وزارت خزانہ

کووڈ-19وباءکے دوران بڑے پیمانے پر آن لائن تعلیم کی سہولت فراہم کی گئی:اقتصادی جائزہ 21-2020

دیہی بھارت میں اسکولی طلباء کے پاس اسمارٹ فون کی تعداد 2008 ءمیں 36.5 فیصد کے مقابلے میں 2020ء میں بڑھ کر 61.8 فیصد  ہوگئی

Posted On: 29 JAN 2021 3:43PM by PIB Delhi

خزانہ اور    کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادہ جائزہ 21-2020ء پیش کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19وباء کے دوران بڑے پیمانے پر آن لائن تعلیم کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ اکتوبر 2020ء میں شائع سالانہ تعلیمی صورتحال رپورٹ (اے ایس ای آر)2020ء مرحلہ  -1(دیہی)کا ذکر کرتے ہوئے جائزے میں کہا گیا ہے کہ دیہی بھارت میں سرکاری اور نجی اسکولوں میں اندراج یافتہ طلباء کے پاس اسمارٹ فون کی تعداد میں زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔ 2018ء میں 36.5فیصد طلباء کے پاس ہی اسمارٹ فون تھے، وہیں 2020ء میں 61.8 فیصد طلباء کے پاس  اسمارٹ فون موجود تھے۔ جائزے میں صلاح دی گئی ہے کہ مناسب استعمال کیا گیا تو شہری اور دیہی ، صنفی، عمر اور آمدنی سے متعلق گروپوں کے درمیان ڈیجیٹل تفریق اور تعلیمی نتائج میں فرق ختم ہوگا۔

کووڈ-19وباء کے دوران ، بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کےلئے حکومت نے متعدد مثبت اقداما ت کئے ہیں۔ اس سمت میں ایک اہم پہل پی ایم –ای وِدیا کی شروعات ہے، اس سے برابری کا موقع حاصل ہوتا ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ(این آئی او ایس)سے متعلق سویم موک(ایم او او سی ایس) کے تحت تقریباً 92 آن لائن کورسیز شروع کئے گئے ہیں اور 1.5 کروڑ طلباء نے اپنا اندراج کرایا ہے۔ کووڈ-19 کا اثر  ختم کرنے کےلئے ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ڈیجیٹل ذریعے سے آن لائن تعلیم دینے کےلئے 818.17کروڑ روپے مختص کئے گئے۔سمگر سکشا اسکیم کے تحت اساتذہ کو آن لائن ٹیچرز ٹریننگ دینے کےلئے 267.86کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ کووڈ کی وباء کے سبب اسکول بند ہونے کی وجہ سے طلباء کو گھر پر ہی آن لائن تعلیم دینے کےلئے ڈیجیٹل تعلیم کے بارے میں پرگیتا(پی آر اے جی وائی اے ٹی اے) رہنما ہدایات جاری کئے گئے ہیں۔ آتم نر بھر بھارت ابھیان میں نفسیاتی تعاون کے لئے مَنودرپن پہل شروع کی گئی ہے۔

اقتصادی جائزہ 21-2020ء کے مطابق، بھارت میں اگلی دہائی تک دنیا میں سب سے زیادہ نوجوانوں کی تعداد ہوگی۔اس لئے ملک کا مستقبل تیار کرنے کے مقصد سے ان نوجوانوں کےلئے اعلیٰ معیار والی تعلیم کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔(قومی تعلیمی پالیسی 2020)یو ڈی آئی ایس ای  19-2018ء کے مطابق  9.72لاکھ سرکاری پرائمری اسکولوں کے فیزیکل ڈھانچے میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ ان میں سے 90.2 اسکولوں میں لڑکیوں کے لئے بیت الخلاء اور 93.7 فیصد اسکولوں میں لڑکوں کےلئے بیت الخلاء کا نظم ہے۔ 95.9 فیصد اسکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت ہے۔82.1 فیصد اسکولوں میں پینے، بیت الخلاء  اور ہاتھ دھونے کے پانی دستیاب ہے۔  84.2 فیصد اسکولوں میں طبی جانچ کی سہولت موجود ہے۔ 20.7 فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر اور 67.4 فیصد اسکولوں میں بجلی کا کنکشن اور 74.2 فیصد اسکولوں میں ریمپ  کی سہولت کے ساتھ دیگر سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔

جائزے کے مطابق بھارت میں پرائمری اسکول کی سطح پر 96 فیصد شرح خواندگی حاصل کرلی ہے۔  نیشنل سیمپل سروے(این ایس ایس)کے مطابق ملک گیر سطح پر سات سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خواندگی کی شرح 77.7 فیصد ہے۔ ہندو اور مسلم برادریوں کی خواتین سمیت درج فہرست ذات ، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات کی خواتین کی شرح خواندگی قومی اوسط سے کم ہے۔

سرکاری اسکولوں اور اداروں میں  مسابقتی طریقے سے معیاری اور کفایتی تعلیم دستیاب کرانے کےلئے حکومت نے 34سال پرانی قومی تعلیمی پالیسی -1986 کی جگہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا اعلان کیا۔ نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد ملک میں اسکولی اور اعلیٰ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی لانے والی اصلاحات کی راہ روشن کرنا ہے۔ اس کا مقصد ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے والے سبھی طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ غریب اور کمزور طبقے کے حاشیے پر پڑے طلباء پر اس میں خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ 21-2020ء کے دوران اسکولی تعلیم کے لئے اسکیموں اور پروگراموں میں سمگر شکشا ، اساتذہ کی صلاحیت سازی ، ڈیجیٹل تعلیم پر توجہ دینا، اسکول کے ڈھانچے کو مضبوطی عطا کرنا ، لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا، شمولیت پر توجہ، کھیل اور جسمانی تعلیم اور علاقائی برابری پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

فروغ ہنرمندی

اقتصادی جائزہ 21-2020ء کے مطابق 15  سے 59 سال کی عمر کے ورکروں میں سے صرف 2.4 فیصد لوگوں نے ہی پیشہ ورانہ؍تکنیکی ٹریننگ حاصل کی ہے اور 8.9 فیصد  دیگر لوگوں نے غیر رسمی طریقے سے تعلیم حاصل کیا ہے۔ اِن  8.9 فیصد  ورکروں میں سے 3.3 فیصد نے کام کے دوران ٹریننگ حاصل کی ، 2.5 فیصد لوگوں نے سیلف ٹریننگ اور  2.1 فیصد لوگوں نے خاندانی اور ایک فیصد لوگوں نے  دیگر ذرائع سے ٹریننگ حاصل کی۔

جن لوگوں نے   رسمی طریقے سے ٹریننگ حاصل کی ہے، ان میں زیادہ تر خواتین اور مردوں نے آئی ٹی –آئی ٹی ای ایس کی ٹریننگ حاصل کی ہے۔ اس کے بعد مردوں میں الیکٹریکل –پاور اور الیکٹرونکس، میکنیکل انجینئرنگ –اسٹریٹیجک مینوفیکچرنگ ، آٹو موٹیو،  دفتر اور پیشے سے متعلق کورسیز منتخب کئے۔ خواتین نے ٹیکسٹائلز ہینڈلومز –اپیرلز، آفس اور بزنس سے متعلق کام ،حفظان صحت اور لائف سائنس  کے ساتھ ساتھ   بچوں کی غذائیت اور پری-اسکول کریچ سے متعلق ٹریننگ حاصل کی ہے۔

 حکومت نے حال ہی میں فروغ ہنر مندی کے لئے کئی پالیسی جاتی اصلاحات کئے ہیں۔ یونیفائیڈ اسکل ریگولیٹر-نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی)نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ اکتوبر 2020ء میں زیادہ قابل اعتبار طریقے سے سرٹیفکیٹ دینے کےلئے رہنماہدایات جاری کی گئی ہیں۔ 21-2020ء میں پردھان منتری کوشل وِکاس یوجنا3.0 کی شروعات کی گئی۔ اس کا مقصد مہاجر مزدوروں سمیت 8 لاکھ لوگوں کو ٹریننگ دینا ہے۔ صنعتی  تربیتی اداروں کے معیار میں سدھار اور شفافیت کے لئے گریڈنگ کے نظام کی شروعات کی گئی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020ء میں پیشہ ورانہ تعلیم  اور ٹریننگ کے رسمی تعلیم کے ساتھ اتحاد کی ستائش کی گئی ہے۔ اس میں آئندہ 5 سال میں 50 فیصد اسکول اور اعلیٰ تعلیم میں طلبا ء کو   پیشہ ورانہ تعلیم کا موقع فراہم کرنے کا ہدف ہے۔

 

*************

 

ش ح۔م م۔ ن ع

 (U: 943)



(Release ID: 1693332) Visitor Counter : 320