وزیراعظم کا دفتر

ایک تاریخ واقعے میں، وزیراعظم گیارہ   اکتوبر کو ،سومتوا اسکیم کے تحت  ، پراپرٹی کارڈوں کی،   فزیکل تقسیم  کا آغاز کریں گے

دیہی ہندوستان اور لاکھوں لوگوں  کو اختیار  دینے سے متعلق تبدیل جاتی  اثر کے لئے ،اقدام طے

اس اسکیم کے تحت ، 4  سال کی مدت کے دوران ،مرحلہ وار  طریقے پر ، 6.62   لاکھ گاؤوں کا احاطہ کیا جائے گا۔

اس سے گاؤں والوں کے ذریعہ،  جائیداد  کو  مالی اثاثے کے طورپر ، استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوگی

Posted On: 09 OCT 2020 1:26PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  09 اکتوبر 2020: دیہی ہندوستان کو تبدیل کرنے اور لاکھوں  ہندوستانیوں  کو اختیار دینے کے لئے کئے گئے تاریخی  اقدام میں وزیر اعظم جناب نریندرمودی 11 اکتوبر کو ویڈیو  کانفرنس کے ذریعہ سومتوا اسکیم کے تحت پراپرٹی کارڈ کی فزیکل تقسیم کا آغاز کریں گے۔

اس آغازسے تقریباََ  ایک لاکھ جائیداد کے مالکان ، اپنے موبائل پر موصول  ایس ایم ایس لنک کے ذریعہ اپنے پراپرٹی کارڈ ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے۔اس کے بعد متعلقہ ریاستی سرکاریں  پراپرٹی کا رڈ کی فزیکل تقسیم شروع کریں گی۔ان مستفدین میں   6 ریاستوں کے 763  گاؤوں کے باسی شامل ہیں ، جن میں اترپردیش سے 346  ،  ہریانہ  سے 221  ، مہاراشٹر سے 100، مدھیہ پردیش  سے 44 ، اتراکھنڈ سے 50  اور کرناٹک سے 2  گاؤں شامل ہیں۔ مہاراشٹر کے علاوہ ان تمام ریاستوں کے مستفدین   ایک دن کے اندر پراپرٹی کارڈ س کی فزیکل کاپی وصول کرلیں گے۔ مہاراشٹر   میں  پراپرٹی کارڈ کی کم سے کم قیمت حاصل کرنے کا نظام ہے اس لئے اسے  ایک مہینے کا وقت لگے گا۔

اس اقدام سے گاؤں والوں کو اپنی جائیداد کو  مالی اثاثے کے طورپر  قرضہ حاصل کرنے اور دیگر مالی فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی ۔ یہی نہیں ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ انتہائی جدید ترین  تکنالوجی کے طریقوں  کے ساتھ  اتنے بڑے پیمانے پر کوئی کام کیا گیا ہے اس کا مقصد دیہی  علاقوںمیں جائیداد  کے لاکھوں مالکان کو فائدہ پہنچانا ہے۔

اس واقعے کے دو ران وزیر اعظم  کچھ مستفیدین کے ساتھ بات چیت بھی کریں گے ۔اس موقع پر پنچایت راج کے مرکزی وزیر بھی موجود ہوں گے ۔ یہ پروگرام صبح 11بجے شروع ہوگا۔

سومتوا کے بارے میں :

سومتوا ،  پنچایت راج کی وزارت کی مرکزی شعبے کی ایک اسکیم ہے جسے وزیر اعظم  نے 24 اپریل سن 2020  کو قومی پنچایت راج دن کے موقع پر شروع کیا تھا ۔اس اسکیم کا مقصد  دیہی علاقوں  میں  گاؤں کے مالک مکانات کو ’ حقوق کے ریکارڈ ‘    فراہم کرنا اور  پراپرٹی کارڈ جاری کرنا ہے۔

اس اسکیم کو ملک بھر میں  4سال کی مدت کے دوران ( 2020-2024 ) کے دوران  مرحلہ وا رطور پر  نافذ کی جارہی ہے اور اس سے ملک کے تقریباََ  6.62  لاکھ گاؤوں  کا احاطہ کیا جائے گا۔اترپردیش ، ہریانہ ، مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش ، اتراکھنڈ  اور کرناٹک اور پنجاب اور راجستھان کے چند سرحدی گاؤوں کے ساتھ ساتھ پنجاب اور راجستھان میں  مسلسل آپریٹنگ نظام کے اسٹیشنو  ں  ( سی او آر ایس )  کا احاطہ کیا اس اسکیم کے پائیلٹ  مرحلے ( 21-2020 ) کے تحت کیا جارہا ہے۔

تمام 6 ریاستو ں نے  دیہی علاقوں کی ڈرون سروے اور اسکیم کے نفاذ کے لئے سروے آف انڈیا کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں۔ ان ریاستوں  نے  ڈجیٹل  پراپرٹی کارڈ کے فارمیٹ اور ان گاؤوں  کی فہرست تیار کرلی ہے ، جن کا احاطہ   ڈرون  پر مبنی سروے کے لئے کیا جائے گا۔پنجاب اورراجستھان کی ریاستوں نے  مستقبل میں  ڈرون پروازوں  کی سرگرمیوں  میں مدد کے لئے سی او آ رایس نیٹ ورک کے قیام کی خاطر  سروے آف انڈیا کے مفاہمت ناموں  پر دستخط کئے ہیں۔ پراپرٹی کارڈ کے لئے مختلف ریاستو ں نے مختلف عنواناتی نام دئے ہیں۔ جیسے کے ہریانہ میں اسے ’ ٹائٹل ڈیڈ ‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ کرناٹک میں  اس کا نام ’ دیہی جائیدا د کی ملکیت  کے ریکارڈ‘ ( آر پی او آر ) رکھا گیا ، مدھیہ پردیش میں اسے ’ ادھیکار ابھیلیکھ‘ مہاراشٹر میں   ’سنّد ‘ ، اتر اکھنڈ میں ’سومتوا ابھیلیکھ‘ جبکہ اترپردیش  میں ’ گھرونی ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 

 

 

*************

 

  م ن۔اع ۔رم

U- 6230



(Release ID: 1663119) Visitor Counter : 18