کامرس اور صنعت کی وزارتہ

جناب پیوش گوئل نے ’پرارمبھ: اسٹارٹ اپس انڈیا بین الاقوامی چوٹی میٹنگ‘ کا افتتاح کیا

بھارت کے اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم نے پچھلے پانچ برسوں میں بڑی ترقی کی ہے: جناب گوئل

اکتالیس ہزار اسٹارٹ اپس نے حکومت کے ساتھ پہلے ہی رجسٹریشن کرالیا ہے

یہ چوٹی میٹنگ پڑوسیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کا اظہار ہے

Posted On: 15 JAN 2021 3:44PM by PIB Delhi

نئیدہلی،15جنوری،2021، دو روزہ ’پرارمبھ‘ اسٹارٹ اپ انڈیا بین الاقوامی چوٹی میٹنگ کی آج نئی دہلی میں شروعات ہوئی جس میں بمسٹیک (ہمہ شعبہ جاتی تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے لیے خلیج بنگال کی شروعات) ممالک افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ چوٹی میٹنگ کا اہتمام کامرس اور صنعت کی وزارت سے وابستہ صنعت اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ کا محکمہ  کر رہا ہے اور یہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اعلان کی پیروی میں ہو رہا ہے جو انھوں نے اگست 2018 میں کاٹھمنڈو میں چوتھی بمسٹیک چوٹی میٹنگ میں کیا تھا۔

چوٹی میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے ریلوے ، کامرس اور صنعت، صارفین کے امور اور خوراک نیز سرکاری نظام تقسیم کے وزیر  جناب پیوش گوئل نے کہاکہ یہ چوٹی میٹنگ پڑوسیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کا ثبوت ہے جس سے ممبر ملکوں کے مابین شراکت داری کو فروغ حاصل ہوگا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے ایک نئی شروعات ہوگی جس میں اسٹارٹ اپ دنیا کے مختلف پہلو اجاگر ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم نے ، اسٹارٹ اپ انڈیا کی شروعات کے بعد سے پچھلے پانچ برسوں میں بڑی ترقی کی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ اس شعبے میں بمسٹیک ملکوں کے مابین شراکت داری اسٹارٹ ا پ کو نئے بھارت ، نئی دنیا اور نئے پڑوس کی صف اوّل تک لے جائےگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001SERM.jpg

جناب گوئل نے کہا کہ اسٹارٹ اپس کے پاس خیالات ہیں، وہ گرمجوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اختراع کے حامل ہیں اور اس طرح اس وبائی بیماری کے دوران چوٹی میٹنگ کا وقت بالکل  صحیح چنا گیا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ  اس چوٹی میٹنگ سے امید اور حوصلہ افزائی کے ساتھ نئے اُفق تک ، نئے سفر کی شروعات ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت سے حکومت کے آگے، کاروبار سے کاروبار کے تال میل سے آگے، یہ چوٹی میٹنگ اسٹارٹ اپ سے اسٹارٹ اپ کے درمیان تعاون کو یقینی بنائے گی، جہاں خیالات کا تبادلہ ہوگا اور نوجوان مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور علاقے میں خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکے گا‘‘۔

جناب گوئل نے امید ظاہر کی کہ آج کے نوجوان صنعت کاری کے تئیں رجحان کا اظہار کرتے ہیں جو اب روزگار تلاش کرنے کی بجائے روزگار پیدا  کرنے والے بن رہے ہیں۔ بھارت میں 41000 سے زیادہ اسٹارٹ اپس ہیں جنھوں نے حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کرایا ہے لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو بنیادی سطح پر کام کر رہے ہیں اور اچھے کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ  وہ بھارت کے سرمایہ دکاروں  سے کہتے رہے ہیں کہ وہ شروع کے مرحلے ہی میں بھارتی اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائے کریں اور اس کی مدد کریں لیکن اب وہ بھارت کے سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں سے درخواست کریں گے  کہ نگرانی اور مدد کے لیے بمسٹیک کے اسٹارٹ اپس کی طرف توجہ کریں۔

جناب گوئل نے امید ظاہر کی کہ  بھارت بمسٹیک ملکوں کے ساتھ وبائی بیماری کووڈ کے بعد کی دنیا میں یقینا بے مثال ترقی کا سامنا کرے گا اور ترقی کے ایک عالمی دور کی شروعات ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ ہمارے اسٹارٹ اپس کے لیے وزیر اعظم نریندر کی حوصلہ افزائی اور اختراع، ایجاد اور صنعتکاری سے بھرپور ایکوسسٹم کی تشکیل کے لیے ان کی کوششیں  یقینا ایک بیٹری کے طور پر کام کریں گی جہاں مثبت رجحان اور زبردست لیاقت اسٹارٹ اپس کے مستقبل کو نئی طاقت دے گی۔انھوں نے کہا کہ ہنرمندی کا فروغ دوسرا اہم شعبہ ہے جو صنعتکاری کے جذبے کو فروغ دینے اور ہمارے صنعتکاروں کو پر اعتماد بنانے میں ایک اہم رول ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ  وہ بھارتی سرمایہ کاروں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ  اور زیادہ کوششیں کریں تاکہ  اسٹارٹ اپس کو ایسا ستون بنانے میں ہم اپنے عہد کا دنیا کے سامنے اظہار کرسکیں جس پر مستقبل کی اقتصادی ترقی پھلے پھولے گی ۔ انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بمسٹیک ملکوں نے جس اجتماعی عہد بندی کا  مظاہرہ کیا ہے وہ یقینا تمام دوسرے ملکوں میں اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ تال میل کے زبردست امکانات ہیں کیونکہ ہم نئے خیالات کو پھلتے پھولتے دیکھیں گے اور نوجوان ذہنوں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھیں گے تاکہ نئے نئے خیالات پیداہوں ، نئے اختراعات سامنے آئیں اور نئی نئی ایجادات ہوں۔ اسٹارٹ اپ سے اسٹارٹ اپ کے درمیان تال میل کے  زبردست امکانات ہیں کیونکہ اس سے نئے خیالات کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا اور نوجوان ذہن اجتماعی طور پر کام کرنے کےلیے سامنے آئیں گے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے شہری ہوا بازی اور مکانات نیز شہری امور کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور کامرس اور صنعت کے وزیر مملکت جناب ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا پہل نے مرکزی وزارتوں اور ریاستوں میں ہلچل پیدا کردی ہے کہ وہ اسٹارٹ اپس کی مدد کے لیے اچھی طرح مرتب کردہ پروگرام پیش کریں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ چوٹی میٹنگ اسٹارٹ اپس کے لیے یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ ایک دوسرے کی بہترین کارروائیوں سے سبق سیکھیں اور فائدہ اٹھائیں۔ انھوں نے اسٹارٹ اپس کی مکمل حمایت کے لیے حکومت کے عہد کا اظہار کیا۔

کامرس اور صنعت کے وزیر مملکت  جناب سوم پرکاش نے کہا کہ حکومت نے اسٹارٹ اپس کی پیشرفت اور ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کا پوری طرح عہد کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں مختلف اصلاحات اور اقدامات کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آتم نربھر بھارت پوری طرح اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم سے منسلک ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ یہ چوٹی میٹنگ تمام ا سٹارٹ اپس کے لیے ایک شاندار موقع ہے کہ وہ ایک ساتھ آئیں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں، آپس میں تعاون کریں اور ترقی کریں۔

بمسٹیک کے سکریٹری جنرل ہز ایکسیلنسی تینزن لیکفیل نے کہا کہ  اس چوٹی میٹنگ نے رہنماؤں، سرمایہ کاروں، اسکارلوں، پالیسی سازوں، اسٹارٹ اپ، اختراعات کاروں اور صنعتکاروں کو ایک ساتھ ملا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب کبھی انسانیت کو چیلنجوں کا سامنا ہوا ہے ، انسانی اختراع پسندی اور ابھرنے کی قوت نے اس پر قابو پانے کے لیے دنیا کی مدد کی ہے۔انھوں نے کہا کہ وبائی بیماری کووڈ کی وجہ سے معیشت، روزگار، روزی روٹی، کاروبار، تجارت اور صنعت بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اور اسٹارٹ اپس  کے ذریعے امید کی ایک کرن دکھائی دے رہی ہے جس میں اختراع اور کسی بھی مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی صلاحیت ہے۔جناب لیکفیل نے تجویز کیا کہ اس طرح کے اجتماعات ہر سال ہونے چاہئیں تاکہ اسٹارٹ اپس کو حمایت حاصل ہوسکے۔ انھوں نے بمسٹیک سکریٹیریٹ میں ایک اسٹارٹ اپ مرکز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

افتتاحی اجلاس سے ہز ایکسیلنسی جناب جنید احمد پالک، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی،عوامی  جمہوریہ بنگلہ دیش کے وزیر مملکت ، ہز ایکسیلنسی جناب  لیونپو لوک ناتھ شرما، حکومت بھوٹان کے اقتصادی امور کے وزیر، ہز ایکسیلنسی جناب لیکھ راج بھٹا، عوامی جمہوریہ نیپال کے صنعت، کامرس اور سپلائی کے وزیر ، ہز ایکسیلنسی ڈاکٹر پن-ارگ چیرتنا، ایگزکیٹیو ڈائرکٹر، نیشنل انوویشن ایجنسی، حکومت تھائی لینڈ اور ڈاکٹر گروپرساد موہاپاتر، سکریٹری محکمہ  آئی آئی ٹی نے بھی خطاب کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0024M85.jpg

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کل شام پانچ بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اسٹارٹ اپس سے بات چیت کریں گے اور چوٹی میٹنگ سے خطاب کریں گے۔ 25 سے زیادہ ملکوں اور 200 سے زیادہ عالمی مقررین کی شرکت سے یہ چوٹی میٹنگ سب سے بڑی اسٹاٹ اپ انڈیا بین الاقوامی چوٹی میٹنگ ہے جس کا اہتمام بھارت سرکار نے 2016 میں اسٹارٹ اپ انڈیا کی شروعات کے بعد سے کیا ہے۔ چوٹی میٹنگ میں 24 اجلاس ہوں گے جس میں پوری دنیا کے ملکوں کے ساتھ ہمہ قومی تعاون اور رابطے کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی تاکہ اجتماعی طور پر اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم کو مضبوط بنایا جاسکے۔

*****

ش ح ۔اج۔را

U.No.409



(Release ID: 1688994) Visitor Counter : 34