امور داخلہ کی وزارت

مرکزی وزیر داخلہ نے کورونا وبا ء پر 20 اپریل سے دی جانے والی چھوٹ کے سلسلہ میں اور صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لئے ریاستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کی ہدایت دی

Posted On: 19 APR 2020 4:59PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے امور داخلہ جناب امت شاہ نے گذشتہ روز وزارت کے اعلی افسران کے ساتھ ملک میں کووڈ۔ انیس وبا کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بیس اپریل سے دی جانے والی چھوٹ کے سلسلہ میں ریاستوں سے اہم نکات پر تبادلہ خیال کر صورت حال کو قابو میں رکھنے کی ہدایت دی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان ابھی بھی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سربراہی میں کورونا کے ساتھ لڑائی لڑ رہا ہے ، لہذا لاک ڈاون پابندیوں کے ساتھ ساتھ وقت وقت پر دئیے گئے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے۔

صورتحال کا جائزہ لینے کے دوران وزیر داخلہ نے کہا ایسے علاقے جو ہاٹ اسپاٹ، کلسٹرس، کنٹینمنٹ زون میں نہیں آتے ہیں اور جن میں کچھ سرگرمیوں کی اجازت دی جا رہی ہے وہاں احتیاط برتنا اور یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ چھوٹ واقعی حالات کا اندازہ کر کے ہی دی جائے۔

دیہی معیشت کو فروغ دینے کے لئے دیہی علاقوں میں کچھ معاشی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ، ڈی ایم / ڈی سی کو صنعتوں کے ساتھ مل کر ، ریاست کے اندر مزدوروں کو ان کے کام کی جگہ پر منتقل کرنے کے انتظامات کرنے چاہئیں۔ مودی حکومت کا ماننا ہے کہ ایک طرف تو اس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور دوسری طرف مزدوروں کو روزگار ملے گا۔

اسی طرح ، ریاستوں کو بڑے صنعتی اکائیوں ، صنعتی اسٹیٹس اور صنعتی کمپلیکسوں کو چلانے پر توجہ دینی چاہئے ، خاص طور پرایسی جگہوں پر جہاں کمپلیکس کے اندر مزدوروں کے رہنے کا نظم ہو۔ اس طرح کی سرگرمیاں معاشی بحالی کو متحرک کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں ، جبکہ یہ یقینی بھی بناتی ہیں کہ مزدوروں کو فائدہ مند روزگار مہیا کیا جا سکے۔ مودی حکومت ان مشکل اوقات میں معاشرے کے ہر طبقے کے حقوق کے تحفظ کے تئیں پرعزم ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈی ایم / ڈی سی کو زراعت کے ساتھ ساتھ منریگا کی سرگرمیوں کے ذریعے مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کے امکانات کو بھی تلاش کرنا چاہئے۔

اسی طرح وہ مزدور جو راحتی کیمپوں میں رہ رہے ہیں ان کی فلاح و بہبود پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے ، جس میں انہیں کھانے کے معیار کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اگرچہ یہ بات قابل فہم ہے کہ صورتحال مشکل ہے ، لیکن اس اس طرح کے مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاستوں کو یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ اب جبکہ میڈیکل ٹیموں کے توسط سے کمیونٹی ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے تو میڈیکل ٹیموں کو مناسب سیکورٹی دی جائے۔ اسی طرح اگر کمیونٹی ٹیسٹنگ کے لئے جانے سے پہلے ، کمیونٹی کے ذمہ دار لیڈروں کو شامل کر کے امن کمیٹیوں کو فعال کیا جائے تو کام کو صحیح ڈھنگ سے کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی کوشش سے کووڈ۔ انیس کی جانچ، علاج اور دیگر متعلقہ پہلووں کے بارے میں لوگوں میں بیداری پیدا کر کے ان میں پھیلے خوف کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

کووڈ۔ انیس سے لڑنے کے لئے قومی ہدایتوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لئے دیہی علاقوں میں گشت میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ عملدرآمد کی نگرانی میں مدد کے لئے ڈی ایم / ڈی سی پولیس ، پنچایت عہدیداروں ، محصولات کے عہدیداروں وغیرہ کی مدد لی جا سکتی ہے۔

**********

 

م ن۔ن ا۔ت ع

U-1859

19.04.2020



(Release ID: 1616244) Visitor Counter : 250