وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ نے مویشی پروری بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ کے نفاذ سے متعلق رہنما ہدایات جاری کیں

2024تک دودھ کی پیداوار بڑھ کر 330 ملین ٹن ہونے کا امکان، حکومت کے ذریعے دودھ کی ڈبہ بندی کو 40 فیصد تک بڑھانے کی کوشش : جناب گری راج سنگ

اے ایچ آئی ڈی ایف کے ذریعے ڈیری اور گوشت کی ڈبہ بندی نیز قدر افزائی (ویلیو ایڈیشن) کے متعلق بنیادی ڈھانچے کے قیام میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور نجی شعبے میں مویشیوں کے چارے سے متعلق پلانٹوں کے قیام کی سہولت دستیاب کرائی جائے گی

Posted On: 16 JUL 2020 4:05PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  16/جولائی 2020 ۔ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ نے آج 15000 کروڑ روپئے کے انیمل ہسبنڈری انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) یعنی مویشی پروری سے متعلق بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ کے لئے نفاذ سے متعلق رہنما ہدایات جاری کیں، جسے مرکزی کابینہ نے متعدد شعبوں میں ترقی کو یقینی بنانے کے لئے آتم نربھر بھارت ابھیان حوصلہ افزائی پیکیج  کے تحت 24 جون 2020 کو منظوری دی ہے۔ اس موقع پر ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر مملکت جناب پرتاپ چندر سارنگی بھی موجود تھے۔

Description: C:\Users\HP\Desktop\Inaguiral Image.jpeg

اے ایچ آئی ڈی ایف کے اعلان کے لئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جناب گری راج سنگھ نے کہا کہ ہندوستان دودھ کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے نسلوں کو بہتر بنانے کے کام میں مصروف ہے اور دوسری طرف ڈبہ بندی کے شعبے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ ہندوستان کے ذریعے فی الحال 188 ملین ٹن دودھ کی پیداوار کی جارہی ہے اور 2024 تک دودھ کی پیداوار بڑھ کر 330 ملین ٹن تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ ابھی محض 20 سے 25 فیصد دودھ ڈبہ بندی شعبے کے تحت آتا ہے اور حکومت کی کوشش اسے بڑھاکر 40 فیصد تک کرنے کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کوآپریٹیو شعبہ کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لئے ڈیری پروسیسنگ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ڈی آئی ڈی ایف) کا نفاذ کیا جارہا ہے اور نجی شعبے کے لئے اے ایچ آئی ڈی ایف اس طرح کی پہلی اسکیم ہے۔ بنیادی ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد لاکھوں کسانوں کو اس سے فائدہ ہوگا اور دودھ کی ڈبہ بندی زیادہ ہوگی۔ اس سے ڈیری مصنوعات کی برآمدات کو بھی فروغ ملے گا، جو فی الحال نہ کے برابر ہے۔ ڈیری شعبے میں ہندوستان کو نیوزی لینڈ جیسے ملکوں کے معیارات تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران ڈیری کسان ملک کے صارفین کو دودھ کی مسلسل سپلائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

حکومت کے ذریعے ڈیری بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لئے ڈیری کوآپریٹیو شعبے کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی سمت میں متعدد اسکیموں کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ اے ایچ آئی ڈی ایف کا قیام ایم ایس ایم ای کی شکل میں عمل میں لایا گیا ہے اور نجی کمپنیوں کو بھی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن انفرااسٹرکچر میں ان کی حصے داری کو فروغ دینے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اے ایچ آئی ڈی ایف، ڈیری اور گوشت کی ڈبہ بندی نیز ویلیو ایڈیشن انفرااسٹرکچر اور نجی شعبے میں مویشیوں کے چارے سے متعلق پلانٹوں کے قیام کے لئے اس طرح سے بنیادی ڈھانچے کے قیام میں سرمایہ کاری کی ضرورت کی حوصلہ افزائی میں بھی مدد دے گا۔

اس اسکیم کے تحت اہل مستفیدین میں فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او)، ایم ایس ایم ای، سیکشن 8 میں شامل کمپنیاں، نجی شعبے کی کمپنیاں اور انفرادی صنعت کار شامل ہوں گے، کم از کم 10 فیصد مارجن منی کے تعاون کے ساتھ۔ باقی 90 فیصد رقم شیڈیولڈ بینکوں کے ذریعے دستیاب کرائی جانے والی بطور قرض ہوگی۔ حکومت ہند اہل مستفیدین کو 3 فیصد سود میں رعایت بھی دے گی۔ اصل قرض کی رقم کے لئے دو سال کا موریٹوریم اور اس کے بعد 6 سال کے لئے ری پیمنٹ مدت کی سہولت دی جائے گی۔

حکومت ہند کے ذریعے 750 کروڑ روپئے کا قرض گارنٹی فنڈ بھی بنایا جائے گا جس کا بندوبست نابارڈ کے ہاتھ میں ہوگا۔ ان منظور شدہ پروجیکٹوں کو قرض گارنٹی دی جائے گی جو ایم ایس ایم ای کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔ گارنٹی کوریج، اُدھار لینے والے کی قرض سہولت کے 25 فیصد تک کا ہوگا۔ ڈیری اور میٹ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن انفرااسٹرکچر کا قیام یا موجودہ انفرااسٹرکچر کو مضبوطی دینے کے لئے، سرمایہ کاری کے خواہش مند مستفیدین ایس آئی ڈی بی آئی کے ’’ادیامی متر‘‘ پورٹل کے ذریعے شیڈیولڈ بینک میں قرض کے حصول کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔

نجی شعبے کے توسط سے سرمایہ کاری کے کھلنے کے زبردست امکانات ہیں۔ 15000 کروڑ روپئے کی اے ایچ آئی ڈی ایف اور نجی سرمایہ کاروں کے لئے سود میں امداد کی اسکیم، ان پروجیکٹوں کے لئے ضروری ماقبل سرمایہ کاری کی تکمیل کرنے کے لئے سرمایہ کی دستیابی کو یقینی بنائے گی اور سرمایہ کاروں کے لئے اوور آل ریٹرن / پے بیک کو بڑھاوا دینے میں بھی مدد کرے گی۔ اہل مستفیدین کے ذریعے ڈبہ بندی اور ویلیو ایڈیشن انفرااسٹرکچر میں اس طرح کی سرمایہ کاری سے ڈبہ بند اشیاء اور ویلیو ایڈیڈ اشیاء کی برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔

چوں کہ ہندوستان میں ڈیری مصنوعات کی تقریباً 50 سے 60 فیصد حتمی قدر، کسانوں کو واپس مل جاتی ہے، اس لئے اس شعبے میں ہونے والی ترقی سے کسانوں کی آمدنی پر براہ راست اہم اثر پڑسکتا ہے۔ ڈیری بازار کا حجم اور دودھ کی فروخت سے کسانوں کو ہونے والی آمدنی، کوآپریٹیو اور نجی ڈیریوں کے منظم فروغ کے ساتھ قریب سے جڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا اے ایچ آئی ڈی ایف میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی صرف 7 گنا نجی سرمایے کا فائدہ حاصل نہیں کرے گی، بلکہ اِن پٹ میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے لئے راغب کرے گی جس سے پیداواریت کی اعلیٰ شرح میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کی آمدنی بھی بڑھے گی۔ اے ایچ آئی ڈی ایف کے توسط سے منظور شدہ تدابیر کے 35 لاکھ لوگوں کے لئے بلاواسطہ اور بالواسطہ روزی روٹی کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر مملکت جناب پرتاپ چندر سارنگی نے کہا کہ حکومت کے ذریعے 53.5 کروڑ مویشیوں کو ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور 4 کروڑ مویشیوں کو ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔ ٹیکنالوجی سے متعلق اقدامات کے ذریعے نسل کو بہتر بنانے کا کام کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ہم ڈبہ بندی کے شعبے میں بہت پیچھے ہیں۔ اے ایچ آئی ڈی ایف کا استعمال کرکے چارہ کے لئے بھی پروسیسنگ پلانٹ قائم کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے میں مدد ملے گی اور عالی جناب وزیر اعظم کے 5 ٹریلین ڈالر والی معیشت کے خواب کو حقیقت کی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

http://pibphoto.nic.in/documents/rlink/2020/jul/p202071601.pdf

 

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 3950



(Release ID: 1639297) Visitor Counter : 12