وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے اٹل سرنگ کو قوم کے نام وقف کیا

ہماچل پردیش کے سب سے دشوار گزار علاقے پیر پنجل میں سرنگ تعمیر کرنے کی زبردست حصولیابی کے لئے بی آر او اور بھارتی انجینئروں کو مبارکباد پیش کی

یہ سرنگ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، لیہہ اور لداخ کو بااختیار بنائے گی: وزیر اعظم

کاشتکاروں، باغبانوں، نوجوانوں، سیاح حضرات اور سلامتی دستوں کو اس پروجیکٹ سے فائدہ حاصل ہوگا: وزیر اعظم

سرحدی علاقوں کی رابطہ کاری اور ڈھانچہ جاتی پروجیٹوں کے نفاذ کےلئے سیاسی عزم درکار ہے: وزیر اعظم

اقتصادی پیش رفت کی تیز رفتاری مختلف ڈھانچہ جاتی کاموں کے تیزی کے ساتھ مکمل ہونے پر منحصر ہے: وزیر اعظم

Posted On: 03 OCT 2020 1:05PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 03 ستمبر 2020: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج منالی میں جنوبی پورٹل میں دنیا کی سب سے طویل شاہراہ سرنگ ۔ اٹل سرنگ کو قوم کے نام وقف کیا۔

9.02 کلو میٹر طویل یہ سرنگ پورے سال منالی کو لاہول اسپیتی سے مربوط کرتی ہے۔ پہلے، برف باری کی وجہ سے تقریباً چھ مہینے کے لئے وادی سے رابطہ منقطع ہو جاتا تھا۔

یہ سرنگ ہمالیہ کے پیر پنجل رینج میں مین سی لیول (ایم ایس ایل) سے 3000 میٹر کی بلندی (10000 فٹ) پر الٹرا ماڈرن تفصیلات کے ساتھ تیار کی گئی ہے

یہ سرنگ منالی اور لیہہ کے درمیان 46 کلومیٹر کے فاصلہ اور 4 سے 5 گھنٹے کی تخفیف کرتا ہے۔

یہ سرنگ سیمی ٹرانس ورس ونٹی لیشن، ایس سی اے ڈی اے کے سے آراستہ فائر فائٹنگ، روشنی اور نگرانی نظام سمیت جدید الیکڑوکیمیکل سسٹم سے آراستہ ہے۔ اس سرنگ میں متعدد تحفظاتی سہولتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سرنگ میں جنوبی پورٹل سے شمالی پورٹل تک کا سفر کیا اور ایمرجنسی ایگریس ٹنل کا دورہ کیا جسے مین ٹنل کے اندر تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ’’دی میکنگ آف اٹل ٹنل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک تصویری نمائش بھی ملاحظہ کی۔

اپنے خطاب میں، وزیر اعظم نے اس دن کو تاریخی قرار دیا کیونکہ یہ نہ صرف سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کے تصوراتی خاکے کی تکمیل کرتا ہے بلکہ اس خطے کے کروڑوں لوگوں کے دہائیوں پرانے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرتاہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرنگ ہماچل پردیش کے ایک بڑے علاقے اور لداخ مرکز کے زیر انتظام نئے علاقے کے لئے لائف لائن بنے گی اور اس سے منالی اور کیلونگ کے درمیان فاصلے میں 3 سے 4 گھنٹوں کی کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ہماچل پردیش اور لیہہ ۔ لداخ کے حصے بھی ملک کے دیگر علاقوں سے مربوط ہوں گے اور یہ علاقے تیز رفتار اقتصادی ترقی سے ہمکنار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں، باغبانوں اور نوجوانوں کو راجدھانی دہلی اور دیگر منڈیوں تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس طرح کے سرحدی رابطہ کاریی پروجیکٹس سلامتی دستوں کو اشیاء کی باقاعدہ بہم رسانی اور گشت لگانے میں فراہم کریں گے۔

وزیر اعظم نے ان انجینئروں، تکنیکی ماہرین اور کارکنان کی کوششوں کی جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنا تعاون پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ اٹل سرنگ بھارت کے سرحدی بنیادی ڈھانچے کو نئی طاقت فراہم کرے گی اور عالمی معیار کی سرحدی رابطہ کاری کا زندہ جاوید ثبوت بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ کو بہتر بنانے اور چوطرفہ ترقی کے لئے مطالبات بہت پہلے سے کیے جاتے رہے ہیں، اس کے باوجود بغیر کسی پیش رفت کے محض تکلیف بڑھانے کے لئے منصوبے وضع کیے گئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اٹل جی نے 2002 میں اس سرنگ کے لئے راستہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اٹل جی کی حکومت کے بعد، اس کام کو اس طرح نظر انداز کیا گیا کہ 14۔2013 تک محض 1300 میٹر یعنی 1.5 کلو میٹر سے بھی کم طویل سڑک کی تعمیر عمل میں آئی، یعنی ہر سال 300 میٹر تعمیر عمل میں آئی۔

ماہرین نے وضاحت کی کہ اگر یہ کام اسی رفتار سے جاری رہتا تو یہ پروجیکٹ 2040 میں جاکر مکمل ہوتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے اس کے بعد پروجیکٹ پر تیزی سے عمل درآمد کیا اور ہر سال 1400 میٹر کی رفتار کے ساتھ تعمیری کام جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ 6 برسوں میں مکمل کیا گیا جبکہ اس پروجیکٹ کا تخمینہ 26 برس کا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کو اقتصادی اور سماجی طور پر پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے، تو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار تیز ہونی چاہئے۔ جناب مودی نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے مضبوط سیاسی عزم اور عہدبستگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اہم اور بڑے بنیادی ڈھانچہ پروجیٹوں کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے مالی نقصان ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عوام اقتصادی اور سماجی فوائد سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2005 میں سرنگ کی تعمیر کا تخمینہ تقریباً 900 کروڑ روپئے تھا۔ تاہم مسلسل تاخیر کے باعث، آج تین گنا زیادہ یعنی 3200 کروڑ روپئے خرچ کر کے اس پروجیکٹ کو مکمل کیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے متعدد پروجیکٹس ہیں جن کے ساتھ اٹل سرنگ جیسا برتاؤ کیا گیا۔

لداخ میں دولت بیگ اولڈی میں واقع حکمت عملی کے طورپر از حد اہم ہوائی پٹی 45۔40 برسوں سے نامکمل رہی حالانکہ فضائیہ ایک ہائی پٹی چاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اٹل جی کی حکومت میں ہی بوگی بیل پل کا کام شروع ہوا تھا، تاہم بعد میں اس کی رفتار بھی دھیمی پڑ گئی۔ یہ پل اروناچل پردیش اور شمال مشرقی خطے کے درمیان کلیدی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد اس کے کام کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آئی اور 2 برس قبل اٹل جی کے یوم پیدائش کے موقع پر اس کاآغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اٹل جی نے بہار میں واقع متھی لنچل کے دو بڑے خطوں کو مربوط کرنے کے لئے کوسی مہاسیتو کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔ 2014 کے بعد حکومت نے کوسی مہاسیتو کے کام کو تیزرفتاری سے ہمکنار کیا اور چند ہفتے قبل ہی اس پل کا افتتاح ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب صورتحال بدل چکی ہے اور گذشتہ چھ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے خواہ سڑکیں ہوں، پل ہو یا سرنگیں کا کام تیز رفتاری کے ساتھ  جاری ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے سلامتی دستوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا حکومت کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم پہلے اس کے ساتھ بھی سمجھوتہ کیا گیا اور ملک کی دفاعی افواج کے مفاد کو داؤں پر لگایا گیا۔

انہوں نے دفاعی افواج کی ضرورتوں کو تکمیل کے لئے حکومت کی جانب سے کی گئیں متعدد پہل قدمیوں کا ذکر کیا جن میں ایک رینک ایک پنشن اسکی، جدید جنگی طیاروں کی خرید، گولہ بارود، جدید رائفلوں، بلیٹ پروف کیکٹوں، سخت سردی سے بچاؤ کے آلات، کی خرید جن پر سابقہ حکومت نے روک لگا دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں میں ایسا کرنے کا سیاسی عزم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں تبدیل ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دفاعی شعبے میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی راحت جیسی بڑی اصلاحات متعارف کرائی گئیں تاکہ ملک میں جدید ہتھیار اور گولہ بارود تیار ہو سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ چیف آف ڈفینس کی اسامی پیدا کرنے اور دفاعی افواج کی ضروریات کے مطابق خرید اور پیداواریت دونوں میں بہتر تال میل پیدا کرنے کے طور پر متعدد اصلاحت کی گئیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے بڑھتے عالمی رتبے کے حساب سے، ملک کو اسی رفتار سے اپنے بنیادی ڈھانچہ، اپنی معیشت اور اسٹریٹجک صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اٹل سرنگ ملک کے آتم نربھر (خودکفیل) بننے کے عہد کی جگمگاتی مثال ہے۔

 

****

م ن۔ ا ب ن

U:6055



(Release ID: 1661372) Visitor Counter : 16