صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

بھارت نے ای- ہیلتھ کے سفر میں ایک اہم سنگ میل طے کیا

ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن خدمت سے ریکارڈ 10 لاکھ ٹیلی-کنسلٹیشن
550 سے زیادہ ضلعوں میں مریضوں نے ای-سنجیونی کا استعمال کیا
مشورے میں یومیہ تقریباً 14 ہزار کا اضافہ

Posted On: 14 DEC 2020 2:42PM by PIB Delhi

بھارت نے اپنے ای-ہیلتھ کے سفر میں ایک اہم سنگ میل طے کیا ہے۔ وزارت صحت کی ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن سروس (خدمت) نے آج 10 لاکھ ٹیلی –کنسلٹیشن کو عبور کرلیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے دور کی صحت خدمات فراہم کرتی ہے اور یہ خدمت نہ صرف صحت خدمات کی پہنچ کو بڑھاتی ہے بلکہ وقت اور رقم کی بچت کرنے کے علاوہ صحت خدمات کی کوالٹی میں سدھار کرتی ہے۔ بھارت میں ای سنجیونی خدمت کی شروعات کسی ترقی پذیر ملک کے ذریعے قومی پیمانے پر صحت خدمات دینے میں اپنی طرح کی ڈیجیٹل تبدیلی ہے۔ کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران ای-سنجیونی نے صحت خدمات دینے میں نہ صرف وسیع ڈیجیٹل تبدیلی کی بلکہ ملک میں ڈیجیٹل صحت ایکو-سسٹم کو فروغ دیا۔

وزارت صحت کی ای-سنجیونی پہل 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دو قسم کی خدمات دے رہی ہیں۔ ای سنجیونی اے بی ایچ ڈبلیو سی ڈاکٹر سے ڈاکٹر ٹیلی کنسلٹیشن کو اہل بناتی ہے اور اس کا استعمال لگ بھگ 6 ہزار صحت اور آروگیہ کیندروں میں کیا جارہا ہے۔ ریاستوں کے ذریعے ضلع اسپتالوں یا میڈیکل کالجوں میں لگ بھگ 240 ہب بنائے گئے ہیں، جن میں ماہرین اور ڈاکٹر اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ ای-سنجیونی اے بی-ایچ ڈبلیو سی کے استعمال کے لئے 20 ہزار سے زیادہ پیرا میڈک ڈاکٹر اور ماہرین کو تربیت دی گئی ہے۔

ای-سنجیونی او پی ڈی میں دور دراز اپنے گھروں میں پڑے مریضوں کو دور صحت خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ ای-سنجونی اوپی ڈی ڈاکٹر اور ماہرین اور مریض کے بیچ رابطے سے پاک، جوکھم سے پاک اور محفوظ کنسلٹیشن کو اہل بناتی ہے۔ تقریباً 8 ہزار ڈاکٹروں کو تربیت دی گئی ہے اور وہ ای سنجیونی اوپی ڈی پر ہیں۔ اوسط لگ بھگ 225 آن لائن او پی ڈی میں 15 سو ڈاکٹر روزانہ ٹیلی میڈیسن خدمات دیتے ہیں۔ 225 آن لائن او پی ڈی میں سے 190 خصوصی اوپی ڈی ہیں اور لگ بھگ 30 عام او پی ڈی میں سے 190 خصوصی اوپی ڈی ہیں اور لگ بھگ 30 عام اوپی ڈی ہیں۔ کافی عرصے سے ای سنجیونی روزانہ پورے ملک میں 14 ہزار مریضوں کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔

ملک کے 500 سے زیادہ ضلعوں میں مریض ای سنجیونی کا استعمال کررہے ہیں۔ 10 فیصد سے زیادہ یوزرس 60سال کی عمر یا اس سے زیادہ کے ہیں۔ کل مریضوں میں سے ایک چوتھائی مریضوں نے ای سنجیونی کا استعمال ایک بار سے زیادہ کیا ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے کے لئے لوگ اسپتالوں کی او پی ڈی جانے کے مقابلے میں ٹیلی میڈیسن کو اہمیت اور ترجیح دینے لگے ہیں۔

صحت خدمات فراہم کرنے کے ابھرتے ہوئے اس ڈیجیٹل موڈبیلٹی کا سماجی اثر کا خیال رکھتے ہوئے ریاستوں نے ای- سنجیونی کے آس پاس اختراعی ایپلیکیشن ڈیزائن کیا ہے۔ کیرالہ میں ای-سنجیونی اوپی  ڈی پلکڑ ضلع جیل کے قیدیوں کے لئے صحت خدمات فراہم کررہی ہے۔ ہماچل پردیش میں بھی بزرگ لوگوں کے رہنے کی جگہوں (گھروں) میں یہ شروع کی جارہی ہے۔ کیرالہ نے راشٹریہ بال سواستھ کاریہ کرم کی خدمات فراہم کرانے کے لئے ای سنجیونی پر اوپی ڈی پہلے سے قائم کی ہیں۔ ان 14 آن لائن او پی ڈی میں ہر ایک میں ماہرین نفسیات، ایجوکیٹرس، اسپیچ تھیراپیٹ اور ایک فیزیوتھیراپیٹ کو ملا کر ایک ٹیم بنائی گئی ہے جو بچوں کو نشوونما اور بچوں کی مستقبل کی صحت سے متعلق عام امور سے مشترکہ طور پر نمٹتے ہیں۔

ریاستی سرکاریں ای-سنجیونی کو اپنانے کو بڑھاوا دینے کے لئے آئی ٹی سیوی ہیومن اور بنیادی ڈھانچے کے وسائل پر مشتمل ایک مضبوط ڈیجیٹل ہیلتھ ایکو سسٹم قائم کرکے صحت وخاندانی بہبود کی وزارت کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ای- سنجیونی اور ای- سنجیونی او پی ڈی پلیٹ فارموں کے ذریعے سے سب سے زیادہ مشورہ کرنے والی چوٹی کی 10 ریاستیں ہیں۔ تمل ناڈو (319507)، اترپردیش (26889)، مدھیہ پردیش (70838) گجرات (63601) کیرالہ (62797) ہماچل پردیش (49224) آندھرا پردیش (39853) کرناٹک (32693) اتراکھنڈ (31910) اور مہاراشٹر (12635) ہیں۔


TableDescription automatically generated

...............................................................

 

 

 

   م ن، ح ا، ع ر

U-8073



(Release ID: 1680686) Visitor Counter : 6