وزارت سیاحت
وزارت سیاحت نے ایک ویبینار سیریز ’دیکھو اپنا دیش‘کا انعقاد کیا، جس کا موضوع ہے’’دیہی سیاحت: شاندار ماضی سے مستقبل کے معمول تک‘‘
प्रविष्टि तिथि:
28 SEP 2020 3:41PM by PIB Delhi
وزارت سیاحت کے 26 ستمبر 2020 کو دیکھو اپنا دیش ویبینار سیریز میں ’’دیہی سیاحت: شاندار ماضی سے مستقبل کے معمول تک‘‘عنوان سے گاؤں ، لوگوں ، کاشتکاری ، ثقافت اور پائیداری کے خیال ، ذمہ داری اور معاشرتی زندگی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ جبکہ لاکھوں 'وائٹ کالر' کارکنان شہری صنعتوں کے مکمل طور پر خاتمے کی وجہ سے اپنی ملازمت سے محروم ہوگئے یا ان کی تنخواہوں میں تیزی سے کٹوتی ہوگئی،ہمارے شہروں اور شہری صنعتوں کی تعمیر کرنے والے مزید لاکھوں 'بلیو کالر' کارکن مشکل سفر کے بعد اپنے گاؤں واپس چلے گئے ،حقیقی امکان کے ساتھ ان میں سے بیشتر دیہی بھارت میں متبادل ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں ۔ وہ شہر کی بات کرنے والا جو صارفیت سے تنگ آچکا ہے ، اب وہ اپنے فطری اور جذباتی خسارے کو دور کرنے کے لئے روایتی دادا کے گاؤں کی تلاش میں ہے ، جبکہ کچھ جدید اور نئے ماحول والے گلوبل ویلیج کی تلاش میں ہیں۔ نئے انداز اور نئے دور کی سیاحت میں معمر افراد کے لئے سہولیات ہوں گی اور نوجوانوں کی تفریح کا بھی خیال رکھا جائے گا۔

جب کہ ہم سب سمجھتے ہیں کہ طویل فاصلے تک کا سفر تھوڑی دیر کے لئے ختم ہونے والا ہے ، لہذا یہ ویبنار ہمیں دیہی سیاحت کے ذریعہ ،بھارت کے خوبصورت گاؤں کے درمیان عملی طور پر سیاحت کے شعبہ میں بنیادی تبدیلی دکھانے کا ذریعہ بنا ہے۔’گرین پیپل ،دی گوٹ ویلیج اینڈ بکری چھاپ‘ کے بانی جناب روپیش رائے کے ذریعہ ویبینار پیش کیا گیا۔ انہوں نے کیدارناتھ کی تباہی کے تین مہینے بعد کے اپنے تجربات کا اشتراک کیا ،جس نے ان کی پوری زندگی بدل دی۔ جناب روپیش کی کچھ پہلوں میں ’دی گوٹ ویلیج(دیہی اور پائیدار سیاحت)،بکری سویمور (سوشل انجینئرنگ کے ذریعہ مویشیوں کی جین پول کی تعمیر)، اور بکری چھاپ (ہمالیہ کے پسماندہ کسانوں کی نمائندگی کرنے والا ایک برانڈ) شامل ہیں۔
تباہی نے ریاست اتراکھنڈ کو پوری طرح سے بدل دیا تھا اورریاست کا ایک بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔ پیش کار نے پہلے پروجیکٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1800 دیہات خالی ہوئے تھے جن میں سے کچھ بہتر مواقع کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دیہی سیاحت حقیقت میں کرہ ارض اور لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ یہ معاشرتی سیاحت کی آئینہ دار کی طرح ہے۔ وسیع تناظر میں بھارت میں تقریباً 6,47,000 گاؤں ہیں۔ سیاحت، ثقافت ،زراعت ،فن ،قدرت اور غذا وغیرہ کےلئے ایک کیٹالسٹ کا کردار ادا کرتی ہے۔ 1990 تک صرف دو سیاحت تھیں ایک مذہبی زیارت اور دوسری دیہی سیاحت۔ چھٹیوں کے دوران بچوں کا گاؤں میں دادی،نانی کے گھرجانا عام بات ہوا کرتی تھی۔ رفتہ رفتہ ہم چیزوں کے عادی ہوتے چلے گئے۔
کووڈ-19 کے دور نے بہت سے لوگوں کے نظریے کو بدل دیا۔ بزرگوں کو پرانی یادیں تازہ کرنے کا فائدہ ہوا تو نوجوانوں نے تجربات کو اہمیت دی۔ دیہی سیاحت کا سب سے اہم جز کہانی سنانا ہے ،جو منزل کی بنیاد ہے۔ ایک سیاح کے طورپر کسی کو بھی عام لوگوں،ثقافت ،کھانے ،روایات کا تجربہ ہوتا ہے اور وہ دیسی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ہفتے کےآخر میں پارکوں میں زیادہ سے زیادہ دورے کئے جانے کے ساتھ ،جم نیشنل کوربیٹ پارک کی مثال پیش کرتے ہوئے، پیش کار نے بتایا کہ اگر جم کوبیٹ کے آس پاس کے گاؤں میں فٹ بال کی تقسیم مناسب طریقے سے کی جاتی ہے ،تو دیہی سیاحت کو بھی اچھی طرح اور ذمہ داری کے ساتھ فروغ دیا جاسکتا ہے۔
دوسرے پیش کار ،23 سالہ منی مہیش اروڑا،ہمالیہ میں خود کو حقیقت پسندی سے دوچار کرنے والے،ان کا گرین پیپل کے ساتھ سفر ایک ٹریکر طورپر شروع ہوا،اس کے بعد انہوں نے ایک رہائشی رضاکار کی حیثیت لےلی، اور آخر کار بکری چھاپ اور دی ہائیڈیوٹس کے شریک بانی بن گئے۔ گاؤں کی محدود اور سادگی سے بھری زندگی کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے شہروں کی گھٹن بھری زندگی کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں زندگی گزارنے اور کمانے کے دوسرے دیسی روایتی طریقوں کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی اور پائیدار سرگرمیوں کی اچھی مقدارکے ساتھ ہی ایک بنیادی تبدیلی آتی ہے اور وہی گاؤں کے لوگوں کو مسلسل آمدنی دیتی ہے۔
جب گرین پیپل کی ٹیم نے گاؤں کا دورہ کیا تو گاؤں کے زیادہ ترعام لوگ اپنے گھر توڑ رہے تھے اور مزدور اپنے گھر بنانے میں لگے تھے۔ صرف 20 فی صد لوگ ہی کھیتی باڑی اور مونو فارمنگ میں مصروف تھے۔ ایک زراعت سیاحت اقدام جس کا مقصد پرانی روایات اور رزق کے معاشی ذرائع جیسے بکریوں کی پرورش ،بی فارمنگ ، غیر ملکی سبزیوں کی کٹائی اور روایتی تعمیراتی تکنیک کی بحالی کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔اب 80 فی صد آبادی روایتی کھیتی باڑی میں واپس آگئی ہے۔ گرین پیپل ’’خوشگوار ہمالیہ دیہات‘‘ صرف شہر کے متلاشیوں اور بین الاقوامی سیاحوں کو فارم ہیج کے دوسری طرف کی زندگی کا ذائقہ دینا نہیں چاہتے ہیں،بلکہ وہ پائیدار ایکو سسٹم تشکیل دے رہے ہیں ،جو گاؤں میں رہنے والے لوگوں کو ان کے موجودہ وسائل کو خراب کئے بغیرآمدنی کے متبادل ذرائع مہیا کراتا ہے۔
’بکری سویمور‘ صفر نقصان والا پروجیکٹ ہے۔ اتراکھنڈ کے متعدد گاؤں ایسے علاقوں میں ہیں جو نہ تو زرخیز ہیں اور نہ ہی سنچائی کے قابل،وہاں مقامی معیشت کو چلانے کےلئے مویشی پروری بہترین ذریعہ ہے۔بکریوں کی تعداد بھیڑ سے بھی زیادہ ہے ، زیادہ تر مالکان پسماندہ کسان ہیں جو جانوروں کو چرنے اور مفت گھومنے دیتے ہیں۔ مختلف اقسام کے مویشیوں کے ذخیرے (جین پول) کو وسیع کرنے اور صحت مند افزائش کے طریقوں سے متعلق کافی حد تک آگاہی کے معاملے میں یہاں اتنی منظم ترقی نہیں ہے۔ گرین پیپلس بکری سویمور کا انعقاد کرتے ہیں،یہ ان کا دستخطی پروگرام ہے،اس سے علاقے میں بکریوں کی آبادی کیلئے جینیاتی تنوع کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے اور کاشتکاروں کو مویشی پالنے کے اعلی معیاروں کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔
بکری سویمور ایک آسان ، سائنسی اعتبار سے حمایت یافتہ طریقہ ہے جس کو مقامی پیداوار کے مقامی نمونوں کے لئے وقف کیا گیا ہے ، اور گرین پیپل کی دیسی ہندوستانیوں کو ترقی دینے کی کوششوں نے انہیں ’انڈین رسپانسیبل ٹورزم ایوارڈ (آئی آر ٹی اے) 2019 ‘ دلایا ہے۔
تیسری پیش کار محترمہ سنیتا کوڈلےہیں جو مہمان نوازی میں پیشہ ور ہیں اور انہیں اس شعبہ میں 23 سال کا تجربہ ہے۔ سنیتا اس وقت ِکین کی سکریٹری ہیں ، یہ ایک این جی او ہے جو مسوری اور لینڈور قصبے میں کچرے کے انتظام میں سب سے آگے ہے اور پورے شہر کے لئے گھر گھر کچرے جمع کرنے ، الگ کرنے اور ضائع کرنے کا خیال رکھتی ہے۔
محترمہ سنیتا کوڈلے نے گولڈن ٹرائنگل اور کیرالہ کی نمائش کے لئے اپنی بار بار کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بات کی جو منزل مقصود پر بہت دباؤ پیدا کرتی ہے۔کوئی بھی شخص بنیادی طورپر اپنے آرام کی جگہ سے باہر نکلنے کے لئے سفر کرتا ہے۔ قلعوں ، محلات کے علاوہ ، ہندوستان میں لٹھ مارہولی ، دیوالی وغیرہ جیسے رنگا رنگ تہوار ہوتے ہیں ، اتراکھنڈ اور سکم میں غیر ملکی پھول جیسے روڈڈینڈرون۔ کچھ کھیلوں کے پروگراموں کی تشہیر کی جاسکتی ہے جیسے دیہی اولمپکس ، قلعہ رائے پور ، جلی کٹو تہوار وغیرہ۔
ویبینار کا خلاصہ کرتے ہوئے ،اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل روپیندر برار نے ماحول کا احترام کرتے ہوئے موجودہ پروٹوکول پر عمل کرنے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ پوری انسانیت قدرت کے ساتھ بہترین تجربہ کرسکے ۔ ساتھ ہی انہوں نے قدرت کے ساتھ رہنا سیکھنے اور قدرت کا احترام کرنے پر زور دیا۔ دیکھو اپنا دیش ویبینار سیریز ایک بھارت شریشٹھ بھارت مہم کے تحت بھارت کے بیش قیمت تنوع کو پیش کرنےکی ایک کوشش ہے۔
دیکھو اپنا دیش ویبینار سیریز کی پیش کش نیشنل ای گورنینس محکمے ،الیکٹرونکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کی ٹیکنیکل پارٹنرشپ میں کی گئی ہے۔ ویبینار کا یہ سیشن https://www.youtube.com/channel/UCbzIbBmMvtvH7d6Zo_ZEHDA/ پردستیاب ہےاور حکومت ہند کے وزارت سیاحت کے تمام سوشل میڈیا ہینڈل پر موجود ہے۔
اگلا ویبینار جس کا عنوان ہے ’’گاندھی جی: بمبئی کے سال‘‘ یکم اکتوبر 2020 کو صبح 11 بجے پیش ہوگا۔
*******
م ن ۔ا م
5927U
(रिलीज़ आईडी: 1659948)
आगंतुक पटल : 851