مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا پوسٹ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے مسلسل دو سہ ماہی میں 4,000 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی حاصل کی


مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی میں محکمۂ ڈاک کی آمدنی میں 24 فیصد کا اضافہ، مجموعی آمدنی 8,212.7 کروڑ روپے تک پہنچ گئی؛ پارسل خدمات میں 71 فیصد  اضافہ درج کیا گیا

مرکزی وزیرِ مواصلات جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے انڈیا پوسٹ کی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے صارفین کی ضروریات کو ترجیح دینے، کاروباری سرگرمیوں میں تنوع لانے، اختراع کو فروغ دینے اور خدمات کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 4:22PM by PIB Delhi

محکمۂ ڈاک نے پہلی بار مسلسل دو سہ ماہی میں 4,000 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی حاصل کرکے ایک تاریخی سنگِ میل  طے کیا ہے۔ محکمہ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی(اپریل تا ستمبر 2026)کے دوران 8,212.7 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں حاصل ہونے والی 6,636 کروڑ روپے کی آمدنی کے مقابلے میں سالانہ بنیاد پر 24 فیصدکا اضافہ ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261022162317_8c50ee.jpg

نئی دہلی میں دوسری سہ ماہی کی جائزہ میٹنگ کے دوران (بائیں سے دائیں) محترمہ منیشا سنہا، ڈائریکٹر جنرل پوسٹل سروسز(ڈی جی پی ایس)؛ ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی، مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات و دیہی ترقیات؛ جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا، مرکزی وزیرِ مواصلات و شمال مشرقی خطے کی ترقی؛ اور جناب سبرت داس، سکریٹری(محکمۂ ڈاک)

مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی  کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے آج نئی دہلی میں دوسری سہ ماہی(کیو 2)کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات و دیہی ترقی ڈاکٹر چندر شیکھر پیمسانی، سکریٹری(محکمۂ ڈاک)جناب سبرت داس، پوسٹل سروسز بورڈ کے اراکین، تمام ڈاک سرکلز کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرلز اور ڈائریکٹوریٹ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

محکمہ نے دوسری سہ ماہی(جولائی تا ستمبر 2026) میں 4,201.5 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ اور پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ہے۔

کاروبار کے تمام شعبوں میں ترقی

کاروبار کے تمام چھ شعبوں میں سالانہ بنیاد پر ترقی درج کی گئی۔ پوسٹل لائف انشورنس/رورل پوسٹل لائف انشورنس (پی ایل آئی/آر پی ایل آئی) میں 44 فیصد، ڈاک خدمات میں 36 فیصد، پوسٹ آفس سیونگز بینک (پی او ایس بی)میں 18 فیصد، بین الاقوامی تعلقات اور عالمی کاروبار میں 38 فیصد اور پارسل خدمات میں 71 فیصد اضافہ ہوا۔

پارسل خدمات کے شعبے نے دوسری سہ ماہی میں 318.9 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جبکہ کیرالہ، شمال مشرقی خطے، اتر پردیش اور بہار نے اپنے سہ ماہی اہداف سے زیادہ آمدنی درج کی۔ ڈاک خدمات کی آمدنی میں پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 12 ڈاک سرکلز نے دوسری سہ ماہی کے اپنے اہداف حاصل کیے یا ان سے تجاوز کیا۔ پوسٹ آفس سیونگز بینک نے 1,987 کروڑ روپے کا حصہ ڈالا، جبکہ پی ایل آئی/آر پی ایل آئی نے اپنے سہ ماہی ہدف کا 92 فیصد حاصل کیا۔

ڈاک سرکلز کے کام کاج اور کارکردگی میں بہتری

سات ڈاک سرکلز نے دوسری سہ ماہی کے اپنے مقررہ متناسب اہداف کا 90 فیصد یا اس سے زیادہ حاصل کیا۔ بہار 97.15 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد مغربی بنگال 97.07 فیصد اور شمال مشرقی خطہ 94.79 فیصد کے ساتھ رہے۔ پہلی ششماہی میں مغربی بنگال نے 95.72 فیصد ہدف حاصل کیا، اس کے بعد بہار 95.12 فیصد اور آندھرا پردیش 94.63 فیصد کے ساتھ رہے۔

23 میں سے 18 ڈاک سرکلز نے پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں اپنے اہداف کے حصول کی شرح میں بہتری درج کی۔ پنشن کے اخراجات سمیت خرچ لاگت کا تناسب 42 فیصد اور پنشن کے اخراجات کو نکال کر 62 فیصد رہا۔ 22 ڈاک سرکلز نے پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں اپنے اخراجات کے تناسب میں بہتری حاصل کی۔

نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ڈاک سرکلز کی پذیرائی

پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون 2026) کے دوران شاندار کارکردگی کے اعتراف میں آندھرا پردیش ڈاک سرکل کو، جبکہ دوسری سہ ماہی(جولائی تا ستمبر 2026) کے دوران اپنے اپنے متناسب کاروباری اہداف کے حصول پر بہار ڈاک سرکل کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بہار ڈاک سرکل نے 97.15 فیصد ہدف حاصل کیا، جبکہ مغربی بنگال ڈاک سرکل 97.07 فیصد کے ساتھ دوسرے اور شمال مشرقی ڈاک سرکل 94.79 فیصد کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔ ان سرکلز کی کارکردگی کاروباری سرگرمیوں پر مرکوز کوششوں اور محکمۂ ڈاک کے آمدنی سے متعلق اہداف کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ اعزاز اس بات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ڈاک سرکلز میں مسلسل بہتر کارکردگی، مؤثر کاروباری منصوبہ بندی اور آمدنی میں اضافے کے لیے جاری کوششوں کو برقرار رکھا جائے۔

پائیدار ترقی پروزیروں کا زور

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261022162356_b20031.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261022162348_6f0317.jpg

جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا، مرکزی وزیر برائےمواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی نے اس کامیابی پر افسران اور ملازمین کو مبارک باد دی اور اس بات پر زور دیا کہ نئے صارفین کو شامل کرنے، خدمات میں عمدگی اور صارفین کو برقرار رکھنے کے ذریعے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کاروباری سرگرمیوں میں مزید تنوع لانے، قیادت کو مضبوط بنانے، جدت طرازی اور صارفین پر مرکوز نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میں قابلِ اطلاق پالیسیوں اور منظوریوں کے تابع، بڑی مقدار میں خدمات حاصل کرنے والے صارفین کے لیے لچک دار قیمتوں کا تعین بھی شامل ہے۔ انہوں نے صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے، کام کاج کی کارکردگی میں اضافہ کرنے اور محکمۂ ڈاک کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے انڈیا پوسٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن میں تیزی لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی، مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات  و دیہی ترقیات نے انڈیا پوسٹ کی ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا اور افرادی قوت کو بااختیار بنانے، جواب دہی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پارسل کی ترسیل میں تاخیر دور کرنے اور صارفین کے اطمینان میں اضافے کے لیے معیاری طریقۂ کار وضع کرنے اور بروقت نگرانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزرا ءنے ڈاک سرکلز کو ہدایت دی کہ تہواروں اور پارسل بھیجنے کے عروج کے موسم میں ترقی کی رفتار برقرار رکھی جائے، پارسل خدمات اور بین الاقوامی تعلقات و عالمی کاروبار کو مضبوط بنایا جائے، ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے شہریوں پر مرکوز خدمات کو تیزی سے شامل کیا جائے اور اخراجات میں نظم و ضبط برقرار رکھا جائے۔ جائزے میں کلسٹر پر مبنی حکمتِ عملی پر بھی زور دیا گیا، جس میں زرعی لاجسٹکس اور بین الاقوامی کاروبار؛ مائیکرو، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں(ایم ایس ایم ایز)، ایک ضلع ایک مصنوعات(او ڈی او پی)اور سیاحت؛ نیز شہریوں پر مرکوز خدمات، مالی شمولیت، بیمہ اور دیہی لاجسٹکس پر توجہ دی جائے گی۔ جن سیوا(عوامی خدمت)کے جذبے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے محکمہ اپنے وسیع نیٹ ورک اور افرادی قوت سے فائدہ اٹھا کر کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرے گا، کام کاج کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا اور مالی خود کفالت کی جانب پیش رفت کرے گا۔

*****

) ش ح  –     م      ع   -   ف ر )

U.No. 6488


(ریلیز آئی ڈی: 2326679) وزیٹر کاؤنٹر : 14