ریلوے کی وزارت

ریلوے کے محکمے کو مالیے میں اضافے ، لاگتوں کو کم سے کم کرنے ، کام کاج میں حفاظت میں اضافہ کرنے اور موجودہ ملازمین کی بہبود پر اجتماعی طور پر توجہ دینی چاہیے : ریلوے اور کامرس و صنعت کے وزیر جناب پیوش گویل

ریلوے کے وزیر نے ریلوے کے ملازمین سے منافعے میں اضافہ کرنے اور کایا پلٹ کر دینے والی تبدیلیوں کے بارے میں نئے خیالات طلب کیے؛ انہوں نے جنرل مینیجروں اور ڈیویژنل ریلوے مینیجروں سے کہا کہ کے وہ اس میں سرگرمی سے حصہ لیں
وزیر موصوف نے کووڈ اوقات کے دوران بھارتی ریلوے کے ملازمین کی انتھک کوششوں کے تئیں اظہار تشکر کیا

Posted On: 16 JUL 2020 5:27PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،16 جولائی ، 2020  /  ریلوے کی وزارت نے ابھی تک کی پہلی آن لائن ورک مین سنگوشٹھی کا انعقاد کیا جس میں ملک بھر  کی ریلوے کارکنوں  کی یونینوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ورک مین سنگوشٹھی میں ریلوے اور کامرس و صنعت کے وزیر جناب پیوش گویل،  ریلوے کے وزیر مملکت جناب سریش سی انگاڑی، ریلوے بورڈ کے چیئرمین جناب وی کے یادو اور ریلوے بورڈ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

سنگوشٹھی کے دوران دونوں فیڈریشنوں اے آئی آر ایف اور این ایف آئی آر کے عہدیداروں جناب رکھل داس گپتا ، جناب گمن سنگھ، جناب شیو گوپال مشرا اور ڈاکٹر ایم راگویا نیز فیڈریشن کے دیگر عہدیداروں نے اپنے نظریات کا اظہار کیا۔

سنگوشٹھی سے خطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گویل نے ریلوے کارکنوں کا لاک ڈاؤن کے دوران اپنی ڈیوٹی انتھک طریقے سے انجام دینے پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اعلیٰ ترین سطح سے سب سے نچلی سطح تک سبھی افسران اور عملے کے افراد نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے فرائض کی ادائیگی سنجیدگی سے کی۔ فی الحال بھارتی ریلویز عالمی وبا کی وجہ سے ایک پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے۔ وزیر موصوف نے فیڈریشن کے رہنماؤں سے زور دے کر کہا کہ وہ اس بات پر غور و خوض کریں کہ ریلوے کا محکمہ کس طرح اس بحران پر قابو پا سکتا ہے جو وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑتا جا تا ہے۔ انہوں نے ریلوے فیڈریشنوں سے بھی کہا کہ وہ اپنے منفرد قسم کہ نت نیے خیالات پیش کریں کہ ریلوے کے مالیے میں کس طرح اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لاگتوں کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ مال بھاڑے میں کس طرح بہتری لائی جا سکتی ہے اور ریلوے کا محکمہ کس طرح اور زیادہ اور جلد آگے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے سبھی سے کہا کہ وہ موجودہ ملازمین کی حفاظت اور بہبود کے بارے میں سوچ وچار کریں۔ انہوں نے ریلوے افسران ، یونینوں اور عملے کی طرف سے اس مرحلے کے دوران درکار اجتماعی کوششوں پر زور دیا جاتا ہے۔

ایک منفرد انداز کے قدم کے طور پر وزیر موصوف نے منافع میں اضافے اور کایا پلٹ کر دینے والی تبدیلیوں کے بارے میں ریلوے ملازمین سے نت نیے خیالات طلب کیے۔ ریلوے کے ملازمین کا دل اپنی تنظیم کے لیے دھڑکتا ہے۔ ان کے پاس ایسے نظریات ہوں گے جن سے  ریلوے کے منافعے میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ وزیر موصوف نے جنرل مینیجروں اور ڈیویژنل ریلوے مینیجروں کو ہدایت دی کہ وہ ملازمین سے اس طرح کے نت نیے خیالات سرگرمی کے ساتھ حاصل کریں اور ان خیالات سے وزارت کو آگاہ کریں۔

سنگوشٹھی سے خطاب کرتے ہوئے ریلوے کے وزیر مملکت جناب سریش سی انگاڑی نے کہا کہ بھارتی ریلویز نے پچھلے 167 برسوں میں اپنا کام کبھی نہیں روکا لیکن یہ کام اس وبا کے سبب رک گیا۔ ریلوے کے سبھی ملازمین نے وبا کے دوران انتھک طریقے سے کام کیا۔ انہوں نے بھارتی ریلوے کے عملے کو جنگجوؤں کی طرح کام کرنے پر مبارکباد دی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ مستقبل میں بھی  ریلوے کا محکمہ محنت سے کام کرے گا اور بھارتی ریلوے کو دنیا کا ایک بہترین ریلوے بنائے گا۔

اس سے پہلے ریلوے بورڈ کے ڈی جی / ایچ آر ڈاکٹر آنند ایس کھاتی نے بتایا کہ بھارتی ریلویز  میں  1218000 ملازمین ہیں۔ 121000 ملازمین کو حال ہی میں بھرتی کیا گیا ہے اور 140000 آسامیوں کو بھرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سنگوشٹھی کے دوران فیڈریشنوں کے عہدیداروں نے چنوتی بھرے کووڈ اوقات کے دوران ریلوے ملازمین کی طرف سے کیے گیے کاموں کو اجاگر کیا اور ریلوے کے محکمے میں کایا پلٹ کر دینے والی تبدیلیوں کے عمل میں سرگرم مشروفیت چاہی۔

ریلوے یونینوں کے عہدیداروں نے کہا کہ ریلوے کے ملازمین ریلوے کی ترقی کے لیے وزارت کی مشن میں وزارت کے ساتھ شانا بہ شانا کھڑے ہیں۔  مستعیدی اور مالی حالت میں بہتری ، نہ صرف ملازمین کے حق میں ہے بلکہ قوم کے حق میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے ملازمین اس کے لیے کوئی بھی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لینے کے عہل  ہیں۔

 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

م ن ۔ اس۔ ت ح ۔

U –3959



(Release ID: 1639233) Visitor Counter : 29