتصادی آمدورفت بڑھ گئی، میں بھارت سرکار نے اپنے مالیاتی خرچ میں کافی اضافہ کر دیا ہے۔ مناسب مالی پالیسی نے بہتر ماحول یا نقدی کو یقینی بنایا اور مالی پالیسی کا فائدہ لوگوں کو دینے کے لئے عارضی مہلت کے ذریعے قرضداروں کو فوری راحت دی گئی۔ لہذا بھارت کی مانگ بڑھانے سے متعلق پالیسی کے تحت یہ بات نشان زد کی گئی ہے کہ صرف بربادی کو روکنے پر ہی بریک لگایا جائے اور مختلف سرگرمیوں میں تیزی لانے کا کام مسلسل جاری رکھا جائے۔

سال 2020 نے نوول کووڈ -19 وائرس  کا قہر بڑے پیمانے پر پوری دنیا میں برپا کیا، جس سے لوگوں کی آمدورفت، تحفظ اور معمولات زندگی سبھی خطرے میں پڑ گئے۔ اس وجہ سے بھارت سمیت     پوری دنیا اس پوری صدی کی سب سے مشکل اقتصادی چنوتی کا سامنا کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اس وبائی مرض کا کوئی علاج یا ٹیکہ نہ ہونے کے مدنظر اس وسیع بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی سرکاروں کی صحت عامہ کی پالیسی پر ہی    مرکوز ہو گئی۔ جہاں ایک طرف وبائی مرض کے پھیلنے کو کنٹرول میں رکھنے کی لازمیت  محسوس کی جا رہی تھی، وہیں دوسری طرف اسے قابو میں رکھنے کے لئے لاگو کئے گئے لاک ڈاؤن کے تحت مختلف  اقتصادی سرگرمیوں پر لگائی گئی پابندیوں سے پیدا ہوئی اقتصادی سستی سے لوگوں کا ذریعہ معاش بھی بحران کا شکار ہو گیا۔ آپس میں جڑے ان مسائل کے سبب ہی ‘ جان بھی ہے ، جہان بھی ہے’ کی پالیسی ساز حالت پیدا ہو گئی۔

****

(ش ح   ۔ق ت ۔  ک ا)

U- 939

 

 



(Release ID: 1693347) Visitor Counter : 228