ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں جی آر پی سربراہوں کی آٹھویں آل انڈیا کانفرنس اختتام پذیر: انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ اور آر پی ایف،  جی آر پی اور اسٹیٹ پولیس کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پر توجہ


شکایات کے بہتر ازالے، بروقت معلومات کے تبادلے اور شکایات کی نگرانی کے لیے جی آر پی اہلکار ’ریل مدد‘پلیٹ فارم  میں  شامل

دیوالی اور چھٹھ کے دوران محفوظ ریلوے سفر: ہجوم کے بندوبست،  پیشگی منصوبہ بندی اور مسافروں کی آمد و رفت کے مؤثر انتظام پر زور

ڈرون کی مدد سے چلنے والے "پنک پیٹرول" سے لے کر پروجیکٹ 'دشا‘ تک، جی آر پی  سربراہوں  کی کانفرنس میں خواتین کی قیادت میں اور کمیونٹی پر مبنی حفاظتی اقدامات پر غوروخوض

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 OCT 2026 10:47AM by PIB Delhi

ریلوے پروٹیکشن فورس ( آر پی ایف) کی جانب سے منعقد ہ  گورنمنٹ ریلوے پولیس ( جی آر پی) سربراہوں  کی آٹھویں آل انڈیا کانفرنس 23 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ اس کانفرنس  میں  ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے، بہترین طریقوں کو ساجھا  کرنے اور آر پی ایف، جی آر پی اور اسٹیٹ پولیس کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک  پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ۔

اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل آر پی ایف، محترمہ سونالی مشرا نے کی  اور اس میں ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور سی ای او، جناب ستیش کمار، ریلوے بورڈ کے اراکین  اور مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے جی آر پی  سربراہوں  نے شرکت کی۔

اس کانفرنس کی ایک اہم خصوصیت سینٹر فار ریلوے انفارمیشن سسٹمز ( سی آر آئی ایس) کی جانب سے جی آر پی اہلکاروں کو 'ریل مدد‘ پلیٹ فارم میں  شامل کرنا تھا، جس کا مقصد مسافروں کی شکایات کا بہتر ازالہ، معلومات کا بروقت تبادلہ اور شکایات کی نگرانی کرنا ہے۔

ریلوے سکیورٹی اور مسافروں کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے ’’ پنک پیٹرول: آئیز ان دی اسکائی، شکتی آن دی گراؤنڈ‘‘ نے خواتین کی قیادت میں ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو 'شکتی' فریم ورک کے تحت ڈرون کی مدد سے کی جانے والی نگرانی کو فوری رسپانس ٹیموں کے ساتھ جوڑتا ہے۔

ٹرینوں پر پتھراؤ کے واقعات  کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر اجاگر کیا گیا، جس میں ہاٹ اسپاٹ  پر مبنی گشت، بہتر نگرانی، مجرموں کے خلاف سخت کارروائی، نوجوانوں تک رسائی اور آر پی ایف اور جی آر پی کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔

کانفرنس میں دیوالی، چھٹھ اور دیگر تہواروں کے دوران ہجوم کے بندوبست  پر بھی غور و خوض کیا گیا۔  ناردرن  ریلوے کے دہلی ڈویژن نے دہلی پولیس، جی آر پی اور دہلی میٹرو حکام کے ساتھ مربوط  کوششوں کو اجاگر کیا، جنہیں سی سی ٹی وی نگرانی، عوامی اعلانات، بیریکیڈنگ، مخصوص  ہولڈنگ ایریاز اور ڈیڈیکیٹڈ  کنٹرول رومز کا تعاون حاصل تھا۔  مصروف   اوقات میں مسافروں کی محفوظ اور منظم آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، مسافروں کی آمدورفت   کے مؤثر انتظام اور سیکیورٹی اہلکاروں کی مربوط تعیناتی پر زور دیا گیا۔

سنٹرل ریلوے کے پنے ڈویژن نے پروجیکٹ دشا ( ڈیڈیکیٹڈ انیشیٹیو فار سیفٹی، ہارمنی اینڈ اوئیرنیس)  کو اجاگر کیا، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد ریل   پٹریوں  کے قریب رہنے والے بچوں کو تعلیمی و تفریحی سرگرمیوں، حفاظتی بیداری کے سیشنز اور کمیونٹی پر مبنی اقدامات کے ذریعے مصروف عمل رکھنا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں ، نیشنل سروس اسکیم کے رضاکاروں اور مقامی برادریوں کے ساتھ تعاون ریلوے تحفظ  اور ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں بیداری کو فروغ دیتا  ہے، جبکہ پتھراؤ، چوری، غیر قانونی طور پر ٹریک پار کرنے اور دیگر غیر محفوظ سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

 

مباحثوں میں آر پی ایف اور جی آر پی کی مشترکہ ٹریننگ ، تخریب کاری کی روک تھام اور منشیات کی نشاندہی پر فوری معلومات کے تبادلے کو بھی شامل کیا گیا۔ ڈیجیٹل شواہد کو سنبھالنے، معیاری طریقہ کار، انٹیلی جنس شیئرنگ، تفتیشی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور معاون بنیادی ڈھانچے پر بھی زور دیا گیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، چیئرمین اور سی ای او، ریلوے بورڈ نے انڈین ریلوے  میں  ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ریلوے حکام، آر پی ایف، جی آر پی اور اسٹیٹ پولیس کے درمیان مربوط کوششوں، تکنیکی ترقی، اختراع اور مشترکہ عزم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مسافروں کا اعتماد قائم کرنے، خوش اخلاقی  اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کو یقینی بنانے  اور پیداوریت  و آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی اور اختراع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کانفرنس ڈی جی/ آر پی ایف کے اختتامی کلمات کے ساتھ اختتام پذیر  ہوئی، جنہوں نے ریلوے سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی پولیسنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

******

(ش ح- ن  ا)

U.N:6631


(ریلیز آئی ڈی: 2327900) وزیٹر کاؤنٹر : 8