وزارت آیوش

انڈین میڈیسن سینٹرل( آیوروید کی تعلیم میں پوسٹ گریجویشن) ترمیمی ریگولیشنز،2020 سے متعلق وضاحت

Posted On: 22 NOV 2020 3:56PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  22 /نومبر 2020  ۔   ہندوستانی میڈیسن کے آیوروید، سدھ،سووارگپا اور یونانی طریقہ علاج کو ضابطے کے تحت لانے والے آئینی ادارہ سینٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن( سی سی آئی ایم) نے پوسٹ گریجویٹ آیوروید کی تعلیم سے متعلق ضابطوں کے کچھ التزامات کو کارگر بنانے کے لئے اور اس میں وضاحت لانے اور تعارف جوڑنے کے لئے20 نومبر 2020 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔

وزارت آیوش کے علم میں آیا ہے کہ کچھ میڈیا پلیٹ فارم پر اس نوٹیفکیشن کے سلسلے میں کچھ غلط رپورٹیں آئی ہیں  جس سے اس کی نوعیت اور مقصد کے بارے میں غلط معلومات پھیل رہی ہیں۔ ان غلط رپورٹوں سے پیدا ہونے والے شکوک کو دور کرنے کے لئے وزارت اب درج ذیل وضاحت جاری کررہی  ہے،  جس میں اس پر اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔

  1. انڈین میڈیسن  سینٹرل کونسل( پوسٹ گریجویٹ آیوروید کی تعلیم) ترمیمی ریگولیشنز ،2020 کے بارے میں نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا ہے؟

نوٹیفکیشن آیوروید نے پوسٹ گریجویشن کی تعلیم میں شلیہ اور شلاکیہ اسٹریم سے متعلق ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے( اس سلسلے میں سابقہ نوٹیفکیشن سے زیادہ وضاحت کے ساتھ) کے پوسٹ گریجویٹ ڈگری کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو کل 58 سرجیکل طریقوں میں  عملی طور پر تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ تعلیم پوری کرنے کے بعد وہ ان سرگرمیوں کو آزادانہ طور پر کرنے کے قابل ہوجائے۔نوٹیفکیشن خاص طور سے ان معینہ سرجیکل طریقوں کے بارے میں ہے اور کسی دوسری قسم کی سرجی کرنے کی ان شلیہ اور شلاکیہ پوسٹ گریجویٹ پاس طلباء کو اجازت نہیں دیتی۔

  1.  کیا مذکورہ بالا نوٹیفکیشن آیوروید کے ڈاکٹروں کے ذریعہ سرجیکل طریقوں  کے تجربے کے معاملے میں پالیسی سے متعلق تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے؟

نہیں، یہ نوٹیفکیشن 2016 سے پہلے کے موجودہ ضابطوں میں متعلقہ التزامات کی وضاحت ہے۔ شروعات سے ہی شلیہ اور شلاکیہ سرجیکل طریقوں کے لئے آیوروید کالجوں میں خود مختار شعبے ہیں۔ حالانکہ 2016 کے نوٹیفکیشن میں یہ طے کیا گیا تھا کہ سی سی آئی ایم کے ذریعہ جاری پوسٹ گریجویٹ نصابوں کے لئے جاری متعلقہ سلیبس کے تحت طلباء کو متعلقہ طریقوں میں مینجمنٹ کی جانچ کے طریقہ کار، تکنیکوں اور سرجیکل کارکردگی کی تعلیم دی جائے گی۔ ان تبدیلیوں، طریقوں اور سرجیکل کارکردگی کی تفصیل سی سی آئی ایم نے پیش کی ہے لیکن  ضابطہ کاری میں نہیں۔ سی سی آئی ا یم کے ریگولیشن کے سلسلے میں یہ تفصیل جاری کرکے مفاد عامہ میں یہ وضاحت جاری کی گئی ہے جو کہ کسی پالیسی میں تبدیلی کااشارہ نہیں۔

  1.  مذکورہ بالا نوٹیفکیشن میں جدید اصطلاح کے استعمال کو لے کر تنازعہ کیوں ہے؟

وزارت کو مذکورہ بالا نوٹیفکیشن میں جدید اصطلاح کے استعمال کے بارے میں کوئی تبصرہ یا اعتراض موصول نہیں ہوا ہے اور اس لئے اس قسم کے کسی بھی تنازعہ کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔

حالانکہ یہ واضح ہے کہ معیاری اصطلاح سمیت تمام سائنسی پیش رفت مکمل نو ع انسانی کی وراثت ہے۔ کسی بھی شخص یا جماعت کی ان اصطلاحات پر اجارہ داری نہیں ہے۔ میڈیکل کے شعبے میں جدید اصطلاح ایک عارضی نقطہ نظر سے ماڈرن نہیں ہے،لیکن  یونانی، لاطینی اور یہاں تک کہ قدیم سنسکرت اور بعد میں عربی جیسی زبانوں سے کافی حد تک ماخوذ ہیں۔ اصطلاحوں کا ارتقاء ایک متحرک اور شمولیتی عمل ہے۔ ماڈرن میڈیکل لفظ اور اصطلاح نہ صرف ڈاکٹروں کے درمیان بلکہ عوام سمیت دیگر وابستگان کے لئے بھی موثر  ترسیل اور  مواصلات کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں جدید اصطلاح اس لئے استعمال کی گئی ہے تاکہ میڈیکل کے پیشے میں مجموعی طور پر،  اس کے علاوہ میڈیکو لیگل اور ہیلتھ آئی ٹی وغیرہ وابستگان کے لئے اسے یقینی بنایا جاسکے۔

  1. کیا مذکورہ بالا نوٹیفکیشن میں جدید اصطلاح کے استعمال سے آیوروید کی روایتی( ماڈرن) میڈیسن کے ساتھ آمیزش کردی گئی ہے؟

بالکل نہیں،سبھی جدید سائنسی اصطلاح کا مقصد مختلف وابستگان کے درمیان موثر ترسیل اور مواصلات کو سہولت آمیز بنانا ہے۔ مذکورہ  بالا نوٹیفکیشن کے وابستگان میں نہ صرف آیوروید کے ڈاکٹر شامل ہیں بلکہ میڈیکو لیگل، ہیلتھ آئی ٹی، بیمہ وغیرہ جیسے دیگر  متعلقہ موضوعات کے پیشہ وروں کے ساتھ ساتھ عوام کے رکن بھی شامل ہیں۔ اس لئے جدید اصطلاح کے استعمال کی ضرورت تھی۔ روایتی( جدید)  میڈیسن کے ساتھ آیوروید کی‘‘ آمیزش’’  کا سوال یہاں نہیں اٹھتا کیونکہ سی سی آئی ایم ہندوستانی ادویاتی نظام کی معنویت کو برقرار رکھنے کے لئے پابند عہد ہے اور ایسی کسی بھی ‘‘ آمیزش’’  کے خلاف ہے۔

 

******

 

م ن۔  ق ت۔ ر ض

U-NO.7469

23.11.2020



(Release ID: 1675015) Visitor Counter : 231